نزول قرآن کی غرض
نزولِ قرآن کی اصل غرض
(1) شُبہات کو دُور کردے وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ (بنی اسرائیل:83) (2)رَحْمَۃٌلِّلْعَالَمِیْنَ جنابِ الٰہی کے ساتھ براہِ راست تعلق ہوجائے۔ (3) تمیز حق و باطل ہوجائے۔ (4) کوئی ایسا سوال نہیں جس کا جواب نہ دیا۔ کافی ہتھیار۔ اَوَ لَمْ يَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ (عنکبوت:52)
کلامِ الٰہی کے سمجھنے کے اصول
میرے فہم میں کلامِ الٰہی کے سمجھنے کے لئے یہ اصول ہیں:
اوّل: دعا ( پرارتھنا) جنابِ الٰہی سے صحیح فہم اور حقیقی عِلم طلب کرنا۔ قرآن مجید میں آیا ہے قُلْ رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا(طٰہٰ:114) میرے رَبّ میرے علم میں ترقی بخش۔ اور دعا کےلئے ضرور ہے طیب کھانا۔ طیب لباس۔ عقدِ ہمّت۔ اِستقلال۔ دوم: صرف الٰہی رضامندی اور حق تک پہنچنے کےلئے خدامیں ہوکر کوشِش کرنا جیسے فرمایا وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (عنکبوت: 70) سوم: تدبّر، تفکّر۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا (محمد:24)اور فرمایا لَاٰیَاتٍ لُّاِ ولِی الْاَلْبَابِ الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللہَ قِیَامًا وَّ قُعُوْدًا عَلٰی جُنُوْبِھِمْ (آلِ عمران:191) چہارم: حُسنِ اعتقاد و حُسنِ اقوال و حُسنِ اعمال اور فقر۔ بیماری۔ مقدّمات و مشکلات میں صبرو استقلال۔ اِس مجموعہ کو قرآن نے تقوٰی کہا ہے۔ دیکھو رکوع لَیْسَ الْبِرُّ (البقرۃ:177)اور اس کا ایک درجہ سورہ بقرہ کے ابتداء میں ہے جیسے فرمایا ہے کہ اَلْغَیب پرایمان لاوے۔ پرارتھنا اور دعا اور بقدرِ ہمّت و طاقت دوسرے کی ہمدردی کے لئے کوشِش کرنیوالا متّقی ہے۔ اور تقوٰی کے بارے میں ارشادِ الٰہی ہے وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ يُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ (البقرۃ:283)لیکن خودپسند آدمی آیاتِ الٰہی کے سمجھنے سے قاصر ہے جیسے فرمایا سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰتِيَ الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ (الاعراف:147)
پنجم: قرآن کریم کے معانی خود قرآن مجید اور فرقانِ حمید میں دیکھے جاویں۔ ششم : اسمائے الٰہیہ اور الٰہی تقدیس و تنزیہ کے خلاف کسی لفظ کے معنے نہ لئے جاویں۔ ہفتم: تعامل سے جس کا نام سُنّت ہے معانی لے اور اس سے باہر نہ نکلے۔ ہشتم: سننِ الٰہیہ ثابتہ کے خلاف ورزی نہ کرے۔ نہم: لُغتِ عرب و محاوراتِ ثابتہ عن العرب کے خلاف نہ ہو۔ دہم: عُرفِ عام سے جس کو معروف کہتے ہیں معانی باہر نہ نکلیں۔ یازدہم: نورِ قلب کے خلاف نہ ہو۔ دوازؔدہم: احادیثب صحیحہ ثابتہ کے خلاف نہ ہو۔ سیزدہم: کتبِ سابقہ کے ذریعہ بھی معانی قرآن حل کئے جاتے ہیں۔ چہاردہم: کِسی وحی الٰہی اور الہامِ صحیح کے ذریعہ سے بھی معانی قرآن حل ہو سکتے ہیں۔ ہر ایک اصل کی مثالیں دوں ت ایک مجلّہ ضخیم بن جاوے اور بعض اصول عام لوگوں کے استعمال میں آنے والے نہیں معلوم ہوتے اِس لئے نمونہ کے طور پر بعض ان امور کے استعمال کی مثال بتاتے ہیں۔
قرآن شریف کے علوم کے حصول کے ذرائع اﷲ تعالیٰ نے خود قرآن شریف میں بیان کر دیئے ہیں اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرّاٰن قرآن شریف کا سکھانا اﷲ تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت کا تقاضا ہے۔ اِس واسطے ضرورت کِن چیزوں کی ہے وہ بھی خداتعالیٰ نے خود بیان فرما دی ہیں۔
وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ یُعَلِّمُکُمُ اللہُ متقی کو خداتعالیٰ معارف اور علومِ قرآنی سے خبردار کر دیتا ہے اور تقوٰی ایک ذریعہ ہے قرآن دانی کے لئے۔ دوسری جگہ فرمایا ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (عنکبوت:70)تقوٰی کے ساتھ جہاد اور کوشِش بھی شرط ہے۔ پس علومِ قرآنی کا معلّم خود اﷲ تعالیٰ ہے اور اس فیض اور فضلِ رحمانی کا جاذب تقوٰی اور جہاد فی اﷲ ہے۔
ہمارے نزدیک ہم نے ایک راہ کا تجربہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسانی دل میں سچّی تڑپ اور پیاس علومِ قرآنی کے حصول کے واسطے پیدا کرکے تقوٰی تام سے دعائیں کرے اور اِس طرح سے قرآن شریف شروع کرے۔ دَور اوّل: خود تنہا ایک مترجَم قرآن شریف لے کر جس کا ترجمہ لفظی ہو انسان کی اس میں اپنی ملاوٹ کچھ نہ ہو اور اس کے واسطے مَیں شاہ رفیع الدین صاحب علیہ الرحمتہ کا ترجمہ پسند کرتا ہوں لیکن ہر روز بقدر طاقت بلاناغہ کچھ حصّہ قرآن کا پڑھا کرے اور لفظوں کے معنوں میں غور کرے پھر جہاں آدم اور شیطان کا حال مذکور ہو اپنے نفس میں غور کرے کہ آیا مَیں آدم ہوں یا کہ ابلیس ۔ موسیٰ ہوں کہ فرعون ۔ مجھ میں یہودیوں کے خصائل ہیں یا کہ مسلمانوں کے۔ اور اِسی طرح عذاب کی آیات سے ڈرے اور پناہ مانگے اور رحمت کی آیات سے خوش ہو اور اپنے کو رحمت کا مورَد بننے کے واسطے دعائیں کرے۔ ہر روز درود، دعا، استغفار اور لاحَول پڑھ کر شروع کرے اور اِسی طرح ختم کرے۔ اِسی طرح سے دَورِ اوّل ختم کر دیوے۔ اور اس دَور میں ایک نوٹ بُک پاس رکھے مشکل مقامات اس میں نوٹ کرتا جاوے پھر دَورِ دوم شروع کرے اور اس میں اپنی بیوی کو سامنے بٹھا کر سناوے اور یہ جانے کہ قرآن شریف ہم دونوں کے واسطے نازل ہوا ہے بیوی خواہ توجّہ کرے یا نہ کرے یہ سُنائے جاوے اور پہلے دَور کی نسبت کسی قدر بسط کرتا جاوے اور پہلے طریق کی طرح اِس دَور کو بھی ختم کرے اور وہ پہلی نوٹ بُک پاس رکھے اور اسے دیکھتا رہے پھر اِس دَور میں یہ دیکھے گا کہ بہت سے وہ مشکل مقامات جو دَورِ اوّل میں نہیں سمجھتا تھا اِس دَور میں حل ہو جائیں گے۔ اِس دَورِ ثانی کی بھی ایک الگ نوٹ بُک تیار کرے۔
پھر اِسی طرح سے دَورِ ثالث شروع کرے اور گھر کے بچّوں،عورتوں اور پڑوسیوں کو بھی اِس دَور میں شامل کرے مگر وہ لوگ ایسے ہوں کہ کوئی اعتراض نہ کریں اور پہلی اور دوسری دونوں نوٹ بُکیں اپنے سامنے رکھے اِس طرح اِس دَور میں دیکھے گا بہت سے مُشکلات جو پہلے دونوں دَوروں میں حل نہ ہوئے تھے اِس دفعہ حل ہو جاویں گے۔ اِس دَور کی ایک الگ نوٹ بُک تیار کرے۔
دَورِ ثالث کے بعد چوتھا دَور عام مجمع کے سامنے شروع کرے مگر سامعین ہوں۔ ان کے اعتراضات وغیرہ کے اگر جواب آتے ہوں تو دیتا جاوے ورنہ نوٹ بُک میں نوٹ کرتا جاوے اور ان کے حل کے واسطے اﷲ تعالیٰ کے حضور دردِ دل سے دعائیں کرتا رہے اور پانچواں دَور شروع کردے اور بِلاامتیاز مسلمان و مشرک ، کافر و مومن کو سُنانا شروع کردے اﷲ تعالیٰ کا فضل اور فیضان اس کے شامِل حال ہو گا اور ایک بہت بڑا حِصّہ قرآن کا اسے سکھا دیا جاوے گااور باریک در باریک حقائق و معارف اور اسرار کلامِ ربّانی اس پر کھولے جاویں گے۔ غرض یہ ہمارا مجرّب اور آزمودہ طریقہ ہے پس جس کو قرآن سے محبّت اور علومِ قرآن سیکھنے کی پیاس اور سچّی تڑپ ہو وہ اِس پر کار بند ہو کر دیکھ لے۔
یاد رکھو کہ قرآن شریف پڑھو اِس لئے کہ اس پر عمل ہو۔ ایسی صورت میں اگر تم قرآن شریف کھول کر اس کا عام ترجمہ پڑھتے جاؤ اور شروع سے اخیر تک دیکھتے جاؤ کہ تم کِس گروہ میں ہو کیا منعَم علیہم ہو یا مغضوب ہو یا ضالّین ہو اور کیا بننا چاہیئے۔ منعَم علیہم بننے کے لئے سچّی خواہش اپنے اندر پیدا کرو پھر اس کےلئے دعائیں کرو۔ جو طریق اﷲ تعالیٰ نے انعامِ الٰہی کے حصول کے رکھے ہیں ان پر چلو اور محض خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے واسطے چلو۔ اِس طریق پر اگر صرف سُورۃ فاتحہ ہی کو پڑھ لو تو مَیں یقینا کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے نزول کی حقیقت کو تم نے سمجھ لیا اور پھر قرآن شریف کے مطالب و معانی پر تمہیں اطلاع دینا اور اس کے حقائق و معارف سے بہرہ ور کرنا یہ اﷲ تعالیٰ کا کام ہے اور یہ ایک صورت ہے مجاہدہ صحیحہ کی۔
قرآن کریم میں عظمتِ الٰہی کا ذکر زیادہ ہے
احکام کے متعلق تو اڑھائی سَو کے قریب آیات ہیں مگر عظمتِ الٰہی کے بیان سے کوئی رکوع خالی نہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان کے دل میں اﷲ کی عظمت بیٹھ جائے تو دولت و اَسباب و دیگر سامانِ دُنیا کی پرواہ جو احکامِ الٰہی کی بجا آوری میں مانع ہو سکتے ہیں مُطلق نہیں رہتی اور خود بخود انسان اپنے مَولیٰ کا فرمانبردار بن جاتا ہے۔
قرآنِ مجید کے مقابلہ میں انجیل
متی کی انجیل کا پہلا صفحہ اُٹھا کر دیکھو وہاں کیا لکھا ہے نسب نامہ یسوع مسیح ، داؤد اور ابراہیم کے بیٹے کا۔ ابراہام سے اِسحاق پیدا ہؤا اور اسحاق سے یعقوب پیدا ہؤا۔۔۔۔متان سے یعقوب پیدا ہوا اور یعقوب سے یوسف پیدا ہؤا جو مریم کا شوہر تھا جس کے پیٹ سے یسوع جو مسیح کہلاتاہے پیدا ہؤا۔
حالانکہ یہ وہ کام ہے جو ہمارے مُلک میں تو میراثی کرتے ہیں اس کے مقابل میں قرآن شروع ہوتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَسے۔ یہ وہ آیت ہے جس سے تمام مذاہب کا رَدّ ہوتا ہے۔ نہ یسوعیوں کا خداوند اقنومِ ثالث رہ سکتا ہے نہ رحم بلا مبادلہ کے بہانے کسی بےگناہ کو پھانسی چڑھانا پڑتا ہے اور نہ آریوں کا مادہ جو رُوح اَزلی اَبدی بن سکتا ہے نہ تناسخ والوں کی کوئی دلیل باقی رہتی ہے۔ نہ سو فسطائیوں کو آنے کی تاب ہے اور نہ برہموؤں کو مسئلہ الہام میں تردّد رہ سکتا ہے اور نہ شیعہ صحابہ کرام ؓپر اعتراض کرسکتے ہیں نہ دہریہ کسی حُجّتِ نیرہ کی بناء پر خا کی ہستی کے مُنکر رہ سکتے ہیں۔ یہ تو ایک آیت کے متعلق ہے اگر سات آیتیں پڑھی جاویں تو پھرتمام مذاہب کی صَداقتوں کا عطرِ مجموعہ اس میں ملتا ہے اور دُنیا کے آخر تک پیش آنے والے دینی اہم واقعات کی خبر اس میں موجودہے۔ ان تمام مفاسد و عقائدِ فاسدہ کا ابطال ہے جو دُنیا میں پیدا ہوئے یا ہو سکتے ہیں اور ان اعمالِ صالحہ و عقائدِ صحیحہ کا تذکرہ ہے جوانسان کی روحانی و جسمانی ترقّیات کے لئے ضروری ہے۔
اِسی طر ح انجیل کا اخیر دیکھو اس میں لکھا ہے کہ یسوع جو خداوند کہلاتا ہے اپنے دشمنوں کے قبضہ میں آ گیا اور اُس نے اِیْلِیْ اِیْلِیْ لِمَا سَبَقْتَانِیْ (یعنی اے میرے خدا تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا) کہتے ہوئے اپنی جان دی۔ برخلاف اِس کے قرآنِ مجید ختم ہوتاہے۔ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ مَلِكِ النَّاسِ۔ اِلٰهِ النَّاسِ۔ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ۔ الَّذِيْ يُوَسْوِسُ فِيْ صُدُوْرِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۔
قرآنِ مجید پڑھنے والا۔ قرآن شریف کا متّبع بڑے زور سے علی الاِعلان دعوٰی کرتا مَیں اس خدا کی پناہ میں ہوں جو تمام انسانوں کو پیدا کرنے والا اور پھر انہیں کمال تک پہنچانے والا ہے۔ وہ سب حقیقی بادشاہ حقیقی معبود ہے۔ اَللّٰہُ اَکْبَرْ ایک معمولی تھانیار یا صاحبِ ضِلع بلکہ نمبردار اور پٹواری کی پناہ میں آ کر کئی لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں پس کیا مرتبہ ہے اُ س شخص کا جو تمام جہان کے ربّ اور بادشاہ اور سچّے معبود کی پناہ میں آ جائے پرف اِس کتاب کا اوّل و آخر ہی اسلام اور عیسائیت میں فیصلہ کُن ہے اگر کوئی خدا ترس دِل لے کر غور کرے۔
(حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 1 تا 5)


