انسان کے ذمہ تین طرح کے حقوق ہیں
انسان کے ذمہ تین طرح کے حقوق ہیں۔ اوّل: اللہ تعالیٰ کے۔ دوم: نفس کے۔ سوم: مخلوقات کے۔
ان حقوق کے متکفّل قرآن کریم اور احادیثِ صحیحہ ہیں۔ جنابِ الٰہی کے حقوق کو کون بیان کرسکتا ہے عقل میں تو نہیں آسکتے۔ جس طرح وہ وراءالوراء ہستی ہے اس کے حقوق بھی ویسے ہی ہیں۔ جب انسان ایک دوسرے انسان کی رضامندی کے رستوں کو کب کوئی پاسکتا ہے اور جب انسان کے حقوق کو نہیں سمجھ سکتے تو خدا کے حقوق کا کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔ مثلاً میں یہاں کھڑا ہوں تم میری رضامندی کی راہ کو نہیں جانتے۔ تو وہ ذات جو لَیْسَ کَمِثْلَہٖ شَیئٌ (شوریٰ: 12) ہے اس کے حقوق کو کیونکر انسان سمجھ سکتا ہے۔
اسی طرح انسان کے حقوق بھی ہیں۔ انسان بہت کچھ غلطیاں کرجاتا ہے۔ اس لئے خداتعالیٰ نے انسان کے لئے ایک قانون بنایا ہے۔ ایک صحابیؓ دن کو روزے رکھتے اور رات کو عبادت کرتے تھے۔ وہ حضرت سلمان فارسیؓ کے دوست تھے۔ ایک دفعہ سلمانؓ ان کے گھر تشریف لے گئے تو ان کی بیوی کے کپڑے خراب تھے۔ انہوں نے ان کی بیوی سے پوچھا کہ بھاوجہ صاحبہ آپ کی ایسی حالت کیوں ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے کپڑوں کی حالت کیونکر اچھی ہو تمہارے بھائی کو تو بیوی سے کچھ غرض ہی نہیں۔ وہ تو دن بھر روزے اور رات کو عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔ حضرت سلمانؓ نے کھانا منگوایا۔ اس دوست کو کہا کہ آؤ کھاؤ۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں روزے دار ہوں تو حضرت سلمانؓ نے ناراضگی ظاہر کی تو مجبوراً اُس صحابی نے آپ کے ساتھ کھانا کھالیا۔ پھر سلمانؓ نے جب رات ہوئی تو چارپائی منگوا کر ان کو کہا سوجاؤ۔ انہوں نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ میں رات کو عبادت کیا کرتا ہوں تو پھر حضرت سلمانؓ نے ان کو زبردستی سُلادیا۔
صحابہ ایسے نہ تھے کہ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ (النساء: 84) جب کوئی امن و خوف کی بات ہوتی تو اسے پھیلا نہ دیتے تھے۔ تم میں سے اکثر ایسے ہیں جو بات سُنی تو فوراً اس کو پھیلا دیتے ہیں۔
آخر ان کا معاملہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش ہوا تو آپﷺ نے اس صحابیؓ کو فرمایا کہ تمہارے متعلق ہمیں یہ بات پہنچی ہے تو انہوں نے یہ عرض کیا کہ بات تو جیسے حضورﷺ کو کسی نے پہنچائی ہے وہ صحیح ہے۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا اِنَّ لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَلِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقًّا۔ یہ بھی فرمایا تھا وَلِعَیْنَیْکَ عَلَیْکَ حَقًّا۔ تیرے پر نفس کے حقوق بھی ہیں۔ تیری بیوی کے بھی حقوق ہیں۔ اس نے عرض کیا یارسول اللہ (اس کی مراد اس سے یہ تھی) کہ میں تو خوب مضبوط ہوں آپﷺ مجھے کچھ تو اجازت دیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا ایک مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو۔ (چاند کی تیرہ، چودہ، پندرہ) اس نے پھر کہا یارسول اللہ ﷺ (مطلب یہ تھا کہ میں بہت طاقتور ہوں آپ مجھے اور اجازت دیں) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا دو دن افطار کرکے ایک دن روزہ رکھ لیا کرو۔ اس نے پھر عرض کیا یارسول اللہ۔۔۔۔۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا۔ سب سے بڑھ کر تو صومِ داؤدی تھا۔ تم ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرلیا کرو۔ پھر کہا یارسول اللہﷺ (مطلب یہ تھا کہ مجھے قرآن کریم کے روزانہ ختم کرنے کی تو اجازت فرماویں) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہفتہ میں ایک ختم کرلیا کرو۔ تو اس نے پھر عرض کیا یارسول اللہﷺ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا قرآن کریم کا ختم تین دن میں کرلیا کرو اس سے جلدی کی بالکل اجازت نہیں ہے۔ جب وہ بوڑھے ہوگئے تو پھر ان کو اس سے تکلیف ہوئی اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ہوئے تھے۔ اب لگے رونے اور پچھتانے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کو اس وقت کیوں نہ مانا! جب ایسے ایسے صحابہؓ کو رضامندی کا پتہ نہیں لگ سکا تو تم کو کیوں کر لگ سکتاہے؟
ہم بیمار ہوجاتے ہیں یا ہمیں کوئی خوشی ہوتی ہے تو تم میں سے بعض ایسے ہیں (جن کا ہم سے کوئی تعلق نہیں) کہ وہ ہماری رنج و راحت میں بالکل شریک نہیں ہوتے اور ہمیں پوچھتے تک نہیں۔
وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ: اور جب یہ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دیکھو تم نے فلاں بات جو تم کو سمجھ آگئی وہ کیوں بتلائی۔ اَب وہ تم کو خدا کے رُبرو ملزم ٹھہرائے گا۔ اَوَ لَا يَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَ مَا يُعْلِنُوْنَ (البقرة: 78) کہ یہ نہیں جانتے کہ اللہ اُن کے چُھپے اور ظاہر اور ان کے سب بھیدوں کو جانتا ہے تو وہ پھر چھپاتے کس سے ہیں۔
(حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ


