اسلامی تعلیمات

ایک نصیحت فرقان حمید سے

Spread the love

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا يَسْطُرُوْنَۙ۰۰۲مَآ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ۰۰۳وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَيْرَ مَمْنُوْنٍۚ۰۰۴وَ اِنَّكَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِيْمٍ۰۰۵ فَسَتُبْصِرُ وَ يُبْصِرُوْنَۙ۰۰۶بِاَیِّكُمْ الْمَفْتُوْنُ۰۰۷(القلم آیت 2 تا 7)

دوات اور قلم اور وہ عظیم الشان صداقتیں جن کو لوگ لکھتے ہیں اور لکھتے رہیں گے۔ (ان کے مطالعہ کا نتیجہ تو یہی ہوگا) کہ تو اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں کیونکہ وہ تمام تحریریں تیری صداقت کی گواہی رہیں گی اور دوسری دلیل یہ ہے کہ تیری محنت و کوشش کا بدلہ۔ اجر اس کی مزدوری تیرے لئے غیرمنقطع ابدی ہے اور ظاہر ہے کہ مجنون کی محنت و کوشش کا تو کوئی اجر ہی نہیں ہوا کرتا۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ مجنون تو خلیق نہیں ہوتے۔ اور تُو خُلق پر کیا خُلقِ عظیم پر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقناطیسی جذب اور آپؐ کے اخلاق ہی تھے کہ اڑب عرب آپ کے حکم پر اپنے خون کو پانی کی طرح بہاتے تھے اور چوتھی دلیل یہ ہے کہ مجنون کے افعال و اقوال مثمر ثمراتِ خیر اور منتج کسی نیک نتیجہ کے نہیں ہوا کرتے اور تیرے اقوال اور تیرے افعال کا نتیجہ تُو بھی دیکھ لے گا۔ اور دوسرے لوگ بھی دیکھ لیں گے۔ اور یہ کیسی سچی پیش گوئی نکلی۔ دنیا میں صرف آپ ہی اکیلے ایسے کامیاب ہوئے ہیں جنہوں نے اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ (المائدہ: 4) کی آواز اپنی زندگی میں اپنے کانوں سے سُنی اور رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا(نصر: 3) کا نظارہ اپنی آنکھ سے دیکھا۔ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبَارَکَ فَاِنَّہُ حَمِیْدٌ مجیدٌ۔ اس پر بھی نہ ماننے والوں نے نہ مانا۔ پرنہ مانا۔                             (نورالدین طبع سوم صفحہ 49-50)

دنیا میں انسان ایک معجون ہے۔ اس نے زمین کو پھاڑا۔ پہاڑوں کو چیرا۔ سمندر کی تہہ سے موتی نکالے۔ ہوا۔ سمندر۔ روشنی پر حکومت کرتا ہے۔ باوجود اس کے کمال کے کسی اور کے نمونہ کو اختیار کرنا چاہتا ہے۔ تاجر۔ کسی بڑے تاجر۔ اورسپاہی کسی بڑے کمان افسر کی طرح بننا چاہتا ہے۔ راولپنڈی کے ایک دربار میں پرنس آف ویلز کی شان و شوکت دیکھ کر ایک احمق نے مضمون لکھا کہ کاش میں ہی پرنس ہوتا! ایک میرا دوست دوست مرضِ جذام میں گرفتار یہاں آیا۔ مجھے کہنے لگا۔ آپ عقلمند نہیں معلوم ہوتے۔ آپ مجھے اجازت دیں۔ میں کوشش کروں۔ فوراً آپ کو زمین کے بڑے مربعے دلا سکتا ہوں۔ آپ بادشاہ بن جائیں گے! مَیں نے اسے کہا کہ تم نہیں جانتے۔ خوشی اور شے ہے۔ تم مجھے زمین دلواتے ہو۔ خود تو بڑے زمیندار ہوں۔ مگر دیکھو۔ تم میں ایسی بیماری ہے کہ تمہارے رشتہ دار بھی تم سے نفرت کرتے ہیں۔ پھر وہ زمین کس کام؟ غرض ہر شخص کسی نمونہ کو سمجھنے کا خواہشمند ہے۔ کوئی حسن و جمال کا شیدا۔ کوئی ناموری چاہتا ہے۔ کوئی حکومت کو پسند کرتا ہے۔ کوئی کسی اور بڑائی کا حریص ہے۔ اس واسطے اللہ تعالی ان کے واسطے ایک نمونہ پیش کرتا ہے۔ دوات اور قلم ہو۔ اور اس سے جو کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ سیاسی لوگ سیاست پر کتب لکھتے، ناولسٹ ناول لکھتے، اور مختلف لکھنے والے مختلف اشیاء پر لکھتے اور ان کی تحریریں جمع کرو۔ یہ ثابت ہوگا کہ محمدؐ رسول مجنون نہیں تھا۔ اس نے جو کچھ خلقت کے سامنے پیش کیا۔ وہ حق و حکمت سے پُر۔ اور اس نے جو تحریر پیش کی ہے اس کا مقابلہ کوئی تحریر دنیا بھر کی نہیں کرسکتی۔ تمام تعلیمات جن پر عمل کرکے انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے۔ وہ سب اس کتاب میں جمع ہیں۔ دلیل یہ ہے کہ مجنون کے نہ رونے کی کسی کو پرواہ ہے نہ اس کے ہنسنے کی کسی کو خواہش ہے۔ اس کی طاقت کی قدر نہیں ہو سکتی وہ سارا دن سوئے۔ جاگے۔ بیٹھے۔ سردی میں ننگا۔ گرمی میں لحاف لے۔ اس کی محنت کا بدلہ نہیں۔ لیکن اے نبی! تیری محنتوں کا ثمرہ اور غیرممنون ہے۔ اس کا خاتمہ نہیں۔ ہم نے خود تجربہ کیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر کام کا پھل ہمیشہ قائم ہے۔ پھر مجنون کے اخلاق نہیں ہوتے۔ وہ دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست بنا لیتا ہے۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بڑے اخلاق اعلیٰ رکھتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قرآن لائف آف محمدؐ ہے۔ خُلُقُہُ الْقُرْاٰنُ۔ پھر فرمایا۔ دیکھو اے مخالفو! اس کے مقابلہ میں کسی کا زور نہ چلے گا۔ یہ بھی دیکھے گا اور تم بھی دیکھو گے کہ کون فتح مند ہوتا ہے۔ عرب اور عجم کوئی اس کے بالمقابل کامیاب نہ ہوسکے گا۔ یہ اس کی صداقت کی دلیل ہے۔

اگر تم کوئی نمونہ اعلیٰ چاہتے ہو اور وعدۂ خداوندی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو یاد رکھو کہ علم کے لئے قرآن شریف اور عملی زندگی کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عملدرآمد بس ہے…۔

آج تک جس نسخہ کو آزمایا وہ یہی کے فتح اور نصرت اور کامیابی کے حصول کا ایک ہی نسخہ قرآن شریف ہے۔

نٓ۔ دوات                 مَآ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍ:تُو مجنون نہیں ہے۔

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس قول کا ردّ کیا ہے۔ کہ نعوذ باللہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) مجنون ہیں۔ اور اس پر دلائل دیئے ہیں۔ فرمایا قلم دوات کو لو اور جو علوم دنیا میں پیدا ہوئے ہیں سب کو جمع کرو اور تمام انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کو لو اور ان کو ایک جگہ جمع کرو۔ اور پھر اس کلام (قرآن) کے ساتھ مقابلہ کرکے غور کرو کہ کیا یہ مضمون کا کلام ہے۔

بلکہ فرمایا۔ قلم اور دوات کے ساتھ جو کچھ آئندہ بھی کبھی لکھا جاوے گا۔ اس سے ہمیشہ یہی ثابت ہوتا رہے گا کہ یہ خیال جو اس نبیؐ کے متعلق کیا گیا ہے بالکل باطل ہے۔ ہر ایک نیا علم جو دنیا میں نکلے گا۔ جو خداوند تعالیٰ سے محبت اور مخلوق پر شفقت کے متعلق ہوگا۔ وہ اس کی صداقت اور علم و عقل کے کمال کو ثابت کرتا رہے گا۔ وہ تمام بحثیں اور تحریریں جو آئندہ ہوں گی وہ کوئی ایسا دینی مسئلہ پیدا نہ کرسکیں گی۔ جو انسان کی بہبودی کے واسطے ضروری ہو اور اس پاک کلام میں نہ پایا جاتا ہو۔ پھر ایسی کتاب کا لانے والا کیوں کر مجنون ہوسکتا ہے۔

ان آیات میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اب قلم و دوات کا زمانہ آنے والا ہے جب کہ ہر شے لکھی جائے گی اور صحائف بہت کثرت سے ہوں گے۔ اور بڑے علوم کا زمانہ خیال کیا جاوے گا۔ اس وقت بھی قرآن شریف کی شریعت صحیح اور غیرمتبدل ثابت ہوگی۔ اور دنیا کو ماننا پڑے گا کہ ایسے مستحکم۔ معقول۔ مدلّل کا لانے والا بجز ایک کامل نبی کے کوئی ہو نہیں سکتا۔ چہ جائیکہ وہ دیوانہ ہو۔

غَيْرَ مَمْنُوْنٍ: غیر منقطع۔ کیونکہ یہ کلام ایسا ہے کہ فِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَةٌ (البینة: 4) اس میں مضبوط کتابیں شامل ہیں جو قائم رہنے والی ہیں۔ اس واسطے یہ علوم ہمیشہ سچے ثابت ہوتے رہیں گے اور ان سے دنیا میں ہمیشہ نور پھیلتا رہے گا اور اس طرح تیرا ثواب جاری رہے گا کیونکہ یہ ابدی شریعت ہے۔

یہ بھی حضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مجنون نہ ہونے کی ایک دلیل بیان فرمائی ہے۔ کیونکہ پاگل جو ہوا کرتے ہیں۔ برخلاف اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کام مُنَظَّم تھے۔ اور ان سے بڑے بڑے اہم اور مفید نتائج پیدا ہوئے۔

اس میں اہلِ عرب کو اور آئندہ تاریخِ زمانہ پر نگاہ کرنے والوں کو سمجھایا ہے۔ کہ دیکھو ہمارا رسول بھی ایک کام کر رہا ہے اور اس کے بالمقابل تم بھی ایک کام کر رہے ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مکّہ کو کون فتح کرتا ہے اور غیرمنقطع اجر کس کو ملتا ہے۔ کون عاقل ثابت ہوتا ہے اور کون دیوانہ۔

ایک اور دلیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاگل نہ ہونے کی جگہ بیان فرمائی ہے۔ فرمایا جو شخص خُلقِ عظیم اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس کو پاگل کی طرح کہہ سکتے ہیں۔ پاگل کے اخلاق اچھے نہیں ہوا کرتے۔ کیا وہ شخص جو عاقبت اندیشی۔ شجاعت۔ مروّت۔ جودوسخا۔ استقامت۔ بلندہمتی۔ عفّت حیاء۔ زُہد۔ اتقا۔ ریاضت۔ فصاحت۔ بلاغت۔ عفو۔ کرم۔ رحم۔ حلم۔ توکل۔ امانت۔ دیانت۔ غرض تمام اخلاق فاضلہ کا سرچشمہ ہو۔ کیا وہ مجنون ہوسکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔

یاد رکھنا چاہیے کہ خلق، نرمی۔ حلیمی اور انکسار کا نام نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا گیا ہے۔ بلکہ انسان کے اندر بمقابلہ ظاہری قویٰ کے جو باطنی کمالات کی کیفیات ہیں۔ ان سب کا نام خُلق ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں وہ سب پائی جاتی تھیں۔ اسی پر قرآن شریف میں دوسری جگہ فرمایا ہے۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب: 22)

کہ اخلاق کے واسطے یہ رسول کامل نمونہ ہے۔ اس کی سنت کو اختیار کرو۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خُلق کے متعلق سوال ہوا تھا۔ تو انہوں نے فرمایا۔ خُلُقُہُ الْقُرْاٰنُ آپؐ کا خُلق قرآن تھا۔ قرآن مجید میں جو اعلیٰ تعلیم دی گئی ہے اس سارے کے عمل کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمونہ تھے۔ جو لوگ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سوانح عمریاں تلاش کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ جناب صدیقہ کے اس قول کی طرف توجہ کریں۔

(حقائق الفرقان جلدچہارم صفحہ 174 تا 177)

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *