//شعر و شاعری ماہ ستمبر ۲۰۲۰
urdu_shairy

شعر و شاعری ماہ ستمبر ۲۰۲۰

۔

ہر ایک زخم پاؤں کا  ناسور کر دیا

شوکت سلطانہ احمد

اک مستقل سفر نے یوں محصور کر دیا

ہر ایک زخم پاؤں کا ناسور کر دیا

الفاظ تھے لپٹے ہوئے گو انگبین میں

لہجے نے اس کے دل کو میرے چور کر دیا

نہ لا سکے گا تاب تو اس نارِ عشق کی

لے آج میں نے دل کو ترے طور کردیا

رشتوں کا بوجھ ڈھویا ہے میں نے خوشی خوشی

ان کی توقعات نے مزدور کر دیا

کہتے ہیں اب ملیں گے تو اک فاصلے کے ساتھ

کیونکر بھلا یہ آپ نے دستور کر دیا؟

بھیجا دیارِ غیر میں کیونکر بیاہ کر

ماؤں نے کتنا بیٹیوں کو دور کر دیا

شوکت، ضرور جائے گی عرشِ بریں تلک

اک اشک نے دعا کو ہے بھرپور کر دیا

لہو شہیدوں کا

(نُزہت جہاں ناز)

جو برسوں پہلے بہا تھا لہو شہیدوں کا

سو بن گیا تھا وہ عنوان سب جریدوں کا

کیا تھا جامِ  شہادت انھوں نے نوش جو تب

ہُوا ہے آج وہ طالب کئ قصیدوں کا

ہے یوں تو آج اندھیرا چہار سو بکھرا

مگر ہے آس سویرا بھی آئے گا نکھرا

ڈھلے جو رات طلوع آفتاب ہو تو سہی

وطن ہمارا کبھی ماہتاب ہو تو سہی

کہ لوٹ آئے جو موسم گیا امیدوں کا

رضا خدا کی دوبارہ ملے وہی ہم کو

عطا ہو بند لفافہ انھی رسیدوں کا

کہ جن میں نام یہ شامل ہو مستفیدوں کا

غلام بن کے بِتاتے ہیں زندگانی جو

کہ بن کے رہ گئے تاریخ کی کہانی جو

جو آج نام پہ مومن کے ایک دھبّہ ہیں

بنے ہیں ٹولا وہ مغرب کے زر خریدوں کا

ہوس کے مارے ہوئے لالچی ندیدوں کا

وطن ہمارا بنا تھا خدا کے نام پہ جو

 اسی میں پڑ گیا فقدان پھر عقیدوں کا

یہ بے حسی کا کوئی خول ہے جو ٹھہرا ہے

کسی کے سر تو گیا ظلم کا یہ سہرا ہے

سسک رہی ہے جو انسانیت کا چہرہ ہے

بلکتی بھوک بھی ہے پیاس کا بھی پہرہ ہے

زمیں پہ  راج ہے ہر سمت ہی   یزیدوں کا

یہ ٹولا اپنے ہی کرتوت کے سبب آخر

بنا ہے مستحق اُتری ہوئی وعیدوں کا

یہ پاک مٹی مہکتی ہے جن کی خوشبو سے

ہم ان کے سامنے جائیں گے بھی تو کس منہ سے

شہید شان سے کیا سر اٹھائے پھرتے ہیں

طیور بن کے بہشتوں میں سائے پھرتے ہیں

ان ہی کے دم سے سلامت وطن ہمارا ہے

خدا کے بعد تو بس اک یہی سہارا ہے

بنے ہیں پیر وطن کے جو ہوں وہ شرمندہ

شہید ہو کے جیالے ہیں آج بھی زندہ

لٹا کے جان کیا حق ادا مُریدوں کا

نہ جائے گا وہ لہو رائیگاں شہیدوں کا

خدا کرے وہ بنے پھر پیام عیدوں کا

جو برسوں پہلے بہا تھا لہو شہیدوں کا…!

بعد از محبت

ارم ملک

سُنیا ایے ادھی رات نُوں او

ماہیے ٹپے گاندا اے

نالے نہر کنارے جاکے

دُکھ دی ونجلی وجاندا اے

سُنیا ایے ہن راہ بدل کے

اپنے گھر وَل جاندا اے

جس راہ وچ رل ٹُردے ساں

اُس راہ تو گھبراندا ایے

سُنیا اے ہُن اپنی ماں دی

کوئی گل اوہ مندا نیئ

دس رے سَن ہن ابے اپنےنوں

رج کے او ستاندا اے

سُنیا اے چاچے دے گھر

اُس دا ویاہ ہو نا ہے

سُنیا اے او کہندا اے

میں نیں گھر وسانا اے

سُنیا اے اجے تک اوہ مینوں

دل وِچ لے کے پھردا اے

میرے ذکر سُن لیوے تے

ہنجو اُو لُکاندا اے

سُنیا اے میرا ویاہ کدرے

اُنے ہون نیں دینا

پنڈ دے سارے مُنڈیا نُوں

دھمکیاں شمکیاں لاندا ایے

سُنیا ایے بابے دی درگاہ تے جاکے

صدقے منتاں دے آندا اے

سارے مہینے جِنے پیسے

مشکل نال کماندا اے

سُنیا اے پچھلے کئی وریا توں

سوگ دی عید مناندا اے

شوق دےنال اُس دن وِی او

کالے کپڑے پاندا اے

سُنیا اے اجے تک او مینوں

سب توں وَد کے چاہندا اے

اکثر اپنے یاراں نوں

فوٹو میرا وکھاندا اے

جتھے سچی گل کردا اے

میریاں قسماں کھاندا اے

وہ ایک شخص روح کو عجب زوال دے گیا

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

پھول سے بچھڑی خوشبو

پہلا شعری مجموعہ

ہنسی نہ دے سکا مگر مجھے ملال دے گیا

وہ ایک شخص روح کو عجب زوال دے گیا

وفا کو پھر لغات میں فریب ہی لکھا گیا

وہ چاہتوں کو دیکھئے عجب مثال دے گیا

پھر آئینے کے روبرو تمام عکس کھو گئے

بے چہرگی کو بھی نئے وہ خدو خال دے گیا

تمام عمر ہم جواب ڈھونڈتے رہیں گے اب

کمال یہ کیا ہمیں نیا سوال دے گیا

مقدروں سے کھیلتے رہیں گے روز و شب مرے

وہ وقت کی بساط پر نئی ہی چال دے گیا

عشق میں کوئی حد نہیں ہوتی

کب دواؤں کا محتاج ہوتا ہے

عشق لا علاج ہوتا ہے

اس کے اپنے اصول ہوتے ہیں

اس کا اپنا رواج ہوتا ہے

عشق کے عین سے عبادت ہے

عشق روح کا اناج ہوتا ہے

عشق جسموں کو سر نہیں کرتا

اس کا ذہنوں پہ راج ہوتا ہے

عشق میں شاہ فقیر ہوتے ہیں

عشق کانٹوں کا تاج ہوتا ہے

عشق میں کوئی حد نہیں ہوتی

عشق میں کل نہ آج ہوتا ہے

عشق خود ہی ظلم کرتا ہے

عشق خود ہی احتجاج ہوتا ہے

(نامعلوم)

کہ دنیا بھر سے لڑنے کا ارادہ کر لیا میں نے

فرحت ضیاء راٹھور ہمبر گ

وفا کے عہد کا پھر سے اعادہ کر لیا میں نے

کہ دنیا بھر سے لڑنے کا ارادہ کر لیا میں نے

میرے دل میں وساوس ہیں نہ کوئی خوف ہے دیکھو

کہ جب سے اپنے مولا پر بھروسہ کر لیا میں نے

کئی دکھ ساتھ رہتے ہیں کئی سکھ چھوڑ جاتے ہیں

یہی سب سوچ کر رب کو سہارا کر لیا میں نے

بہت تکلیف دیتی ہے یہ تنہائی چلو پھر بھی

اسی سے دل لگانے کا ارادہ کر لیا میں نے

محبت سے زیادہ عشق میں اطاعت لازم ہے

اطاعت کو محبت سے زیادہ کر لیا میں نے

مجھے جب سے لگا بچے کئی بھوکے ہیں دنیا میں

پھر اپنی زندگی کو اور سادہ کر لیا میں نے

محبت کیا عداوت کیا خدا جانے کہ کیا کیا ہے

یہی سب سوچ کر دل کو کشادہ کر لیا میں نے

لباسِ فاخرہ سے زندگی بوجھل ہی رہتی ہے

بس اب تقوی کے آنچل کو لبادہ کر لیا میں نے

فرشتوں کوملا تھا حکم کہ سجدہ میں گر جاؤ

سنا اذن خدا وندی تو سجدہ کر لیا میں نے

کسی کو زخم ہاتھوں پر نہ آئیں پھول لینے سے

یوں کانٹوں کو گلوں سے پھر علیحدہ کر لیا میں نے

نہیں معلوم کہ دنیا مجھے کیسے پکارے گی

تمہارے ساتھ چلنے کا ارادہ کر لیا میں نے

انہیں پر خار راہوں میں ضیاء جنت بھی آئے گی

اسی اک بات پر دل کو آمادہ کر لیا میں نے

غزل

آصفہ بلال پاکستان

ان کی چاہت سے مکرنا نہیں آتا مجھ کو

اور اقرار بھی کرنا نہیں آتا مجھ کو

خزاں رتوں میں بھی پھولوں سا ہے مزاج میرا

خشک پتوں سا بکھرنا نہیں آتا مجھ کو

مجھ کو کچھ سوچ کے لہروں کے حوالے کرنا

ڈوب کر پھر سے ابھرنا نہیں آتا مجھ کو

ان کو دیکھے ہوئے بھی ایک زمانہ گزرا

وہ جو کہتے تھے بچھڑنا نہیں آتا مجھ کو

میں اک خاموش سا دریا ہوں نہ چھیڑو مجھ کو

کہ سمندر سا بپھرنا نہیں آتا مجھ کو

تجھ کو بے رحمئ تقدیر نے چھینا مجھ سے

اور تقدیر سے لڑنا نہیں آتا مجھ کو

میں سادہ دل ہی سہی ،تجھ سے مگر بہتر ہوں

بات بے بات بگڑنا نہیں آتا مجھ کو

تم چلے جاو گے تو ایک قیامت ہو گی

اور قیامت سے گزرنا نہیں آتا مجھ کو

سنا ہے وقت کی ٹھوکر سدھار دیتی ہے

ایک میں ہوں کہ سدھرنا نہیں آتا مجھ کو

مجھ کو آتا ہے زمانے کو لبھانے کا ہنر

اک تیرے دل میں اترنا نہیں آتا مجھ کو

یہ میرے شعر ہی بس ایک تعارف ہیں میرا

اور کچھ خاص تو کرنا نہیں آتا مجھ کو

وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گی

پروین شاکر

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی

میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں

میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی

بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا

میں دل میں روؤں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی

وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے

میں کس سے روٹھ سکوں گی کسے مناؤں گی

اب اس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب

میں کس کی نظم اکیلے میں گنگناؤں گی

وہ ایک رشتۂ بے نام بھی نہیں لیکن

میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی

بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود

وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی

سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں

میں اب کبھی تری آواز سن نہ پاؤں گی

جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا

وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گی

*وہ اشعار جن کا ایک مصرعہ ضرب المثل کی حد تک مشہور ہوا اور دوسرا وقت کی دھول میں کہیں کھو گیا۔*

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام

*بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا*

خط ان کا بہت خوب› عبارت بہت اچھی

*اللہ کر ے زورِ قلم اور زیادہ*

نزاکت بن نہیں سکتی حسینوں کے بنانے سے

*خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے*

یہ راز تو کوئی راز نہیں ،سب اہلِ گلستان جانتے ہیں

*ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا*

داورِ محشر میرا نامہ اعمال نہ کھول

*اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں*

*میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں*

تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

*دل کےخوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے*

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو

*خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو*

غم و غصہ، رنج و اندوہ و حرماں

*ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے*

مریضِ عشق پہ رحمت خدا کی

*مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی*

آخرگِل اپنی صرفِ میکدہ ہوئی

*پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا*

بہت جی خوش ہواحالی سے مل کر

*ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں*

نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی

*بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے*

نہ گورِسکندر نہ ہی قبرِ دارا،

*مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے*

غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے

*کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا*

جذبِ شوق سلامت ہے تو انشاءاللہ

*کچے دھاگے سے چلیں آئیں گے سرکار بندھے*

قریب ہے یارو روزِمحشر، چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر

*جو چپ رہے گی زبانِ خنجر، لہو پکارے گا آستین کا*

پھول تو دو دن بہارِجاں فزاں دکھلا گئے

*حسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے*

کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ

*ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا*

خوب پردہ ہے چلمن سے لگے بیٹھ ہیں

*صاف چھپتے بھی نہیں ، سامنے آتے بھی نہیں*

*اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا*

لڑتے بھی ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

چل ساتھ کہ حسرت دلِ مرحوم سے نکلے

*عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے*

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے

*ھوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے*

شریر بچے

ہم کو ہے فخر اس پر ہم ہیں شریر بچے

ماہر ہیں اپنے فن میں ہم بے نظیر بچے

پلے کو گھر میں لائیں بانہوں میں ہم جکڑ کر

موقع ملے تو کھینچیں بلی کی دم پکڑ کر

دیکھیں اگر گدھے کو داغیں اسے سلامی

اپنا جو بس چلے تو اس کی کریں غلامی

بکرے پہ بیٹھ کر ہم گلیوں میں روز گھومیں

چوں چوں کرے جو چوزہ اس کو ضرور چومیں

بستر کی سبز چادر خرگوش کو اڑھا دیں

منّو کی لال ٹوپی بکرے کو ہم پہنا دیں

دادا میاں کا چشمہ آنکھوں میں ہم لگا کر

رستہ چلیں کمر کو اپنی ذرا جھکا کر

آیا نصیحتوں پر ہم کو نہ کان دینا

مرغوں کے ساتھ مل کر بھائے اذان دینا

باجی کا ہر دوپٹّہ اپنا بنے عمامہ

جوکر بنیں پہن کر بھیا کا پائجامہ

صوفوں پہ خوب کوویں اُودھم بہت مچائیں

مل جائے جو کنستر پھر ڈھول ہم بجائیں

گرمی کی دوپہر میں باغوں کی خاک پھانکیں

چڑیوں کے گھونسلوں میں جاجا کے روز جھانکیں

امرود ہوں جو کچّے ان کو ضرور توڑیں

سب کام چھوٹ جائے یہ کام ہم نہ چھوڑیں

پانی میں رنگ گھولیں اس کا بنائیں شربت

پیڑوں پہ چڑھ کے بیٹھیں سمجھیں اسے ہی پر بت

کُتے کو دیکھتے ہی دوڑائیں لے کے ڈنڈا

اپنی بہادری کا لہرائیں خوب جھنڈا

یاروں کے ساتھ مل کر قوّالیاں بھی گائیں

طبلہ بجائیں منہ سے اور تان بھی اڑائیں

انصاف ور ہیں جتنے وہ اس کو مانتے ہیں

دنیا کی ہر شرارت ہم خوب جانتے ہیں

ہم کو ہے فخر اس پر ہم ہیں شریر بچے

ماہر ہیں اپنے فن میں ہم بے نظیر بچے

بہاریں لَوٹ آئی ہیں!!(سندیسہ )

طاہرہ زرتشت ناز

بہاریں لوٹ اَئی ہیں،

فِضائیں رنگ لائی ہیں

چمن میں جس طرف بھی دیکھو

کَلیاں مسکرائی ہیں

ہَوَائیں گُنگُنَا ئی ہیں

خِزاں کے تُند موسَم میں

دَیارِ غیر کی جانِب

جو پنچھی جا چکے تھے

آشیاں میں لوٹ آئے ہیں

بس اب اتنا ستاؤ نا!

میری جاں لوٹ آؤ نا!

ٹھٹھرتے تھے جو پت جھڑ میں

وہ سارے نخلِ بے مایہ

حسیں مخمل کی تابندہ

رِدائیں اوڑھ آئے ہیں

پرندے چہچہا ئے ہیں

ہوا نےگیت گائے ہیں

بس اب اتنا ستاؤ نا!

میری جاں لوٹ آؤ نا!

گگن پہ چاند نِکلا ہے

ستارے جِھلمِلائے ہیں

منڈیروں پر تمنّا کے

دیے ہم نے جلائے ہیں

تیری ہر راہگزر پر پھر

ستارے جِھلملائے ہیں

کہ اب تم لوٹ آؤ نا!

میری جاں لوٹ آؤ نا!

ادھر کچھ دور جنگل میں

حسیں پربت کی وادی میں

ہوائیں شور کرتی ہے

اداسی زور کرتی ہے

رگوں میں زہر کی صورت

دبے پاؤں اترتی ہے

جگر کا خون کرتی ہے

بس اب اتنا ستاؤ نا

میری جاں لوٹ آ ؤ نا!

چھپے پھر چاند بادل میں

اور ہر اِک آس کھو جائے

بس اب اتنا ستاؤ نا!

میری جاں لوٹ آؤ نا!!

بہاریں جب بھی آتی ہیں

گل و بلبل کے قِصّے

پیار کے آ کر سناتی ہیں

فضائیں گنگناتی ہیں

کوئی لیلٰی کسی مجنوں کے،

جیسے گیت گاتی ہے

کسی فرہاد کے قصّے،

کوئی شیریں سناتی ہے

میرے محبوب بس تم ہو!

ھمیں تم یاد آتے ہو!

ہمیں تم کیوں ستاتےہو

ابھی کچھ وقت ہے جاناں!

ابھی کچھ سانس ہیں باقی

جب آنکھیں مندھ گئیں جاناں!

جو تم ھم کو بلاؤ گے

نہ ھم پھر لوٹ پائیں گے

ہمیں اتنا ستاؤ نا!

میری جاں لوٹ آؤ نا!