//درس القرآن و حدیث ماہ جون ۲۰۲۰
Quran

درس القرآن و حدیث ماہ جون ۲۰۲۰

۔ وَاِنِ امْرَأَۃٌ خَافَتْ مَنْمبَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَآ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَھُمَا صُلْحًا ط وَالصُّلْحُ خَیْرٌ ط وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ط وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا  وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآئِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْھَا کَالْمُعَلَّقَۃِ ط وَ اِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔

(سورۃ النساء : 129، 130)

ترجمہ

 اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے مخاصمانہ رویے یا عدم توجہی کا خوف کرے تو ان دونوں پر کوئی گناہ تو نہیں کہ اپنے درمیان اصلاح کرتے ہوئے صلح کرلیں۔ اور صلح (بہرحال) بہتر ہے۔ اور نفوس کو (سرشت میں) بخل ودیعت کردیا گیا ہے۔ اور اگر تم احسان کرو اور تقویٰ سے کام لو تو یقینا اللہ اس سے جو تم کرتے ہو خوب باخبر ہے۔ اور تم یہ توفیق نہیں پا سکو گے کہ عورتوں کے درمیان کامل عدل کا معاملہ کرو خواہ تم کتنا ہی چاہو۔ اس لئے (یہ تو کرو کہ کسی ایک کی طرف) کلیةً نہ جھک جائو کہ اس (دوسری) کو گویا لٹکتا ہوا چھوڑ دو۔ اور اگر تم اصلاح کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یقینا اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

(ترجمہ حضرت مرزا طاہر احمدرحمہ اللہ تعالیٰ)

تشریح

اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَھُمَا صُلْحًا :صلح بڑی اچھی چیز ہے۔ بہت لوگ ایسے ہیں کہ وہ عداوت کو بڑھاتے ہی رہتے ہیں۔

کَالْمُعَلَّقَۃِ :ایسا نہ کرو کہ وہ عورت درمیان میں لٹکی رہے کہ نہ اس کو خاوند والی کہہ سکتے ہیں نہ بے خاوند والی۔

وَ تَتَّقُوْا :تقویٰ بہت ضروری ہے۔ ایک امیر کو میں بہت اچھا سمجھتا تھا اور میرے استاد اسے برا سمجھتے تھے۔ ایک دفعہ ذکر چل پڑا۔ میں نے متقیوں کی مثال میں اس امیر کو پیش کیا۔ آپ نے کہا کہ تقویٰ کے معنی جانتے ہو؟ عرض کیا جو کوئی کام شریعت کے خلاف نہ کرے۔ فرمایا یہی بات ہے کہ وہ شریعت کی تو آڑ رکھتا ہے اور کرتا وہی ہے جو اس کے دل میں ہوتا ہے۔ اپنے اغراض کے موافق احکام کو ڈھال لیتا ہے۔

(حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ 57)

حدیث

و عن ابی ہریرۃ ؓ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : اذا کانت عندالرجل امرأتان فلم یعدل بینھما جاء یوم القیامۃ و شقہ ساقط۔

(رواہ الترمذی)

حضرت ابوہریرہؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے نکاح میں ایک سے زائد (مثلاً) دو بیویاں ہوں اور وہ ان دونوں کے درمیان عدل و برابری نہ کرتا ہو تو وہ قیامت کے دن (میدان حشر میں) اس طرح آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ ساقط ہوگا۔