درس القرآن

درس القرآن

Spread the love

 

يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰٓی اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَيْـًٔا وَّ لَا يَسْرِقْنَ وَ لَا يَزْنِيْنَ وَ لَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَهٗ بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ؁۱۳

(سورة الممتحنہ آیت 13)

ترجمہ

اے نبی! جب مومن عورتیں تیرے پاس آئیں (اور) اس (امر) پر تیری بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور نہ ہی چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ ہی (کسی پر) کوئی جھوٹا الزام لگائیں گی جسے وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے سامنے گھڑ لیں اور نہ ہی معروف (امور) میں تیری نافرمانی کریں گی تو تُو اُنکی بیعت قبول کر اور اُن کےلئے اللہ سے بخشش طلب کر۔ یقیناً اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

(اُردو ترجمہ قرآن صفحہ 1022)

تفسیر

ایک اور غلطی ہے وہ اطاعت در معروف کے سمجھنے میں ہے کہ جن کاموں کو ہم معروف نہیں سمجھتے اس میں اطاعت نہ کریں گے۔ یہ لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی آیا ہے وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ اب کیا ایسے لوگوں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عیوب کی بھی کوئی فہرست بنالی ہے اسی طرح حضرت صاحب نے بھی شرائط بیعت میں طاعت در معروف لکھاہے۔ اس میں ایک سِرّ ہے۔

(حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ 75، 76)

حدیث

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جس نے مسلمانوں میں سے کسی یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شریک کیا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا سوائے اس کے کہ وہ ایسا گناہ کرے جو ناقابلِ معافی ہو۔

(جامع ترمذی کتاب البروالصلہ باب فی رحمةالیتیم حدیث نمبر 1840)

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *