//درس القرآن ماہ مارچ ۲۰۲۰
quran

درس القرآن ماہ مارچ ۲۰۲۰

درس القرآن

وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِہٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِکَلِمٰتِ رَبِّہَا وَ کُتُبِہٖ وَ کَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ

اوراللہ نے اُن لوگوں کے لئے جو ایمان لائے فرعون کی بیوی کی مثال دی ہے۔ جب اس نے کہا اے میرے ربّ! میرے لئے اپنے حضور جنت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچالے اور مجھے ان ظالم لوگوں سے نجات بخش۔

اور عمران کی بیٹی مریم کی (مثال دی ہے) جس نے اپنی عصمت کو اچھی طرح بچائے رکھا تو ہم نے اس (بچے) میں اپنی روح میں سے کچھ پھونکا اور اس (کی ماں) نے اپنے ربّ کے کلمات کی تصدیق کی اور اس کی کتابوں کی بھی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی۔

اسی مضمون کی ایک اور آیت میں

فَنَفَخْنَا فِیْہَا مِنْ رُّوْحِنَا (الانبیاء:92)

فرمایا گیا ہے۔ یہاں فِیہِ کہہ کر اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ مومن جو روحانی طور پر مریمی حالت میں سے گزریں گے ان کے اندر نفخ روح ہو گا۔ گویا وہ تمثیلاً اپنے وقت کے عیسیٰ بنائے جائیں گے۔

تفسیر

اس سورت میں ان دو بدقسمت عورتوں کی مثال بیان کی گئی ہے جو انبیاء کے اہل میں بظاہر داخل تھیں مگر عملا ًوہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں خیانت سے کام لیتی رہیں۔ پھر ان دونوں کےبرعکس دو انتہائی پاکدامن عورتوں کا بھی ذکر ہے۔ ان میں سے ایک اللہ کے انتہائی ظالم اور سفاک دشمن کی بیوی تھی۔ پھر بھی اس نے اپنے ایمان کی حفاظت کی۔ اور دوسرے حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی صورت میں جواعجازی وجود بخشا وہ کسی نفسانی خواہش کی بنا پر نہیں تھا۔ پھر آخری آیت میں فر ما یا گیا کہ اللہ تعالیٰ امت محمدیہ میں پیدا ہونے والے ایک سچے اور پاکباز وجود کوبھی یہی اعجاز دکھائے گا کہ باوجود اس کے کہ اس کواعلیٰ درجہ کے روحانی مناصب حاصل کرنے کا کوئی شوق نہیں ہوگا بلکہ وہ انکسار کا پتلا ہو گا، اللہ تعالیٰ اس میں اپنی روح پھونکے گا اور اس کے نتیجہ میں اسے ایک اور روحانی وجود بخشا جائے گا جو حضرت عیٰسی علیہ السلام کے مشابہ ہوگا چنانچہ فرمایا

فَنَفَخْنَا فِیْہَا مِنْ رُّوْحِنَا

کہ الله تعالیٰ اس مرد مومن میں اپنی روح پھو نکے گا۔

(سورة التحریم:12۔13 قرآن کریم اردو ترجمہ صفحہ1052حضرت مرزا طاہر احمدؒ)

مومن دو قسم کے ہوتے ہیں ایک امرأة فرعون کی مانند اپنے جذبات نفس میں مقید ہیں۔ اس حالت سے نکلنے کے واسطے کوشش کرتے رہتے ہیں۔ دوسرے مریم بنت عمران کی طرح ہیں۔ جو اپنے نفس کو پاک کئے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ کی رُوحِ صدق ان میں پھونکی جاتی ہے اور وہ مسیحی نفس بن جاتے ہیں۔

(حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ152)