اسلامی تعلیمات

 اچھی آپا۔ آسٹریلیا

Spread the love

عام مرد

سچی سر اسلم کتنے اچھے ہیں اور عمدہ پرسنیلٹی ہے ، میرے ساتھ پچھلے ریفرنڈم میں بھی ڈیوٹی کی تھی بہت ایمانداراور نمازی ڈیوٹی کے دوران ووٹنگ روک کر نماز ادا کی اور مجھے اور دوسری ٹیچرز کو بلا کر کہنے لگے کہ دیکھو یہ لوگ جعلی ووٹ ڈلوانے آئے ہیں تم ان کا ساتھ دینا چاہتی ہو تو ٹھیک ورنہ میرا بائیکاٹ اور پولنگ کی دوسری طرف جاکر بیٹھ گئے تھے ۔۔ زیبا اپنی دھن میں سراسلم کی ایمانداری کی تعریف کے پل باندھ رہی تھی کہ نازیہ جو کچھ دیر سے اسکی باتیں ذرا فاصلے پہ کھڑی سن رہی تھی آگئی ، وہ سمجھ رہی تھی زیبا آٹھویں جماعت کے پیپرز میں صبح کے واقعے سے دلبرداشتہ ہے ۔ کچھ اپنے ہی ٹیچرز نے اسکی پیپرز میں سختی پہ نہ صرف تنقید کی بلکہ ایک دو بڑے آفیسرز سے شکایت بھی کردی آفیسرز بھی سوچتے ہیں کہ عزت رہ جائے وہ بھی معائنے  کے دوران زیبا کو نہ صرف نرمی برتنے بلکہ کچھ نقل میں ڈھیل کا بھی کہہ  گئےتھے – جس پہ ایمانداری کی شوقین صبح سے ہی اس معاشرے میں ایمانداروں  کی کمی اور چند ایک کی تعریف کے پل باندھنے میں لگی تھی نازیہ نے آگے بڑھ کر گلا صاف کیا اور بو لی ۔۔

اچھا زیبا کونسے والے سر اسلم ؟ بھئی وہ ادھر ساتھ والے قصبے میں ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب ہیں سچی اگر آج وہ ہوتے ناں تو انہوں نے میرا ساتھ دینا تھا اور کہہ دینا تھا ان سب سے کہ ہم نہیں نقل ہونے دیں گے – اس طرح تو امتحان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے ناں مس نازیہ ؟ آپ ہی بتائے کیا یہ سب ٹھیک ہے ؟  نہیں بالکل نہیں نازیہ نے تائید کی ۔ پر سر اسلم جن کی آپ اتنی تعریف کر رہی ہیں وہ پچھلے برس یہاں اپنے بھانجے کے ایگزامز کے لئے آئے تھے اور خود اپنے ہاتھوں پرچیاں کیا بُکس لے کر پیپر کرواتے رہے ہیں کیوں مس ریحانہ ؟ نازیہ نے مس ریحانہ سے تائید چاہی ۔۔ ہاں زیبا یہ صحیح ہے ہمارے سامنے وہ سب کرواتے رہے ۔۔ کیا ؟ وہ تقریبا چیخ اٹھی ۔ میں نہیں مانتی وہ ایسے نہیں ہو سکتے ۔۔

آپ لوگ مجھے ان کے خلاف اکسا رہےہو اتنی تعریف جو کر رہی ہوں ،، بھلا ہمیں کیا لینا دینا جھوٹ بول کر لیکن یہ ناں ایسے ہی اپنی طرح ہر ایک کو ایمانداری اور سچائی کے بخار کے تناظر میں مت دیکھا کرو یہاں جو جتنا نمازی ہے اور جتنا دکھاوے میں سچائی اور ایمانداری اور شرافت کا لبادہ اوڑھے پھرتا ہے اتنا ہی اندر سے کھلے تو گھٹیا اور ذلیل نکلتا ہے سب تمہاری طرح بے وقوف نہیں ہوتے ۔۔ کیا مطلب !  ایماندار اور شریف ہو نا بے وقوفی ہے کیا ؟ وہ حیران تھی ،، بالکل فی زمانہ یہ بے وقوفی ہی ہے دیکھا نہیں جو نقل کرواتے ہیں انکے رزلٹ اچھے جو رشوت لیتے ہیں ان کے وارے نیارے اور ، بس بس میرا دل ڈوبنے لگا ہے زیبا نے ہاتھ کھڑا کر دیا ۔ یہ سب گناہ ہے اور بس ہمیں اللہ کو جواب دینا ہے ہمیں کوشش کرنی چاہئے ہر قسم کی برائی سے بچنے کی ۔۔ زیبا نے ہتھیار پھینک دیئے – پر دل میں ایک نقش تھا سر اسلم کا ۔ وہ کتنی خوش تھی دو سال سے کہ اس زمانے میں بھی کتنے اچھے لوگ ہیں اور وہ بھی مرد ۔۔ مردوں کی شرافت پہ ذرا سا دھبہ بھی نظر آتا تواسے لگتا اسے تو بلانا بھی نہیں چاہیئے – وہ زاہد دفع کرولڑکیوں کو چھیڑتا ہے اور راستے میں کھڑا آوزیں کستا ہے ۔ اور وہ بلال اپنی ماسی نصیبوکا لڑکا جو گلی کی نکڑ پہ ہے – دیکھا ہے اسے کیسے نظریں پھرتی ہیں لڑکیوں کے چلنے کے ساتھ یہ کوئی مرد ہیں ؟ – یہی تو اس کے لیکچر ہوتے لڑکیاں سن کر کبھی ہنستیں تو کبھی حاجن بی بی تو کبھی شرافت کی پڑیا کا لقب دے دیتیں ۔ زیبا نے نہ کبھی سر سے دوپٹہ اتارا نہ کبھی کمپلیکس کیا حالانکہ دوسری بہن اور کزنز فیشن میں دلچسی رکھتی تھیں اور جتنا بھی ہو سکتا پردے کے اندر بھی بن سنور کر رہتیں پر یہ حاجن بی بی مجال ہے کبھی چہرے پہ کچھ لگا ئے یا کاسمیٹک کا استعمال کرے۔

قدرت نے ویسے ہی شاہکار بنایا تھا لڑکیاں مرتی تھیں پر کوئی پرواہ نہیں  – کچھ مذاق بھی کرتیں کہ فیملی سے کوئی نہیں جو تم پہ ۔۔۔۔ کیا مطلب ؟ وہ دھاڑی تھی ، پھر کسی کی ہمت نہیں ہوئی ۔ پر اسے لگا کسی نے اس کی دُکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ دیا ہو – کیوں اتنی سادگی کس کے لئے اپنا آپ سنبھال کر بیٹھی تھی ، کچھ بھی تو نہیں تھا پر دل میں شاید چور تھا جو کبھی کبھی بے کل کر دیتا – کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا ۔ پر مائیں بھی کیا ہو تی ہیں بیٹیاں کچھ کہیں یا نہ کہیں سب پڑھ لیتی ہیں بنا آنکھوں سے ، کہتیں ! یہ جو دل ہوتا ہے ناں اسکی ہر خواہش پوری نہیں ہوتی اسے سینے کے پنجرے میں ہی قید رکھنا چاہئے اور زندگی کے فیصلے دماغ سے لینےچاہیں ،، جی امی پر میں نے تو کچھ نہیں مانگا ، ہاں ویسے ہی سمجھا رہی ہوں ،، ماں بھی چپ ہو جاتی کیا کرتی بعض دفعہ کچھ بھی بس میں نہیں ہو تا- اسی طرح بی اے کر لیا پھر اسکے بعد یونیورسٹی دوسرے شہر تھی بس بیٹا اب پرائیویٹ پڑھنا ہے تو پڑھ لو ، ابا نے حکم صادر کیا اتنی دور روزانہ آنے جانے کا رسک نہیں لیا جا سکتا – سو چپ ہو رہی دل تو بہت تھا پروالدین کا حکم ٹالنا کہاں جائز ہے ؟ اس لئے کچھ نہ بولی بڑی دیدی کی شادی ہوئی اور پھر گھر میں اس کے رشتے کی بات ہونے لگی اس کادل ہولنے لگا تھا کسی کے انتظار کا خیال ، کیا ہے یہ سب ؟ اتنی مذہبی ہونے کے باوجود دل میں اک خلشتھی گر چہ کبھی کسی کو جی بھر دیکھا بھی نہ تھا – لیکن گھر میں بچپن سے ملتے ملاتے اور آتے جاتے کسی کا خیال ہو جانا بڑی بات نہ تھی لیکن قسمت کو جو منظور ہو  وہ ہو کر رہتا ہے – سو ایک رشتہ ایسا آیا کہ ٹالا نہ گیا ابا کےدور کے تایا زاد کا بیٹا تھا ایک ہی اولاد اور اتنی بڑی فیکٹری کا مالک کسی شادی میں زیبا کو دیکھا تھا – بس جوڑے واقعی آسمانوں پہ بنتے ہیں جھٹ منگنی پٹ بیا ہ اور وہ اداس سی دلہن کسی اور کے گھر جا بسی تھی جو شاید بلکل بھی اسکے خوابوں جیسا نہ تھا پر اس میں اسکا کیا قصور؟

وہ تو اس کا مجازی خدا تھا سو وہ اپنے مجازی خدا کے آگے جھک گئی اسلام عورت کو اپنے خاوند کی اطاعت کا حکم دیتا ہے اور اسکا لباس قرار دیتا ہے سو اس نےاس کو ہی اپنے تن کا لباس بنا لیا اور دن رات اپنے گھر اور خاوند پہ نثار کر دئیےتھے خدا نے دو چاند سے بیٹے بھی دیئے سسر کی زندگی میں سب ٹھیک تھا وہ خود بھی فیکٹری جاتے اور بہت سارا کام خود دیکھتے روپے پیسے کی ریل پیل تھی لیکن تقدیر کو شا ید اسکی آزمائش  منظور تھی اچانک ہارٹ اٹیک سے سسر کی موت ہوگئی تو اسے لگا ایک سائباں تھا جو چھن گیا کوئی پریشانی نہ تھی انہوں نے اسے بیٹی بنا کر رکھا تھا – خاوند وہ جو ابھی تک باپ کی انگلی پکڑ کر چلتا تھا وہ بھی ایک دم خانوش سا ہو گیا تھا پر ظاہر ہے اسے ہی سب سنبھالنا تھا اور پھروقت مرنے والوں کے ساتھ کب رکتا ہے ؟ سو زندگی اپنی ڈگر چل پڑی پر سیدھی جانے کے بجائے ڈگمگانے لگی تھی – کاروبار بھی ٹھیک چل رہا تھا پر شاید گڑ بڑ کہیں اور ہو رہی تھی وہ جو ذراسی غلطی پہ مرد کو برا گردانتی تھی اور اسے پتہ نہیں کیا کیا لقب دے دیتی تھی – اپنی ہی گرہستی کے چاند کو گرہن لگتا محسوس ہوا تو کچھ کرنا تو کجا بول بھی نہ پائی ۔  پہلے تو وہ سمجھی کہ یہ اس کا شاید وہم ہو لیکن آہستہ ہستہ فیکٹری کے کام کے بہانے ماجد نے رات کو باہر رہنا شروع کر دیا تھا  وہ  یہی سمجھتی رہی کہ شایداب ماجد اکیلا ہے اور اس سے کام نہیں سنبھالا جارہا لیکن پھر اس کے فون پہ مشکوک انداز نے اس کے کان کھڑے کر دیئے –

پہلے تو وہ گھر میں ٹھیک رہتا تھا پر کچھ عرصہ بعد اس نے بات بے بات لڑنا بھی شروع کر دیا وہ پھر بھی اپنے وہم کو جھٹک کر یہی سو چتی کہ کام کی زیادتی ہے لیکن ماجد کے رویئے میں تبدیلی اسے مشکوک بنا رہی تھی پھر ایک دن اسے فون سے پتہ چلا کہ کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ ٹھیک نہیں ماجد باتھ روم تھا اور اسکا فون بج رہا تھا وہ آئی اور اٹھا لیا اور ابھی بولی بھی نہیں تھی کہ دوسری طرف سے کسی لڑکی کی آواز تھی جوزور زور سے بول رہی تھی اگر آج بھی نہ آئے تو تمہارے گھر پہنچ جاؤں گی اور تمہاری بیوی کو ساری کرتوتوں کے بارے بتادوں گی ۔ اس سے فون سنبھا لا ہی نہیں گیا اور اسکے ہاتھ سے گر گیا اسی لمحے ماجد باہر آ گیا گرا ہوا فون اٹھایا اور اسکے اُڑے ہوئے رنگ کو دیکھ بہت کچھ سمجھ گیا وہ جانتا تھا کہ وہ بہت مذہبی اورپرہیزگار ہے اور یہ سب اس سے برداشت نہیں ہوگا اس سے کیا خاوند کی اس طرح کی ایکٹیویٹی کسی بھی عورت سے کب برداشت ہوتی ہیں – اسی لئے چپ رہنے میں ہی مصلحت سمجھی اور جلدی سے باہر نکل گیا – وہ سارادن اسی کشمکش سے نہ نکل سکی کہ اس سے کہاں کوتاہی ہوئی تھی ، کہاں خدمت میں کمی رہ گئی تھی یا پھر حکم عدولی ہوئی تھی ، کہ اسکے خاوند کو دوسری عورت میں دلچسپی لینی پڑی- کیا وہ چپ رہے یا ابھی سے اصلاح کے لئے کچھ کرے سارادن اسی ادھیڑ بن میں گذر گیا بچوں کو کھانا کھلا کر سلا کر ماجد کا انتظار کرنے لگی – لیکن ماجد نے نہ آنا تھا نہ آیا – اسے اب خیال آیا کہ وہ تو پہلے بھی اکثر کام کے بہانے باہر رہتا تھا پر پہلے کی بات اور تھی پہلے اعتماد تھا اب اعتماد کی کشتی ہچکولے کھا رہی تھی اور وہ بھی بڑے زور سے ِ تاریکی بڑھنے کے ساتھ وہم اور خدشے نے تاریکی اور بھی بڑھادی تھی کیا کرے فون پہ ٹرائی کیا لیکن وہ بند جا رہا تھا ماجد نے جان بوجھ کر کر دیا تھا ساری رات آنکھوں میں کاٹ دی صبح بھی ماجد گھر نہ آیا  – اس نے بچوں کو اسکول بھیج کر پھر فون ٹرائی کیا پھر بند ۔ فیکٹری کے فون پہ سیکرٹری نے بتایا کہ صاحب ابھی نہیں آئے تو اور بھی دل میں ہول اٹھنے لگے –

یہ کس مصیبت میں گرفتار ہو چکی تھی نہ چین تھا نہ نیند ، اب کیا کرے والدین کو بتائے تو وہ کیا کرلیں گے ، مرد ذات دو بول بول گھر سے باہر کردے گا نہیں اسے اپنے مسئلے سے خود ہی نبھٹنا ہوگا پر کیسے ؟ سوچ کا ہر دروازہ خاموشی اور مصلحت پہ جاکربند ہو جاتا تھا یہ تو گناہ ہے سخت گناہ پتہ نہیں کس طرح کی عورتیں ہیں پرائے مرد کو قابو کر کے صرف دولت ہتھیانے کے لئے اپنی عزت اور حیا بیچ دیتی ہیں چھی چچھی ،، اسے ایسی عورتوں سے بھی نفرت تھی ان عورتوں سے تعلق کی وجہ سے تو کتنی خطرناک بیماریاں لگ جاتی ہیں کہیں اسے بھی ۔۔۔۔اللہ نہ کرے اسے ماجد سے نفرت محسوس ہونے لگی تھی کیا کمی تھی مجھ میں ؟ پاگل بھلا کیا کمی کی وجہ سے مرد گھر سے باہر جاتے ہیں نہیں زیبا بی بی ایسا مرد آاوارہ اور ہوس پرست ہوتا ہے اسے بری صحبت کی وجہ سے ایسی لت پڑ جاتی ہے پیسے والے اس بیماری اور جہالت کا زیادہ شکار ہوتے ہیں اورپھر صرف ایسے لوگوں کے گھروں میں تباہی ہی ہو تی ہے کسی بیماری کی صورت اولاد کی نافرمانی اور بے راہ روی کی شکل میں یا غربت کی شکل میں حدیثِ نبویﷺ ہے بدکاری سے گھر میں رزق کی کمی ہونے لگتی ہے اور ویسے بھی جب انسان خود ہی بے راہ رو ہے تو اولاد کی اصلاح کیا کرے گا اور خدا کے حکم توڑ کر کب تک انسان وحشت اور جوانی کے نشے کی فصلیں کاشت کر سکتا ہے قدرت کی گرفت میں ڈھیل ہے پر توبہ کرنے والوں کے لئے –

حد سے بڑھنے والوں کے لئےنہیں ان کے لئے تو ہلاکت ہے ، ، تیسرے دن ماجد آیا تھا اور وہ بھی آتے ہی ایسے بستر پہ پڑاجیسے پتہ نہیں کتنے دنوں کا تھاکا ہوا ہو جب شام میں اٹھا تو زیبا نے کھانے کے بعد اس سے اس بارے بات کرنے کی کوشش کی تو وہ شرمندہ ہونے کی بجائے الٹا برس پڑا تھا میری ماں بننے کی کوشش مت کر اور یہ میرے باہر کے معاملات  میں دخل دینے کی ضرورت نہیں عزت سے گھر میں پڑی ہو پڑی رہو کس چیز کی کمی ہے تمہیں اور ہاں اگر مجھ سے زیادہ ہی پرابلم ہے تو میکے چلی جاؤ سنا تمُ نے۔ وہ سناٹے میں آگئی تھی یہ کیا کچھ کہنے سنسنے کا وقت ہی نہیں دیا اور یہ جا وہ جا اور بھی دھمکی دے کر کیاکرے؟ کیا نہ کرے کچھ بھی تو اسکے بس میں نہیں تھا – اب کیا ہو سکتا ہے زیبا بی بی جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ۔ اس نے صبر کادامن تھام لیا اور دعا میں لگ گئی پردعا تو انسانوں کے کام آتی ہے شیطانوں کے نہیں مرد جب حد سے گذرتے ہیں اور حیوانیت اور شیطانیت کے رستے کی حدوں کو پار گذرتے ہیں تو خدا بھی انکی پرواہ کب کرتا ہے ، پرواہ تو توبہ کرنے والوںکا نصیب ہے ماجد حد سے گذرنے کی ٹھان چکا تھا اور تو اور دو چار باراب تو گھر میں بھی دوستوں سمیت اس قسم کی محفل ہوچکی تھی بچے بڑے ہو رہے تھے گو کہ وہ اس وقت سوئے ہوتے تھے جس وقت گیسٹ روم میں اور اس سے ملحقہ لان میں یہ بدکاری اور رقص و سرود کی محفلیں سجتیں اف کیا کچھ دیکھنا تھا ؟  کیا اسےیہ سب گند سے نفرت کی سزا مل رہی تھی؟ اس نے تو صرف خدا کی حدوں کو پھلانگنے والوں سے نفرت کی تھی پھر یہ کیا تھا ؟ اسکی قسمت میں یہ سب کیسی -؟ آزمائیش ہیں پروردگار تو تو مجھے جانتا ہے مجھے کتنی کراہت محسوس ہوتی ہے – ماجد تو اب آئے دن ہی ایسی پارٹیز گھر میں رکھنے لگا تھا – اور پھر جو کچھ نظارہ ہوتا وہ اس سب کو بچوں کے سامنے نہیں لانا چاہتی تھی – بس اب بہت ہو چکا ماجد اب یہ برداشت سے باہر ہے آپ کیا تربییت کر رہے ہیں بچوں کی اور اپنے کردار کی پلیٹ میں کیا رکھ کر پیش کر رہے ہیں ؟ اپنی آنے والی نسل کو مجھ سے یہ اور برداشت نہیں ہوتا بس اب بہت ہو گیا – تو جو ہوتا ہے کرلو ، وہی ڈھٹائی پن سے جواب آیا تھا –

سب کرتے ہیں عیش تھوڑی میں نے کر لی تو کیا جرم ہو گیا؟ اسے لگا اس پہ وعظ و نصیحت بے اثر ہو چکے ہیں اس نے دونوں بچوں کے ہاتھ پکڑے اور اپنے گھر کی دہلیز پار کر گئی۔۔اب جائے کدھر ؟ ماں باپ کے پاس جاکر انہیں اذیت دینے سے بہتر ہے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم  وتربیت خود دے – دہلیز پار کرتے ہوئے نہ کسی نے روکا نہ واپس بلایا نہ منتیں کیں بلکہ اسکے پیچھے ایک قہقہے کی آواز سنائی دی جس سے دل اور بھی کٹ گیا تھا – یا للہ یہ سب تونے میری ہی قسمت میں کیوں لکھ دیا تھا -کتنےعام اور گھٹیا مرد تھےزندگی میں آنے والے- ہاں یہ پہلا مرد تو نہیں تھا جو اس کی زندگی میں آیا تھا ور جس نے اسکے اصولوں کی دھجیاں اڑائیں تھیں – وہ اٹھارہ سال پیچھے چلی گئی بچپن میں خالہ گاؤں آتیں چھٹیوں میں ۔ ان کے دو ہی بیٹے تھے ،اسد اس کا ہی ہم عمر تھا لا شعور سے شعور کی حدود میں قدم رکھتے ہوئے پتہ نہیں چلا کب اسد اسکے لئے خاص ہوتا گیا ہر چند اتنے مذہبی ماحول میں رہتے ہوئے سوائے خاموشی اور اک احساس کے کچھ بھی نہ تھا پر پھر بھی اپنے پن کا احساس بڑھنے لگا تھا کہ خالہ نے اسد کو میٹرک کے بعد ہی انگلینڈ بھیج دیا اور اسد میاں پڑھائی تو کرتے تھے یا  نہیں لیکن چھوٹی خالہ جو کہ جانتی تھیں کہ امی اسد کے لئے نرم گوشہ دل میں رکھتی ہیں وہ کچھ اور بھی بڑھا چڑھا کر بتاتی تھیں -اس بار بھی وہ چھٹیوں میں آئیں تو پتہ نہی کیا کیا کہہ رہی تھیں اس سے تو سنا ہی نہ گیا کتنا مان کا رشتہ بن جاتا ہے ایسا رشتہ بھی اور وہ بھی اپنوں کے بیچ وہ کوئی بیگانہ تھوڑی تھا۔نہیں خالہ ایسے ہی کہتی ہیں اسد ایسا نہیں ہو سکتا وہ خود کو دلاسے دینے لگی تھی پر دلاسے دینے سے وہم نہیں بہلتے وہم تو پلتے ہیں بڑھتے ہیں اور پھرناسور بن جاتے ہیں کتنی ہی دعا ئیں اس وقت بھی کام نہیں آئیں تھیں اسوقت اس نے اللہ کی بہتری مان لیا قسمت کے لکھے پہ سمجھوتہ کر لیا تھا بی اے کے بعد اسکی شادی کی بات چلی تو اس نے امی سے کہہ کر کہ وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی ہے ۔ماں تھی جانتی تھی شاید اس لئے ابا سے بات کر کے شادی کی بات ٹال دی تھی لیکن ایم اے کرنا ہی قسمت میں نہ تھا تایا زاد کی شادی لاہور میں تھی سب ہی جارہے تھے اور خالہ کافون بھی آیا تھا کہ اسد بھی آرہا ہے سیدھا لاہور ہی آ جائے گا – اسے لگا کہ اس کے من کی مراد پوری ہونے جارہی ہے خدا نے اسکی سن لی تھی چھ سال بعد اسد سے ملنے کی خوشی میں اس نے کچھ زیادہ ہی تیاری کر لی تھی اب تک کپڑوں کی فکر سے آزاد رہنے والی نے بطورِ خاص اپنی پسند کے سوٹ سلوائے تھے –

لاہور جاکر بے چینی اور بھی بڑھ رہی تھی فلائیٹ اگلے دن تھی پر اسے تو نیند ہی نہیں آ رہی تھی – خدا خدا کرکے صبح ہوئی لڑکے دس بجے ائیر پورٹ گئے تھے اور بارہ بجے تک وہ بیسیوں بار بڑے دروازے تک چکر لگا چکی تھی آخر وہ آ گیا ۔ سب ہی والہانہ استقبال کر رہے تھے دوہری خوشی ہو گئی تھی شادی کی اور اسکے آنے کی وہ بھی کھڑی تھی سب کے ساتھ جب اندر داخل ہوا- تو وہ حیران رہ گئی تھی ذرا بھی تو نہیں بدلا تھا ،  چھوٹی خالہ بھی ناں! بس جیلسی میں جھوٹ موٹ ڈرارہی تھیں اسد ایسا بالکل نہیں لگ رہا تھا شادی کے ہنگامے اور بھی حسین لگ رہے تھےسب ہی بزی تھے آتے جاتے اسد کا سامنا ہوتا تو وہ بھی مسکرا دیتا ہمیشہ کی طرح اور وہ بھی آنکھیں جھکائے گذر جاتی – سب لڑکے بیڈ روم میں مسہری بنا رہے تھے تائی امی نے چائے کی ٹرے اسکے ہاتھ میں تھمادی – وہ لے کرجا رہی تھی کہ اسد کی آواز پہ اسکے قدم رک گئے تھے ۔ لویارتیاری ہو گئی تمہاری سہاگ رات کی پاکستان میں تو شادی ہی سب کچھ ہے اور ایک ہم ہیں پتہ نہیں شادی سے پہلے ہی کتنی سہاگ راتیں منا چکے ہیں ادھر تو ہررات سہاگ رات ہے فارن ممالک میں اسی لئے شادی میں کوئی چارم نہیں سب کچھ تو شادی کے بغیر ہی مل جاتا ہے تو پھر کون شادی کے جھنجھٹ پالے ؟

اسے اپنے کانوں پہ یقین نہیں آیا خالہ کی کہی سب باتیں دماغ  میں ہتھوڑے بن کر برسنے لگیں ۔  اسکے ہاتھ سے ٹرے چھوٹ گیا تھا کمرے سے بھی سب باہر دوڑے تھے اورکچن سے تائی امی بھی – سب اسے پوچھ رہے تھے کہ کیا ہوا پراس سے بولا نہیں گیا اسے لگا کہ ٹرے نہیں گرا تھا اعتماد کا بت گرا تھا اور بہت زور سے گرا تھا اتنے زور سے کہ اس کے ہاتھ بھی کانپ گئے تھے شادی کیسے ہوئی کب ختم ہوئی اسے کچھ ہوش نہ تھا بس چپ چاپ بولائی بولائی پھرتی رہی ، تیار ہونے کو بھی دل نہ کیا گھر آتے ہی اس نے امی سے کہ دیا امی میں نے نہیں آگے پڑ ھنا آپ جہاں چاہے میری شادی کردیں – بی بی سٹاپ آگیا – وہ چونک گئی جلدی سے بچوں کے ہاتھ پکڑے اور بس سے اترکے اپنی سہیلی کے گھر کو چل دی اسےبدلہ نہیں لینا تھا ان دونوں عام مردوں سے جن کی زندگیوں کے کوئی اصول نہیں تھے جونفس کی خواہش پہ مٹنے والے جانور تھے جنہیں جسم کی ضرورت نے حیوان بنا دیا تھا کہ وہ بدی اور نیکی میں تمیز ہی بھول گئے تھے اسے تو اپنے بچوں کو خاص مرد بنانا تھا انہیں انسان اور جانور میں رکھا گیا قدرت کا فرق سمجھانا تھا عورت گھر کی ہو یا پرائی اسکی عزت سے کھیلنا نہیں عزت کرنا سکھانا تھا۔

اسلام کی سنہری اقدار سے روشناس کروانا تھا تاکہ آنے والی زندگی میں انکے قدم کسی برے راستے پہ نہ ڈگمگائیں۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *