اُمُّ المؤمنین حضرت ماریہ قبطیہؓ
پہلی قسط
فضائل
حضرت ماریہؓ کا تعلق اس شاہ مصر کے خاندان سے تھا جس نے رسول اللہﷺ کے دعویٰ کی تصدیق کرتے ہوئےمکتوب نبویؐ کو اپنے سینے سے لگایا اور اسےچوم کر ہاتھی دانت کی ڈبیہ میں محفوظ کروایا،اور رسول اللہﷺ کو قیمتی تحائف کے ساتھ شاہی خاندان کی دو لڑکیاں بھی بھجوائیں جن میں سے ایک حضرت ماریہؓ تھیں…
حضرت ماریہؓ جب صاحبزادہ ابراہیمؓ سے حاملہ ہوئیں توجبریل ؑنےرسول اللہؐ سے کہا‘‘اےابو ابراہیم! آپؐ پر سلام ہو۔ اللہ تعالیٰ آپؐ کو ماریہؓ سے ایک لڑکا عطا کرنے والا ہے اور ارشاد ہے کہ آپؐ اس کا نام ابراہیم رکھیں۔ ‘‘
پھر صاحبزادہ ابراہیمؓ ماریہ کے بطن سے پیدا ہوئے جن کے بارہ میں رسول اللہﷺ نے فرمایا۔‘‘اگر ابراہیم زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا۔‘‘
نام ونسب
حضرت ماریہؓ قبطیہ شاہ ِ مصر مقوقس کی قبطی قوم سے تھیں۔آپؓ کےوالد کا نام شمعون تھا، والدہ رومی نژادخاتون تھیں۔آپ کی پیدائش مصر کے علاقہ أَنْصایاأَنْصِنا کی بستی حفن میں ہوئی۔
مؤرخ ابن سعد نے حضرت ماریہؓ کو قدیم مصری باشندوں کی نسبت سےقبطی جبکہ علامہ بلاذری نے انہیں رومیہ یعنی بحیرۂ روم کے شمال میں رہنے والی قوم سے قرار دیا ہے۔ تاہم دونوں مؤرخوں نے ان کا جو حلیہ لکھا ہے یعنی سفید رنگ اور گھنگھریالے بال۔ اس سے ان کا مصری ہونازیاہ قرینِ قیاس ہے۔رسول اللہﷺ کے زمانہ میں والیٔ اسکندریہ اورشاہ مصرجریج بن میناء تھا،جسکا رومی لقب’’بِطریق‘‘ (Patriarch)تھا۔عرب اسے ’’مقوقس‘‘ کے لقب سے یاد کرتے تھے۔صلح حدیبیہ کے بعد6ھ میں اس نے رسول اللہﷺ کے تبلیغی خط سے متاثر ہوکر آپؐ کے قاصد کی واپسی پر جو تحائف ساتھ بھجوائے ان میں اس کےخاندان کی دو لڑکیاں بھی تھیں۔ان میں سےحضرت ماریہؓ سےرسول اللہﷺ نے خود عقد فرمایا۔
حضرت خدیجہؓ کے بعدجس حرم سےرسول اللہﷺ کی اولاد ہوئی وہ حضرت ماریہؓ تھیں۔ 8ھ میں ابراہیمؓ ان کے بطن سے پیدا ہوئے۔جس پر ان کی کنیت امّ ابراہیم اور(ابوالقاسم کے ساتھ) رسول اللہﷺ کی دوسری الہامی کنیت ابو ابراہیم ہوئی۔اگرچہ صاحبزادہ ابراہیمؓ کم سنی میں وفات پا گئے۔مگررسول اللہﷺ نے اہل ِمصر کے ساتھ اپنے بیٹے کے ننھیالی تعلق کو ہمیشہ احسان اور وفا کے جذبات کے ساتھ یاد رکھا۔
رسول کریمؐ نے اہل مصر کے بارہ میں مسلمانوں کو ہدایت فرمائی: إذا ملكتم القبط فأحسنوا إليهم فإن لهم ذمة وإن لهم رحما يعني أم إسماعيل انها كانت منهم یعنی جب تم مصریوں پر غالب آؤ تو ان سے حسن سلوک کرنا کیونکہ ان کے ساتھ ایک تو‘‘ذمہ‘‘کا تعلق ہے دوسرے‘‘رحم‘‘ کا۔کیونکہ حضرت اسماعیل کی والدہ (ہاجرہ) بھی انہیں (اہل مصر) میں سے تھیں۔‘‘ذمہ‘‘ کے معنی عہد،پناہ اور امان کے ہوتے ہیں۔عرب کہتے ہیں انت فی ذمۃ اللہ یعنی تم اللہ کی پناہ میں ہو۔تاریخ سےبظاہرتورسول اللہﷺکااس زمانہ میں اہلِ مصر سےکوئی معاہدہ ثابت نہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ نے تبلیغی خط کے جواب میں شاہِ مصر کامثبت ردّعمل دیکھ کر اہل مصر سے حسن ِسلوک کی وصیت کرتے ہوئےانہیں امان عطا فرمائی اوراسے‘‘ذمہّ‘‘ کے حق سے یاد فرمایا ہے۔
شاہ مصر کو دعوت ِاسلام اور اس کا ردّ عمل
رسول اللہﷺنے صلح حدیبیہ کے بعد مختلف سربراہان ِمملکت کو تبلیغی خطوط بھجوائے۔ ذوالقعدہ 6ھ میں آپؐ نے اپنے صحابی حضرت حاطبؓ بن ابی بلتعہ کے ہاتھ مقوقس شاہ مصر کو خط بھجوایا۔ آنحضورﷺ کا یہ کسی بادشاہ کی طرف چوتھاخط تھاجس میں اسلام کی دعوت دی گئی تھی۔ بسم اللہ کے بعداس میں تحریر تھا:۔
‘’محمدؐ اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے مقوقس حاکم اہل ِ مصر کے نام۔سلامتی ہو اس پر جو ہدایت قبول کرے۔اس کے بعد میں آپ کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں، تم اسلام قبول کرلو، امن میں آجاؤ گے اور مسلمان ہوجانے سے اللہ تعالیٰ تمہیں دوہرا اجر عطا کریگا۔اگر تم نے اعراض کیا تو اہل مصر کا گناہ بھی تم پر ہوگا‘‘
ایسا ہی خط رسول اللہؐ نے کسریٰ شاہ ایران کو بھی بھیجا تھا۔مگراس نے رسول اللہﷺ کا خط چاک کردیا تھااور رسول اللہﷺ نے اسکی حکومت ٹوٹ جانے کی پیشگوئی فرمائی تھی۔مگرشاہِ مصر کا ردّ عمل شاہ ِایران سے یکسر مختلف تھا۔ شاہ مصر مقوقس نے آپؐ کے مکتوب مبارک کو سینہ سے لگایااور کہا کہ اس زمانہ میں ایک نبی نے ظاہر ہونا تھاجس کا ذکر ہم اللہ کی کتاب میں پاتے ہیں مگر میرا خیال تھا کہ وہ شام سے ظاہر ہوگا۔پھر اس نے مکتوب نبویؐ کا احترام کرتے ہوئے ہاتھی دانت کی ڈبیہ میں رکھ کر اسےمحفوظ کروایا۔رسول اللہﷺ کا خط پڑھ کر اور آپؐ کے قاصد حاطبؓ بن ابی بلتعہ کی تبلیغ سن کر وہ حقیقت کو پہچان گیاتھا۔اور آپؐ کے قاصد سے کہا کہ تم ایک دانا انسان ہو، جو ایک دانا شخص کے سفیر بن کر آئے ہو۔ میں نے ان کی تعلیم میں اعتدال پایا ہے وہ ہرگزگمراہ جادو گر یا کاہن نہیں۔ اور میں اس معاملہ میں مزید غور کروں گا۔
اس نے اس آنے والے نبی کی ایک خاص نشانی کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اسکی علامتوں میں ہم یہ بھی پاتے ہیں کہ وہ دو بہنوں کو(اپنےحرم میں )اکٹھا نہیں کرے گا۔پھر اس نےاپنے جوابی خط میں رسول اللہﷺکی خدمت میں یہ بھی لکھا کہ میں آپؐ کے سفیر کے ساتھ عزت سے پیش آیا ہوں اوراس کےساتھ دو لڑکیاں(بہنیں)بھجوا رہا ہوں۔جنہیں قبطی قوم میں بڑا درجہ حاصل ہے۔
یہ دونوں لڑکیاں آپس میں بہنیں تھیں، بعید نہیں کہ ان بہنوں کے حضورؐ کی خدمت میں بھجوانے کی ایک غرض مذکورہ علامت ِ نبوت کی جانچ بھی ہو۔پس شاہِ مصر اگرچہ اپنی حکومت کے چھِن جانے کے ڈر سےاسلام تو قبول نہ کر سکا۔ مگراس نے رسول اللہﷺ کی شان وعظمت محسوس کرکے آپؐ سے سفارتی تعلقات استوار کرنے ضروری سمجھے اورآپؐ کی خدمت میں تحائف بھی بھجوائے۔ جن میں کچھ پارچات،زیور اور ایک سلیٹی رنگ کاخچر دُلدل نامی بھی شامل تھا۔مزید برآں اپنے خاندان کی دو معززلڑکیاں بغرض رشتہ بھجوانا اس زمانہ کے دستور کے مطابق تعلقات مضبوط کرنےکی خاطربھی تھا۔ لڑکیوں کے ساتھ ان کےعمر رسیدہ بھائی یا چچا زاد مابورنامی بھی تھے،جنہوں نے مدینہ آکر اسلام قبول کرلیا۔بعض روایات کے مطابق یہ لڑکیاں(جو پہلے عیسائی تھیں)دوران سفر حضرت حاطبؓ بن ابی بلتعہ کی تبلیغ اورنمونہ سے متاثر ہوکر مسلمان ہوگئی تھیں۔الغرض ان دو بہنوں کو خدمتِ اقدس میں بھجوانے سےشاہِ مصر کےرسول اللہﷺکےساتھ رشتۂ مصاہرت کرنے اور آپؐ کی سچائی کی اس علامت سے جانچنےکاعندیہ ظاہرہوتا ہے کہ وہ(نبی) دو بہنوں کو اکٹھا نہیں کرے گا۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نےان دونوں بہنوں میں سے حضرت ماریہؓ کو اپنےحرم میں داخل کیااور دوسری بہن سیرین کا رشتہ حضرت حسانؓ بن ثابت سے کروا کرجہاں اسلامی اخوت کی عظیم الشان مثال قائم فرمائی۔وہاں قرآنی حکم کےمطابق مقوقس کی بیان کردہ نشانی کی بھی تصدیق فرما دی۔کیونکہ اسلامی شریعت کے مطابق ایک شخص کا دو بہنوں کو عقد میں جمع کرنا حرام ہے۔(النساء:6)
حضرت ماریہؓ رسول اللہﷺ کے حرم میں
رسول اللہﷺ نے حضرت ماریہؓ کو اپنے حرم میں شامل کرکےانہیں باقاعدہ پردہ کروایا اور نو مسلم ہونے کے باعث ابتدائی دنوں میں خصوصیت سے ان کی تعلیم وتربیت پر توجہ فرمائی۔اس بارہ میں حضرت عائشہؓ کی ایک روایت ہے کہ‘‘ اس وجہ سے مجھے سب سے زیادہ غیرت ماریہ پر آتی تھی۔ وہ گھنگھریالے بالوں والی ایک خوبصورت خاتون تھیں۔اور رسول اللہﷺ کو بہت عزیز بھی تھیں۔آنحضرتﷺ نے انہیں پہلے پہل ہمارے پڑوس میں ہی حضرت حارثہؓ بن نعمان کے گھر پر رکھا۔آپؐ شروع کےدنوں میں وہاں کثرت سے تشریف لے جاتے رہے۔پھر انہیں نواح مدینہ میں کھجور کے ایک باغ میں ٹھہرایا۔جہاں حضورﷺ گاہے بگاہےتشریف لے جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپؐ کواس سے اولاد بھی عطا کی اور ہم اس سے محروم رہیں۔‘‘
حضرت عائشہؓ کی اس روایت میں حضرت ماریہ کے ہاں کثرت سے جانے اور انہیں زیادہ وقت دینے کا پہلو محلّ نظرہے۔خصوصاً جبکہ خود حضرت عائشہ کی ہی روایت ہےکہ‘‘رسول کریمؐ اپنی بیویوں کے مابین اخراجات اور وقت کی تقسیم میں برابری اور عدل سے کام لیتے تھے۔‘‘اسی طرح اپنے بھانجے عروہ کو حضرت عائشہؓ نے بتایا کہ رسول کریمؐ وقت وغیرہ کی تقسیم میں ہم بیویوں میں سے کسی کو کسی پر فضیلت نہ دیتے تھے اور کم ہی کوئی دن ہوتا تھا جب آپؐ ہم سب کے گھروں میں چکّر نہ لگائیں۔اس کے بعد اس بیوی کے گھر تشریف لے جاتے تھے جہاں باری ہوتی تھی۔حتٰی کہ سفر میں کسی بیوی کو ہمراہ لے جانا ہوتا تو قرعہ اندازی سے فیصلہ فرماتے۔اس تناظر میں ابن سعد کی مذکورہ روایت کے مطابق ابتدائی دنوں میں حضرت ماریہؓ کو زیادہ وقت دینے کی بات بلا توجیہہ قبول نہیں کی جا سکتی۔خصوصاً جبکہ ایک اور روایت میں حضرت ماریہؓ اور حضرت ریحانہؓ کو دیگر ازواج کے ساتھ دو دن کے مقابل پر ایک دن یعنی نصف باری دینے کا ذکر ہے۔ اگرچہ اس روایت میں بھی جووجہ بیان ہوئی ہے وہ اپنی جگہ محلّ نظر ہے کہ بوجہ لونڈی ان کو نصف باری ملتی ہے۔اس کے مقابل یہ توجیہہ عقلی و نقلی لحاظ سے زیادہ قابل قبول ہوسکتی ہے کہ رسول اللہؐ کوحسب حالات و ضرورت باریوں میں کمی بیشی کا اختیار تھا۔جیسا کہ ارشاد ربّانی ہے تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ (الاحزاب:52)یعنی تُو اُن (بیویوں)میں سے جنہیں چاہےچھوڑ دے اور جنہیں چاہے اپنے پاس رکھ،گویا بعض مصالح کے تحت آپؐ کو ازواج کی باریوں میں کمی بیشی یا ردّ و بدل کا اختیار تھاجسے حتّی الوسع آپؐ نے استعمال نہیں فرمایا تاہم عین ممکن ہے کہ شادی کے شروع دنوں میں حضرت ماریہ کے عیسائیت سے مسلمان ہونے پر تربیت کی خاطر کچھ زائد وقت دیا بھی تھا تو بعد میں انہیں چند روز نصف وقت دے کر برابر کر دیاہو۔یہ توجیہہ اس لیے بھی قرینِ قیاس ہے کہ حضرت امّ سلمہؓ سے شادی کے موقع پر بھی حضورؐ نے انہیں اختیار دیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو میں تین یا سات دن آپ کے پاس قیام کر سکتا ہوں۔مگرپھر اتنے ہی دن ہر بیوی کو اسکی باری میں دینے کے بعد آپ کی باری آئیگی۔
ابن النجار کے مطابق رسول اللہﷺ نے بعد میں وہ باغ جس کے بالاخانہ میں وہ قیام فرمارہیں۔حضرت ماریہ قبطیہؓ کو عطا فرمادیا تھا۔یہ بالاخانہ آج بھی مشربہ امّ ابراہیمؓ کے نام سے معروف ہے۔رسول اللہﷺ کی پاکیزہ صحبت اور اعلیٰ تربیت کی برکت سے حضرت ماریہؓ نے امّ المومنین کا بلند مقام پایا۔حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح الاوّل نے 1910ء میں سورۂ احزاب کی آیت تطہیر کا درس دیتے ہوئے اہل بیت ِ رسولؐ کو رِجس سے پاک کرنے کی وضاحت میں اسلام قبول کرنے والی بیویوں میں حضرت ماریہؓ کابھی ذکرکیا اور فرمایا کہ وہ عیسائیوں سے مسلمان ہوئیں اور نبیؐ پاک کی صحبت میں پاک ہوئیں۔
رسول اللہﷺ کا شروع کے دنوںمیں حضرت ماریہؓ کے ہاں کثرت سےجانا بھی دینی تعلیم و تربیت کے علاوہ غریب الوطنی میں انکی اجنبیت دور کرنےکے باعث بھی ہوسکتا ہے۔نیز صاحبزادہ ابراہیمؓ کے ایام ِحمل میں بھی وہ خصوصی توجہ چاہتی ہونگی۔خصوصاً جب کہ ان کے بطن سے آپؐ کو ایک بیٹے کی ولادت کی بشارت دی گئی تھی۔جیسا کہ روایت ہےرسول اللہﷺ نے فرمایا:۔
’’اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی ہے کہ اس(ماریہ) کے بطن سے ایک لڑکا عطا ہوگا جو میری شباہت پر ہوگا۔ مجھے اس کا نام ابراہیم رکھنے کا حکم دیا گیاہے اور میری کنیت ابو ابراہیم رکھی ہے۔ اگر مجھے اپنی کنیت بدلنی ناپسند نہ ہوتی تو میں ابو ابراہیم کی کنیت اختیار کر لیتا، جس طرح جبریلؑ نے مجھے پکارا ہے۔‘‘
صاحبزادہ ابراہیمؓ کی ولادت
حضرت ماریہؓ جب صاحبزادہ ابراہیمؓ سے حاملہ ہوئیں توجبریل ؑنےآکر کہا‘‘اےابو ابراہیم! آپؐ پر سلام ہو۔ اللہ تعالیٰ آپؐ کو ماریہؓ سے ایک لڑکا عطا کرنے والا ہے اور ارشاد ہے کہ آپؐ اس کا نام ابراہیم رکھیں۔ اللہ تعالیٰ آپؐ کو یہ بیٹا مبارک کرے اور دنیا و آخرت میں اسے آپؐ کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا ذریعہ بنائے۔
دوسری روایت میں ہے کہ جبریلؑ نے رسول اللہﷺ سے آکر کہا‘‘اے ابو ابراہیم! آپؐ پر سلام ہو تو آپؐ نے فرمایا ہاں میں ابو ابراہیم بھی ہوں اور ابراہیم ؑ کا بیٹا بھی ہوں اور اسی کے نام سے ہم پہچانے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔مِلَّةَ أَبِيۡكُمْ إِبْرَاهِيۡمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ (الحج:79)یہی تمہارےباپ ابراہیم کامذہب تھا۔اُس(یعنی اللہ)نےتمہارانام مسلمان رکھا‘‘
ذوالحجہ8ھ میں حضرت ماریہؓ کے بطن سے صاحبزادہ حضرت ابراہیمؓ تولد ہوئے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ان کی ولادت سے اگلے روز رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’آج رات مجھے اللہ تعالیٰ نے لڑکا دیا ہے جس کا نام میں نے اپنے باپ کے نام پر ابراہیم رکھا ہے‘‘
صاحبزادہ ابراہیمؓ کی دایہ رسول اللہﷺ کی آزاد کردہ لونڈی حضرت سلمٰیؓ تھیں۔ان کےشوہر حضرت ابورافعؓ نے ہی آکررسول اللہﷺ کو صاحبزادہ ابراہیمؓ کی ولادت کی خوشخبری سنائی تھی۔ رسول اللہﷺ نے خوش ہوکر انہیں ایک خادم بطور انعام عطا فرمایا۔آپؐ نے ساتویں دن صاحبزادہ ابراہیمؓ کے بال مونڈوائےاوربالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ میں دےکربالوں کو دفن کروادیا گیا۔عقیقہ کے لئےآپؐ نے ایک بکری ذبح کروائی۔
اس روایت میں صاحبزادہ ابراہیم کے عقیقہ پر ایک بکری ذبح کرنے کا حکم ہے۔جبکہ رسول کریمؐ بالعموم لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرنے کی ہدایت کرتے۔ اور فرماتے تھے کہ بچّہ عقیقہ(قربانی) کے عوض رہن ہوتا ہے۔لیکن چونکہ اسلامی تعلیم میں نرمی اور یسر کا پہلو غالب ہے۔ اور اس کے احکام تکلیف ما لایطاق نہیں۔اس لیے آپؐ نے اپنے عمل سے یہ سہولت والی سنت بھی قائم فرمائی کہ اپنے نواسوں امام حسنؓ و حسینؓ کی پیدائش پر حسب حالات و توفیق خودایک ایک بکرا ان کی طرف سے ذبح کروایا۔جس سے خاص حالات میں لڑکے کی طرف سے ایک بکرا عقیقہ کا جواز بھی ثابت ہے۔
صاحبزادہ ابراہیمؓ کی رضاعت کے بارہ میں انصار کے مختلف گھرانوں میں طبعاً ایک جذبہ اور شوق پایاجاتاتھا کہ وہ اس خدمت کی سعادت پائیں۔ابتدائی کچھ ایام میں تو حضرت سلامہؓ نے یہ خدمت انجام دی پھر ایک انصاری خاتون حضرت امّ بردہؓ بنت منذر ( جو حضرت براءؓ بن اوس کی زوجہ تھیں) کچھ عرصہ دودھ پلاتی رہیں۔رسول اللہﷺ بنی نجار کے محلہ میں اپنے لخت جگرابراہیمؓ کو دیکھنے تشریف لےجاتے اور وہاں قیلولہ بھی فرماتے۔ رسول اللہﷺنےحضرت امّ بردہؓ کو کھجوروں کاایک قطعہ بھی بطورتحفہ عطافرمایاتھا۔ اس کے بعد صاحبزادہ ابراہیمؓ رضاعت کے لئے حضرت ابوسیفؓ کی بیوی حضرت امّ سیفؓ کےسپرد کئے گئےجو مدینہ میں لوہار کا کام کرتے تھے۔رسول اللہﷺ کو صاحبزادہ ابراہیمؓ سے بہت محبت تھی۔ آپؐ اکثر اپنے بیٹے سے ملاقات کے لئے ابو سیف کے گھر تشریف لے جاتے صاحبزادے کو اٹھاتے سینہ سے لگاتے چومتے اور پیار کرتے۔
صاحبزادہ ابراہیمؓ کی استعدادِ روحانی
صاحبزادہ ابراہیمؓ کی ولادت سے تین سال قبل سورۂ الاحزاب کی آیت خاتم النبیین میں یہ صراحت آچکی تھی مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (الاحزاب:41) کہ محمدﷺ تمہارے(جیسے)مردوں میں سےکسی کےباپ نہیں بلکہ وہ اللہ کا رسول ہے اورسب نبیوں کا خاتَم ہے۔
اس میں یہ اشارہ بھی مضمر تھا کہ رسول اللہﷺ کی نرینہ اولاد میں سےکوئی بھی بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے گا۔ اس بچے کی ولادت پر خوشی کے ساتھ طبعاً ایک گھبراہٹ پیدا ہونی بھی ضروری تھی کہ یہ بچہ کچھ عرصہ کا مہمان ہے۔ایسی کیفیت میں حضرت جبریلؑ نے آنحضرتﷺ کو‘‘اے ابو ابراہیم !آپؐ پر سلام‘‘ کہہ کر ایک گوناں تسلی بھی دی کہاس بچّے کاآکر کم عمری میں جانا بھی موجب برکت و سلامتی ہوگا۔
مزید برآں بذریعہ الہام اس نو مولود کا نام ابراہیم اور رسول اللہﷺ کی کنیت ابوابراہیم میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہےکہ جس طرح رسول اللہﷺ اپنے جدّ امجد حضرت ابراہیم ؑ کی دعا کی قبولیت کا نشان ہوکران کی نسبت سےابن ابراہیم بنے،اب آئندہ اللہ تعالیٰ سورۂ کوثرمیں دشمن کے ابتر اور آپؐ کے بااولاد ہونے کی پیشگوئی پوری کرتے ہوئےآپؐ کی دعاؤں اور درود شریف کی برکات کے طفیل آپؐ کوابو ابراہیم بناکر روحانی اولاد عطا کرنے والا ہے۔چنانچہ رسول اللہﷺنے18ماہ بعدصاحبزادہ ابراہیم کی وفات پر فرمایا کہ لَو عَاشَ لَکانَ صِدِّیقاً نَبِیّا۔کہ اگر میرا یہ بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور سچّا نبی ہوتا۔
وفات ابراہیمؓ
ہر چند کہ صاحبزادہ ابراہیمؓ کی وفات ایسی الہٰی تقدیر تھی جس کے اشارے موجود تھے مگر طبعاً آپؐ کو اس نرینہ اولاد کی جدائی پرگہرا صدمہ تھا۔چنانچہ انکی وفات پر رسول اللہﷺ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر، حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ!آپ بھی روتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا۔ اے ابن عوفؓ یہ رحمت ہے۔پھر آپؐ کا ایک اور آنسو ٹپکا تو آپؐ نے فرمایا:۔
إنَّ العَيْنَ تَدْمَعُ وَالقَلۡبُ يَحْزَنُ،ولَا نَقُولُ إلَّامَا يُرْضِي رَبَّنَا،وإنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إبْرَاهِيْمُ لمَحْزُونُون
یعنی آنکھ آنسو بہا تی ہے اور دل غمگین ہے اور ہم کچھ نہیں کہتےمگروہی جوہمارے ربّ کو پسند ہو اور ہم اے ابراہیم! تیری جدائی سے یقیناً غمگین ہیں۔
کچھ یہی کیفیت حضرت ماریہؓ کی اپنی اکلوتی اولاد کی جدائی پر بھی تھی۔چنانچہ ان کی بہن سیرین روایت کرتی ہیں کہ صاحبزادہ ابراہیمؓ کے آخری لمحات تھے۔میں اور میری بہن حضرت ماریہؓ رونے لگیں تو آنحضورﷺ نے منع نہیں فرمایامگرجب بچہ فوت ہوگیا تو آپؐ نے ہمیں اونچی آواز سے رونےسے منع فرمادیا۔
صاحبزادہ ابراہیمؓ نے قریباً 18 ماہ عمر پائی۔گویا رضاعت کے دوسال بھی پورے نہ ہوپائے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے۔رسول اللہﷺ نے ان کی وفات پر فرمایا إنَّ لَه مُرضِعًا في الجنَّةِ۔
کہ صاحبزادہ ابراہیمؓ کے لئے جنّت میں ایک دودھ پلانے والی ہوگی۔یعنی ان کی روحانی تکمیل دوسرے جہاں میں ہوگی۔صاحبزادہ ابراہیمؓ کی وفات پر سورج گرہن ہوا تو بعض لوگوں نے اسے آنحضورﷺکے اس صاحبزادے کی وفات کی مناسبت سے ایک نشان قرار دیا۔ رسول اللہﷺ نے واضح فرمایا چاند سورج گرہن کسی کی وفات پر نہیں ہوتے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے ہیں پس اٹھو اور نماز کسوف ادا کرو۔ :
رسول اللہﷺنے اس معصوم بچے کی تدفین کے لئے خاص جگہ کی تعیین کرتے ہوئے فرمایا ’’ہم اپنے اس بچے کواس کے پیشرو حضرت عثمانؓ بن مظعون کے پہلو دفن کریں گے۔‘‘رسول اللہﷺ کے چچا زاد حضرت فضل بن عباسؓ نے صاحبزادہ ابراہیمؓ کو غسل دیا اور ان کی قبر میں ان کے ساتھ حضرت اسامہ بن زیدؓ بھی اترے۔جبکہ رسول اللہﷺ قبر کے کنارے تشریف فرما رہے۔قبر کی تیاری کے دوران رسول کریمﷺ نے دیکھا کہ کچھ سوراخ باقی رہ گئے ہیں۔آپؐ نے توجہ دلا کر ان کو بند کروادیا اور فرمایا ’’اس سے مرنے والے کو تو کوئی فائدہ یانقصان نہیں لیکن زندوں کی آنکھ اس سے ٹھنڈی ہوتی ہے۔اور بندہ جب کوئی کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ وہ اس کام کو عمدہ کرکے مکمل کرے‘‘
(بحوالہ اہل بیت رسولﷺ از حافظ مظفر احمد صاحب)
(باقی انشاء اللہ آئندہ شمارہ میں)


