اسلامی تعلیمات

حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا

Spread the love

فضائل

حضرت عثمان ؓ کی زوجہ جن کے متعلق خودآنحضورﷺ نے فرمایا کہ وہ اخلاق میں میرے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔اور یہ بھی فرمایا کہ عثمان ؓ پہلا شخص ہے جس نے حضرت لوط ؑ کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ ہجرت کی۔حضرت رقیہ ؓ کی بیماری کی خاطر رسول اللہﷺ نے حضرت عثمان ؓ کو غزوہ بدر سے رخصت عطا فرمائی اور پھر مال ِ غنیمت میں سے حصہ بھی دیا۔

پیدائش

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اولاد میں دوسری صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا تھیں جو حضرت زینب ؓ سے تین سال چھوٹی تھیں۔آپ ؓ ام ّ المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے دعویٰ نبوت سے سات سال قبل پیدا ہوئیں۔جب آنحضورؐ کی عمر33برس تھی۔اپنی دیگر بہنوں کی طرح آپ ؓ بھی ابتدائی مسلمان سمجھی جاتی ہیں۔

قبول اسلام۔نکاح اور طلاق

رسول اللہ ﷺ کے دعویٰ نبوت سے قبل ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوا لیکن دعویٰ نبوت کےبعد جب آیت تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَّتَبَّ نازل ہوئی تو ابولہب نے اپنے بیٹے کو کہا اگر تم نےاس کی(محمدﷺ)بیٹی کو طلاق نہ دی ،تو اپنے باپ کابیٹا نہیں ۔چنانچہ اس نےرسول اللہﷺ کی صاحبزادی رقیہ کو رخصتی سے قبل ہی طلاق دےدی۔

حضرت عثمان ؓ سے شادی

اللہ تعالیٰ نے اس کا نعم البدل حضرت عثمان ؓ کی صورت میں عطا کیا۔چنانچہ الہٰی منشاء کے تحت نبی کریمؐ نےحضرت رقیہ ؓ کی شادی حضرت عثمان ؓ سے کردی۔حضرت عثمان غنی ؓ نے بھی ابتدائی سالوں میں اسلام قبول کیا تھا۔آنحضورﷺنے حضرت رقیہ ؓ کو نصیحت فرمائی کہ ابو عبد اللہ (حضرت عثمان ؓ)سے حسن سلوک کرنا کیونکہ وہ اخلاق میں میرے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔ایک دن نبی کریم ﷺ شادی کے بعد ان کے گھر تشریف لے گئے تو آپؐ نے دیکھا کہ حضرت رقیہ ؓحضرت عثمان ؓ کا سر دھو رہی تھیں۔

ہجرت حبشہ

نبوت کے پانچویں سال جب کفارمکہ کے مظالم کی وجہ سے پہلی ہجرت یعنی ہجرت حبشہ کا واقعہ پیش آیا تو حضرت رقیہؓ بھی حضرت عثمانؓ کے ساتھ شریک سفرتھیں۔

رسول اللہﷺ کو طبعا ً اس جدائی کی وجہ سے دل پر بڑا بوجھ تھااور فکر تھی یہی وجہ ہےکہ نبی کریمﷺ حبشہ سے آنے والوں سے اپنی بیٹی اور دامادکے احوال دریافت فرمایا کرتےتھے۔ایک روایت میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ قریش کی ایک عورت آپؐ کے پاس آئی اور کہا اے محمدؐ!میں نے تمہارے داماد اور تمہاری بیٹی کو دیکھا ہے۔حضورؐ نے بڑی جستجو سے دریافت فرمایا،تم نے انہیں کس حال میں پایا؟اس نے کہا عثمان ؓ نے اپنی بیوی کو ایک گدھے پر سوار کیا ہوا تھا۔اور خود اسے چلارہے تھے۔حضورﷺ نے دعا کی کہ اللہ ان کا ساتھی اور مددگار ہو۔عثمان پہلا شخص ہے جس نے حضرت ابراہیمؑ اور حضرت لوطؑ کے بعد ہجرت کی۔ حبشہ میں ایک عرصے تک رہنے کے بعد جب دونوں مکہ واپس لوٹے تو رسول کریمؐ مدینہ ہجرت فرماچکے تھے۔چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ بعد حضرت عثمان ؓ مع اہل وعیال مدینہ منورہ ہجرت کرکےچلے گئے۔

رسول کریمﷺکی شفقت ِپدری

نبی کریمﷺ نے حضرت رقیہ ؓ کو گھریلو کاموں کیلئےاپنی ایک خادمہ،امّ عیاش نامی عطا فرمائی تھی جو انکے ساتھ ہی رخصتی کے وقت حضرت عثمان ؓ کے گھر آئی تھی۔ امّ عیاش کی ایک روایت ہے کہ میں جب حضور ﷺکے پاس تھی تو آپؐ تشریف فرما ہوتے تھے اور میں آپؐ کو کھڑے ہوکر وضو کروایا کرتی تھی جبکہ حضورﷺبیٹھے ہوئے ہوتے تھے۔

نبی کریم ﷺ حضرت عثمان ؓ اور حضرت رقیہ ؓ کے گھر حضرت اسامہ بن زید ؓ کے ذریعے تحفے تحائف بھی بھجواتے تھے۔حضرت اسامہ ؓ جو دس سال کی عمر میں رسول اللہﷺکی خدمت میں آئے۔مدینہ کے ابتدائی زمانہ کا یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روزحضورؐ نے میرے ہاتھ ایک طشت دے کر حضرت عثمان ؓ کی طرف بھیجا جس میں کچھ گوشت تھا۔جب میں ان کے گھر پہنچا تو وہ حضرت رقیہ ؓ کے ساتھ بیٹھے تھے۔میں نے ان دونوں جیسا خوبصورت جوڑا اور کوئی نہیں دیکھا۔کبھی میں حضرت عثمان ؓ کے چہرے کی طرف دیکھتا تھا اور کبھی حضرت رقیہ ؓ کی طرف ۔جب میں حضور ﷺکے پاس واپس آیا تو حضور ﷺنے فرمایا ،ان سے مل آئے ہو؟ میں نے کہا ،جی۔فرمایا ،کیا تو نے ان سے زیادہ حسین جوڑا دیکھا ہے؟ میں نے کہا،نہیں!پھر بتایا کہ یارسول اللہﷺ! میں کبھی حضرت رقیہ ؓ کو دیکھتا تھا اور کبھی حضرت عثمان ؓ کو۔

راہِ مولیٰ میں تکالیف پر صبر

ہجرت حبشہ میں حضرت رقیہ ؓ کو جو مصائب برداشت کرنے پڑےاس میں ایک بڑا صدمہ یہ پیش آیا کہ آپؓ کا ایک بچہ اسقاط حمل سے ضائع ہوگیا۔اس کےبعدحضرت رقیہؓ کے ایک اور صاحبزادے عبداللہ پیدا ہوئے لیکن کم عمری میں فوت ہوگئے۔اسی وجہ سے حضرت عثمانؓ ابو عبداللہ کہلاتے تھے۔ان کی عمر دو سال تھی جب ایک مرغ نے ان کے چہرے پر چونچ مارکران کا چہرہ زخمی کردیاتھا اور اسی زخم کے بگڑجانے سے ان کی وفات ہوگئی۔ان کا جنازہ رسول اللہﷺ نے پڑھایا اور حضرت عثمان ؓ خود ان کی قبر میں اترے۔ اس کے بعد حضرت رقیہ ؓ کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔

وفات

2 ہجری میں غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بیمار تھیں۔ ان کی تیمار داری کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان ؓ کو نہ صرف غزوہ بدر سے رخصت عطا فرمائی بلکہ اس مخلصانہ خدمت اورجنگ بدر میں ان کے مصمّم ارادہ ِٔ شرکت کے باعث اموالِ غنیمت سے انہیں حصّہ بھی عطا فرمایا۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بدر ہی میں تھے کہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی تکلیف بڑھ گئی اور انہوں نے اکیس21 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبّیک کہا۔ ایک روایت کے مطابق جب قبر پر مٹی ڈالی جا رہی تھی حضرت زیدؓ بن حارثہ بدر میں مسلمانوں کی فتح کی خوشخبری لے کر مدینہ میں داخل ہوئے۔ آنحضرتﷺ غزوہ بدرکی وجہ سے ان کے جنازہ میں شریک نہ ہو سکے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لخت جگر کی وفات کی اطلاع پا کر طبعاً مغموم ہوئے اورآپؐ کی آنکھوں سےآنسو جاری ہو گئے۔غزوہ بدرسے مدینہ تشریف لا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی قبر پر تشریف لے گئے اور انہیں خدا کے حوالے کرتے ہوئے یوں الوداع کیا کہ “جاؤ ہمارے پہلے مرحوم عثمان بن مظعون سے جا ملو”(مہاجرین میں حضرت عثمانؓ بن مظعون پہلے صحابی تھے جنہوں نے مدینہ میں وفات پائی تھی)۔اس پر عورتیں رونے لگیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوڑا لے کر اٹھے اور عورتوں کو مارنا شروع کردیا تو آپؐ نے ہاتھ پکڑ لیااور فرمایا”محض رونے میں کچھ حرج نہیں لیکن نوحہ و بین شیطانی حرکت ہے اس سے بچنا چاہیے”

حضرت فاطمہ ؓ جب رسول اللہﷺ کے ساتھ حضرت رقیہ ؓ کی قبر پر حاضر ہوئیں تو وہ بھی آبدیدہ تھیں۔آنجنابﷺ نے ان کو تسلی دی اورآنسو پونچھے۔

اَللّٰھمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِک وَسَلِّم اِنَّک حَمِیدٌ مَجِیدٌ

(بحوالہ اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم از حافظ مظفر احمد صاحب)

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

One thought on “حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا

  • Maqsood Ahmad

    بہت بہترین اور معلوماتی تحریر ہےواقعات جان کر ایمان تازہ ہوگیا

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *