شعر و شاعری

کیا ہے گر اس نے ہماری بات کی

Spread the love

سعدیہ تسنیم سحر

کیا ہے گر اس نے ہماری بات کی

ڈھل گئی ہے دھوپ اب جذبات کی

آن بیٹھے خود پرندے جال پر

دیکھی ہے بازی کبھی شہ ،مات کی

توڑ ڈالے معبد و مندر سبھی

رہ گئ ہے قدر کیا حرمات کی

مفسدو! مانگے گا جب وہ خود جواب

کیا وضاحت دو گے ان حرکات کی

چڑھ کے میرے کاندھے پر اونچے ہوئے

بات کرتے ہیں جو اب اوقات کی

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *