//درس القرآن و حدیث ماہ مئی ۲۰۲۰
Quran

درس القرآن و حدیث ماہ مئی ۲۰۲۰

 قرآن کریم

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَائِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّ بِمَآ اَنْفَقُوْا مَنْ اَمْوَالِھِمْط فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُط وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْھُنَّ ج فَاِنْ اَطَعْنٰکُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْھِنَّ سَبِیْلًا ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیٍّا کَبِیْرٍا۔ (سورۃ النّسآء : 35)

ترجمہ: مرد عورتوں پر نگران ہیں اس فضلیت کی وجہ سے جو اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر بخشی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ وہ اپنے اموال (ان پر) خرچ کرتے ہیں۔ پس نیک عورتیں فرمانبردار اور غیب میں بھی ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں جن کی حفاظت کی اللہ نے تاکید کی ہے اور وہ عورتیں جن سے تمہیں باغیانہ رویے کا خوف ہو تو ان کو (پہلے تو) نصیحت کرو، پھر ان کو بستروں میں الگ چھوڑ دو اور پھر (عند الضرورت) انہیں بدنی سزا بھی دو۔ پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو پھر ان کے خلاف کوئی حجت تلاش نہ کرو۔ یقینا اللہ بہت بلند (اور) بہت بڑا ہے۔

تشریح

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ کا ایک ظاہری معنی تو یہ ہے کہ مرد عموماً عورتوں سے زیادہ مضبوط اور ان کو سیدھی راہ پر قائم رکھنے والے ہوتے ہیں۔ اگر مرد قَوّٰمُوْنَ نہیں ہوں گے تو عورتوں کے بہکنے کا امکان زیادہ ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ مرد قوّام ہیں جو اپنی بیویوں کے خرچ برداشت کرتے ہیں۔ وہ نکھٹو جو بیویوں کی آمد پر پلتے ہیں وہ ہرگز قوّام نہیں ہوتے۔ آیت کے آخری حصہ میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر تم قوّام ہو اور اس کے باوجود تمہاری بیوی بہت زیادہ باغیانہ روح رکھتی ہے تو اس صورت میں یہ اجازت نہیں کہ اس کو فوری طور پر بدنی سزا دو بلکہ پہلے اسے نصیحت کرو۔ اگر نصیحت سے نہ مانے تو ازدواجی زندگی سے کچھ عرصہ تک احتراز کرو۔ (دراصل یہ سزا عورت سے زیادہ مرد کو ہے) اگر اس کے باوجود اس کی باغیانہ روش دور نہ ہو تو پھر تمہیں اس پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت ہے مگر اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایسی ضرب نہ لگے جو چہرہ پر ہو اور جس سے اس پر کوئی داغ لگ جائے۔ اس آیت کریمہ کے حوالہ سے بہت سے لوگ اپنی بیویوں پر ناجائز تشدد کرتے ہیں کہ مرد کو بیوی کو مارنے کی اجازت ہے حالانکہ مذکورہ بالا شرائط پوری کریں تو بھاری امکان ہے کہ کسی تشدد یا سختی کی ضرورت نہ پڑے۔ اگر تشدد جائز ہوتا تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بیویوں پر بدنی تشدد کی کوئی ایک ہی مثال نظر آجاتی۔ حالانکہ بعض بیویاں بعض دفعہ آپ کی ناراضگی کا موجب بھی بن جاتی تھیں۔

{ ترجمة القرآن حضرت مرزا طاہر احمدؒ صفحہ 134}

حدیث

ایک لمبی حدیث مبارکہ کا ترجمہ : حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مخزومیہ عورت (فاطمہ نامی) نے چوری کی۔ اس معاملہ میں قریش کو بہت فکر ہوا (کیونکہ وہ بڑے گھرانے کی عورت تھی اور اب چوری کی وجہ سے اس کا ہاتھ کاٹا جانے والا تھا)۔ انہوں نے باہم مشورہ سے کہا کہ اس کے متعلق صرف حضرت اسامہؓ ہی (جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں) آپ سے بات کرنے کا حوصلہ کرسکتے ہیں۔ آخر لوگوں کے کہنے سے صرف اسامہؓ نے حضور علیہ السلام سے بات کی۔ آپؐ نے غصہ کے ساتھ فرمایا کہ اے اسامہ ! کیا تم اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سزائوں کے بارے میں مجھ سے سفارش کرتے ہو؟ پھر آپؐ نے لوگوں کو جمع کر کے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں کو اسی بات نے تباہ کیا کہ ان میں جب بڑے گھرانے کا آدمی چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی غریب چوری کرتا تو اسے سزا دیتے۔ خدا کی قسم ! اگر میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرے تو میں خدا کے فیصلہ کے مطابق اس کا ہاتھ بھی کاٹوں گا۔ (بخاری و مسلم)

تشریح

ہمارے سید و آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کمال ہے کہ آپؐ نے جملہ احکام خداوندی کو بتمام و کمال پورا کردکھایا۔ قریشی مہاجر، بنو مخزوم کی فاطمہ کا ہاتھ کاٹے جانے کے خیال سے پریشان ہو رہے تھے لیکن نبیوں کا سردار (صلی اللہ علیہ وسلم) برسر منبر فرما دیتا ہے کہ خدائی قانون میں حیص بیص کے کیا معنے؟ اگر میری اپنی بیٹی فاطمہؓ بھی (خدانخواستہ) چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دوں گا۔ اللھم صل علی البنی و آلہٖ لا سیما علٰی فاطمۃ الزھرہؓ۔