درس القرآن

درس قرآن کریم

Spread the love

 

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ شَيْـًٔا اِلَّآ اَنْ يَّخَافَآ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓیِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ؁فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ اَنْ يَّتَرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّآ اَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَاللّٰهِ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ؁ وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ وَ لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ مَآ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ(سورةالبقرہ آیت 230 تا 232)

ترجمہ:

ایسی طلاق(جس میں رجوع ہو سکے) دو دفعہ (ہوسکتی) ہے۔ پھر (یا تو) مناسب طور پر روک لینا ہوگا یا حسن سلوک کے ساتھ رخصت کر دینا ہوگا اور تمہارے لئے اس (مال) کا جو تم انہیں پہلے دے چکے ہو کوئی حصہ بھی (واپس) لینا جائز نہیں۔ سوائے اس (صورت) کے کہ ان (دونوں) کو اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے۔ سو اگر تمہیں یہ اندیشہ ہوکہ وہ (دونوں) اللہ کی (مقرر کردہ) حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گےتو وہ (عورت) جو کچھ بطور فدیہ دے اس کے بارہ میں ان (دونوںمیں سے کسی) کو کوئی گناہ نہ ہوگا۔ یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدیں ہیں اس لئے تم ان سے باہر نہ نکلو اور جو لوگ اللہ کی (مقرر کردہ) حدوں سے باہر نکل جائیں تو (سمجھ لو کہ) وہی لوگ (اصل) ظالم ہیں۔

پھر اگر (اوپر کی بیان کردہ دو طلاقوں کے گزر جانے کے بعد بھی خاوند اسے تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ عورت اس کے لئے جائز نہ ہوگی جب تک کہ وہ اس کے سوا (کسی) دوسرے خاوند کے نکاح میں نہ آجائے لیکن اگر وہ (بھی) اسے طلاق دے دے تو ان دونوں کو بشرطیکہ انہیں یقین ہو کہ وہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدوں کو قائم رکھ سکیں گے آپس میں دوبارہ رجوع کرلینے پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔ اور یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدیں ہیں جنہیں وہ علم والے لوگوں کے لئے کھول کر بیان کرتا ہے۔

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو۔ اور وہ اپنی مقررہ مدت (کی آخری حد) کو پہنچ جائیںتو یا تو انہیں مناسب طور پر روک لو5یاانہیں مناسب طور پر رخصت کر دو۔ اور انہیں تکلیف دینے کے لئے (اس نیت سے) کہ (بعد میں پھر) ان پر زیادتی کرو مت روکو۔ اور جو شخص ایسا کرے تو (سمجھو کہ) اس نے اپنی (ہی) جان پر ظلم کیا ہے اور تم اللہ کے احکام کو محل تمسخر نہ بناؤ اور تم پر جو اللہ کا انعام (ہوا) ہے (اس کو) یاد رکھو اور (اسے بھی یاد رکھو) جو اس نے تم پر اتارا ہے یعنی کتاب اور حکمت (کو) وہ اس کے ذریعہ سے تمہیں نصیحت کرتا ہے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ اللہ ہر ایک بات کو خوب جانتا ہے۔

تفسیر:

عام طور پر اس زمانہ کے علماء یہ سمجھتے ہیں کہ جس نے تین دفعہ طلاق کہہ دیا اس کی طلاق بائن ہو جاتی ہے یعنی اس کی بیوی اس سے دوبارہ اس وقت تک شادی نہیں کرسکتی جب تک کسی اور سے نکاح نہ کرلے مگر یہ غلط ہے کیونکہ قرآن کریم میں صاف فرمایاگیاہے اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ یعنی وہ طلاق جو بائن نہیں وہ دو دفعہ ہوسکتی ہے اس طور پر کہ پہلے مرد طلاق دے پھر یا تو طلاق واپس لےلے اور رجوع کرے یا عدت گزرنے دے اور نکاح کرے۔ پھر اَن بَن کی صورت میں دوبارہ طلاق دے۔ پس ایسی طلاق کا دودفعہ ہونا تو قطعی طور پر ثابت ہے۔ پس ایک ہی دفعہ تین یا تین سے زیادہ بار طلاق کہہ دینے کو بائن قرار دینا قرآن کریم کے بالکل خلاف ہے۔ طلاق وہی بائن ہوتی ہے کہ تین بار مذکورہ بالا طریق کے مطابق طلاق دے اور تین عدتیں گزر جائیں۔ اس صورت میں نکاح جائز نہیں‘ جب تک کہ وہ عورت کسی اور سے دوبارہ نکاح نہ کرے اور اس سے بھی اس کو طلاق نہ مل جائے۔ لیکن ہمارے ملک میں یہ طلاق مذاق ہوگئی ہے اور اس کا علاج حلالہ جیسی گندی رسم سے نکالا گیا ہے۔تمہیں یعنی ملتِ اسلامیہ یا اسلام پر ایمان رکھنے والی حکومت کو۔

اِنْ خِفْتُمْ میں بتایا گیا ہے کہ اگر محکمہ قضا اس بات کا فیصلہ کرے کہ عورت خاوند کے پاس رہنے کے لئے راضی نہیں اور اس کی نارضا مندی کی وجہ سے مرد بھی عدل نہ رکھ سکے گا‘ تو عورت اگر کچھ دینا چاہے تو مرد کو اجازت ہے کہ کچھ مال لیکر اسے طلاق دے دے۔ لیکن وہ صرف اتنا ہی مال لے سکتا ہے جتنا اس نے خود دیا ہو اور کچھ نہیں۔

بَلَغَ الْاَجَلَ کے دو معنے ہیں۔ یہ بھی کہ مدت کے خاتمہ کے قریب پہنچ گیا اور یہ بھی کہ مدت پوری کرلی۔ اس جگہ پہلے معنے مرادہیں۔ علامہ قرطبی ہسپانوی مفسر لکھتے ہیں کہ اس آیت میں اول الذکر معنوں پر تمام علمائے امت کا اتفاق ہے۔ کسی نے اس کے خلاف نہیں کہا۔ عربی کا محاورہ ہے کہ جب مسافر شہر کے قریب پہنچتا ہے تو کہتا ہے کہ بَلَغْنَا الْبَلَدَ ہم شہر پہنچ گئے۔ اُردو میں بھی یہ استعمال کثرت سے پایا جاتا ہے فَامْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ میں اس بات پر زور دیا کہ عورتوں سے دو ہی قسم کا سلوک کرنے کا حکم ہے۔ یا تو انہیں مناسب رنگ میں اپنے پاس رکھ لو یا مناسب رنگ میں رخصت کردو۔ یہ نہ ہو کہ تم اس نیت کے ساتھ رجوع کرو کہ بعد میں پھر اسے دکھ دینے کا ایک موقع تمہارے ہاتھ آجائے گا۔

’’ان کو روک لو‘‘ سے مراد یہ ہے کہ رجوع کرلو اور طلاق واپس لے لو۔ مگر فرماتا ہے یہ رجوع معروف طریق پر ہونا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ عورت کی بدنامی ہو اور یا پھر ان کو طلاق تو دے دو مگر طلاق دیتے وقت بھی یہ خیال رکھو کہ ان کے ساتھ حسن سلوک ہو۔ ان کو ذلیل اور بدنام نہ کرو۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *