پھول کچھ میں نے چنے ہیں ان کے داماں کیلئے
تحریر: صفیہ چیمہ – فرینکفرٹ
تربیت اولاد کے سنہری گُر
حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی اولاد کی،اپنی بہن کی اولاد کی جن کی آپ دادی بھی تھیں۔اپنے تمام بہن بھائیوں اور جماعت کی اولاد کی تربیت کے نہایت اعلیٰ اصول بتائے جن پر آپ نے ساری زندگی عمل کیا۔خدا کرے افراد جماعت خصوصا عورتیں ان اصولوں پر چل کر اپنی نسلوں کی اعلیٰ تربیت کرنے والی بنیں اور یہ سلسلہ خدا کرے مسابقت کے ساتھ آگے سے آگے بڑھتا ہی چلا جائے۔
حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ تربیت اولاد کے متعلق فرماتی ہیں۔‘‘تربیت کہاں سے آتی؟ جو طریقہ حضرت اماں جان کا دیکھا وہی جہاں تک ہمت تھی رکھا‘‘۔
’’میرے بچے جھوٹ نہیں بولتے‘‘
حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ:
بڑے بچے کی تربیت پر بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے اگر وہ ٹھیک راہ پر چلے گا تو آئندہ زیادہ محنت کی ضرورت نہیں۔چھوٹے خود ہی بڑے کے نقش قدم پر چلنے لگتے ہیں۔بچوں پر اعتماد کر کے تربیت کرنا حضرت مسیح موعودؑ کا بھی یہی طریق تھا اور حضرت اماں جان کا بھی۔مثلاً اگر کوئی بات ہمارے بچپن میں کسی کی ہوتی،تو آپ وثوق سے کہتیں’’میرے بچے جھوٹ نہیں بولتے‘‘ اور یہ بات ہمارے دلوں میں اتنی گڑ گئی تھی کہ مجھے بچپن کا اپنا تاثر یاد ہے کہ جھوٹ تو خیر ہم نے بولنا ہی نہ ہوا، یہ بات (گویا) ہمارے کرنے کی ہے ہی نہیں۔
’’بچوں پر اعتماد کرنا‘‘
یہی سلوک اور طرزحضرت مسیح موعودؑ کا تھا آپ کبھی بے اعتباری کی یا شک کی بات نہ کرتے تھے،بچوں پر یقین رکھتے تھے یعنی اعتماد ظاہر فرماتے اور اس اعتماد کی شرم نہ تو آپ کی مرضی کے خلاف کوئی بات کرنے دیتی اور کوئی بات آپ سے پوشیدہ رکھنے کو دل چاہتا۔ جوبات کہو آپ غور سے سنتے، جیسے کسی بڑے معتبر آدمی کی سنتے ہیں۔خواب مجھ سے آپ اکثر پوچھتے بھی،اور خود سناتی، جب بھی سر سری کبھی نہیں سناکہ بچہ کی بات ہے بلکہ بڑی توجہ فرما کر سنا اور تعبیر سنا کر دل کو خوش بھی کیا۔کوئی ظاہراً پورا کر دینے کا پہلو ہوا، تو اس کو ضرور اسی صورت میں پورا کیا۔غرض بچہ کو نیک بات کی نصیحت کرنا اور اس کے کاموں پر اس طرح نظر رکھنا کہ ہر وقت کی نکتہ چینی،شک شبہ روک ٹوک تو نہ ہو، مگر خبردار ضرور رہیں آپ۔اور بچہ پر بڑی حد تک اعتبار کر کے اس میں خود اپنے افعال کی غیرت اور ذمہ داری پیدا کردینا،کوئی بات ہو تو الگ سمجھا دینا زیادہ بہتر ہے بہ نسبت ہر وقت کی برسر عام گھر کی جھڑکی سے بے غیرت بنانے کے۔نیز حضرت اماں جان فرمایا کرتی تھی بچہ کو یونہی ہر وقت نہ کہو سنو،مگر جب کہو تو ضرور وہ بات کرو ا کر چھوڑو تاکہ فرمانبرداری کی عادت پڑے لیکن ہر وقت تنگ نہ کرو۔
فقط مبارکہ
(ازمصباح دسمبر جنوری1961-62 صفحہ 15,16)
تشحیذالاذہان رسالہ کے ذریعے آپ کا پیغام بچوں کے نام
’’دعاؤں کی عادت ڈالو‘‘
پیارے بچو!ذرا سنو! تم سے بس دو باتیں کہناہیں۔زیادہ وقت نہیں لوں گی،تم چھوٹے ہو بے شک مگر دعا کرنا صرف بڑوں کا حق نہیں اس نعمت سے سبھی فائدہ اٹھانے کے حق دار ہیں۔تو تم کیوں نہ اٹھائو؟ ابھی سے دعائوں کی عادت ڈالو۔اپنے اﷲ میاں سے اپنے لئے دین و دنیا کی ہر خیر مانگو۔نیک قسمت مانگو اور دعا کیا کرو کہ مولاہر دھوکے اور فتنہ سے بچانا۔ہمیں شیطان کے پھندے میں نہ پھنسنے دینا۔ہم صادق رہیں،نیک رہیں،ہمیشہ صادقوں کے ساتھ رہیں خلافت سے وابستہ رہیں زندگی کی ہر راہ پر تو ہی ہمارا دستگیر بن جا اور رہنمائی فرما۔جب میںچھوٹی تھی،تو حضرت مسیح موعودؑ نے کئی بار فرمایا کہ میرے ایک کام کے لئے دعا کرو یا دعا کرنا۔ذرا غور کرو! کہاں وہ ہستی برگزیدہ عالیشان اور کہاں میں؟مگر آپ مجھے دعا کو کہتے! یہ اس لئے ہوتا تھا کہ بچوں کے ذہن نشین ہو جائے کہ ہم نے بھی دعائیں کرنی ہیںاور تا دعائوں کی عادت پڑے اور بچے جان لیں کہ اﷲ کا در رحمت کھلا ہے۔ مانگو گے تو پائو گے۔یہ آپ کی تربیت تھی دعا کے متعلق۔
اسی طرح حضرت خلیفہ اول(اﷲ تعالی کی ہزاروں رحمتیں آپ کی روح اقدس پر ہوں) بڑے پیار سے فرماتے کہ:’’میرے لئے دعا کرتی ہو؟‘‘’’میرے لئے بھی دعا ضرور کیا کرو! ‘‘غرض یہ سب باتیںاس لیے تھیں کہ دعاکی اہمیت دل میں جا گزیںہو جائے۔ نیز خاص تاکیدسے حضرت خلیفہ اوّل بار بار مجھے فرماتے کہ:۔’’دیکھو! اﷲ تعالی کے سامنے کوئی شرم نہیں تم چھوٹی ضرور ہومگر خدا سے دعا کرتی رہا کروکہ اﷲتعالی مبارک اور نیک جوڑادے۔‘‘
یہ بات میرے ساتھ پڑھنے والی دوسری لڑکیوں سے بھی اکثر کہی کہ:۔ ابھی سے چپکے چپکے دعائیں کرتی رہا کروکہ اﷲ تم کونیک جوڑے بخشے۔بالکل نہ شرمانا،اپنے خدا سے ہر گز نہیں شرماتے،اسی سے تو سب کچھ مانگنا ہے پس لڑکے بھی اور لڑکیاں بھی یہ دعا ضرور کیا کریں۔مگر یہ دعائیں اس لیے ہیں کہ بچے اپنی آئندہ زندگی کے لئے خزانے جمع کریں۔کہیں نیک جوڑا مانگتے مانگتے ابھی خیالی پلائو پکانے نہ شروع کر دینا! ابھی ہرگز تمہاری شادی وادی نہیں ہو سکتی،ابھی تم نے قابل بننا ہے۔انشاء اﷲ تعالیٰ
’’بری صحبت سے بچو۔برے دوستوں کو چھوڑ دو‘‘
دوسری ایک بات یہ کہ شیطان کوئی جن بھوت تو نہیں کہ خاص طور پر تم کو ڈرانے آئے گا اور تم بھاگو گے سر پٹ۔وہ تو ہر وقت آس پاس لگا لپٹا پڑا پھرتا ہے تم کو پتا بھی نہیں لگ سکتااگر تم سمجھ سے کام نہ لو تو وہ بچہ بھی بن سکتا ہے بہت لڑکے لڑکیاں شیطان ہوتے ہیں،تم دوست سمجھو گے۔سہیلیاں جانو گے اور پیار پیار میں زہر کا ٹیکہ تمہاری رگوں میں گھونپ دے گا۔بری صحبت سے بچو۔برے دوستوں کو چھوڑ دو۔ اس کی پہچان کا ایک موٹا گر، فی الحال یاد رکھو کہ جس بات کو تم اپنے والدین یا بزرگوں کے سامنے نہ کر سکو،وہ گناہ ہے وہ زہر ہے۔جس بات کو تم ان کو بتاتے رکو یا شرمائو،وہ ٹھیک نہیں جب کوئی تم کو(لڑکا،لڑکی بلکہ بڑی عمر کا معقول آدمی بھی شیطان بن کر آسکتا ہے) ایسی بات سکھائے یا بتلائے جو وہ تمہارے بزرگوںکے سامنے نہیں کہہ سکتا،تو اس سے دور بھاگو اور ہر بات بری بھلی جو سنو،ضرور اس کا ذکر اپنے ماں باپ سے کر دو مگر ہر ایک سے نہیں کہتے پھر نا۔ ماں باپ سے ذکر کرنے سے تم شیطان کے رعب سے نکل آئو گے اور تمہارے دل کو تقویت ہو گی اور تم چونکہ بچے ہو، شیطانی لوگ شکایت کر کے مفت کا دبائواور ڈر جو بٹھانا چاہتے ہیں وہ تمہارے دل سے نکل جائے گا اور تمہارے والدین عقلمندی اور خاموشی سے خود نگران بھی رہیں گے اس طرح تم کو بڑا سہارا ہو جائے گا۔تم خود بھی دوسروںکیلئے نیک نمونہ بنو۔گندی گالیاں،بازاری لوگوں سے بعض بچے سیکھ لیتے ہیںاور اس زبان کے گند سے دل میں گند پیدا ہو کر برائی پھیلتی ہے۔کبھی ایسی بات لبوں تک نہ آنے دو۔اچھے بچے بنو اور ہم جولیوں کو اچھے بننے میں مدد دو۔
اچھا خدا حافظ و ناصر
مبارکہ
(ازتشحیذالاذہان مئی 1962)

