اسلامی تعلیماتشخصیاتمتفرق

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روزے سے محبت

تحریر: امۃالباری ناصر۔ امریکہ

مصطفیؐ پر تیرا بے حد ہو سلام اور رحمت

اس سے  یہ نور کیا بار  خدایا ہم نے

روزہ اطاعت ِ الٰہی کی ایک مشق ہے۔اپنی  ضروریات ‘ خواہشات ‘  توجہات کو رضائے الہی کے ماتحت کرنے کے لئے نفس کا مجاہدہ ہے  ۔ قربانی کا حوصلہ ہے۔ گناہوں کا کفارہ ہے۔ اور آئندہ گناہوں سے بچنے کے لئے ڈھال ہے۔نفس کی پاکیزگی کے لئے ہمہ وقت تسبیح ‘ تحمید ‘ ذکر الٰہی‘ نوافل ‘ نما ز ‘ تہجد‘  تلاوتِ قرآن کی ترغیب  ہے۔  انفاق فی سبیل اللہ ‘صدقہ وخیرات  کا  تعامل ہے  ۔  شر سے حفاظت  اور خیر کے حصول کی ضمانت ہے۔ اور کھانے میں اعتدال اور کمی سے روحانیت  اور ملائک جیسی خصوصیات کا تعارف ہے۔ کما حقہ روزے رکھنا  بفضل الہی اللہ تبارک تعالی کے قرب کا حصول ہے ۔

سید المرسلین ﷺ روحانیت کی ہر راہ کے رہبرِ کامل ہیں۔ آپؐ پر تزکیہ نفس کے لئے جو بھی احکام الٰہی نازل ہوتے  پہلے آپؐ خود ا س پر تمام تر باریکیوں کے ساتھ عمل فر ماتے  ۔ آپ ؐ کا اسوہء حسنہ اصولی اور عملی تعلیم کا کامل نمونہ ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا :

’’اللہ تعالی نے رمضان کے روزہ فرض کئے ہیں اور میں نے اپنی سنت  کے ذریعے اس کے  قیام کا طریق بتادیا ہے۔پس جو شخص حالتِ ایمان میں اپنا محاسبہ کرتے ہوئے روزے رکھے گا۔اور قیام کرے گا تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے گا جیسے اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا‘‘ (سنن نسائی کتاب الصوم حدیث نمبر2180)

آ پؐ  کو اس عبادت سے اس قدر شغف تھا کہ  خاص اہتمام سے کثرت سے روزے رکھتے۔ نبوت کے بعد مکہ میں  جبکہ ابھی روزے کی فرضیت کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے آپ ؐ  کئی مہینوں تک مسلسل روزے رکھتے رہے۔ روزے رکھتے تو لگتا اب کبھی ناغہ نہیں کریں گے۔ پھر روزہ چھوڑ  دیتے تو لگتا کبھی روزہ نہیں رکھیں  گے۔ ( بخاری کتاب الجمعہ حدیث نمبر1073)

فرضیت کے بعد رمضان کے علاوہ شعبان کے  مہینے میں بھی اکثر روزے رکھتے(بخاری کتاب الصوم1834)

مہینے کے نصف اوّل میں اکثر روزے رکھتے  اور مہینے میں تین دن معمولاََ روزہ رکھتے بالعموم مہینے کے  پہلے سوموار اور پھر  اگلے دونوں جمعرات کے دن  روزہ رکھتے( مسلم کتاب الصیام حدیث نمبر1982)

آپ ﷺ فرماتے تھے کہ سوموار اور جمعرات کو اعمال  اللہ تعالی کے حضور پیش کئے جاتے ہیں  اور میں چاہتا ہوں کہ  میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزہ دار ہوں ( ترمذی باب الصیام ) اس کے علاوہ محرم کے دس اور شوال کے چھ روزے بھی رکھتے۔ روزے

اس طرح بھی رکھتے کہ گھر تشریف لاتے  اگر کھانے کو کچھ نہ ہوتا تو روزہ کی نیت کرلیتے۔( ترمذی باب الصیام )

آنحضرت  ﷺ  روزہ رکھنا اسقدر پسند فرماتے تھے کہ بعض اوقات بغیر سحری کھائے روزے کی نیت فرمالیتے اور کئی دن تک یہی تسلسل رہتا  مگر دوسروں کو اسطرح وِ صال کے روزے رکھنے کی ازراہ شفقت اجازت نہ دیتے اس کی جو وجہ بیان فرمائی وہ آپؐ کے اللہ تعالی سے مضبوط تعلق کا بہت حسین اظہار ہے آپؐ نے فرمایا

’’میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں  میں رات ایسی حالت میں گزارتا ہوںکہ میرے لئے  ایک کھلانے والا ہوتا ہے  جو   مجھے کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا ہوتا ہے جو مجھے پلاتا ہے۔‘‘(بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر1963)

   روزوں میں معمولات کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ

’’نبی ﷺ   نیکی میں لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے۔ اور رمضان میں بہت زیادہ  سخاوت کرتے تھے۔جب حضرت جبرئیل ؑ  آپؐ سے ملتے اور حضرت جبرئیل ؑ رمضان کی ہر رات  آپؐ سے ملاقات کرتے  تھے۔یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا  نبی  ﷺ قرآن کا دور کرتے ۔جب حضرت جبرئیل ؑ  آپؐ سے ملتے تو آپ ؐ  نیکی میں تازہ چلنے والی ہوا سے بھی تیز ہوتے‘‘(بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر1902)

حضرت عائشہ ؓ   فرماتی ہیں:

’’رمضان کے مہینے میں آپؐ کثرت سے قرآنِ کریم کی تلاوت فرماتے  ۔ حضرت جبرئیل کے ساتھ ہر ماہ قرآن کریم کی دہرائی فرماتے  وفات سے قبل آخری رمضان میں آپؐ نے دو بار قرآنِ کریم دہرایا‘‘(بخاری کتاب المناقب  باب علامات النبوۃ فی الاسلام )

روزہ رکھنے کے  شوق اور اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ غیرمعمولی  صحت  ‘ہمت و طاقت اور برداشت کے باوجود  رضائے الہی میں جب روزہ چھوڑنے کا حکم ہوتا تو اس پر عمل فرماتے   یہ سمجھانے کے لئے کہ ثواب اطاعت میں ہے آپؐ سفرمیں روزہ نہ رکھتے  سب کے سامنے کچھ کھانے پینے سے اطاعت کا عملی درس دیتے  ۔

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ

’’رسول اللہ  ﷺ مدینہ سے مکہ کے لئے نکلے تو آپؐ نے روزہ رکھا  یہاں تا کہ آپ ؐ  عسفان پہنچے تو پھر پانی منگوایا اور آپؐ نے اپنے ہاتھوں کو بلند کرکے اٹھایا تاکہ لوگ دیکھ لیں پھر آپؐ نے روزہ کھول دیا  اور اسی حالت افطار میں مکہ پہنچ گئے۔ اور یہ واقعہ رمضان میں ہوا۔۔۔‘‘(بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر1948)

حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں:

’’جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو آنحضرت  ﷺ  کمر ہمت کس لیتے  بیدار رہ کر راتوں کو زندہ کرتے  خود بھی عبادت کرتے اہلِ بیت کو بھی جگاتے  رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے اور آپؐ کا یہی معمول وفات تک رہا‘‘(بخاری کتاب الصلوۃ التراویح حدیث1884)

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *