اصحاب الاخدود خلاصہ البروج
یہ سورت مکی ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی تئیس آیات ہیں۔
اس سورت کا گزشتہ سورت سے تعلق یہ ہے کہ اُس میں ازسرِنو اسلام کے چاند کے طلوع ہونے کا ذکر تھا۔ یہ واقعہ کب رونما ہوگا اور اس کا مقصد کیا ہوگا؟ یاد رہے کہ آسمان کے بارہ برج ہیں تو گویا بارہ سوسال کے بعد اس پیشگوئی کے ظہور کا وقت آئے گا اور جس طرح چاند سورج کی گواہی دیتا ہے اسی طرح ایک آنے والا شاہد اپنے عظیم مشہود یعنی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی دے گا۔ اور اس گواہی میں اس کے سچے متبعین بھی شامل ہوں گے۔ ان کا اس کے سوا کوئی جرم نہیں ہوگا کہ وہ آنے والے پر ایمان لے آئے لیکن اس کے باوجود اُن کو انتہائی ظالمانہ سزائیں دی جائیں گی یہاں تک کہ آگ میں جلایا جائے گا اور دیکھنے والے آرام سے اس کا تماشہ دیکھیں گے۔ یہ تمام واقعات مِن و عَن پاکستان میں مخلص احمدیوں کے خلاف مسلسل ہورہے ہیں۔ اس سورت کے آخر پر اس بات کی بشدت تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ پہلی قوموں نے بھی جب اس قسم کے مظالم کئے تھے تو ان کے مظالم نے انہیں گھیر لیا تھا۔ پس اُس قرآن کی قَسم ہے جو لوحِ محفوظ میں ہے کہ تم بھی اپنے جرموں کی سزا پاؤ گے۔
(قرآن کریم اُردو ترجمہ حضرت مرزا طاہر احمد رحمہ اللہ صفحہ 1149)
لغت میں ’’اخدود‘‘ زمین کی لمبی کھائی کو کہتے ہیں۔ جس طرح زلزلے کے نتیجے میں بن جاتی ہے۔ اصحاب اخدود کا ذکر قرآن مجید میں صرف سوۂ بروج میں آیا ہے۔
مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ کچھ مؤمنین نے اپنے عقیدے سے مرتد ہونے سے انکار کردیا اور موت کو ترجیح دی خواہ انہیں قتل کردیا جائے یا جلا دیا جائے۔ ان کے ظالم بادشاہ نے ایک کھائی کھدوائی‘ اس میں زبردست آگ جلائی اور ان سب کو کوئلہ کردیا۔
بعض مفسرین اور مؤرخین کے مطابق یہ بادشاہ ’’حِمْیری‘‘ بادشاہوں میں سے تھا۔ اس کا نام ’’یوسف ذونواس‘‘ تھا۔ 524ء میں فوت ہوا۔ یہ متعصب یہودی تھا۔ اس نے نجران کے عیسائیوں پر سخت ظلم کیے۔ انہیں اپنا دین چھوڑنے پر مجبور کیا ورنہ انہیں آگ میں جلانے کی دھمکی دی۔ جب انہوں نے اپنا دین چھوڑنے سے انکار کیا تو اس ظالم نے انہیں 523ء میں حقیقتاً جلا دیا۔
صحیح مسلم کی حدیث ہے: ’’جب بادشاہ نے کھائی کھودنے کا حکم دیا اور اس میں ہر طرف آگ جلادی تو اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ ہر صاحب ایمان مرد و عورت کو باہر لائیں اور انہیں آگ پر کھڑا کرکے پیشکش کریں’ اگر وہ دین چھوڑدیں تو اچھی بات ہے ورنہ انہیں آگ میں پھینک دیں۔ ایک عورت اپنے بچے کو گود میں اٹھائے لائی۔ وہ آگ میں چھلانگ لگانے سے ذرا ہچکچائی تو بچہ بول اٹھا: ’’ماں! مضبوط رہ! بلاشبہ تو حق پر ہے۔‘‘ (صحیح مسلم‘ الزھد‘ حدیث: 3005)
اضافی توضیحات و تشریحات
اخدود… ’’خد‘‘ کے معنی گڑھے‘ کھائی اور خندق کے ہیں اور اس کی جمع ’’اخدود‘‘ ہے۔ چونکہ زیرِبحث واقعے میں کافر بادشاہ اور اس کے امراء و اعیان سلطنت نے خندقیں اور گڑھے کھدوا کر اور ان کے اندر آگ دہکا کر عیسائی مومنوں کو ان میں ڈال کر زندہ جلا دیا تھا۔ اس نسبت سے ان کافروں کو ’’اصحاب اخدود‘‘ کہا جاتا ہے۔
حاکم یمن ذونو اس یہودیت کا پرجوش مبلغ تھا ادھر رومی سوداگر یمن کے سواحل تک پہنچتے تھے لیکن جہاں جہاں گزرتے تھے اسباب سوداگری کے ساتھ عیسائیت کی سوغات بھی ساتھ ساتھ بانٹتے جاتے تھے۔ عیسائی راہب بھی مخصوص مقاصد کے ساتھ ملک میں دورہ کرتے تھے۔ پہلے اثر نے عدن اور دوسری کوشش نے نجران میں جہاں پہلے شجر پرستی ہوتی تھی عیسائیت کے برگ و بار پیداکیے۔ ان تدابیر سے نجران عیسائیت کا مرکز قرار پاگیا تھا۔ حمیری یہودی عیسائیت کی ترقی دیکھ کر بپھرتے تھے۔
نجران میں ایک راہب کا مقام تھا‘ ایک لڑکا اس راہ سے اکثر گزرتا تھا۔ راہب اس کو راستہ میں ٹھہرا کر مذہبی تعلیم کا روز کوئی نہ کوئی سبق دیا کرتا تھا۔ جب عام لوگوں کو معلوم ہوا تو طبعاً برافروختہ ہوئے۔ آخر ذونواس اور اس کے حواریوں نے خندقیں کھود کر انہیں آگ سے بھردیا‘ پھر لوگوں سے پوچھنا شروع کردیا۔ جس نے عیسائیت پر اصرار کیا اسے آگ میں پھینک دیاگیا۔ یہ واقعہ 523ء میں پیش آیا تھا۔
قرآن میں مذکور نہیں کہ اس نے تمام لوگوں کو جلادیا اور شہر کو بےنشان کردیا‘ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں نجران میں عیسائی آبادی موجود تھی‘ وہاں دعاة اسلام بھیجے گئے۔ نجران سے دو راہب رسول اللہﷺ سے مناظرہ کے لئے بھی آئے تھے۔
نجران: سعودی عرب کا یہ شہر وادی نجران میں حدود یمن کی طرف واقع ہے۔ اس کی آبادی 70ہزار کے لگ بھگ ہے۔ شہر نجران‘ صنعاء سے تقریباً 250 کلومیٹر شمال میں ہے۔ سن 9ھ میں نجران کے 60 عیسائیوں کا ایک وفد نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضرہوا تھا۔ اس موقع پر سورۂ آل عمران کی آیت مباہلہ نمبر 61 نازل ہوئی تھی مگر وہ نجرانی عیسائی مباہلے سے کنی کترا گئے تھے جس سے ثابت ہوگیا کہ نجرانی عیسائی جن عقائد کے پیروکار تھے ان کی صداقت پر انہیں خود کامل اعتماد نہیں تھا۔
(اطلس القرآن تالیف: دکتور شوقی ابو خلیل داراالسلام صفحہ 260 تا 263)


