اسلامی تعلیماتتعلیممدیرہ کی ڈاکمزاحمعاشرہ

کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھول گیا

تحریر: مدثرہ عباسی

یہ محاورہ تو آپ نے سنا ہو گا۔ آج اسی پہ لکھنے کی جسارت کر رہی ہوں ۔

میں چونکہ اپنی مادری زبان بولنے، سیکھنے اور سکھانے پر ہمیشہ زور دیتی ہوں اور اس کے لئے کوشاں بھی ہوں تومیں کچھ زبان سے متعلق کہنا چاہتی ہوں۔

میرا تعلق امیگریشن سے ہونے کی وجہ سے نئی آنے والی فیمیلیز سے رابطہ میں رہتی ہوں۔

مجھے ایک جاننے والی کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا ان کے بچے اپنی روایات بھول چکے تھے حالانکہ پاکستان سے آئے چند سال ہی ہوئے تھے مگر ہنس کی چال ” یعنی انگلش سیکھے تو تھے مگر جو سیکھے تھے وہ سٹریٹ لینگویج سیکھےتھے ۔ ایک دوسرے سے بات کرتے وقت گالیاں نکال رہے تھے ، جھگڑ بھی رہے تھے چونکہ ان کی والدہ کو انگریزی نہیں آتی تھی ، میرے یہ کہنے پر کہ آپ انہیں سمجھا کیوں نہیں رہیں ان کا جواب مجھے اور پریشان کر گیا، کہنے لگیں، ’’میں تو ان سے کہتی ہوں اردو بولا کریں مگر یہ صرف انگلش بولتے ہیں‘‘ جب انہیں بتایا گیا کہ میں زبان کی بات نہیں کر رہی یہ ایک دوسرے کو گالیاں نکال رہے ہیں

ہماری ترقیات تو وابستہ ہیں ہجرت کے ساتھ اور مغربی ممالک میں adult education اور خاص کر اپنے ملک کی زبان یعنی انگریزی تو قریباً مفت ہے والدین بھی اگر کوشش کریں تو آسانی سے زبان سیکھ سکتے ہیں کم از کم اتنی تو سیکھ لیں کہ بچے اچھے ماحول میں پرورش پائیں یعنی جب بچے آپس میں باتیں کریں تو مائیں اتنا سمجھ سکیں یا یہ اندازہ لگا سکیں کہ گفتگو کس قسم کی ہو رہی ہے۔ کیا وہ آداب کے اندر رہ کر بات کر رہے ہیں یا نہیں۔ یہ تو ایک مثال تھی آپ کے ارد گرد کتنی اور مثالیں ہوں گی جس سے مغرب کی تقلید تو نظر آتی ہے مگر یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ مومن کا خاصہ ہے کہ جو اچھی بات نظر آئے اسے حاصل کرے ۔ اس کلچر میں بہت ہی زیادہ اچھی باتیں ہیں جو ان کے روز مرہ استعمال میں ہیں اور یہ ہماری تعلیم سے متعلق ہیں۔

بچپن سے انہیں جو قطاروں میں کھڑا ہونا سکھایا گیا وہ ہماری طرح کبھی قطار نہیں توڑیں گے اور اس چھوٹی سی مثال میں یہ سبق ہے کہ دوسرے کا حق نہیں چھیننا۔ جو ہم سے آگے کھڑا ہے پہلے اس کا ہی حق ہے اور نہ ہی کوئی دھکم پیل۔ اخلاق میں یہ جیت گئے ہیں ۔ یہ تو احسان خداوندی ہے کہ ہمارے پاس اساتذہ موجود ہیں اور ی تعلیم بھی ہے اگر ہم اس پر عمل کرتے ہوئے اچھے اخلاق کی تقلید کریں تو کوئی مضائقہ نہیں بلکہ فائدہ ہے۔

ایک موقع پر ایک ایسی تصویر جو کہ ایک شراب خانے کے اندر ایک بچی جس کے سامنے خدا جانے کونسا مشروب رکھا تھا اور کچھ نازیبا لباس بھی تھا۔ نظر سے گزری اور دکھانے والے نے کہا کہ اس کا ذکر کسی سے نہیں کرنا مگر چونکہ وہ ایسی بات تھی کہ ہماری ہی نسلیں مغرب کی تقلید میں تباہی کا شکار دیکھ کر دل نے چاہا کہ اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے خواہ وہ کسی کی بھی بیٹی ہے ، نہ کہ اس کی تشہیر اور نہ ہی نظر اندازی بہتر تھی۔ اس لئے اصلاحی قدم اٹھایا اور پچھلے سال شاید 12-13 سال بعد میں نے اس کو دیکھا اور دل تسکین پا گیا کہ اب وہی بچھی کس طرح اپنی اولاد کی اچھی تربیت کے کئے کوشاں ہے اور اس کو یہ علم بھی نہیں کہ میں نے کبھی اس کی تصویر دیکھی تھی۔

میں یہ سمجھتی ہوں کہ کبھی بھی کچھ ایک انسان کی وجہ سے نہیں ہوتا ، آپ دیکھیں بات پورے ملک کی ہے ، اور پورا ملک کسی ایک انسان کے غلط فیصلوں کی وجہ سے تو برباد ہو سکتا ہے ؟ جیسے ایک انسان کی بربادی کے پیچھے صرف اس کا اپنا ہی ہاتھ نہیں ہوتا بلکہ بہت سے لوگ جو اس کے اردگرد ہوتے ہیں ، اس سے وابستہ ہوتے ہیں ، ے ہیں،اس سے وا سب مل کر اسے تباہ و برباد کرتے ہیں ۔ یہاں پھر وہی بات آگئی:

’’کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا‘‘

اسی طرح اگر ہم جائزہ لیتے ہیں تو ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ ہماری قوم اب بھی غلام قوم ہے، ہماری تہذیب و روایات ہماری تاریخ ، ثقافت کو ہم سب نے خود مل کر ختم کیا ہے۔

دراصل ہمارے ساتھ ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اصول پسند لوگ نہیں ہے ، کم از کم ایک ملک میں رہنے والے باشندوں کو اپنی تہذیب و ثقافت اور روایات پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہئے ۔

میں نے کہیں پڑھا تھا ، چین کے وزیر اعظم تھے جن سے ایک کا نفرنس میں سوال کیا گیا کہ آپ انگلش میں کیوں نہیں جواب دیتے !

تو انہوں نے جواب دیا

کیا چین کی اپنی زبان نہیں؟

یہ پڑھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں یہ نہیں کہتی ہوں کہ آپ انگریزی نہ سیکھیں میں خود انگریزی سیکھنے کو ترجیح دیتی ہوں، اچھی چیز انسان کو جہاں سے بھی ملے اسے اپنا لینی چاہئے ۔

زبانیں دیکھی جائیں تو پنجابی کی اپنی ہی ایک اہمیت ہے ، اپنا ایک مقام ہے ، یہ اتنے مزے کی زبان ہے کہ میں اکثر کہا کرتی ہوں کہ آپ اگر اس کا متبادل ڈھونڈیں تو آپ کو کہیں نہیں ملے گا ، آپ دیکھیں کہ اگر ہم انگریزی کو اتنا زیادہ بولیں گے تو پنجابی اور اُردو کا تو نام و نشان مٹ جائے گا نا ! اور ہمیں تو فخر کرنا چاہئے کہ ہمیں اردو اور انگریزی کے علاوہ اور بھی زبانیں آتی ہیں۔

خیر دیکھنے ، غورکریں، اپنی شناخت کو مت بھولیں، اپنا آپ ختم کر کے دوسروں کا رنگ خود پر مت چڑھائیں ، ورنہ ایک روز ایسا آئے گا کہ یہ سب چھوٹی چھوٹی چیزیں ختم ہو کر رہ جائیں گی ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہمارے حق میں اتنی خوبصورت نصیحتیں ہیں جو درج ذیل ہیں۔ اللہ کرے کہ ہم ان پر عمل کرنے والے بنیں۔

بدیوں سے پہلو اپنا بچاتے رہو مدام
تقویٰ کی راہیں طے ہوں بعجلت خدا کرے 


دجال کے بچھائے ہوئے جال توڑد
حاصل ہو تم کو ایسی ذہانت خدا کرے

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *