اداریہ

اداریہ

سوشل میڈیا

مدثرہ عباسی ۔ مدیرہ

دور جدید سوشل میڈیا کا دورہے اور اس کی اہمیت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا کے بغیر زندگی کا تصور نامکمل لگتا ہے۔ سوشل میڈیا نے ترسیل کو وسعت بخشی ہے، آج آپ دنیا کے کسی کونے میں بیٹھے ہوں اور ایک کلک میں دنیا بھر کی معلومات سے بآسانی واقف ہو سکتے ہیں۔سوشل میڈیا آج کی زندگی کا لازمی جز بن گیا ہے۔ صرف یہی نہیں سوشل میڈیا نے دنیا کو اتنا چھوٹا بنا دیا ہے کہ اب ایسا لگتا ہے جیسے دنیا اپنی گرفت میں ہے۔ یہ سب کچھ سوشل میڈیا کے ذریعہ ممکن ہؤا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی افادیت کیا ہے نہ کہ نقصانات اور اس کے نقصانات سے کیسے بچنا چاہئے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے نہ صرف مواصلات میں انقلاب آیا ہے بلکہ کاروبار اور اشتہاری دنیا میں بھی زبردست انقلاب برپا ہوا ہے۔ اب ٹویٹر، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز بھی بڑے پیمانے پر استعمال کئے جا رہے ہیں۔

انسان اپنی تمام ضروریات اپنے آپ پوری نہیں کرسکتا ، اسے اپنی خواہش ، اپنی ضرورت اور اپنا مدعا دوسروں تک پہنچنانا پڑتا ہے ، پہنچانے کے عمل کو ’ ابلاغ ‘ کہتے ہیں ، ابلاغ کے لئے انسان کو دو قدرتی ذرائع مہیا کئے گئے ہیں ، ایک : زبان ، جس کے ذریعہ آپ قریب کے لوگوں تک اپنی بات پہنچاسکتے ہیں ، دوسرے : قلم ، جس کے ذریعہ آپ کوئی بات لکھ سکتے ہیں اور اسے کسی ذریعہ سے دوسروں تک پہنچاسکتے ہیں ، ابلاغ کے یہ دو ذرائع شروع سے استعمال ہوتے رہے ہیں ، قرآن مجید میں انبیاء کی دعوت کا ذکر آیا ہے ، وہ قوم کو اپنی بات سمجھانے کے لئے زبانی تخاطب کا طریقہ استعمال کیا کرتے تھے ، تحریر کے ذریعہ دور تک اپنی بات پہنچانے کی مثال بھی قرآن مجید میں موجود ہے ؛ چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کو خط ہی کے ذریعہ اپنا پیغام پہنچایا تھا اور ایک پرندہ نے نامہ بر کا فریضہ انجام دیا تھا ۔ ( النمل:۳۱) قرآن پاک کی تعلیم، وَالنّٰشِرٰتِ نَشْراً۔دین اسلام کے حقیقی پیغام کو کُل عالم میں پھیلانے کے لئے موجودہ زمانے کی ایجادات اور ذرائع ابلاغ کے جدید طریق بہت معاون اور سُودمند ثابت ہورہے ہیں۔

پس خدا تعالیٰ نے اس نشر کے اس زمانہ میں جدید طریقے مہیا فرما دئیے ہیں۔

ہماری کوشش اس میں یہ ہونی چاہئے کہ بجائے لغویات میں وقت گزارنے کے، ان سہولتوں سے غلط قسم کے فائدے اٹھانے کے ان سہولتوں کا صحیح فائدہ اٹھائیں۔ اسی طرح آنحضرتؐ نے بھی مختلف بادشاہوں کو خطوط لکھے جن میں ایک نجاشی بھی ہیں۔ نبی کریمؐ  مکہ اور عرب کے رہنے والوں کو ذاتی طور پر تبلیغ کرنے کےعلاوہ  دور دراز کے لوگوں کو خطوط کے ذریعے بھی تبلیغ کرتے تھے۔ آپؐ نے بہت سے بادشاہوں کو خط لکھے اُن میں سے بہت سے تاریخ میں کافی مشہور ہیں۔ شاہ بازنطین کے نام، شاہ سکندریہ کے نام، شاہ ایران کے نام، شاہ حبشہ کے نام، گورنر بحرین کے نام۔ نجاشی کا نام اصحمہ بن ابجر تھا۔ نبیؐ نے اس کے نام جو خط لکھا اسے عمرو بن امیہ ضمریؓ کے بدست 6ھ کے آخر یا 7ھ کے شروع میں روانہ فرمایا، خط کے آخر میں ان مہاجرین کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے:                ’’میں نے تمہارے پاس اپنے چچیرے بھائی جعفرؓ کو مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ کیا ہے جب وہ تمہارے پاس پہنچیں تو انہیں اپنے پاس ٹھہرانا اور جبر اختیار نہ کرنا‘‘۔کورونا وائرس کی وبا کے اس دور میں ، صرف ایک ہی سوشل میڈیا ہے جو ہم سب کو تفریح اور لوگوں سے مربوط رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں، وہ سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے بھی کی جارہی ہیں۔تمام اہم معلومات اب سوشل میڈیا پر دستیاب ہیں۔ اس سے لوگوں کو بہتر طریقے سے سمجھنے اور بات چیت کرنے میں مدد ملی ہے۔

ہردور کے اپنے تقاضے ہؤا کرتے ہیں ماضی میں لوگ انٹرٹینمنٹ اور حالات سے آگاہ ہونے کے لیے ریڈیو کا سہارا لیا کرتے تھے پھر دور بدلا اور ٹی وی میڈیا متعارف ہوا جس نے ان دونوں لوازمات کے متعلق اپنے دیکھنے والوں کو لطف اندوز اورآگاہ کیا اب چونکہ یہ میڈیا مزید ترقی سے ہمکنار ہوتا جا رہا ہے۔

پیارے آقا حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہماری رہنمائی کے لئے فرماتے ہیں ہیں کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں ہماری جماعت کے فائدہ کے لئے جدید مواصلاتی نظام اور میڈیا جیسے ذرائع ابلاغ کی سہولیات مہیا کردی ہیں۔ دنیا کے ہر کونہ میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے یہ ذرائع بہت اہم ثابت ہو رہے ہیں۔ جیسا کہ ایم ٹی اے کے ذریعہ ہماری جماعت کا پیغام زمین کے کناروں تک پہنچ رہا ہے۔ تاہم یہ صورتِ حال ہماری ذمہ داری کو مزید بڑھادیتی ہے کیونکہ جو لوگ ہمارا پیغام سُن رہے ہیں وہ یہ جاننے کے لئے ہماری جانب دیکھیں گے کہ آیا ہم جو کہہ رہے ہیں اس پر خود عمل بھی کرتے ہیں۔ اگر وہ لوگ یہ دیکھیں گے کہ ہم جو تعلیمات پیش کررہے ہیں وہ تو سچی ہیں لیکن احمدیوں کے اپنے عملی معیار میں کمزوری پائی جاتی ہے تو اس کا اُن پر مثبت اثر ہونے کے بجائے منفی ہونے کا احتمال ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے ہمارا پیغام تو سُنیں مگر یہ محسوس کریں کہ پرانے احمدیوں کا عملی معیار توقع کے مطابق نہیں ہے تو وہ اسلام کا حقیقی پیغام پھیلانے اور اس پر عمل کرنے کا بیڑا اٹھالیں۔ ایسی صورتحال میں ہماری جماعت یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کی ترقی اور کامیابی کا سہرا اِن نئے آنے والے نیک لوگوں کے سر ہوگا اور پیچھے رہ جانے والے ان برکتوں سے محروم رہ جائیں گے۔ پس پیچھے رہ جانے والوں میں آپ کا شمار نہ ہو۔ بلکہ احمدیت کی سچائی پھیلانے والوں کی صفِ اوّل میں نہ صرف اپنے قول سے بلکہ اپنے عمل اور کارناموں کے ذریعہ بھی شامل ہوجائیں۔ آپ اس روشنی کا منبع بن جائیں جس کی کرنیں اسلام کی سچائی کو روشن کردے‘‘۔ (مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 25؍ مارچ 2016ء)

اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم نئے دَور کی ایجادات سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنی تعلیمی، تبلیغی اور تربیتی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے چلے جائیں۔ آمینز

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *