اردو سیکھیںاسلامی تعلیماتمتفرقمعاشرہ

لمحہ فکریہ

(تحریر:قدسیہ نوروال۔ ناروے)

کیا اس قوم میں بنی اسرائیل جیسی ایک ماں بھی نہیں جس کے دل میں اپنی اولاد کا درد ہو؟؟

صدیاں گزریں ایک ملک میں ایک فرعون بادشاہ تھا۔ جسے اسکی ایک خواب کی تعبیر میں پتہ چلا کہ اس قوم کا ایک لڑکا اس کی حکومت اور عروج ختم کرے گا۔ اس نے حکم دیا کہ پوری ریاست میں کہیں بھی کسی کا بھی کوئی بچہ ہو تو اسے مار دیا جائے۔ اور پھر ایسا ہی ہونے لگا۔ کوئی ایک بھی والدین یا قوم کے لوگ اس ظلم کے خلاف بولنے کی ہمت نہ رکھتے تھے۔ اور اپنے بچوں کو مرتے دیکھتے رہے۔ ایسے میں ایک گھر میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اسکی ماں نے کسی کو پتہ نہ لگنے دیا۔ اور صرف اللہ توکل۔ اپنے پیدا کرنے والے کے بھروسے اس ظلم کے احتجاج کے طور پہ اس نے بچے کو ٹوکری میں رکھ کے دریا کی لہروں کے سپرد کردیا۔ کہ اس طرح شائد وہ مرنے سے بچ جائے۔ 

اللہ کو اس قوم کی اس ماں کی یہ ادا اور خود پہ بھروسہ اتنا پیارا لگا کہ اس نے اس بچے کی ٹوکری کو اسی فرعون کے محل تک پہنچا دیا۔ اور اسی فرعون کی رحمدل بیوی آسیہ نے اسے گود لیا۔ اسکا نام موسی رکھا اور وہ اسی محل میں اپنی ہی ماں کے زیر سایہ پلا بڑھا۔ اور آخر اللہ نے اسی بچے کے ذریعے اس قوم کو اس ظالم فرعون سے نجات دلائی۔ الحمدللّٰہ۔ اور یہ سب قرآن پاک نے ہمیں بتایا۔ 

کیا آج کے اس ترقی یافتہ دور میں، اس قوم میں ایک بھی ایسی ماں نہیں ہے جو چھیاسی ہزار مدرسوں میں ہونے والے اس ظلم کے خلاف کھڑی ہوکے اپنے بچے ان مدرسوں میں نہ بھیجے جہاں یہ بچے اس فرعون سے بھی ظالم اور بدترین مخلوق کے ہاتھوں روز جیتے اور روز مرتے اور اپنا مستقبل برباد کرکے ذہنی مریض بن کے اس معاشرے کے لئے ناسور بن چکے ہیں۔ 

اب ایسا بھی نہیں کہ سارے مدرسوں میں ایسا ہوتا ہو۔ لیکن اب ایسے بھی حالات نہیں کہ انتظامیہ پتہ نہ لگا سکے کہ کہاں کہاں یہ کام ہورہا ہے۔ ؟  وہاں وہاں تو ایسی بدترین مخلوق کو سخت سزا دی جا سکتی ہے۔ 

آج میرا یہ قلم معاشرے کے اس سخت گھناؤنے جرم کے خلاف اس لئے اٹھا ہے کہ میں خود ایک ماں ہوں۔ اس بچے کی حالت نہیں دیکھی گئی جس کے ساتھ ملا سمیت کئی لڑکوں نے زیادتی کرکے بری حالت میں چھوڑا۔ کیا اب اسکے لئے بھی گواہیوں اور تفتیش اور کمیٹی کی ضرورت ہے۔؟

کیا اب چیف جسٹس اس معاشرے کی بہتری کے لئے ازخود نوٹس لے کے انہیں گرفتار کرکے سزا نہیں دے سکتا؟  

پچاس سال سے زیادہ ہونے والے ہیں۔ ان مدرسوں سے آئے دن یہ معاملات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جو دوسرے مدرسوں اور تعلیمی اداروں کو بھی بدنام کرتے ہیں۔ کیونکہ پھر آٹے کے ساتھ گھن بھی پستا ہے۔ 

کیا فائدہ ایسی جنت کے حصول کا جس کے لئے یہ دنیا اور اپنی آخرت جہنم بنا لی جائے۔ خود والدین تو پڑھ نہیں سکے۔ تو بچوں پہ ایسا ظلم کیوں؟  اسلام تو کہتا ہے کہ دین میں جبر نہیں۔ پھر یہ کونسا اسلام ہے جہاں بچوں کو مار مار کے رٹو طوطا اور ذہنی مریض اور ہم جنس پرست بنا کے معاشرے میں ناسور کی طرح چھوڑ دیا جاتا ہے۔ 

حدیث مبارکہ ہے بخاری کی۔ 5058

وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ 

یعنی قرآن تو پڑھا جائے گا لیکن قرآن لوگوں کے حلق سے بھی نہیں اترے گا۔ 

یعنی صرف قرات کی حد تک۔ اور اس پہ عمل نہیں ہوگا۔

پھر حضرت علی سے روایت ہے کہ 

((عُلَمَاؤُھُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ اَدِیْمِ السَّمَاء)) ان کے علماء آسمان کی چھت کے نیچے کے بد ترین انسان ہوں گے۔ ((مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْـنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ))    فتنہ اُن ہی کے اندر سے بر آمد ہو گا اور انہی میں گھس جائے گا »۔

پھر ایک اور جگہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ 

تکون فی أمتی قذعۃ  فیصیر الناس الی علمائھم فاذا ھم قردۃ وخنازیر۔  الحکیم

رسول اللہ  ﷺ نے کہا:  ہوں گے میری امت میں قذعتہ — قذعۃ کہتے ہیں لعنت  کے قابل لوگوں کو، بے شرم، بے حیا، بے غیرت، بدنام، فحش گو یعنی گالیاں دینے والے بات بات پر فحش گوئی کرنے والے، فاحش لوگ، گندے، بیہودہ ترین، برا سلوک کرنے والے، غلط کام کو جرأت مندانہ طریقے سے کرنے والے، غیر اخلاق، بد اخلاق، شرمناک، پرتشدد، ہنسی مذاق کرنے والے، تمسخر اڑانے والے، بے ادب، گھٹیا ترین لوگ، تشدد کرنے والے، ظلم کرنے والے وغیرہ۔ رسول اللہ  ﷺ نے کہا کہ میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے پس لوگ آئیں گے اپنے علماء کی طرف تب وہ ہوں گے بندر اور خنازیر۔

اور قرآن مجید کی سورت المائدہ میں اللہ فرماتا ہے:

قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكَ مَثُوبَةً عِنْدَاللّٰهِ مَنْ لَعَنَهُ اللّٰهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَالطَّاغُوتَ أُولَئِكَ شَرٌّ مَكَانًا وَأَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ[60]

کہہ دے کیا میں تمھیں اللہ کے نزدیک جزا کے اعتبار سے اس سے زیادہ برے لوگ بتاؤں، وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر غصے ہوا اور جن میں سے بندر اور خنزیر بنا دیے اور جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی، یہ لوگ درجے میں زیادہ برے اورسیدھےراستے سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔[60] 

اب آپ خود بتائیں کہ کیا بندر اور سور ایسے ہی نہیں ہوتے۔ جیسے یہ بدترین علما بن چکے ہیں۔ 

اس تحریر کا مقصد انتظامیہ کے ساتھ ساتھ والدین اور خاص طور پہ ماؤں کو پیغام ہے کہ اللہ کے فرمان کے مطابق کہ اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ 

تو کوئی سوچے کہ بھلا کوئی کیسے اپنی اولاد کو قتل کرسکتا ہے۔ تو قارئین جب والدین اپنی اولاد کا احساس نہیں کرتے۔ انکی خود تربیت نہیں کرتے۔ اور انکا خود احساس نہیں کرتے۔ اور اسے ظالم معاشرے اور بدترین علمائے سو کے سپرد کر دیتے ہیں۔ تو یہی اولاد کا قتل ہے۔ 

خدا را مثل یہود نہ بنو۔ بلکہ بنی اسرائیل کی وہ ماں بنو جس کے درد اور اللہ پہ توکل نے خدا کا اس قدر خوش کیا کہ اللہ نے اسی ایک نبی حضرت موسی کی ماں بنادیا۔ اور آسیہ بنو کہ ظالم معاشرے اور مردوں کے خلاف آواز اٹھا سکو۔ تاکہ پھر اس ملک میں بھی کوئی ایسا موسی آئے جو اس گند اور شیطان اور فرعونیت کو مٹا سکے۔ پر اسکے لئے پہلے سب جو خالص۔ سچا۔ اور پاکباز بننا ہوگا۔ نفس کا جہاد کرنا ہوگا۔ ہم صدیوں پہلے کی جاہل اقوام نہیں۔ بلکہ ہم وہ آخری امت محمدیہ ﷺ جن کے ذمے ساری دنیا کی اصلاح کا کام ہے۔ اور ہمارے پاس ایک مکمل ضابطہ حیات قرآن مجید کی صورت میں موجود ہے۔ اور سیرت اور اسوہ حسنہ کی پیروی کے لئے ایک نبی کامل ﷺ کے ارشادات اور عمل موجود ہیں۔ کیا ہم پھر بھی شیطان اور خناس کا مقابلہ نہیں کرسکتے؟  اس سے بڑی شرم کی اور کیا بات ہوگی ؟  

سوچئے۔ اٹھیے۔ خود کو بدلنے۔ اور پھر اپنی نسلوں کی حفاظت کر کے ان سوروں سے بچائیے۔ اللہ آپ کے ساتھ ہو۔آمین 

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے 

صنم کدعہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ 

قوم کے ظلم سے تنگ آکے میرے پیارے آج 

شورمحشر تیرے کوچہ میں مچایا ہم نے

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *