اُمّ المؤمنین حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنھا
آخری قسط
حضرت ماریہؓ زوجۂ رسولؐ
حضرت ماریہؓ کے بارہ میں بعض محدثین، اہل سیر اور مؤرخین کی عمومی رائے یہ ہے کہ وہ رسول اللہﷺکی ملک یمین سُریہ یا لونڈی کے طور پر تھیں۔ صاحبزادہ ابراہیمؓ کی پیدائش کے بعد وہ بطور ام ّ ولد آزاد ہوئیں جیسا کہ حضرت ابن عباسؓ سےروایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے صاحبزادہ ابراہیمؓ کی ولادت پرحضرت ماریہؓ کے بارہ میں فرمایا کہ اس کے بیٹے نے اسے آزاد کردیا۔ <لیکن بعض محدثین نے اس حدیث کے بعض راویوں کے ضعیف ہونے کے باعث اسےردّ بھی کیا ہے۔
اس روایت کو قبول کرنے کی صورت میں بھی اس کازیادہ سے زیادہ مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اگرکوئی رائج الوقت دستور کے مطابق امّ ابراہیمؓ کوکنیز ہی سمجھتا تھا توبیٹے کی ولادت نے اس پر بھی اتمام حجت کر دی ہے کہ اب انہیں آزادتسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔وہ بطور زوجہ رسول اللہﷺ کے حرم میں نہ بھی آتیں تو بھی بچےکی ولادت کے ذریعہ انہوں نے آزاد ہونا ہی تھاگویا حضرت ماریہؓ کے ہاں اولاد ہونے پریہ اظہار مسرّت کا ایک انداز تھا۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت ماریہؓ کے زوجہ یا کنیز ہونے کے معاملہ کو ایک اختلافی امرقرار دیا ہے۔اگرچہ سیرت خاتم النبیین کے نا تمام رہ جانے کے باعث ہم اس بارہ میں انکی تفصیلی تحقیق سے محروم ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؒ نے سورۂ احزاب کی آیت53 کی تفسیر میں حضرت ماریہؓ کو لونڈی قرار دیا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ وَلَا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَی كُلِّ شَيْءٍ رَقِيبًا (احزاب:53)اس کے بعد تیرے لیے(اور)عورتیں جائز نہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ اِن (بیویوں) کے بدلےمیں تُو اَور بیویاں کر لے خواہ ان کا حسن تجھے پسندہی کیوں نہ آئے۔مگر وہ مستثنیٰ ہیں جو تیرے زیر نگیں ہیں اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اوّلؒ فرماتے ہیں کہ‘‘جس وقت یہ آیت اتری اس وقت حضرتؐ کے نکاح میں نو بیبیاں… تھیں۔مگر لونڈی رکھنے کی اجازت تھی۔چنانچہ مقوقس بادشاہ مصر نے آپؐ کو ماریہ لونڈی ہدیہ بھیجی‘‘۔
حضرت خلیفہ اول نے مسند خلافت پر متمکن ہونے سے پہلے اپنی کتاب فصل الخطاب میں بھی عیسائی پادریوں کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئےعام روایات کے مطابق حضرت ماریہؓ کو آنحضرتﷺ کی سُریہ بی بی اور امّ الولد (یعنی آپؐ کے صاحبزادہ کی ماں بننے کے نتیجے میں آزاد ہونےوالی )بیان فرمایا ہے۔
سورۂ احزاب کی آیت53 کی وضاحت میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؒ نے بھی ماریہ کو لونڈی قرار دیا ہے جسے آپؐ نے نکاح میں لے لیا تھا۔لونڈی سے نکاح کے ثبوت کے لیے حضرت خلیفہ ثانیؒ کا بیان فرمودہ یہ اصول بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ’’اگر وہ(لونڈیاں) مکاتبت کا مطالبہ نہ کریں تو ان کو بغیر نکاح کے اپنی بیوی بنانا نا جائز ہے یعنی نکاح کے لیے ان کی لفظی اجازت کی ضرورت نہیں۔‘‘
آپ ؒفرماتے ہیں کہ حضرت ماریہؓ کو مقوقس مصر نے اپنے ملک کے رواج کے مطابق لونڈی کے طور پر تحفۃً رسول کریمؐ کی خدمت میں بھیجاتھا۔پس وہ اس آیت کے حکم سے باہر ہیں اور ان سے بھی رسول اللہﷺ کا نکاح ثابت ہے۔آیت51 اور 53دونوں میں رسول اللہﷺ کے لیےلونڈی کی جو اجازت ہے اس کے بارے میں حضرت خلیفہ ثانی کی رائے ہے کہ رسول کریمﷺ نے اس اجازت سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ ممکن ہے رسول کریمؐ نے اس اجازت کوسورۃ الانفال کے اس حکم سے مشروط سمجھا ہوکہ‘‘کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ زمین میں خونریز جنگ کئے بغیر قیدی بنائے‘‘(الانفال:68)۔اس حکم الہٰی پر عمل کرتے ہوئے آپؐ نےکبھی کوئی غلام یا لونڈی نہیں رکھی اوراخلاق فاضلہ کا وہ بہترین نمونہ دکھایاجسے ہمیشہ کے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا گیا۔اس لحاظ سے بھی اوّل الذکررائے کہ حضرت ماریہؓ کی حیثیت لونڈی کی تھی قابل غورہے۔ اس کے مقابل پر اس رائے میں وزن معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺنے بی بی ماریہؓ کو روز اوّل سے اپنے حرم میں شامل کرکے ازواج مطہرات جیسا سلوک کیا،ان سے پردہ کروایا اور الگ رہائش کا انتظام کیا۔ اس رشتہ کے نتیجہ میں مصر اور اسکندریہ کے بادشاہ سے تعلقات پیدا ہوئے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے اپنی اسی کتاب میں اور بعد میں اپنےدرس القرآن میں بھی حضرت ماریہؓ کو رسول اللہﷺ کی بی بی کے الفاظ سے بھی یا د فرمایا ہے۔امّ الولد کے طور پر یا روز اوّل سےزوجۂ رسول ہونےکی صراحت نہیں فرمائی۔جہاں تک آپ کی‘‘ سریہ بی بی‘‘ کی اصطلاح کا تعلق ہے۔لفظ سُریہ کی لغوی تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ سین کی کسرہ (زیر)کے ساتھ لفظ سِرّسے ماخوذ ہو کراس کے معنے لونڈی کے ہیں۔جبکہ سین کی ضمہ (پیش)کے ساتھ یہ لفظ سُرور سےہے اور اس کے معنے ایسی بی بی کے ہیں جس سے شوہر خوش ہویعنی اس کی عزیز بیوی۔اگر یہ مانا جائے کہ حضرت خلیفہ اول نے حضرت ماریہؓ کے لونڈی ہونے کے متعلق بعد میں کسی وقت اپنی رائے تبدیل کر لی تھی تو آپ نے حضرت ماریہؓ کے لئےسُریہ کا لفظ انہی معنی میں استعمال فرمایاہوگا۔
حضرت ماریہؓ کا ازواج مطہرات میں شامل ہونا جن قرائن قویہ کی موجودگی میں قبول کرنےکےلائق ہےوہ یہ ہیں:
1۔ ذاتی غلام یا لونڈی رکھنے سے اجتناب کے متعلق رسول اللہﷺ کا عملی نمونہ۔
2۔ شاہ مصر کا اپنے خاندان کی معزز لڑکی ماریہ کو بغرض رشتہ مصاہرت بھجوانا اور حضورﷺ کا بصورت عقد اپنے حرم میں قبول فرمانا۔
3۔ رسول اللہﷺ کا حضرت ماریہؓ کوازواج مطہرات کی طرح پردہ کروانا۔
4۔رسول کریمﷺ کا نو مسلمہ حضرت ماریہؓ کے حرمِ رسولؐ میں شامل ہونے پران کی تعلیم وتربیت کے لئے حسب منطوق سورۂ احزاب:52خصوصیت سے توجہ دینا تاکہ وہ سورۂ احزاب کی آیات33تا35 کا نمونہ ہوں۔
5۔ رسول اللہﷺ کا حضرت ماریہؓ کو علیحدہ رہائش اور بطور تحفہ انہیں باغ عطا کرنا۔
6۔ خلفائے راشدین حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا حضرت ماریہؓ کے ساتھ خصوصی احترام کا برتاؤ اور دیگر ازواج کی طرح ان کےلئے باقاعدہ نفقہ مقرر کرنا۔
ان امور کی کسی قدر تفصیل سے یہ مضمون مزید واضح ہوجاتا ہے۔
1۔اوّل:۔آنحضرتﷺ غلاموں کی آزادی کی تعلیم کے علم بردار بن کر آئے تھے اور عمر بھر آپؐ نے غلامی کے خلاف جہاد کیا۔روایات سے ثابت ہے کہ کوئی ایک غلام بھی آپؐ نے اپنے قبضہ میں رکھنا پسند نہیں فرمایا۔حضرت خدیجہؓ نے اپنے غلام زیدؓ بن حارثہ میں آپؐ کی رغبت دیکھ کر آپؐ کی ملکیت میں دیا تو آپؐ نے اسےبھی آزاد کرکے اختیار دیا مگر انھوں نے رسول اللہﷺ کو اپنے والدین پر ترجیح دی۔ اورحضورؐ نے ان کو اپنا بیٹا بناکر رکھا۔بعد میں بھی آنحضرتﷺ اپنی زندگی میں ہمیشہ خود غلام آزاد کرتے اوردوسروں سے کرواتے رہے۔صرف غزوہ حنین میں ایک دن میں ہی آپؐ نے چھ ہزار غلاموں کی آزادی کا حکم دیا۔لیکن ذاتی طور پر جو غلام آپؐ نے آزاد کئے وہ ایک روایت کے مطابق 63تھے۔
گویا اپنی زندگی کے سالوں کے برابرآپؐ نےغلام آزاد کیے اور بوقت وفات آپؐ نے کوئی ایک غلام یا لونڈی ترکہ میں نہیں چھوڑی۔
اپنی بیٹی فاطمہ کے سوال کرنے پر بھی انہیں غلام عطا نہیں کیابلکہ تسبیحات اور ذکر الہٰی سے اللہ کی مددچاہنے کی طرف توجہ دلائی۔اس لحاظ سےحضرت ماریہؓ کو لونڈی بنا کر رکھنا آپؐ کے مزاج اور عادت کے خلاف تھا۔اس لئے حضورؐ نے ان سے عقد فرما کر اپنی ازواج میں شامل فرمایا۔اور اس مقصد کیلئے کسی علیحدہ اعلان ِنکاح کی ضرورت نہیں تھی جیسا کہ حضرت صفیہؓ کو بھی رسول اللہﷺ کا اپنے حرم میں شامل فرمایاتوازواج کی طرح پردہ کرواناہی اس کا اعلان تھا۔
2۔دوم:۔بعض دیگر اقوام کی طرح اہل مصر میں بھی قدیم سے یہ دستور تھا کہ وہ شاہان مملکت یا والیان ِ ریاست اور معزّز مہمانوں سے پختہ تعلّقات استوار کرنےکی خاطر اپنے خاندان کی معزّز لڑکیوں کا رشتہ پیش کر دیتے تھے۔جیسا کہ بائبل کے مطابق فرعون ِ مصر نے اپنی بیٹی حضرت سلیمان ؑ کو پیش کردی تھی جس کے نتیجہ میں مصر اسرائیل کے حملہ سے محفوظ ہوگیا۔
حضرت ابراہیم ؑ کےزمانہ کے فرعون ِ مصر نے ان کی ولایت و بزرگی اورقبولیت دعا کا نشان دیکھ کر انھیں حضرت ہاجرہ کا رشتہ پیش کیا تھا۔اسی طرح اگرچہ مقوقس شاہِ مصر اپنی قوم کی مخالفت کے ڈر سے اپنا مذہب چھوڑ کر مسلمان تونہیں ہوا اور یہ عذر کیا کہ میری قوم اس نبی کی اتباع پر راضی نہ ہوگی اور مجھے اپنی حکومت کو خیر باد کہنا پڑے گا۔
جیسا کہ ذکر ہوچکا ہے دراصل مقوقس کو رسول اللہﷺکی سچائی اور کامیابی کا یقین ہوگیا تھا۔ چنانچہ اس نے آپؐ سے صلح وامن کےتعلقات استوار رکھنے کے لئے اپنے قومی رواج کے مطابق اپنے خاندان کی معززدو لڑکیاں رشتہ کے لئے بھجواتےہوئے یہ بھی اظہار کیا کہ آپؐ کے اخلاق کریمہ میں یہ بات ہے کہ وہ دو بہنوں کو ایک ساتھ عقد میں نہیں رکھتے۔jاور رسول اللہﷺنے قرآنی تعلیم (سورۂ نساء:24)کے مطابق ان دونوں بہنوں میں سے ایک کو اپنے حرم میں لاکر اس نشانی کو بھی سچا ثابت کردیا۔
3۔سوم:۔آنحضرتﷺکا حضرت ماریہؓ کو ازواج مطہرات کی طرح پردہ کروانا بھی انہیں زمرۂ ازواج میں شامل کرنے کےمترادف ہے۔سورہ احزاب میں ازواج رسول کے لئے مخصوص احکام پردہ میں یہ صراحت ہے کہ ان کامقام عام عورتوں کی طرح نہیں ہے۔ان کی آواز میں بھی لوچ نہیں ہونی چاہیے اور انہیں بالعموم اپنے گھروں میں ٹھہرنا چاہیےاور جاہلیت کے رواج کے مطابق اظہار زینت نہیں کرنا چاہیےبلکہ ازواج مطہرات کو ایسے رنگ میں چادریں اوڑھنے کی تلقین فرمائی کہ وہ خود پہچانی نہ جائیں ان کاخاص پردہ ان کی پہچان بن جائے۔نیز جن لوگوں کو گھر یلوکام کاج کے سلسلہ میں ازواج اور اہل بیت سے رابطہ کی ضرورت پیش آئے تو وہ بھی پردہ کے پیچھے سے سوال کریں۔(الاحزاب:60،54،34،33)
اس بناء پرازواج مطہرات پردہ کا خاص اہتمام کرتی تھیں اور اس میں چہرہ کا پردہ بطور خاص شامل تھا۔رسول اللہﷺ کی ازواج کا مثالی نمونہ اس بارہ میں اتنا معروف تھا کہ غزوۂ خیبر کے بعد جب آپؐ نے حضرت صفیہؓ کو اپنے عقد میں لیا تو اسیران ِجنگ میں سے ہونے کی وجہ سے یہ خیال ہوا کہ حضورؐ انہیں بطور ملکِ یمین اپنے عقد میں رکھتے ہیں یا زوجہ کے طور پر۔صحابہؓ بیان کرتے ہیں کہ اس بات کی جانچ کےلئے ہم نے اسی علامت پر انحصار کیا کہ اگر رسول اللہﷺ نے حضرت صفیہؓ کو ازواج کی طرح پردہ کا اہتمام کروایا تو وہ زوجہ مطہرہ ہوں گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور صحابہؓ کا مقرر کردہ معیار صد فی صد درست ثابت ہوا۔اور حضورﷺنے انہیں ازواج کی طرح پردہ کروایا۔اسی معیار پر جب حضرت ماریہؓ کامعاملہ پرکھا جائے تو روایات سے ثابت ہے کہ رسول اللہﷺنے حضرت ماریہؓ سے شروع ہی سے پردہ کا اہتمام کروایا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؒ کا یہ فرمانا کہ حضرت ماریہؓ سے رسول اللہﷺ کا نکاح ثابت ہے۔اس کا ایک قرینہ یہ پردۂ ازواج بھی ہوسکتا ہے۔جیسا کہ حضرت صفیہؓ کے نکاح کا بھی قرینہ قویہ ہے۔
4۔چہارم:۔حضرت عائشہؓ کی روایت اگر صحیح ثابت ہو جس کے مطابق حضرت ماریہؓ قبطیہ کی تعلیم و تربیت کے لئے کچھ عرصہ تک رسول اللہﷺکا خصوصیت سے وقت دینابھی ان کے ازواج میں شامل ہونے پرایک قرینہ ہو سکتاہے۔جس کی وجہ سےانہیں حضرت ماریہؓ سےغیرت ہونے لگی تھی۔دیگر ازواج کی موجودگی میں ان کی باریوں کے اہتمام کے ساتھ یہ زائد وقت رسول اللہﷺحسب منطوق سورۂ احزاب آیت52اس نو مسلم بیوی کی تعلیم و تربیت پر صرف کرتے تھے۔جس کی ضرورت اورتقاضےحضرت ماریہؓ کےرسول اللہﷺ کےحرم میں آجانے کے بعد بڑھ گئے تھے۔اورپیش آمدہ حالات میں رسول اللہﷺسے بڑھ کر کوئی اور یہ احسن فریضہ انجام نہیں دےسکتاتھا۔
5۔پنجم:۔رسول اللہﷺ نے مضافات مدینہ کے اموال بنی نضیر میں اپنے جس باغ میں حضرت ماریہؓ کو ٹھہرایا، وہ بعد میں انہیں تحفۃً عطا کردیاتھا جہاں وہ سکونت ہوئیں۔
اگرچہ اس باغ کے بارہ میں یہ تصریح موجود نہیں کہ وہ حق مہر میں تھایا نہیں۔تاہم زیادہ قرین ِقیاس یہی ہےکہ وہ حق مہر ہوگاکیونکہ لونڈی کی ملکیت میں ایسی قیمتی جائدادآجائے تو وہ حق مکاتبت استعمال کرکے خود آزاد ہوسکتی ہے۔ اس لئے رسول اللہﷺ نےیقیناً اپنی حرم کو یہ باغ بطور مہر عطا فرمایا ہوگاورنہ مساوات کی خاطر دیگر بیویوں کو ایسا باغ عطا فرماتے۔اس لحاظ سے بھی حضرت ماریہؓ کو حضرت صفیہؓ سے مماثلت ہے کہ ان کا گھر بھی حجرات نبویؐ سے الگ تھا۔
6۔ششم:۔رسول اللہﷺکی وفات کے بعدحضرت ماریہؓ نےجن دو خلفاء کا زمانہ پایا ان کا سلوک بھی حضرت ماریہؓ سے ازواج مطہرات جیسا تھا۔وہ آپؓ کا خصوصی احترام کرتے اور آپؓ کیلئے باقاعدہ نفقہ کا انتظام فرماتے رہے جس طرح دیگر ازواج کے لئے فرماتے تھے۔
اس کے مقابل پر حضرت عمرؓ نےعمرۃ بنت الجون کے لئے وظیفہ مقرر نہیں کیا تھا۔ (ان کا دوسرا نام اسماء اور امیمہ بھی آتا ہےاورجن کو رسول اللہﷺ نے شادی سے قبل ہی ان کے مطالبہ پرطلاق دےدی تھی۔) اگرچہ حضرت عمرؓ نے سورہ احزاب کی آیت 54کے حوالہ سے اس مطلقہ زوجۂ رسول اللہﷺ کورسول اللہؐ کے بعدکہیں اور نکاح سے منع کیا تو اس خاتون نےجواباً یہ دلیل دی کہ مطلّقہ ہونے کی وجہ سے نہ تو مجھے ازواج کی طرح پردہ کاپابند کروایاگیانہ مجھے ام ّ المومنین کا لقب ملا اور نہ ہی آپؐ نےمیرے لئے ازواج کی طرح نفقہ یا وظیفہ مقرر کیا ہے۔اگررسول اللہﷺ کی قبل از شادی مطلقہ ہونےکےلحاظ سے بھی مجھے ازواج میں شمار کرتے ہوئےآئندہ نکاح سے روکنا ہے تو پھر اسی اصول پرمیرا نفقہ بھی مقررہونا چاہیے۔اور حضرت عمرؓ نے انکی اس دلیل کوردّ نہیں فرمایا تھا۔
ایک اعتراض کا جواب
حضرت ماریہؓ کے بارہ میں محدث امام حاکم، مشہورمفسّر جلال الدین سیوطی اورمؤرخ ابن سعدنےایک ایسی کمزور روایت بیان کی ہےجسےبعض عیسائی پادریوں نے بنیاد بنا کر رسول کریمﷺ پر اعتراض کیا ہے کہ آپؐ نے ان سے حضرت حفصہؓ کے گھراور ان کی باری میں صحبت کی۔ اور ان کے ردّ عمل پر رسول کریمؐ نے اپنی سُریہ حضرت ماریہؓ کو اپنے اوپر حرام قرار دے دیا اور اس کا ذکر کرنے سے منع کردیا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ (التحریم:2)
اس روایت کا ایک راوی واقدی ہے جو کسی بھی لحاظ سے قابل ِ اعتماد نہیں۔ مزید برآں نسائی اور مستدرک کی اس روایت میں حضرت ماریہؓ کی بجائےکسی اورلونڈی کا ذکر ہے۔جس سے یہ اعتراض اورمشتبہ اور بےبنیاد ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ روایت صحیح بخاری اور مسلم کی روایت کے خلاف ہونے کی وجہ سے بھی قابل ِ ردّ ہے۔ صحیحین کی روایت کے مطابق سورۃ التحریم آیت 2 کے شان ِ نزول میں مذکور ہےکہ چند ازواج کے کہنے پر آپؐ نے ایک حلال چیز(شہد)کو اپنے اوپر حرام کرلیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ علامہ ابوسلیمان محمد بن محمدالخطابی البُستی(متوفی388ھ)نے تصریح کی ہے کہ بخاری مسلم کی حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ اس واقعہ تحریم کا تعلق واقعہ شہد سے تھا نہ کہ حضرت ماریہؓ سے۔جیسا کہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں۔یہی بات علامہ الخازن ابوالحسن علی بن محمدابراہیم بن عمرالشیحی(متوفی741ھ) نے لکھی ہے کہ علماء کے نزدیک اس روایت کا تعلق شہد کے واقعہ سے ہے۔نیزان کے مطابق حضرت ماریہؓ کے متعلق یہ روایت کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
حضرت مولانا نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح الاول نے بھی حضرت ماریہؓ کے بارہ میں ایسی روایات کو ردّ کیا ہے۔آپؐ تحریر فرماتے ہیں:۔‘‘بعض مفسرلوگوں نے زینبؓ کے بدلے میں ماریہ قبطیہؓ کا نام لیا… … یہ مفسروں کا قول حدیث کے مقابلے میں التفات کے قابل نہیں بلکہ محققین نے ماریہ کے وجود پر بھی انکار کیا ہے۔‘‘
بعض کتب میں یہ قصہ حضرت ابن عباسؓ سے بھی مروی ہے جو ابن اسحاق کے نزدیک ‘’مدرج’’ہے۔ (یعنی بعد کے راوی کی طرف سے اضافہ ہے)اسی طرح بعض ایسی روایات حضرت انسؓ اور حضرت ابو ھریرہؓ کی طرف منسوب ہیں جو بزرگ علمائے فن ِ حدیث کے نزدیک اجتہاد اور درایت کے لحاظ سے سند نہیں۔
اسی طرح مختلف تفاسیراورکتب تاریخ میں واقعہ شہد کی حضرت ماریہؓ سے متعلق روایت اندرونی طور پر تضادکا شکارہےاور ایسے راویوں سے مروی ہے جن کی روایات قابلِ قبول نہیں۔مثلاً مستدرک حاکم کی اس روایت کے راوی محمد بن بکیر کے بارہ میں لکھا ہےکہ وہ بسا اوقات غلطی کھا جاتے تھے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس روایت کے راویوں میں سے کسی نے بھی یہ واقعہ خود حضرت حفصہؓ یا آنحضورﷺ کی کسی اورزوجہ مطہرہ سےبراہ راست بیان نہیں کیاجو اس واقعہ کی عینی شاہد تھیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نوّراللہ مرقدہ فرماتے ہیں کہ‘‘بعض مفسرین نے اس آیت کی بہت گندی تفسیر کی ہے یعنی یہ کہ آپؐ نے حضرت ماریہؓ سے جو آپؐ کی لونڈی تھی صحبت کی اور پھر یہ بات ایک بیوی سے عہد لے کر بتا دی۔اس نے دوسری بیویوں کو بتا دیا اور یہ بات پھیل گئی۔یہ سب قصّہ غلط ہے اور رسول کریمؐ کو بدنام کرنے کے لئے گھڑا گیا ہے‘‘
وفات
امّ ابراہیم حضرت ماریہؓ کی وفات رسول اللہﷺکی وفات کے پانچ سال بعد محرّم16ھ میں حضرت عمر بن الخطابؓ کے دور خلافت میں ہوئی۔
حضرت عمرؓ نے امّ المومنین حضرت ماریہؓ کے جنازہ میں شرکت کے لئے لوگوں کو خصوصیت سے اطلاع کروا کے اکٹھا کروایا اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ آپؓ کی تدفین جنّت البقیع میں ہوئی۔
حضرت ابوبکرؓ نےدیگرا زواج کی طرح حضرت ماریہؓ کا وظیفہ مقرر کیا ہوا تھا جو ان کے زمانہ خلافت میں جاری رہا پھر حضرت عمرؓ نے بھی آپؓ کی وفات تک اسے جاری رکھا۔
رسول اللہﷺکے بعد فوت ہونیوالی پہلی بیوی اور ایک تضاد کا حل!
جیسا کہ ذکر ہواکہ حضرت ماریہؓ کی وفات 16ھ میں ہوئی اس لحاظ سے وہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد سب سے پہلی فوت ہونیوالی زوجہ مطہرہ تھیں۔ اس مناسبت سے رسول کریمﷺ کی اس پیشگوئی کی وضاحت ضروری ہے جس میں آپؐ نےازواج کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ تم میں سے سب سے پہلے مجھے وہ بیوی اس جہاں میں آملے گی جس کے ہاتھ سب سے لمبے ہیں۔ہاتھ ماپنے کے لحاظ سے تو حضرت سودہؓ کے ہاتھ زیادہ لمبے نکلے مگر صحابہ نے بالاتفاق حضرت زینبؓ (متوفیہ20ھ) کو حضورﷺ کی وفات کے بعدفوت ہونیوالی پہلی بیوی مانا۔اور لمبے ہاتھوں سے ان کا صدقہ وغیرہ دینا مراد لیا گیا۔یہ تأویل اس صورت میں تودرست ہو سکتی ہے جب حضرت ماریہؓ کو ازواج میں شمار نہ کیا جائے جیسا کہ گزشتہ بحث میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت ماریہ کنیز نہیں،زوجۂ رسولؐ تھیں۔ اور انکی وفات رسول اللہﷺ کے بعددیگر ازواج سے پہلے16ھ میں ہوئی۔اب لمبے ہاتھوں والی بیوی کی پیشگوئی کے بارہ میں حضرت عائشہؓ اور دیگر بعض اصحاب رسولﷺ کی یہی رائے ہے کہ یہ حضرت زینبؓ کے حق میں پوری ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی صحیح بخاری کی اس روایت کو قبول فرمایا ہے۔اس ظاہری تضاد کے حل کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔اوّل یہ کہ حضرت ماریہؓ کی تاریخ وفات تاریخی لحاظ سےحضرت زینبؓ(16ھ)سے پہلے ہو مگر تاریخی تحقیق کا نتیجہ یہی ہے کہ حضرت ماریہؓ کی وفات 16ھ اور حضرت زینبؓ کی وفات20ھ میں ہی ثابت ہے۔
تضاد کو رفع کرنے کی دوسری امکانی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ جس وقت حضورﷺ نے اپنی ازواج کو مخاطب کر کے یہ پیشگوئی فرمائی تو اس موقع پر کیا سب ازواج ایک جگہ موجود اور مخاطب تھیں یا آپؐ کا خطاب موقع پرموجودصرف چند ازواج کوتھا۔نیز اس صورت میں کیاحضرت ماریہؓ کے موقع پر موجود ہونے کی بھی کوئی روایت ملتی ہے۔اس تحقیق کاخلاصہ یہ ہے کہ حضرت ماریہؓ کا اس موقع پر موجود ہونا کسی روایت سے ثابت نہیں جبکہ بعض دوسری ازواج کی موجودگی کی صراحت مل جاتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات حضورؐ نے گھریلو ماحول میں کسی خاص موقع پر موجود بعض ازواج کے اس سوال پر فرمائی تھی کہ ہم میں سے سب سے پہلے کون سی بیوی آپؐ سےجاملے گی؟ آپؐ نے فرمایا تھا کہ جس کے ہاتھ تم میں سے زیادہ لمبے ہیں۔موقع پر موجود ازواج مطہرات نے اس کےظاہر ی معنی مراد لیتے ہوئے اپنے بازو ماپنے شروع کئے۔ حضرت سودہؓ لمبے ہاتھوں والی نکلیں۔مگر ان موجودالوقت بیویوں میں پہلی وفات20ھ میں حضرت زینبؓ بنت جحش کی ہوئی۔حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں ’’تب ہم پر کھلا کہ لمبے ہاتھوں سے مراد زیادہ صدقہ دینے والا ہاتھ تھا۔اور حضرت زینبؓ بنت جحش اپنے ہاتھ سے کام کر کے دستکاری کے ذریعے روپیہ کماکر کثرت سے صدقہ کرتی تھیں۔انہیں صدقہ کرنے سے گویا محبت تھی‘‘
بخاری کی اس روایت کے مطابق اس موقع پر موجودازواج میں سے حضرت عائشہؓ حضرت سودہؓ اور حضرت زینبؓ بنت جحش کی قطعی موجودگی صریح طور پر ثابت ہوتی ہے۔جبکہ ایک اور روایت سے حضرت میمونہؓ کے بھی اس موقع پر موجود ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ 4مگر جیسا کہ ذکر ہوچکا ہے حضرت ماریہؓ کی موجودگی کی صراحت کسی حدیث میں نہیں ملتی۔
دیگر بعض روایات میں عمومی طور پر ازواج مطہرات کےرسول اللہﷺکےگھر میں اکٹھا ہونے کا ذکر ہےجس سے حجرات نبویؐ میں رہائش پذیر دیگرازواج میں سے حضرت امّ سلمہؓ، حضرت حفصہؓ، حضرت جویریہؓ، حضرت میمونہؓ کی بھی اس موقع پرموجودگی کاقیاس کیا جاسکتا ہے۔لیکن کسی روایت میں حضرت ماریہؓ کی موجودگی کا صراحتاً ذکرنہ ہونااورویسےبھی ان کا گھر حجرات نبویؐ سے کچھ فاصلہ پرمضافات مدینہ میں واقع ہونا اس موقع پر ان کی موجودگی کے امکان کوکم کر دیتا ہے۔اس لئے یہ تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں کہ یہ پیشگوئی اس وقت موجود ازواج میں سے حضرت زینبؓ بنت جحش کے حق میں پوری ہوئی اور وہی رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد پہلے فوت ہوکر حضورﷺسے جاملیں۔واللہ اعلم بالصواب
اَللّٰھمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِک وَسَلِّم اِنَّک حَمِیدٌ مَجِیدٌ
(بحوالہ اہل بیت رسولﷺ از حافظ مظفر احمد صاحب)

