اسلامی تعلیمات

عورت اور مرد کے تعلقات اور شادی کو ضروری قرار دیتا ہے

Spread the love

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد المصلح الموعودؓ فرماتے ہیں:

اب میں مثال کے طور پر ایک اور بات کو لے لیتا ہوں اور وہ عورت اور مرد کا تعلق ہے یہ ایک ایسا فطری تعلق ہے جو جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے۔ اور کسی گہرے تدبر سے اس کے دریافت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایک شیر دوسرے تمام جانداروں کو پھاڑے گا لیکن وہ بھی شیرنی کے ساتھ رہنے کی ضرورت محسوس کرے گا۔ گدھا بےوقوف جانور سمجھا جاتا ہے لیکن وہ بھی گدھی سے تعلق ضروری سمجھتا ہے۔ غرض یہ تعلق ایسا ہے کہ دنیا کے ہر جاندار کا ذہن ادھر جاتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے۔ پس اس کی تعلیم بہت مکمل ہونی چاہئے۔ کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے یہ ضرورت محسوس کی جاتی ہے اور اب تک محسوس کی جارہی ہے۔ مگر ساری مذہبی کتابیں اس کی تکمیل سے محروم ہیں صرف قرآن کریم نے ہی اسے مکمل کیا ہے۔ حالانکہ بظاہر اس تعلق کے متعلق کسی کتاب کا نئی بات بتانا ناممکن سا نظر آتا ہے۔

عورت مرد کے تعلقات کا مضمون ایک وسیع مضمون ہے- میں اس وقت کثرت ازدواج، حقوق نسواں ایک دوسرے کے معاملہ میں مرد و عورت کی ذمہ داریاں، مہر اور طلاق وغیرہ کے مسائل نہیں لوں گا کہ یہ مسائل زیادہ لمبے اور باریک ہیں۔ میں صرف اس چھوٹی سے چھوٹی بات کو لوں گا جس کی وجہ سے مرد و عورت آپس میں ایک جگہ رہنے لگ جاتے ہیں۔ اور بتاؤں گا کہ اس تعلق کو بھی اسلام نے کس قدر مکمل طور پر بیان کیا ہے۔ اور اسے کتنا لطیف اور خوبصورت مضمون بنا دیا ہے۔

دوسرے مذاہب کی مقدس کتب کو جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ابتدائی مسئلہ کے متعلق بھی خاموش ہیں۔ مثلاًانجیل کو لیں تو اس میں عورت اور مرد کے تعلق کے متعلق لکھا ہے:۔

’’شاگردوں نے اس سے کہا کہ اگر مرد کا بیوی کے ساتھ ایسا ہی حال ہے تو بیاہ کرنا ہی اچھا نہیں۔ اس نے ان سے کہا کہ سب اس بات کو قبول نہیں کر سکتے مگر وہی جنہیں یہ قدرت دی گئی ہے۔ کیونکہ بعض خوجے ایسے ہیں جو ماں کے پیٹ ہی سے ایسے پیدا ہوئے اور بعض خوجے ایسے ہیں جنہیں آدمیوں نے خوجہ بنایا۔ اور بعض خوجے ایسے ہیں جنہوں نے آسمان کی بادشاہت کے لئے اپنے آپ کو خوجہ بنایا۔ جو قبول کر سکتا ہے وہ قبول کرے۔‘‘

گویا حضرت مسیحؑ نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ مرد عورت کا تعلق ادنیٰ درجہ کے لوگوں کا کام ہے اگر کوئی اعلیٰ درجہ کا انسان بننا چاہے اور آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونا چاہے تو اسے چاہئے کہ خوجہ بن جائے- مطلب یہ کہ اصل نیکی شادی نہ کرنے میں ہے- ہاں جو برداشت نہ کر سکے وہ شادی کر لے اسی طرح 1-کرنتھیوں باب7 میں لکھا ہے:۔

’’مرد کے لئے اچھا ہے کہ عورت کو نہ چھوئے لیکن حرام کاریوں کے اندیشے سے ہر مرد اپنی بیوی اور ہر عورت اپنا شوہر رکھے۔‘‘

’’میں بےبیاہوں اور بیوہ عورتوں کے حق میں یہ کہتا ہوں کہ ان کے لئے ایسا ہی رہنا اچھا ہے جیسا میں ہوں لیکن اگر ضبط نہ کرسکیں توبیاہ کر لیں۔‘‘ گویا عورت مرد اگر بن بیاہے رہیں تو پسندیدہ بات ہے۔یہود میں یوں تو نہیں لکھا لیکن مرد اور عورت کے تعلقات کے متعلق کوئی صاف حکم بھی نہیں- تورات میں صرف یہ لکھا ہے کہ:۔

’’خداوند نے آدم پر بھاری نیند بھیجی کہ وہ سو گیا۔ اور اس نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی نکالی۔ اور اس کے بدلے گوشت بھر دیا۔ اور خداوند خدا اس پسلی سے جو اس نے آدم سے نکالی تھی ایک عورت بنا کر آدم کے پاس لایا اور آدم نے کہا کہ اب یہ میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے۔ اس سبب سے وہ ناری کہلائے گی۔ کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی۔ اس واسطے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی جورو سے ملا رہے گا اور وہ ایک تن ہوں گے۔‘‘

ان الفاظ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ عورت چونکہ مرد کی پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔ اس وجہ سے وہ اس سے مل کر ایک بدن ہوجائےگا۔ اور مرد کو طبعاً عورت کی طرف رغبت رہے گی- یہ کہ ان کا مل کر رہنا اچھا ہو گا یا نہیں اس کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا صرف فطری تعلق کو لیا گیا ہے۔

ہندو مذہب نے شادی کی ضرورت پر کچھ نہیں لکھا- صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ شادی ان کے دیوتا بھی کرتے تھے پھربندے کیوں نہ کریں گے۔ مگر ساتھ ہی بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ نجات کا اصل ذریعہ یہ ہے کہ انسان سب دنیا سے الگ ہوکر عبادت کرے۔ منوجی نے جن کی تعلیم ہندو مانتے ہیں یہ بھی بتایا ہے کہ پچیس سال تک کنوارا رہنا چاہئے پھر پچیس سال تک شادی شدہ رہے۔ لیکن وید اس بارہ میں بالکل خاموش ہیں جو ہندوؤں کی اصل مقدس کتاب ہے۔ شادی کی ضرورت۔ اس کی حقیقت اور اس کے نظام وغیرہ کے متعلق منو وغیرہ بھی خاموش ہیں- بدھمذہب نے شادی نہ کرنے کو افضل قرار دیا ہے کیونکہ پاکیزہ اور اعلیٰ خادمان مذہب کے لئے شادی کو منع کیا ہے۔ خواہ عورت ہو خواہ مرد۔ یہی جین مذہب کی تعلیم ہے۔

اب اسلام کو دیکھو تو معلوم ہوتا ہے کہ اس تعلق کو اس نے کس طرح نہایت اعلیٰ مسئلہ بنا دیا ہے اور اسے دین کا جزو اور روحانی ترقی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

اسلام شادی کو ضروری قرار دیتا ہے

اس بارہ میں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مرد اور عورت کا تعلق ہونا چاہئے۔ اور کیا انہیں اکٹھے زندگی بسر کرنی چاہئے؟ قرآن کریم اس کے متعلق کہتا ہے کہ شادی ضروری ہے- نہ صرف یہ کہ ضروری ہے بلکہ جو بیوہ ہوں ان کی بھی شادی کر دینی چاہئے۔ اورشادی کرنے کی دلیل یہ دیتا ہے کہ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا یعنی اے انسانو! اپنے ربّ کا تقویٰ اختیار کرو۔ جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی قسم کا جوڑا بنایا۔

اس آیت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ انسانیت ایک جوہر ہے۔ یہ کہنا کہ انسانیت مرد ہے یا یہ کہنا کہ انسانیت عورت ہے غلط ہے۔ انسانیت ایک علیحدہ چیز ہے۔ وہ نَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ہے اس کے دو ٹکڑے کئے گئے ہیں۔ آدھے کا نام مرد ہے اور آدھےکا نام عورت۔ جب یہ دونوں ایک ہی چیز کے دو ٹکڑے ہیں تو جب تک یہ دونوں نہ ملیں گے اس وقت تک وہ چیز مکمل نہیں ہوگی۔ وہ تبھی کامل ہو گی جب اس کے دونوں ٹکڑے جوڑ دیئے جائیں گے۔

یہ اسلام نے عورت اور مرد کے تعلق کا اصل الاصول بتایا ہے کہ مرد اور عورت علیحدہ علیحدہ انسانیت کے جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔ اگر انسانیت کو مکمل کرنا چاہتے ہو تو ان دونوں ٹکڑوں کو ملانا پڑے گا ورنہ انسانیت مکمل نہ ہوگی۔ اور جب انسانیت مکمل نہ ہو گی تو انسان کمال حاصل نہ کر سکے گا۔             (فضائل القران صفحہ 159 تا 162

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *