اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ
(بحوالہ اہل بیعت رسول ﷺ از حافظ مظفر احمد صاحب)
قسط اوّل
فضائل
حضرت عائشہؓ کی رسول اللہﷺ سے شادی بھی ایک الہٰی تقدیر تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ ’’شادی سے قبل ایک فرشتہ نے مسلسل تین راتیں تمہاری تصویر دکھا کر کہا یہ دنیا و آخرت میں تمہاری بیوی ہے ’’
رسول اللہﷺ نےحضرت عائشہ ؓ سے فرمایا‘‘عائشہؓ ! تمہارے ساتھ میری محبت رسّی کی پختہ گرہ کی طرح ہے‘‘
رسول اللہﷺ نے فرمایا‘‘عائشہ ؓ کی فضیلت باقی بیویوں پر ایسی ہے جیسے ثرید یعنی گوشت والے کھانے کو عام کھانے پر‘‘
نیز فرمایا‘‘ازواج میں سےعائشہؓ کےبستر میں مجھے وحی ہوجاتی ہے۔‘‘
حضرت جبریلؑ نے حضرت عائشہؓ کو رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سلام پہنچایا۔
نبی کریم ﷺنےایک کشفی نظارہ میں حضرت عائشہؓ کو جنت میں دیکھا۔
واقعہ افک میں جب حضرت عائشہ ؓ کی برأت کے بارہ میں سورۂ نور کی آیات اتریں تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا‘‘مجھ جیسی حقیر کو یہ گما ن بھی نہ تھا کہ میری بریت کے لئے آسمان سے قرآنی وحی اترے گی جو قیامت تک پڑھی جا ئے گی۔
رسول اللہ ﷺ کی آخری بیماری میں آپ ؐ کی خواہش کے مطابق حضرت عائشہؓ کو نبی کریمؐ کی خدمت اور تیمار داری کا خاص موقع ملااور حضور ﷺنے آپ ؓکے سینے پر سر رکھے ہوئے جان دی۔
نام و نسب
حضرت عائشہ ؓ آنحضورؐکے یارِ غار اور وفاشعار ساتھی حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی صاحبزاد ی تھیں۔ جنہیں
مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کی سعادت عطا ہوئی۔ حضرت ابوبکر ؓ کا تعلق قریش کی شاخ تیم بن مرّہ بن کعب سے تھا۔آپؓ کا شجرہ نسب آٹھویں پشت میں جاکر آنحضرت ﷺ سے جا ملتا ہے۔آپؓ کے قبیلہ کے سپرد خون بہا اور دیتیں جمع کرنا تھا اور حضرت ابوبکر ؓ اپنے قبیلہ کی طرف سے یہ اہم کام انجام دیتے تھے۔
حضرت عائشہؓ کی والدہ حضرت ام ّ رومانؓ نے بھی ابتدائی زمانے میں ہی اسلام قبول کیا تھا۔ان کی وفات پر حضورؐنے فرمایا کہ‘‘جس نے جنّت کی حور کو دیکھنا ہو وہ امّ رومان کو دیکھ لے‘‘۔
رسول اللہﷺ سے نکاح
حضرت عائشہؓ کی پیدائش روایات کے مطابق رسول اللہﷺ کی بعثت کے چوتھے سال بیان کی جاتی ہے۔جیسا کہ ذکر ہواان کی شادی آنحضرت ﷺکے ساتھ خاص الہٰی مشیت کے تحت ہوئی تھی۔ حضورؐ نے شادی کے بعد اس بارہ میں حضرت عائشہؓ سے اپنی ایک روٴیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’عائشہ! تم شادی سے پہلے دو دفعہ مجھے خواب میں دکھائی گئیں‘‘‘‘ دوسری روایت کے مطابق آپؐ نے حضرت عائشہؓ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ‘‘فرشتہ تمہیں میرے پاس تین راتیں ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر لاتا رہا اور کہا یہ دنیا و آخرت میں تمہاری بیوی ہے۔ میں نے چہرہ سے کپڑا اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ تم ہو۔ اس پر میں نے کہا اس روٴیا سے خدا کی یہی منشاء ہے تو وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔‘‘
یہ روٴیا غیر معمولی حالات کے باوجود بڑی شان سے پوری ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامان یو ں پیدا فرمائے کہ حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد حضرت خولہؓ بنت حکیم آنحضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ ’’یارسول اللہﷺ ! ہم آپ کو اداس اور غمزدہ دیکھتے ہیں ’’کیا بات ہے؟حضورﷺ نے فرمایا ’’یہ درست ہے حضرت خدیجہؓ میرا بہت خیال رکھنے والی تھیں اور ان کی وفات کے بعد بجا طور پر میری یہی کیفیت ہے‘‘ انہوں نے عرض کیا ’’ آپ شادی کیوں نہیں کرلیتے ’’ حضور ؐ نے فرمایا ’’کس سے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ’’ یا رسول اللہﷺ دورشتے ہیں۔ ایک تو کنواری لڑکی عائشہ بنت ابو بکرؓ ہیں اور دوسری ایک بیوہ خاتون سودہ ؓبنت زمعہ حضوراکرم ﷺنے فرمایا ’’ آپ دونوں جگہ پیغام دے دیں‘‘۔حضرت خولہؓ دونوں جگہ وہ پیغام لے کر گئیں۔ حضرت سودہؓ سے تو اسی زمانے میں شا دی ہوگئی۔ حضرت عائشہؓ اس وقت کم سن تھیں۔ اس لئے ان سے نکاح توہوگیا لیکن رخصتی مدینہ جاکر ہوئی۔ ان کی شادی کے متعلق رسول اللہ ﷺکا کشف جن غیر معمولی حالات میں اللہ تعالیٰ نے پورا فرمایا وہ نہایت ایمان افروز ہے۔
حضرت خولہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ جب میں حضرت عائشہؓ کی والدہ کے پاس رسول اللہ ﷺکا پیغام لے کر گئی اور ان کو برکت کی دعا دے کر کہا ’’ ایک بہت اچھا رشتہ عائشہ کے لئے لے کر آئی ہوں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ٹھہرو، ابو بکرؓ آتے ہی ہوں گے‘‘۔ وہ تشریف لائے تو ان کو بتایا گیا کہ‘‘ عائشہؓ کےلئے رسول اللہﷺکے رشتہ کا پیغام ہے‘‘۔ حضرت ابو بکرصدیق ؓ کا پہلا اظہار یہ تھا کہ آنحضرتﷺ تومیرے بھائی ہیں کیا بھتیجی سے یہ رشتہ مناسب ہوگا۔
حضرت خولہؓ نے رسول کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکریہی گزارش کی تو آپؐ نے فرمایا کہ ’’ابو بکرؓ سے جاکر کہو بے شک وہ میرے اسلامی بھائی ہیں۔ مگریہ تعلق دینی محبت اوربھائی چارے کا ہے اور شرعاً یہ رشتہ کرنے میں کوئی روک نہیں‘‘۔ حضرت خولہؓ نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت امّ رومان ؓ کےپاس جاکر اس بات کا ذکر کیا تو حضرت ابو بکرؓ نے کچھ مہلت چاہی۔ ام ّرومان ؓنے مزید وضاحت کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ دراصل بات یہ ہے کہ حضرت ابو بکرؓ قول کے بڑے پکّے ہیں۔ ان کےدوست مطعم بن عدی نے پہلے سے اپنے بیٹے جبیر کے لئے ان سے عائشہؓ کا رشتہ مانگ رکھا ہے۔ اس لئے مطعم سے بات کئے بغیر کوئی فیصلہ مشکل ہے۔پھر اس کے بعد ایک دن حضرت ابو بکرؓ سردار قریش مطعم کے گھر گئے اور کہا کہ عائشہ بڑی ہورہی ہیں۔ اب اس رشتہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ مطعم تو خاموش رہے۔ان کی بیوی بول پڑی کہ‘‘ یہ لڑکی تو ٹھہری بے دین ہمارے بیٹے کو بھی گمراہ کردے گی‘‘
حضرت ابو بکر ؓ مطعم سے مخاطب ہوئے کہ‘‘ آپ کی کیا رائے ہے ؟‘‘ وہ کہنے لگے ’’ میری بیوی کی رائے آپ نے سن ہی لی ہے‘‘ اس پر حضرت ابو بکر ؓ کو تسلی ہوگئی کہ اب وعدہ خلافی کا الزام مجھ پر نہیں آئے گا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت خولہؓ کے ذریعہ حضورﷺ کو یہ پیغام بھجوادیاکہ‘‘ ہمیں آپؐ کارشتہ منظور ہے‘‘ یوں حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ نبی اکرمﷺ کا نکاح ہوگیا۔
رخصتانہ اور عمر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےنکاح کایہ واقعہ ہجرت مدینہ سے دو سال قبل کا ہے۔ ہجرت نبوی ؐکے بعد حضرت عائشہؓ اپنے خاندان کے ہمراہ مدینہ آکر حارث بن خزرج کے محلہ میں ٹھہریں۔ یہاں آنے کے ایک سال بعد 2ھ میں حضرت عائشہ ؓ کا رخصتانہ ہوا۔ حضرت عائشہ ؓ کے اپنے بیان کے مطابق اس وقت ان کی عمر نو9سال تھی۔ اُس زمانے میں عمروں کا ریکارڈ رکھنے کا رواج نہیں تھا۔ نو سال والی روایت اگر صحیح بھی سمجھی جائے تو یہ حضرت عائشہؓ کا اپناایک موٹا اندازہ ہو سکتاہے۔ حضرت عائشہ ؓ کی نو سال کی عمر میں کم سنی کی شادی پر بھی ایک مسیحی دشمنِ اسلام نے اعتراض کیا ہے۔حضرت مسیح موعودؑ اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔
’’آپ نے جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرکے نو برس کی رسم شادی کا ذکر لکھا ہے۔ اول تو نو برس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ثابت نہیں اور نہ اس میں کوئی وحی ہوئی اور نہ اخبار متواترہ سے ثابت ہوا کہ ضرور نو برس ہی تھے۔ صرف ایک راوی سے منقول ہے۔ عرب کے لوگ تقویم پترے نہیں رکھا کرتے تھے کیونکہ اُمّی تھے اور دو تین برس کی کمی بیشی ان کی حالت پر نظر کر کے ایک عام بات ہے۔ جیسے کہ ہمارے ملک میں بھی اکثر ناخواندہ لوگ دو چار برس کے فرق کو اچھی طرح محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ پھر اگر فرض کے طور پر تسلیم بھی کر لیں۔ کہ فی الواقع دن دن کا حساب کر کے نوبرس ہی تھے۔ لیکن پھر بھی کوئی عقلمند اعتراض نہیں کرے گا۔۔ ۔۔۔۔ محقق ڈاکٹروں کا اس پر اتفاق ہوچکا ہے کہ نوبرس تک بھی لڑکیاں بالغ ہوسکتی ہیں۔ بلکہ سات برس تک بھی اولاد ہوسکتی ہے اور بڑے بڑے مشاہدات سے ڈاکٹروں نے اس کو ثابت کیا ہے اور خود صدہا لوگوں کی یہ بات چشم دید ہے کہ اسی ملک میں آٹھ آٹھ نو نو برس کی لڑکیوں کے یہاں اولاد موجود ہے۔‘‘
پھرایک آریہ معترض کے جواب میں آپؑ فرماتے ہیں:
’’حضرت عائشہؓ کا نوسالہ ہونا تو صرف بے سروپا اقوال میں آیا ہے۔کسی حدیث یا قرآن سے ثابت نہیں۔‘‘
عصر حاضر کےایک محقّق کے مطابق نو سال والی روایت آنحضرتؐ سےصحیح ثابت نہیں ان کے نزدیک حضرت عائشہ ؓ کی یہ عمر بیان کرنیوالے واحد راوی ہشام سے تِسْعَ 9 کے بعد عَشَرَة 10 کالفظ سہواً رہ گیا ہے۔محقق موصوف کے مطابق بوقت نکاح حضرت عائشہ ؓ کی عمر سترہ 17سال اور رخصتی کے وقت انیس19 سال تھی۔اور وہ اٹھائیس28 سال کی عمر تک یعنی نو9سال حضورؐکے ساتھ رہیں۔
تاہم اس بارہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اےمؤلف‘‘سیرت خاتم النبیین‘‘ کی قابلِ قدر تحقیق سلسلہ کے لٹریچر میں زیادہ معروف اور رائج ہے۔جس کے مطابق بوقت شادی حضرت عائشہ ؓ کی عمر کا اندازہ بارہ سال بنتا ہے۔ عرب کے گرم ملک میں چونکہ بچیاں اس عمر میں بالغ ہوجاتی تھیں۔اسلئے ان کی شادی کردی جاتی تھی۔اس لحاظ سے وہ بیس20سال کی عمر تک رسول اللہﷺ کی صحبت میں رہیں۔
واقعات شادی
حضرت عائشہؓ اپنی شادی کاحال یوں بیان فرماتی ہیں کہ‘‘ میں اپنے محلہ حارث بن خزرج میں سہیلیوں کے ساتھ جھولا جُھول رہی تھی کہ میری والدہ نے مجھے بلایا۔میں نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ساتھ نبی اکرمﷺبھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ والدہ مجھے پینگ پر سے بلاکر لے آئیں۔ اس وقت میرے بالوں کی ایک مینڈھی بندھی ہوئی تھی۔ والدہ نے میرا منہ وغیرہ دھلوایا، کنگھی کی اورمجھے تیارکرکے نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گئیں وہاں مرد اور عورتیں بھی تھے۔مجھے آپؐ کے پاس بٹھاکر میری والدہ نے عرض کیا ’’ یہ رہی آپ کی بیوی! اللہ تعالیٰ آپ کے اہل آپ کے لئے مبارک کرے۔ ’’ پھر لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور یوں رسول اللہﷺ کے ساتھ میری شادی ہوگئی۔ خدا کی قسم میری شادی پر کوئی بکری یا اونٹ ذبح نہیں ہوئے۔ ہاں حضرت سعدؓ بن معاذ سردار مدینہ نے کھانے کا ایک دیگچہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھجوایا تھا۔ ’’ اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عائشہؓ کی رخصتی کتنی سادگی سے ہوئی۔ یہاں جھولا جھولنے کی روایت سےیہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ حضرت عائشہؓ ایسی کم سن تھیں کہ شادی کی عمر کو نہیں پہنچی تھیں۔ آجکل بھی شادی شدہ لڑکیاں بڑے شوق سے جھولا جھولنا پسند کرتی ہیں اوربعض گھرانوں میں تو جُھولے کو گھر کی زینت بنا کے رکھا جاتا ہے۔بہر حال اس واقعہ سے حضرت عائشہ ؓ کی کھیل وغیرہ سے دلچسپی کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔
شادی کے موقع کی بعض اور دلچسپ تفاصیل حضرت اسماء ؓ بنت عُمیس زوجہ حضرت جعفرطیارؓ یوں بیان کرتی ہیں کہ ’’حضرت عائشہ ؓ کی شادی پر میں نے انہیں تیا ر کیا تھااور وہ عورتیں جنہوں نے حضرت عائشہؓ کو نبی اکرمﷺ کی خدمت میں پیش کیا تھا میں بھی ان میں شامل تھی۔اس موقع پر نبی اکرم ؐ کو دودھ کا پیالہ بھی پیش کیا گیا۔ آپؐ نے اس میں سے کچھ پی لیا اور باقی حضرت عائشہؓ کو دیا۔ حضرت عائشہؓ اپنی طبعی حیاء اور شرم کے باعث دودھ نہیں لے رہی تھیں۔ حضرت اسماءؓ نے انہیں کہا بی بی ’’آنحضرتؐ کے ہاتھ سے دودھ کا پیالہ واپس نہ لوٹاوٴ۔‘‘اس پر حضرت عائشہؓ نے شرم وحیاء سے سمٹتے ہوئے دودھ کا وہ پیالہ لے کر اس میں سے کچھ دودھ پیا۔ حضرت اسماء ؓ کی یہ نصیحت کتنی معنی خیز اور وزن رکھتی ہے۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ کا مقام خدا کے برگزیدہ نبی کا ہے۔ جن کی روحانی برکات کے علاوہ بچا ہوا کھانا بھی تبرک اور باعث سعادت ہے۔پھر نبی اکرم ؐ نے فرمایا ’’ اب اپنی سہیلیوں کو بھی پِلاوٴ ’’۔ اسماءؓ نے عرض کیا‘‘یا رسول اللہؐ! ہمیں توبھوک نہیں ہے‘‘۔حضورؐ نے فرمایا ’’ بھوک اورجھوٹ دو چیزیں اکٹھی نہ کرو۔‘‘ اسماء ؓنے عرض کیا ’’یا رسول اللہؐ یہ جو بات ہم تکلفاً کہہ دیتے ہیں کہ بھوک وغیرہ نہیں ہے تو کیا یہ بھی جھوٹ شمار ہوگا؟‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’یقیناً جھوٹے کو جھوٹا ہی لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ چھوٹے جھوٹ کو بھی جھوٹ ہی شمار کیا جاتا ہے۔‘‘
حضرت عائشہ ؓ کی دلداری
حضرت عائشہؓ آنحضرتﷺ کی پہلی کنواری بیوی تھیں۔حضرت عائشہؓ اپنا یہ اعزاز بجا طور پر بیان بھی کیا کرتی تھیں۔ حضورﷺکی دیگر شادیاں ایسی خواتین سے ہوئیں جو مطلّقہ یا بیوہ تھیں۔ دوسری طرف آنحضورﷺحضرت عائشہؓ کی عمر کی مناسبت سے ان کا بہت لحاظ رکھتے اوردلداری فرمایا کرتے تھے۔حضرت عائشہ ؓ خود بیان فرماتی ہیں کہ‘‘ شادی کے بعدبھی میں آنحضرتﷺ کے گھر میں گڑیاں کھیلا کرتی تھی۔ میری کچھ سہیلیاں میرے ساتھ کھیلنے آتی تھیں۔جب حضورﷺ گھر میں تشریف لاتے تو وہ آپ ؐ کے رعب سے بھاگ جاتیں۔ حضورﷺمیری خاطر ان کو اکٹھا کر کے واپس گھر لے آتے اور وہ میرے ساتھ کھیلتی رہتیں۔‘‘
اس زمانہ میں عورتوں کےلئے کوئی خاص سماجی دلچسپیاں نہ ہوتی تھیں۔ ا سلئے وہ فارغ وقت کھیل اور تفریح میں گزارنا پسند کرتی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ کی مصروفیات سے بھر پور زندگی میں حضرت عائشہؓ نے اپنی ہم عمر سہیلیوں کے ساتھ کھیل اور تفریح کا مشغلہ شادی کے بعد بھی جاری رکھا جو قابل اعتراض نہیں۔حضورﷺ کی تشریف آوری پر آپ کی سہیلیوں کا بھاگ جانا ظاہر کررہا ہے کہ آپ کی ہم عمر لڑکیاں بھی یہ شعور رکھتی تھیں کہ حضرت عائشہؓ شادی شدہ ہیں اور ان کے شوہر کے آجانے کے بعد ان کو حضورﷺ کی خدمت کے لئے فارغ کر دینا مناسب ہے۔
رسول اللہﷺ کی دلداری کا ایک واقعہ حضرت عائشہؓ یوں بیان فرماتی ہیں کہ رسول کریمﷺ گھر میں تشریف فرماتھے کہ اچانک ہم نے باہر کچھ شوراور بچوں کی آوازیں سنیں۔ نبی کریم ﷺنے باہرجاکردیکھا تو ایک حبشی عورت تماشا کررہی تھی اور بچے بالےاس کے گردجمع تھے۔آپ ؐنے مجھے فرمایا ’’عائشہؓ ! تم بھی آکر دیکھ لو‘‘ میں نےآکراپنی ٹھوڑی رسول اللہ ﷺکے کندھے پر رکھی اور دیکھنے لگی۔ کچھ دیربعد حضورؐ پوچھتے‘‘دیکھ چکی ہو؟ بس کافی ہے؟‘‘میں کہہ دیتی ’’نہیں ابھی تو اور دیکھوں گی‘‘ اور میرے دل میں تھا کہ ذرا دیکھوں تو سہی یہ میرے کتنےناز اُٹھاتے ہیں۔ اتنے میں حضرت عمرؓ آگئے تو بچے ان کو دیکھ کر بھاگ گئے۔ رسول کریم ﷺ نےفرمایا ’’معلوم ہوتا ہے انسانوں اور جنوں میں سے تمام شیطان عمرؓ کے خوف سے بھاگتے ہیں۔‘‘
رسول کریمﷺاپنی تمام بیویوں کے ساتھ ان کی دلچسپی اور مذاق کے مطابق بات کرنا پسند فرماتے تھے مگر حضرت عائشہ ؓ کی نو عمری کاخاص لحاظ تھا ان کی زبانی یہ دلچسپ واقعہ سنیئے‘‘ایک دفعہ ہم گھر کےکمرے میں بیٹھے تھے، ہوا کا جھونکا آیا تو الماری کا وہ پردہ ہٹ گیا جس کے پیچھے میری کھیلنے کی گڑیا ں رکھی تھیں۔ رسول کریم ﷺنے دیکھ کر فرمایا۔ عائشہؓ یہ کیا ؟ میں نے عرض کیا حضورﷺ میری گڑیاں ہیں۔ آپؐ بڑی توجہ سے یہ سب کچھ ملا حظہ فرمارہے تھے۔ گڑیوں کے درمیان میں چمڑے کے دو پروں والا ایک گھوڑا آپؐ نے دیکھا تواس کے بارے میں پوچھا ’’ عائشہؓ ان گڑیوں کے درمیان میں کیا رکھا ہے؟میں نے کہا گھوڑا ہے۔آپؐ پروں کی طرف اشارہ کر کے فرمانے لگے۔‘‘اس کے اوپر کیا لگا ہے‘‘ میں نے کہا اس گھوڑے کے دو پر ہیں۔ تعجب سے فرمایا‘‘ گھوڑے کے دو پرَ ؟‘‘ میں نے کہا‘‘ آپؐ نے سنا نہیں کہ حضرت سلیمان کے گھوڑوں کے پَر ہوتے تھے ’’۔اس پر آنحضرت ﷺ ہنسے اوراتنا ہنسے کہ مجھے آپؐ کے دانت نظر آنے لگے۔
اس واقعہ سےحضرت عائشہؓ کی ذہنی بلوغت کا بھی پتہ چلتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عرب میں پرورش پانے کے باوجود آپ کی معلومات اور سوچیں ہم عمربچیوں سےکتنی زیادہ ہوش مندانہ تھیں۔
رونق و تفریح
عید کا دن تھا حضرت عائشہ ؓ کے گھر میں کچھ بچیاں دف بجا کر جنگ بُعاث کے نغمے گا رہی تھیں۔ حضور ؐ گھر میں دوسری طرف منہ پھیر کر لیٹے ہوئے تھے۔ اتنے میں حضرت ابو بکر ؓ تشریف لائے اور اپنی بیٹی حضرت عائشہ ؓ کو ڈانٹنے لگے کہ رسول ﷺکے گھر میں یہ گانا بجانا کیسا ؟ آنحضرتﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کی خاطرداری کرتے ہوئے فرمایا‘‘ اے ابوبکرؓ !ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے آج مسلمانوں کی عید ہے۔ ان لڑکیوں کو خوشی کر لینے دو۔‘‘
حضورؐ کوحضرت عائشہؓ کی دلداری کا اتنا خیال ہوتا تھا کہ ایک دفعہ عید کے موقع پر حبشہ کے لوگوں نے تیر اندازی، نیزہ بازی اور تلوارزنی کے کچھ کرتب دکھانے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ؐ نے فرمایا ’’ عائشہ! تمہارا بھی دل کرتا ہے کہ یہ کھیل دیکھو‘‘۔ میں نے کہا ’’ ہاں یا رسو ل اللہﷺ! میں تو کرتب دیکھناچاہتی ہوں ’’آپؐ نے فرمایا ’’ پھر آجاوٴ۔ آپؐ مجھے ساتھ لے گئے اور اپنے پیچھے کھڑاکر لیا۔ میں حضورؐ کے کندھے کے اوپر سے دیر تک دیکھتی رہی یہاں تک کہ میں سیر ہوگئی۔
پھرحضورﷺنے خود ہی مجھ سےپوچھا کہ کیا خوب جی بھر کر دیکھ لیا۔میں نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہﷺ۔اس پر ارشاد فرمایا ٹھیک ہے اب گھر جاؤ۔
اس واقعہ سے رسول کریمﷺ کی اس شفقت و محبت اور دلداری کا بھی اندازہ ہوتا ہے جو آپؐ حضرت عائشہؓ سے رکھتے تھے۔ تاہم حضورؐ کی زوجہ اور ام المؤمنین ہونے کےسبب آپ کی بالغ عمری میں پردہ کی جو ضرورت تھی یہ تماشا دکھاتے ہوئے آپﷺ نے اس کا بھی لحاظ رکھا اور حضرت عائشہؓ کو پردہ کی خاطر اپنے پیچھے کھڑا کر کے یہ کرتب دکھائے۔
حضرت عائشہ ؓ یہ واقعہ سنا کر فر ما یاکرتی تھیں کہ نو عمر لڑکیوں کوکھیل تماشا کا شوق ہوتا ہے۔ دیکھو آنحضرت ﷺ نوعمری کے جذبات کا کتنا لحاظ رکھتے تھے اور ہر جائز خواہش پورا کرنے میں کوئی تامل نہیں فرماتے تھے۔ ہر چند کہ عائشہؓ سے شادی کے وقت عمروں کا تفا وت چالیس برس سے بھی زائد تھا جو بہت سنجیدگی اور تکلّف پیدا کرسکتا تھا مگر فی الواقعہ ایسا نہیں ہوا۔ آپؐ نے حضرت عائشہ ؓ کی دل لگی اور ناز برداری کے لئے کبھی کوئی جائزکسر اٹھا نہ رکھی۔
دوڑ کا مقابلہ
آنحضرتﷺ کا حضرت عائشہؓ کے ساتھ ایسا ہی پُر شفقت،بے تکلفی کا رہن سہن تھا جس سے آپؐ نے ان کا دل جیت لیا۔آپؐ ان کی جائز خواہشات اور نو عمری کے سارے چاؤ پورے کرتے تھے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک سفر میں حضرت نبی اکرمﷺنے فرمایا کہ عائشہؓ ! آپؐ میرے ساتھ دوڑ لگا نا چاہتی ہو۔ پھر باہم دوڑ کا مقابلہ ہواوہ فرماتی ہیں کہ میں دبلی پتلی تھی دوڑ میں آگے نکل گئی۔اب کیامعلوم حضور اکرم ﷺنے خود انہیں حوصلہ افزائی کی خاطر یہ موقع دیا یا حضرت عائشہؓ اپنے دبلے پن کی وجہ سے آگے بڑھ گئیں مگر کچھ عرصہ بعد ایک اور موقع پر حضورؐ نے ان سےفرمایا کہ چلو پھر دوڑ کا مقابلہ ہوجائے۔تب وقت گزرنے کے باعث حضرت عائشہؓ کا وزن بھی کچھ بڑھ چکا ہوگا۔ بہر حال اس مرتبہ آنحضرت ﷺآگے بڑھ گئے اور اس مرتبہ آپؐ نےحضرت عائشہ ؓ کو باور کروایا کہ یہ اس دوڑ کا بدلہ ہوگیا جو پہلےتم نے جیتی تھی۔ اور یوںشگفتگی ومزاح کی ایک نئی کیفیت پیدا کردی۔ آنحضورؐ حضرت عائشہؓ سے ان کی عمر کے مناسبت سے گفتگو فرمایا کرتے تھے۔اور ان کے جذبات کا خاص خیال رکھتے تھے۔
جنگوں میں شرکت
رسول کریم ﷺ کا ازواج کو جنگی کرتب دکھا نے اور دوڑ کا مقابلہ کرنے میں ایک اور گہری حکمت یہ نظر آتی ہے کہ وہ حسب ضرورت مشکل حالات کا مقابلہ کرسکیں۔چنانچہ جنگوں میں پہلی دفعہ رسول اللہﷺ نے خواتین سے زخمیوں کو پانی پلانے اور نرسنگ کی خدمات لینے کی پاکیزہ بنیاد ڈالی۔
قدیم زمانہ میں رواج تھا کہ جنگ میں مردوں کا حوصلہ بڑھانے، رنگ و طرب کی محفلیں سجانے اور دل بہلانے کیلئے عورتیں بھی شریک جنگ ہوتی تھیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کاجو تقدس اور احترام قائم فرمایا اس لحاظ سے آپؐ کو یہ طریق سخت ناپسند تھا کہ عورت مردوں کے ہاتھ میں محض کھلونابن کررہ جائے۔خیبر کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص کچھ خواتین کو زخمیوں کی مرہم پٹی، تیمارداری اور دیکھ بھال کیلئے ساتھ چلنے کی اجازت فرمائی۔آنحضرتﷺ کے اس پاکیزہ خیال کو ایک فرانسیسی عیسائی سوانح نگاریوں بیان کرتا ہے کہ
’’شاید تاریخ میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ کسی لشکر کے ساتھ عورتیں نرسنگ کی خدمات اور زخمیوں کی دیکھ بھال کیلئے شامل ہوئیں، ورنہ اس سے پہلے جنگ میں عورت سے تحریضِ جنگ اور حظِّ نفس کے سواکوئی کام نہیں لیا جاتا تھا۔ عورت سے درست اور جائز خدمات لینے کے بارہ میں اب تک کسی نے نہ سوچا تھا کہ میدان جنگ میں تیمارداری اور بیماروں کی دیکھ بھال کی بہترین خدمت عورت ہی انجام دے سکتی ہے۔‘‘ اس طرح نبی کریمؐ نے جنگ میں عورتوں کا با عزت مقام بحال کیا۔جس پر خواتین بجا طور پر فخر کرتی تھیں۔چنانچہ صحابیات حضرت ام سلیمؓ اور حضرت امّ رفیدہؓ کی جنگی خدمات کے علاوہ خود رسول اللہﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ اور آپ ؐ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ نے بھی جنگ بدر میں یہ خدمات انجام دیں۔حضرت ام سلمہؓ نے غزوۂ حدیبیہ میں مفید مشورہ دے کر عورتوں کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
صحابیات میں سے حضرت امّ سلمہؓ اور رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ کے ساتھ حضرت عائشہؓ نے بھی جنگوں میں شریک ہوکرنرسنگ، مرہم پٹی اور زخمیوں کو پانی پلانے کی خدمات انجام دیں۔
خادم ِ رسولﷺحضرت انس ؓ کی روایت کے مطابق جنگ احد میں انہوں نے حضرت عائشہ ؓ اور حضرت امّ سُلیم ؓ کوایسی ہی ہنگامی ڈیوٹی کے دوران مستعدی سےبھاگتے ہوئے دیکھا۔ اسی طرح حضرت سہل ؓ بن سعدبیان کرتے ہیں احد کے دن جب آنحضرت ﷺ کےچہرے پر زخم آئے تو آپؐ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ نے آپ ؐ کے زخم دھوئے اور مرہم پٹی کی۔
رسول اللہ ﷺ جنگوں میں تشریف لے جاتے ہوئے بیویوں کو ہمراہ لے جانے کیلئے قرعہ اندازی کے ذریعے انتخاب فرماتے تھے جس کے نام کا قرعہ نکلتا اسے ساتھ لے جاتے۔ احادیث میں حضرت عائشہؓ کا آنحضور ؐ کے ساتھ دو غزوات جنگ احد اور غزوہ بنو مصطلق میں شامل ہونے کا ذکر ملتا ہے۔
جذبات کا خیال
یوں تو نبی کریمﷺسب بیویوں کے ساتھ دلداری کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھےاور ان کی معمولی سے معمولی شکایت کا بھی ازالہ فرماتے تھے۔مگر حضرت عائشہ ؓ اپنی زیر کی، ذہانت اور مزاج شناس ہونے کی وجہ سے آپؐ کی شفقت کاخاص مورد ہوتی تھیں۔آپؐ فرماتے تھے کہ‘‘عائشہ ؓ کی فضیلت باقی بیویوں پر ایسے ہے جیسے ثرید یعنی گوشت والے کھانے کو عام کھانے پر‘‘۔ بعض بیویوں کی طرف سےحضرت عائشہ ؓ سے زیادہ حسن سلوک پر شکوہ پیداہواتو فرما یا کہ ’’بیویوں میں سے صرف عائشہ ؓ ہی ہے جن کے بستر میں بھی مجھے وحی ہوتی ہے‘‘۔ 8یعنی خدا کا سلوک بھی اللہ کی اس بندی کے ساتھ نرالا ہی ہے۔
رسول کریمؐ کو حضرت عائشہ ؓ کے جذبات و احسا سا ت کا جس قدر خیال ہوتا تھا، اس کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ ایک ایرانی باشندہ رسول کریمؐ کا ہمسایہ تھا، جو کھانا بہت عمدہ بناتا تھا اس نے ایک دن رسول کریمؐ کے لئے کھانا تیا ر کیا اور آپ کو دعو ت دینے آیا۔ آنحضورؐ کی باری عائشہؓ کے ہاں تھی۔ آپؐ نے فرمایا کہ کیا عائشہؓ بھی ساتھ آجائیں؟ اُس نے غالباً تکلف اور زیادہ اہتمام کے اندیشے سے نفی میں جواب دیا آپؐ نے فرمایا پھر میں بھی نہیں آتا۔تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ بلانے آیا تو آپؐ نے پھرفرمایا میری بیوی بھی ساتھ آئے گی؟ اس نے پھر نفی میں جواب دیا تو آپ نے دعوت میں جانے سے معذرت کر دی۔وہ چلا گیا، تیسری دفعہ پھر آکراس نے گھر آنے کی دعوت دی۔ آپؐ نے بھی پھراپنا وہی سوال دہرایا کہ عائشہؓ بھی آجائیں اس مرتبہ اس نے حضرت عائشہ ؓ کوہمراہ لانے کی حامی بھرلی۔اس پر آپؐ حضرت عائشہ ؓ کےساتھ اس ایرانی کے گھر تشریف لے گئے اور وہاں جاکر کھانا تناول فرمایا۔
جائز خواہشات کا خیال
رسول اللہﷺ کو حضرت عائشہؓ کی جائز خواہشات کا بہت خیال رکھتے تھے۔حضرت عائشہؓ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی جوہرانسان کی طبعی خواہش ہوتی ہے۔ ایک دفعہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ یا رسول اللہﷺ! آپ میری کوئی کنیت ہی رکھ دیں جو بالعموم کسی بچّے کے نام پر ہوتی ہے۔ رسول کریم ﷺنے فرمایا تم اپنے بیٹے کے نام پر کنیت رکھنا۔ :بعض روایات کے مطابق حضرت عائشہؓ کا ایک بچہ بوجہ اسقاط ضائع ہوگیاتھا، اس کی نسبت سےآپؓ کی کنیت امّ عبدا للہ رکھی گئی۔دوسری روایت میں ہے کہ جب ان کی بہن اسماءؓ کے ہاں عبداللہؓ بن زبیر کی ولادت ہوئی تو حضرت عائشہؓ اس بچے کو لے کر رسول اللہ ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔آپؐ نے اس کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالااور فرمایا اس کا نام عبداللہ اورتمہاری کنیت اس کی نسبت سے امّ عبداللہ ہوگی۔ ;
اس واقعہ سے رسو ل اللہﷺکی دلداری کا اندازہ ہوتا ہے جو آپؐ حضرت عائشہؓ سے فرماتے تھے۔ الغرض حضرت عائشہؓ نے رسول اللہ ﷺسے جو شفقتیں اور محبتیں دیکھیں وہ غیر معمولی ہیں۔
نادانستہ خطا سے درگزر
رسول کریمﷺکےسفر میں جو بیوی بھی ہمراہ ہوتی آپؐ اس کے آرام اور دلداری کا خاص خیال رکھتے۔ احادیث میں حضرت عائشہؓ کا ہار ایک سے زائد مرتبہ گم ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ایک ایسے ہی موقعہ پر آنحضرتؐ نے کمال شفقت سے حضرت عائشہ ؓ کے ہار کی تلاش میں کچھ لوگ بھجوائے۔ اسلامی لشکر کو اس جگہ پڑاؤ کرنا پڑا جہاں پینے کے لئے پانی میسر تھا نہ وضو کے لئے۔ ایسی صورت حال پیدا ہونے پر حضرت عائشہ ؓ کے والد حضرت ابو بکر ؓ بھی ان سے ناراض ہوگئے اور سختی سے فرمانے لگے۔‘‘عائشہؓ ! تم ہر سفر میں ہی مصیبت اور تکلیف کے سامان پیدا کرتی ہو۔‘‘< مگر آنحضرت ﷺنے کبھی ایسے موقع پر حضرت عائشہ ؓ کو جھڑکا تک نہیں خواہ ان کی وجہ سے آپؐ کو پورے لشکرکے کُو چ کا پروگرام بدلنا پڑااور تکلیف بھی اٹھانی پڑی۔
اسی موقع پر تیمّم کی آیات اتریں۔ جو امّت کی سہولت کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک احسان اور تحفہ تھااورجسے بعض باذوق صحابہ حضرت عائشہؓ کی برکت شمار کرتے تھے۔ چنانچہ انصار قبیلے کے رئیس حضرت اُسیدؓ بن حضیر نے تو اس موقع پر امّ المومنین حضرت عائشہؓ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اے ابو بکر ؓ کی اولاد! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے جو مسلمانوں کو عطا ہوئی ہے۔
واقعۂ افک
ایک اورسفر میں سوءِ اتفاق سے پیش آنے والا واقعہٴ اِفک حضرت عائشہؓ کی زندگی کا دردناک واقعہ اور ایک بہت بڑا ابتلاء بن کر پیش آیا۔جس نے حضرت عائشہؓ بلکہ پورے اہل ِمدینہ کی زندگی کو ہلا کر رکھ دیا، خود حضرت عائشہؓ نے اس واقعہ کی جو تفاصیل بیان کی ہیں وہ ایک طرف انکی سادگی اور معصومیت کو ظاہر کرتی ہیں تودوسری طرف اس کرب و اذیت کابھی اندازہ ہوتا ہے جس میں وہ قریبا ً ایک ماہ مبتلا رہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی استقامت عطافرمائی۔اس دوران خودحضر ت نبی اکرمﷺ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کے گھرانے پرجھوٹی الزام تراشی تمام مخلص مومنوں کے لئے بھی بہت بڑی آزمائش تھی۔ جس کا سامنا معمولی غفلت اور سادگی کے باعث انہیں کرنا پڑا۔مگر خدائے علیم وخبیر کی طرف سے حضرت عائشہؓ کی براأت کا جس طرح اظہار ہوا، اس سے حضرت عائشہ ؓ کا مقام اور عصمت وطہارت ثابت ہوئی اور آپ ؓ کی ذات پر ہونیوالے تمام ممکنہ اعتراضات کوہمیشہ کیلئے ردّ کردیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ مطہرہ اور حضرت صدیق اکبرؓ کی بیٹی کو ’’صدیقہ ’’کے بلند ترین مقام پر فائز فرما دیاگیا۔اپنے خوبصورت انجام کے لحاظ سے یہ واقعہ سوءِ اتفاق نہیں بلکہ حسنِ اتفاق بن جاتاہے۔جس میں اللہ تعالیٰ کی کئی حکمتیں کارفرما تھیں۔ ایک اہم حکمت مدینہ میں افواہیں پھیلانے والے منافقوں کی ریشہ دوانیوں کا ہمیشہ کیلئے سدّ باب بھی تھا۔
اس روح فرسا واقعہ کی کسی قدر تفصیل یہ ہےکہ غزوہ بنو مصطلق (جسے غزوہٴ مر یسیع بھی کہا جاتا ہے) میں دوبارہ حضرت عائشہؓ کا ہار گم ہوا۔حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ اس زمانہ میں سفروں میں عورتوں کو ہودج(ہودج) سمیت اٹھاکر اونٹوں پر رکھ دیا جاتا تھا۔اس سفر میں فجر کے وقت جب قافلے نے کوچ کرنا تھا اس سے قبل آپؓ قضائے حاجت کے لئے باہر تشریف لے گئیں۔ واپس آکرگلے پر جو ہاتھ پھیرا توآپؓ کا ہارموجود نہیں تھا۔ آپؓ گھبراہٹ میں واپس جاکر ہار تلاش کرنے لگیں اور صبح کی روشنی ہوجانے تک ڈھونڈتی رہیں۔ہار تو مل گیا لیکن آپ کی واپسی تک قافلہ روانہ ہوچکا تھا۔ آپؓ فرماتی تھیں کہ میں سخت پریشان ہوئی جنگل میں تن تنہا اکیلی وہاں آکر جولیٹی ہوں تو آنکھ لگ گئی۔ جو کسی کے بآواز بلند اِنَّالِلّٰہ پڑھنے سے کھلی۔ یہ شتر سوار صحابی رسول حضرت صفوانؓ بن معطّل تھے جو آنحضورؐ کی ہدایت کے مطابق لشکر کے پیچھے حفاظتی نقطہٴ نظر سے یہ جائز ہ لیتے آرہے تھے کہ کوئی خطرہ تو نہیں یا قافلے کی کوئی چیز پیچھے تو نہیں رہ گئی۔ اچانک ان کی نظر فرش زمین پر سوئی ہوئی حضرت عائشہؓ پر پڑی تو بے اختیار ان کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُون۔یہ سن کر حضرت عائشہؓ اٹھ کر بیٹھ گئیں۔وہ بیان کرتی ہیں کہ پردے کے احکامات نازل ہونے سے قبل اس صحابی ٴ رسول نے مجھے دیکھا ہوا تھا اس لئے پہچان لیا، میں نے فوراً پردہ کرلیا۔ حضرت عائشہؓ کی اپنی گواہی اس صحابی کے بارہ میں یہ ہے کہ‘‘صفوان شریف النفس انسان تھا کہ اس نے مجھ سے کوئی بات تک نہیں کی بس اونٹ کو میرے سامنے لاکر بٹھا دیا اور مہار پکڑے رکھی او ر میں اونٹ پر سوار ہوگئی‘‘
دوسری طرف جب قافلے والوں کو حضرت عائشہؓ کی گمشدگی کا علم ہوا تو وہ سخت پریشان ہوکراگلے پڑاوٴ پر ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔حضرت صفوانؓ حضرت عائشہؓ کی سواری لیکر عین ظہر کے وقت وہاں پہنچے۔ جبکہ چہ مگوئیاں شروع ہوچکی تھیں یہی وقت تھاجب منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی سلول اور اس کے فتنہ پرداز ساتھیوں کو طرح طرح کے الزام لگانے کا موقع ہاتھ آ گیا۔
اِدھرحضر ت عائشہ ؓ کی سادگی اور معصومیت کا اور ہی عالم تھا۔ آپؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں مدینہ واپس آئی تو مجھے کچھ پتا نہیں تھا کہ کیا ریشہ دوانیاں اور الزام تراشیاں اند ر اندر جاری ہیں۔ اتفاق سے اسی دوران میں بیمار ہوگئی۔ ایک دن قضائے حاجت کے لئے امّ مسطح ؓ کے ساتھ باہر جارہی تھی کہ اچانک ام مسطح کا پاوٴں پھسلا تو وہ کہہ اٹھیں ’’مسطح ہلاک ہو‘‘ میں نے کہا‘‘اپنے اس بیٹے کو کیوں برا بھلا کہتی ہوجوغزوہ بدر میں شامل ہوا تھا‘‘۔=وہ بولیں آپ کو نہیں معلوم کہ وہ کیسے کیسے الزام آپ پر لگارہاہے؟تب پہلی دفعہ مجھے علم ہوا کہ ایسی باتیں ہورہی ہیں۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ ان دنوں مجھے تو صرف ایک بات پریشان کرتی تھی کہ آنحضورﷺکی طرف سے اس لطف و کرم، التفات اور دلدار ی کا اظہار نہیں ہوتا تھا جو آپؐ پہلے کیاکرتے تھے۔بس اتنا تھا کہ آپؐ گھر آتے اور حال پوچھ کر چلے جاتے۔ بالآخر میں بھی بیماری کے باعث آنحضورؐ سے اجازت لے کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی۔ اپنی والدہ سے جاکر حیرت سے پوچھا کہ امی! لوگ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ والدہ نے (جو اپنی معصوم بچی کے مزاج سے خوب شناسا تھیں)تسلی دی اور کہا بیٹی! گھبراوٴ نہیں جہاں ایک سے زائد بیویاں ہوں وہا ں ایسی باتیں ہوہی جاتی ہیں۔ مگراس کے باوجود حضرت عائشہؓ کے دل کا بوجھ ہلکا نہ ہوا۔انہوں نے پوچھا کیا رسول اللہﷺ کو بھی یہ باتیں پہنچی ہیں۔والدہ نے کہا ہاں۔اس پرحضرت عائشہ ؓ نے پوچھا اور ابا کو بھی۔انہوں نے کہا ہاں۔یہ سن کر حضرت عائشہ ؓ بیہوش ہوکر گر پڑیں۔جب ہوش میں آئیں تو شدید بخار میں مبتلا تھیں اور کپکپی طاری تھی۔ فرماتی تھیں میں ساری رات روتی رہی نہ نیند آئے نہ الزام تراشی کے باعث دکھ سے میرےآنسو تھمیں۔ مگر ابھی ابتلاء کے دن باقی تھے۔
باقی انشاء اللہ آئندہ


