اداریہ

اداریہ

محبت

مدثرہ عباسی ۔ مدیرہ

محبت‘‘ ایک ایسا لفظ ہے جو معاشرے میں بیشتر پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے۔ اسی طرح معاشرے میں ہر فرد اس کا متلاشی نظر آتا ہے اگرچہ ہر متلاشی کی سوچ اور محبت کے پیمانے جدا جدا ہوتے ہیں۔ جب ہم اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات چڑھتے سورج کے مانند واضح ہوتی ہے کہ اسلام محبت اور اخوت کا دین ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ تمام لوگ محبت، پیار اور اخوت کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ مگر قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں محبت کو غلط رنگ دے دیا گیا ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ ’’محبت‘‘ کے لفظ کو بدنام کر دیا گیا ہے۔ صورت حال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی سے حقیقی محبت کا اظہار کرنا چاہے تو وہ بھی تذبذب کا شکار رہتا ہے جبکہ اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ جس سے محبت ہو اس سے محبت کا اظہار بھی کیا جائے۔اس تمام صورت حال کا سبب فقط اسلامی تعلیمات سے دوری ہے۔ اسلام نے محبت کی تمام راہیں متعین فرما دی ہیں۔

قرآن و حدیث میں محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

قُل اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللہَ فاتَّبِعُونِی یُحبِبکُمُ اللہُ وَ یَغفِر لَکُم ذُ نُوبُکُم وَاللہُ غَفُوْرالرَّحِیْم۔ال عمران ۳۲

ترجمہ: تو کہہ دے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہوتومیری پیروی کرو تو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔

اس میں سر فہرست بندوں کا اپنے رب سے محبت کرنا ہے۔ تمام کائنات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کو جزو ایمان قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت پر کسی اور شخص یا چیز کی محبت غالب نہیں آتی۔مومنوں کی اس محبت کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے:

جبکہ وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ کی محبت میں (ہر محبت سے) زیادہ شدید ہیں

(البقرہ166)

اسلام امن و امان، اخوت اور محبت کا دین ہے۔ تمام لوگ معاشرے میں امن و امان اور محبت کے ساتھ پر سکون زندگی گزاریں، یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے۔ اسی طرح تمام لوگوں سے محبت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ قرآن پاک میں مسلمانوں کے آپس میں محبت کرنے کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ دنیاوی محبت میں یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کو محبت کے بدلے میں محبت ملے یا اُس شدت کی محبت ملے جس شدت سے آپ محبت کرتے ہیں مگر اللہ سے محبت کا معاملہ دوسرا ہے۔ اس کے بدلے اللہ کی طرف سے ناقابلِ بیان اور بیش بہا محبت کا تحفہ ملتا ہے ۔ ایک حدیث میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:

میرا بندہ مجھ سے جو توقع رکھتا ہے اور جیسا گمان اس نے میرے متعلق قائم کر رکھا ہے ویسا ہی مجھے پائے گا۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے تنہائی میں یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ کسی جماعت کے ساتھ بیٹھ کر مجھے یاد کرتاہے تو میں اس سے بہتر جماعت میں اس کو یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ میری طرف بالشت بھر بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں اور اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف چار ہاتھ بڑھتا ہوں اور اگر وہ میری طرف آہستہ آہستہ آتا ہے تو میں اُس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔‘‘ (بخاری ومسلم)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: محبت کوئی تصنع اور تکلف کا کام نہیں بلکہ انسانی قویٰ میں سے یہ بھی ایک قوت ہے۔ اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ دل کا ایک چیز کو پسند کر کے اس کی طرف کھنچے جانا اور جیسا کہ ہریک چیز کے اصل خواص اس کے کمال کے وقت بدیہی طور پر محسوس ہوتے ہیں (بہت کھلے اور واضح محسوس ہوتے ہیں) یہی محبت کا حال ہے کہ اس کے جوہر بھی اس وقت کھلے کھلے ظاہر ہوتے ہیں کہ جب اتم اور اکمل درجہ پر پہنچ جائے۔ خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنانا یہی محبت کا راز ہے۔ اصل عبادت وہی ہے جو محبت ذاتی سے ہو نہ کہ کسی فائدے کے لئے۔ پھر ایک جگہ سچی محبت کی علامت بیان فرماتے ہوئے آپ ؑ فرماتے ہیں کہ:خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنانا یہی محبت کا راز ہے۔ اصل عبادت وہی ہے جو محبت ذاتی سے ہو نہ کہ کسی فائدے کے لئے۔ پھر ایک جگہ سچی محبت کی علامت بیان فرماتے ہوئے آپ ؑ فرماتے ہیں کہ:

’’ محبت عجیب چیز ہے۔ اس کی آگ گناہوں کی آگ کو جلاتی اور معصیت کے شعلے کو بھسم کر دیتی ہے۔ سچی اور ذاتی اور کامل محبت کے ساتھ عذاب جمع ہو ہی نہیں سکتا اور سچی محبت کے علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کی فطرت میں یہ بات منقوش ہوتی ہے کہ اپنے محبوب کے قطع تعلق کا اُس کو نہایت خوف ہوتا ہے اور ایک ادنیٰ سے ادنیٰ قصور کے ساتھ اپنے تئیں ہلاک شدہ سمجھتا ہے اور اپنے محبوب کی مخالفت کو اپنے لئے ایک زہر خیال کرتا ہے اور نیز اپنے محبوب کے وصال کے پانے کے لئے نہایت بے تاب رہتا ہے اور بُعد اور دُوری کے صدمہ سے ایسا گداز ہوتا ہے کہ بس مر ہی جاتا ہے۔اس لئے اپنے محبوب ازلی کی جناب میں دوام استغفار اس کا ورد ہوتا ہے۔ (باقاعدگی سے استغفار کرتا رہتا ہے) ۔اگر اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا میں راضی ہوں تو بیٹھ نہیں جانا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی اطلاع ہونا اس شخص کو مزید استغفار میں اور عبادتوں میں مائل کرتی ہے اور بجا لانے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔فرمایا ’’ پس محبت کی کثرت کی وجہ سے استغفار کی بھی کثرت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا سے کامل طور پر پیار کرنے والے ہردم اور ہر لحظہ استغفار کو اپنا ورد رکھتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر معصوم کی یہی نشانی ہے کہ وہ سب سے زیادہ استغفار میں مشغول رہے۔ اور استغفار کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ ہر ایک لغزش اور قصور جو بوجہ ضعف بشریت انسان سے صادر ہوسکتی ہے اس امکانی کمزوری کو دور کرنے کے لئے خدا سے مدد مانگی جائے تا خدا کے فضل سے وہ کمزوری ظہور میں نہ آوے۔ اور مستور و مخفی رہے۔‘‘ (چھپی رہے کمزوری۔ ظاہر نہ ہو) ’’پھر بعد اس کے استغفار کے معنی عام لوگوں کے لئے وسیع کئے گئے اور یہ امر بھی استغفار میں داخل ہوا کہ جو کچھ لغزش اور قصور صادر ہو چکا خدا تعالیٰ اس کے بدنتائج اور زہریلی تاثیروں سے دنیا اور آخرت میں محفوظ رکھے۔ پس نجات حقیقی کا سرچشمہ محبت ذاتی خدائے عزّوجل کی ہے جو عجزو نیاز اور دائمی استغفار کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اور جب انسان کمال درجہ تک اپنی محبت کو پہنچاتا ہے اور محبت کی آگ سے اپنے جذبات نفسانیت کو جلا دیتا ہے تب یکدفعہ ایک شعلہ کی طرح خدا تعالیٰ کی محبت جو خدا تعالیٰ اس سے کرتا ہے اس کے دل پر گرتی ہے اور اس کو سفلی زندگی کے گندوں سے باہر لے آتی ہے اور خدائے حّی و قیوم کی پاکیزگی کا رنگ اس کے نفس پر چڑھ جاتا ہے بلکہ تمام صفاتِ الٰہیہ سے ظلّی طور پر اس کو حصّہ ملتا ہے۔ تب وہ تجلیات الٰہیہ کا مظہر ہوجاتا ہے اور جو کچھ ربوبیت کے ازلی خزانہ میں مکتوم و مستور ہے‘‘ (چھپا ہوا ہے) ’’اس کے ذریعہ سے وہ اسرار دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ خدا جس نے اس دنیا کو پیدا کیا ہے بخیل نہیں ہے بلکہ اس کے فیوض دائمی ہیں اور اس کے اسماء اور صفات کبھی معطّل نہیں ہوسکتے۔ …‘‘ (چشمۂ مسیحی روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 378-380)

اللہ تعالیٰ ہمیں ان معیاروں کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے والے اور اس سے محبت کرنے والے ہوں اور اس کی رضا کی جنتوں میں جانے والے ہوں۔آمین

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *