اسلامی تعلیمات

گلہائے افکار

Spread the love

تحریر امۃ الرشید بدر

مغرب میں ملنے والے حقوق کے بالمقابل

اسلام میں عورت کو ملنے والے حقوق

ابتدائیہ:

آج مغربی معاشرہ حقوقِ نسواں اور آزادیٴ نسواں کے نام پر بلند و بانگ دعوے کر رہا ہے کہ جو حقوق مغربی معاشرے کی طرف سے عورت کو حاصل ہیں وہ اسلام اُسے نہیں دے رہا۔ اُن کا یہ اعتراض بھی ہے کہ اُسے مردوں کے شانہ بشانہ ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے نہیں دیا جاتا اُسے گھر کی چاردیواری میں قیدا ور پردے میں محبوس کردیا جاتا ہے جبکہ معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے۔ اسلام عورت کی نزاکت طبع اور بسبب اُس کی جبلّی طاقتوں کی کمزوری کے اور بسبب اُس کے نازک اور لطیف جذبات و احساسات کے اُس پر وہ ذمہ داریاں ڈالنا نہیں چاہتا جن کی وہ متحمل نہ ہو سکے۔مغربی معاشرہ اُس پر گھر گرہستی کا بوجھ بھی ڈالتا ہے اور کمانے اوراپنے لئے نان و نفقہ کا انتظام کرنے کی ذمہ داری بھی ڈالتا ہے۔ اسلام عورت کو تخت پر بٹھانا چاہتا ہے۔ جس قدر عزت و تکریم اسلام نے عورت کو دی ہے اُسکا شائبہ تک بھی دوسرے مذاہب میں نہیں ملتا۔ جو تحفظ اور جو محبت اسلامی معاشرہ اُسے دینا چاہتا ہے اُس کی مثال تاریخِ عالم اور مذاہب عالم میں نہیں ملتی۔اُس کی پیدائش کو رحمت سمجھا جاتا ہے باپ اور بھائیوں کے زیر سایہ اُس کا بچپن گزرتا ہے،والدہ کی محبت اُسے پروان چڑھاتی ہے، نازو نعم اور پیار محبت میں پلنے والی اس بچی کے نان و نفقہ اور تعلیم و تربیت کی تمام ذمہ داری والدین کی ہوتی ہے۔ باپ کے گھر سے رخصت ہو کر شوہر کی ناز برداری میں آجاتی ہے اور وہ اس کے تمام اخراجات اور ضروریات کا متکفّل ہوجاتا ہے وہ شوہر کی مشیر اور اُسکے گھر کی منتظمہ اور وزیر کے عہدے پر فائز ہوتی ہے۔ بچوں کی نگہدار اس تحفظ کے سائے میں عمر بسر کرتی ہے بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی بیٹوں کی نگہداشت میں آجاتی ہے اور اُس کے قدموں کے تلے جنّت تصور کی جاتی ہے۔ صنفِ نازک کو مغربی معاشرے میں جذبات و احساسات سے عاری بچے پیدا کرنے والی مشین مرد کی جنسی تسکین کو پورا کرنےو الی اور بے جان چیزوں کی طرح کی چیز سمجھا جاتا ہے۔ آزادیٴ نسواں اور حقوقِ نسواں کے نام پر اُسکی عزت و ناموس کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں۔ اُسے کلبوں اور دوسری ناپاک مجالس کی زینت اور عیش و عشرت کی چیز مردوں کے لئے سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت بیٹی، بہن، بیوی، ماں کے اُس کا کوئی مقام نہیں کوئی وقعت، عزت اور توقیر نہیں۔ معصوم بیٹی ذرا سنِ شعور کو پہنچتی ہے یابہن بلوغت کی عمر کو پہنچتی ہے بوائے فرینڈز، گرل فرینڈز بنانے کی تربیت دی جاتی ہے اور یوں بچی درندوں کے حوالے کردی جاتی ہے۔ اُسے کلبوں کی زینت بنا کر ناچ گانوں اور شراب نوشی کی مجالسِ ناپاک میں مردوں کی عیش و عشرت اور درندگی کا نشانہ بنا کر اُس کی عزت و عصمت کو تار تار کردیا جاتا ہے اتنے بھیانک اطوار ہیں اس معاشرے کے کہ شادی سے پہلے ناجائز بچے پیدا کرتی ہے اور مجرم مرد اِن لُٹی ہوئی بے یارومددگار خواتین کو تنہا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور وہ ان بے نام اور لاوارث بچوں کی نگہداشت تنہا کرتی ہیں اور تنہا ایسی اولاد کا بوجھ اُٹھائے پھرتی ہے۔ عورت کے لئے مغربی معاشرہ انسانیت سے دور حیوانیت اور جنگل کا قانون پیش کرتا ہے۔ بحیثیت بیوی کے بھی اُسکے کوئی حقوق نہیں،فرائض ہی فرائض ہیں گھر کی دیکھ بھال، صفائی ستھرائی، بچوں کو سکول چھوڑنا، علالت میں ہسپتالوں کی ڈیوٹیاں دینا الغرض ایک تھکا دینے والا سفر ہے جو وہ صبح سے شام تک کرتی ہے۔ والدہ جس نے اولاد کو پروان چڑھانے میں بے حد دکھ اُٹھائے ہوتے ہیں بالغ ہونے پر یعنی اٹھارہ سال کی عمر میں بچوں کو ماں باپ سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ تمام اولاد آہستہ آہستہ الگ گھروں میں سکونت اختیار کرلیتی ہے۔ ماں کا یا باپ کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہوتا۔ اس عمر میں یعنی بڑھاپے کی عمر میں اُسے تنہائی کا عذاب سہنا پڑتا ہے۔ بڑھاپے میں بچوں کی صورت دیکھنے کو ترستی ہے دل بہلاوے کے لئے باغبانی یا پالتو جانوروں یعنی کتے بلیوں کا سہارا لیتی ہے۔ سال میں ایک پیرنٹس ڈے کے موقع پر بچے سلام کرنے آجائیں یافون کرلیں اسی پر خوشی سے پھولی نہیں سماتی۔ گھریلو خاندانی نظام سے محروم مغربی معاشرے میں عورت کا بڑھاپا بہت خوفناک ہوتا ہے۔ جب تک قویٰ ساتھ دیتے ہیں زندگی کی جنگ لڑتی ہے اس کے بعد اولڈ ہاؤسز میں پھینک دی جاتی ہے یا اگر ماں یا باپ گھر میں بیمار ہوئے کوئی ہسپتال لے جانے والا نہیں تھا گھر میں ہی فوت ہوگئے۔ کئی دن بعد پولیس یا ہمسائیوں کے علم میں بات آئی۔ تو یہ المیہ ہے مغربی معاشرے کا باوجود بے پناہ مادی آسائشوں کے یہ معاشرہ امن و سکون سے محروم اور گھریلو زندگی کے حسن سے ناآشنا ہے باوجود دنیاوی ترقی کی انتہائی بلندیوں کو چھو لینے والا معاشرہ عورت کو عزت و تکریم تحفظ اور اماں دینے سے قاصر ہے۔ مغربی معاشرے میں عورت کا ظاہر بہت چمک دمک والا ہے مگر اُس کا باطن زخم خوردہ ہے اُس کا سینہ۔ معاشرے کی بے رحمیوں سے فگار ہے۔

اسلام کے عورت کو دئیے گئے حقوق:

اسلام ہر شعبہٴ زندگی میں عورت کو اُس کے حقوق فراخدلی سے عطا کرتا ہے جس کی نظیر مذاہب عالم میں نہیں ملتی۔ اُن میں سے چند حقوق کا ذکر میں ذیل میں کروں گی۔روحانی حقوق۔معاشی حقوق۔معاشرتی حقوق۔ تعلیمی حقوق۔ قانونی حقوق۔ سیاسی حقوق

1۔       روحانی حقوق:

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔

ترجمہ: یعنی مردوں میں سے یا عورتوں میں سے جو نیک عمل کرے اور وہ مومن ہو تو یہی لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہونگے اُن پر کھجور کی گٹھلی کے سوراخ جتنا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔(سورۃ النِساء آیت 125)

اس آیت میں روحانی انعامات کی عطا میں مرد اور عورت میں کوئی تفریق نہیں رکھی گئی فرمایا دونوں میں سے جو بھی نیک عمل کر ے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اوائل اسلام سے لے کر آج تک روحانیت کے بڑے بڑے مدارج طے کرنے والی عورتیں گزری ہیں جن کو اسی دنیا میں وحی کے ذریعے جنت اور رضائے الہٰی کی خوشخبریاں عطا کی گئیں مثلاً آنحضرت ﷺکی زوجۂ مطہرہ حضرت خدیجہ نے اپنا سب کچھ اللہ اور اُس کے رسولؐ کی خاطر قربان کردیا اور اسلام کی خاطر جان سوز قربانیاں کیں مثلاً غارِ حرا میں آپؓ میلوں پیدل چل کر آنحضور کے لئے اشیائے خورونوش اور دوسری اشیاء لے کر جاتیں۔ تو راستے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام فضا میں معلق آپؓ کو نظر آتے جو آپؓ کو سلام پیش کرتے اور جنت میں موتیوں سے بنے ہوئے محل کی خوشخبری دیتے۔ حضرت عائشہ کے متعلق تاریخ اور احادیث کی کتابوں میں آتا ہے کہ آنحضور کے پاس آپؓ کی موجودگی میں جبرائیل علیہ السلام تشریف لاتے اور آپکو سلام پیش کرتے۔ حضرت فاطمہ ہوبہو نبی پاک کی عکسی تصویر تھیں۔ روحانیت میں بلند مقام پر فائز جنت کی عورتوں کی سردار پھر دوسری ازواج مطہرات جن کی زندگی کا مقصد ہی قیامِ عبادات اور قیامِ حسنات تھا۔رابعہ بصریؒ جو کہ اسلام میں بزرگ صوفیہ کی حیثیت سے معروف ہیں۔اُنہوں نے بلند روحانی مراتب حاصل کئے آپ کی تحریرات آج بھی یورپ میں پڑھائی جاتی ہیں۔ حضرت امام آخرالزماں کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ خواتین میدانِ روحانیت میں کس بلند مقام پر پہنچیں۔ مثلاً اُمُّ المومنین حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ آپ حضرت مسیح آخر الزماں کی زوجہ مطہرہ تھیں۔ آپ کے متعلق بے شمار دفعہ وحی الہٰی آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعودؑ کو فرماتا ہے کہ

اِنِّی مَعَکَ وَمَعَ اَھْلِکَ

خدا تیرے اور تیرے اہل کے ساتھ ہے

(تذکرہ صفحہ 431)

پھر حضرت مرزا مبارک کی وفات کے موقع پرآپؑ کے صبر کرنے پر اللہ تعالیٰ خوشنودی کا اظہار یوں فرماتا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ

”خدا خوش ہوگیا“

(سیرت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ، صفحہ 269)

پھر دوسری خواتین مبارکہ جنہوں نے خدا تعالیٰ کے قرب میں ترقی کی۔ عام خواتین میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی والدہ کا ذکر آتا ہے کہ آپ قیامِ توحید کے لئے اور اللہ کی رضا کی خاطر اپنے گھر کی اولاد کی پرواہ تک نہ کی الغرض اسلام عورت کو روحانی مدارج کے حصول کے لئے مرد کے برابر درجات عطا فرماتاہے سوائے نبوت کے وہ تمام ارفع مقامات تک رسائی حاصل کرسکتی ہے اور بھی بے شمار خواتین اسلام میں گزری ہیں جنہوں نے قربِ الہٰی کا بلند مقام حاصل کیا۔

2۔       معاشی حقوق:

معاشی حقوق کی ادائیگی میں اسلام عورت کے ساتھ بہت رحمت و راٴفت کا سلوک کرتا ہے اُسکی تمام ضروریات نان و نفقہ قیام و طعام کا ذمہ دار مرد کو ٹھہراتا ہے۔ وہ باپ، بھائی، شوہر یا بیٹے کی صورت میں عورت کے تحفظ کے لئے قوام مقرر فرماتا ہے اُسے کمانے سے بری الذمہ کرتا ہے۔ ہاں اپنی مرضی سے اگر وہ کمانا چاہے یا پردے کے اندر رہتے ہوئے اگر کوئی کام کرنا چاہتی ہے تو بھی مرد کو اس کی مدد اور حفاظت کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے اور اُس کو پورا اختیار ہے کہ اپنی کمائی میں سے ایک پائی بھی گھر پر خرچ نہ کرے یا شوہر کو نہ دے خواہ مرد غریب اور عورت امیر ہو تب بھی مرد کو اُس کی کمائی پر کوئی حق نہیں سوائے اس کے کہ وہ خود گھر پر یا بچوں پر اپنی مرضی سے خرچ کرے کوئی اس پر زور زبردستی نہیں کرسکتا عورت تجارت کرسکتی ہے، جائیداد خرید سکتی ہے، بیچ سکتی ہے، جاب کرسکتی ہے پردے کے اندر رہتے ہوئے دینِ حق نے معاشی لحاظ سے اُسے استحکام عطا کر نے کی خاطر نکاح کے وقت عورت کے لئے مہر مقرر فرمایا۔ مالدار سے اُس کی حیثیت کے مطابق اور نادار سے اُسکی استطاعت کے مطابق اور پھر یہ نہیں کہ مہر فقط مقرر کردیا بلکہ مردوں کو اُسے ادا کرنے کی نصیحت بھی فرمائی۔چنانچہ فرمایا

ترجمہ:اور عورتوں کو اُن کے مہر خوش دلی سے ادا کرو پھر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے تمہیں کچھ دینے پر راضی ہوں تو اسے بلا تردد شوق سے کھاؤ۔

(سورۃ النساء آیت5)

اسلام نے عورت کو بے مثال عزت اور تحفظ عطا فرمایا شوہر کے مرجانے کی صورت میں یا طلاق کی صورت میں عدت کے احکام جاری فرمائے اُسے ایک سال تک گھر سے نہ نکالنے کی نصیحت فرمائی اگر عورت حاملہ ہے تو حمل کے دوران اور وضع حمل سے لے کر دوسال تک بچے کو دودھ پلانے پر عورت کے تمام اخراجات نان و نفقہ اور لباس پوشاک کی تمام ذمہ داری مرد پر ڈالی۔ عورتوں کو ایک سال تک گھر سے نہ نکالنے کی وصیت فرمائی سوائے اس کے کہ وہ خود چلی جائیں یااپنے متعلق وہ خود کوئی فیصلہ کریں۔

3۔       معاشرتی حقوق:

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے

ترجمہ:اور جب زندہ درگو ر کی جانے والی لڑکی کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ آخر اُسے کس گناہ کی پاداش میں قتل کیا گیا۔

(سورۃ التکویر آیت 9-10)

زمانہ جاہلیت میں لڑکی کی پیدائش کو منحوس اور باعث ذلت سمجھا جاتا تھا عرب کے بعض گھرانے بچی کی پیدائش پر ذلّت و رسوائی سے بچنے کے لئے اُسے زندہ دفن کردیتے تھے۔

ایک صحابی جو زمانہ جاہلیت میں اس قبیح فعل کے مرتکب ہوئے تھے بیان کرتے ہیں میں نے آنحضور ﷺ کے سامنے اپنی زندہ دفن کی گئی بچی کی داستان سنائی جو کہ بوقتِ دفن ابا ابا کہتے ہوئے مجھے پکارتی رہی لیکن میں اُس پر مٹی ڈالتا گیا یہاں تک کہ اُسکی آواز مٹی میں گم ہوگئی۔ آنحضورؐ رحمتِ عالم محسنِ انسانیت محسن نسواں یہ داستانِ الم سنتے جاتے تھے اور آپؐ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ آپؐ نے اپنے عمل سے ثابت فرمایا کہ بیٹیوں سے کس طرح حسنِ سلوک کیا جاتا ہے آپؐ اپنی تمام بچیوں سے اور خصوصاً حضرت فاطمہ سے بہت محبت فرماتے۔ آپؐ نے فرمایا فاطمہؓ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جو اسے دکھ دے گا وہ مجھے دکھ دے گا۔ ایک مرتبہ ایک لڑکی نے آپکے پاس آکر شکایت کی کہ میرے باپ نے میری پسند کی بغیر شادی کردی ہے آپؐ نے فوراً اُسکا نکاح منسوخ کردیا۔

(صحیح البخاری کتاب اصحاب النبیؐ باب منائب، مرایۃ رسول اللہؐ حدیث 3714)

آنحضورؐکو عورتوں کے نازک جذبات و احساسات کا اس قدر خیال تھا کہ آپؐ ازواج مطہرات کی معمولی معمولی تکالیف پر بے چین ہو جاتے۔ آپؐ امھات المومنین کے گھر کے کام کاج میں مدد فرماتے آٹا گوندھ دیتے، بکریوں کادودھ دوہتے، اپنے کپڑے خود درست کرلیتے یعنی اُن میں پیوند لگا لیتے، اپنی ازواج پر گھر کے کام کاج کا اتنا بوجھ نہ ڈالتے۔ ایک مرتبہ دورانِ سفر امہات المومنینؓ اونٹوں پر سوار تھیں ھدی خوان اونٹوں کو تیز چلا رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ آہستہ چلو آبگینے سوار ہیں۔ آپؐ خواتین کی نزاکتِ طبع کو آبگینوں سے تشبیہہ دیتے ہیں ایک حدیث میں آپؐ کا ارشاد ہے کہ اگر کسی مرد کو اپنی بیوی پسند نہ بھی ہو تب بھی اُس سے حسن سلوک کرے۔

اس حقیقت کو قرآن کریم ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔

ترجمہ:اور ان سے نیک سلوک کرو اور اگر تم انہیں ناپسند کرو تو عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے گا۔

(سورۃ النساء آیت 20)

اور اگر تم ایک بیوی کو دوسری بیوی کی جگہ تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہو اگر تم ان میں ایک کو ایک ڈھیر مال کا بھی دے چکے ہوتو بھی اُس سے واپس نہ لو کیا تم اسے بہتان تراشی کرتے ہوئے واپس لوگے اور کھلے کھلے گناہ کا ارتکا ب کرتے ہوئے

(سورۃ النساء آیت 21)

4۔       تعلیمی حقوق:

اللہ تعالیٰ نے ہر مرد اور عورت پر علم حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے علم حاصل کرنے کے معاملے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی تفریق نہیں رکھی۔

آنحضور ﷺکی ایک حدیث پاک ہے:

علم حاصل کرو خواہ اس کے لئے تمہیں چین جانا پڑے۔

زمانہ جاہلیت میں عورت کے علم حاصل کرنے پر پابندی تھی اسلام نے عورت کے لئے علم حاصل کرنے کو نہ صرف ضروری قرار دیا بلکہ فرض کیا اسلئے کہ آئندہ آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اُس کو سونپی جانی تھی۔ عورت جو ناانصافی اور جہالت ظلم و بربریت کے اندھیروں میں بھٹک رہی تھی آفتابِ اسلام کی نورانی کرنیں اُس کے قلب و ذہن کو بھی جلا بخشنے لگیں دینی اور دنیاوی علوم اُ سکے قلب و ذہن کو بقعہٴ نور بنانے لگے۔

اوائل اسلام میں سب سے پہلے حضرت عائشہ نے علمی میدان میں وہ کارہائے نمایاں سرانجام دئیے جن کی نظیر نہیں ملتی۔ آنحضور ؐ آپؓ کی ذہانت، فہم و فراست، قرآنی علوم پر دسترس اور دوسرے مثلاً حساب،تاریخ، ادب، فقہ، عربی زبان پر عبور کے سبب آپؓ کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ آپؓ کی علمی قابلیت اور پاک خصائل کے سبب آپؓ کی بہت قدر فرماتے اور آپؓ کو اسی سبب حضرت عائشہ سے سب سے بڑھ کر محبت تھی۔ آپؐ نے فرمایا

”آدھا دین عائشہ سے سیکھو“۔

بڑےبڑے کبارصحابہ آپؓ کے شاگرد تھے۔ بڑے بڑے اُلجھے ہوئے مسائل کو آپؓ چند لمحوں میں حل فرمادیتیں۔ اختلافی مسائل کو بڑی خوش اسلوبی سے حل فرماتیں اور بھی بہت بڑی بڑی عالم خواتین اسلام میں گزری ہیں مثلاً حضرت خنسا بہت بڑی شاعرہ تھیں جن کا کلام عربی ادب کا بہت بڑا سرمایہ ہے۔ حضرت رابعہ بصریؒ کے صوفیانہ اقوال آج بھی زبان زد عام ہیں۔ اس دور میں حضرت مسیح آخر الزماں اور آپؑ کے خلفاء نے خواتین کی تعلیم و تربیت کا زبردست انتظام فرمایا۔آج خواتین اسلام کا علمی شعور بہت بلند ہے۔ خلافت کے سائے تلے تمام عالم میں علوم معارف کی اشاعت میں پیش پیش ہیں۔

5۔       قانونی حقوق:

قانونی طور پر عورت وراثت میں حصہ دار ہے وہ چیزوں کو خرید سکتی ہے، بیچ سکتی ہے۔ کسی پراپرٹی اور جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کی مالک ہوسکتی ہے قانونی طور پر اُسے اپنے متعلق اپنے گھر کے فیصلے کرنے کا اختیار ہے۔ پھر یہ قانون کہ اگر مرد ڈھیر مال کا دے تو بھی واپس نہیں لے سکتا۔ اسلام میں عورت کے لئے سزا کو وہی قانون ہے جو مرد کے لئے ہے۔

6۔       سیاسی حقوق:

عورت کو سیاسی معاملات میں حصہ لینے کا حق بھی اسلام دیتا ہے وہ ووٹنگ میں حصہ لے سکتی ہے ووٹ ڈال سکتی ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی ملاقات دورہ مغرب کے دوران مغربی مفکرین سے ہوئی انہوں نے اسلام میں عورت کے مقام پر لایعنی اعتراضات کئے کہ اسلام عورت کو وہ حقوق نہیں دیتا جو مغربی اقوام نے دئیے ہیں۔ اس پر آپؒ نے فرمایا مسلم ممالک میں غلط فہمی یا تعصب کی وجہ سے سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام نے عورت کو بالکل نظر اندازکردیا ہے۔ اُس نے عورت کے حقوق قائم ہی نہیں کئے اس لئے اسلام مردوں کا مذہب ہے یہ عورتوں کا مذہب ہے ہی نہیں۔ حالانکہ اس کا حقیقت سے دور کا واسطہ بھی نہیں اسلام نے نہ صرف یہ کہ عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق دئیے ہیں بلکہ بعض احتیاطیں وضع کر کے ان کے حقوق کے تحفظ کی پوری پوری ضمانت دی ہے۔ حضورؒ نے فرمایا ان قوموں میں بعض گندے اخلاق اور دوسری بگڑی ہوئی عادتوں نے کچھ ایسا گھر کرلیا ہے کہ اگراُن کو سمجھایا جائے کہ جن باتوں پر تم اعتراض کررہے ہو ان کا مقصد عورتوں پر نا واجب پابندیاں لگانا نہیں بلکہ ان کی عزت و احترام اور حقوق کی حفاظت کرنا ہے تو اسے درخواعتناٴ نہیں سمجھتے اور ایک ہی رٹ لگاتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو مرد کے برابر درجہ نہیں دیا حالانکہ کسی قوم کی عورتوں کو اخلاقاً یا عقلاً اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ ان کی لڑکیاں شادی سے پہلے ہی بچے جننے لگیں کیا یہ حقیقت نہیں کہ آزادی کے سراسر غلط تصوّر نے ان قوموں کے افراد کو مادر پدر آزاد بنا چھوڑا ہے۔ آزادی کے اس غلط تصّور کا ہی نتیجہ ہے کہ امریکہ میں ہی ہر سال لاکھوں ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جنہیں اُنکی مائیں شادی سے پہلے جنتی ہیں اب اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اسلام اس کی اجازت نہ دے کر عورتوں پر سختی کرتا ہے تو یہ اعتراض عقلاً، مذہباً، اخلاقاً سراسر ناواجب ہے۔ اسلام عورتوں کو ان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دے کرا ن کو بھی مردوں کی طرح زمین سے اُٹھا کر آسمان کی رفعتوں میں لے جانا چاہتا ہے جو چیز عورتوں کی ترقی میں روک ہے اسلام اسے تسلیم نہیں کرتا نہ اس کی اجازت دیتا ہے۔

(دورہٴ مغرب صفحہ 78-79)

ہم قبل از اسلام عورت پر ٹوٹنے والی مصیبتوں اور دکھوں اور طوفانوں کا تصّور بھی نہیں کرسکتے۔ قبل از اسلام بلادِ عرب روم ایران یونان کے فلسفےمیں عورت کو شیطان کی بیٹی کا لقب دیا جاتا، اُسے مصائب کی جڑھ کہا جاتا، اُس کے لئے نکاح شادی طلاق کا کوئی قانون نہ تھا۔ راہ چلتی عورت پر کپڑا ڈال کر جس کا جی چاہتا اُسے بیوی بنا لیتا۔ مرد جتنی چاہتا شادیاں کرتا۔ اُ سکے مرنے پر بیٹے جائیداد کی طرح اُس کی بیویوں کو تقسیم کر کے اُن سے شادی کرلیتے۔ عورت کو ادنیٰ درجہ کی مخلوق اور مصائب کی جڑھ تصّور کیا جاتا۔ بائیبل کہتی ہے عورت کو حمل کی سزا دی گئی ہے یعنی وہ جو تکلیف کے ساتھ بچے جنتی ہے یہ اُس کی سزا ہے جبکہ اسلام پیدائش کی وجہ سے عورت کو بے حد عزت و تکریم سے نوازتا ہے اور فرماتا ہے

اے انسان! تیر ی ماں نے تجھے تکلیف کی حالت میں جنا اور تیرے دودھ پلانے کی مدت دوسال میں پوری کی۔

(سورۃ لقمان :15)

پھر حضرت مریمؑ کے ذکر میں آتا ہے کہ دردزہ اُسے کھجور کے تنے کی طرف لے گئی اور اُسے یقین ہوگیا کہ اُس کے بچہ پیدا ہونے والا ہے تو اُس نے دنیا کی انگشت نمائی کا خیال کیا اور کہا اے کاش میں اس سے پہلے مر جاتی اور میری یاد مٹا دی جاتی۔ اُس وقت فرشتے نے ندادی اور کہا کہ اے عورت غم نہ کر اور اللہ نے تیری نچلی جانب چشمہ بہایا ہوا ہے اُس سے اپنی اور بچہ کی صفائی کرو اور کھجور کی شاخ کو ہلا وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں پھینکے گی یعنی پیدائش کے وقت حضرت مریمؑ پر فرشتوں کا نزول ہوا ور ماں کو اتنی عزت دی کہ اُ سکے قدموں تلے جنت رکھ دی۔

(سورۃ مریم:23تا27)

پھر ہندوستان بھی عورت پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے میں کسی سے کم نہیں رہایہاں ستی کی رسم ہر روز عورت پر قیامتیں ڈھاتی رہی ہے۔ شوہر کی وفات اور اُس کے جلانے کے ساتھ ہی اُس کے لئے چتا تیار کی جاتی۔ اُس زندہ پر لکڑیوں کا ڈھیر چن دیا جاتا اور اُسے زندہ جلادیا جاتا یعنی اُسے شوہر کے بعد جینے کا کوئی اختیار نہ تھا اُ س کی زندگی اور موت برابر تھی اور سب مرد کے لئے تھی۔ آج بھی مغربی تہذیب کا حقوق نسواں کا نعرہ اُسے ذلیل و رسوا کرتا ہے۔ اُسے اونچا مقام دینے کی بجائے اُسے ذلتّوں پستیوں اور قعرِمذلت میں دھکیل دیتا ہے۔ ہم قبل از اسلام عورت کی حالتِ زار پر غور کرتے ہیں اُ س کی محرومیوں اور مصیبتوں کے بارے میں سوچتے ہیں اُسکے موت سے بدتر جینے پر غور کرتے ہیں تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتےہیں اور دل خوف سے بھر جاتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر اسلام اور اس کے قوانین اس مظلوم و مقہور بندی کے پرسان حال نہ بنتے، اگر رحمت عالمؐ اس کی داد رسی نہ فرماتے، ا گر اللہ تعالیٰ اس کی فریاد رسی نہ فرماتا، تواس بے وقعت بندی کا کیا حال ہوتا۔ آپؐ نے اس مفلوک الحال طبقہ نسواں کو ابھارا اُس میں زندہ رہنے کی امنگیں پیدا فرمائیں۔ بحیثیت بیٹی،بہن، بیوی، ماں عورت کے ہر رشتے میں ناز برداری فرمائی آپؐ فرماتے ہیں۔

اے لوگو مجھے تمہاری دنیا کی تین چیزیں پسند ہیں عورت،خوشبو اور نماز مگر میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔

آپؐ فرماتے ہیں

اگر اللہ تعالیٰ کسی کو”لڑکیاں“دے اور اُن کی اچھی تعلیم وتربیت کرے تو وہ جنت میں جائے گا۔

جب ہم عورت پر آپکے احسانات کا مطالعہ کرتے ہیں تو دل اللہ تعالیٰ کی حمد اور نبی کریم ؐ کے لئے درود سے بھر جاتا ہے۔ اللّٰھُمَ صَلِّی عَلیٰ مُحَمّدٍ وَعَلیٰ آلِ مُحَمّدٍ

رکھ پیش نظر وہ وقت بہن جب زندہ گاڑی جاتی تھی

گھر کی دیواریں روتی تھیں جب دنیا میں تو آتی تھی

وہ رحمتِ عالم آتا ہے تیرا حامی ہوجاتا ہے

تو بھی انسان کہلاتی ہے سب حق تیرے دلواتا ہے

بھیج درود اُس محسن پر تو دن میں سو سو بار

پاک محمد مصطفیٰؐ سب نبیوں کا سردار

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *