ہمارا صبر ہر پل آزماتے ہو
بشریٰ سعید عاطف
کبھی مندر کبھی مسجد کو ڈھاتے ہو
خدا کا قہر ہر لمحہ کماتے ہو
مسلماں تم فقط بس نام کے ہو اب
جہالت اپنی، دنیا کو دکھاتے ہو
ہمیشہ پیروی شیطاں کی تم نے کی
خدا کے حکم پر سر کب جھکاتے ہو
اُسی کی ہے زمیں، احکام بھی اُس کے
ہو اندھے تم کسے آنکھیں دکھاتے ہو
جہاں میں نفرتوں کا ہو سبب تم ہی
نیا ہر روز فتنہ تم اٹھاتے ہو
خدا کے کیوں غضب کو دیتے ہو آواز
لگا کر آگ گھر میرا جلاتے ہو
یہ کیسی ہے تمہاری کج روی سوچو
ہمارا صبر ہر پل آزماتے ہو
نہیں آنے کی باتوں میں تری بشریٰ
ستم کیوں ایسے اُس کی جاں پہ ڈھاتے ہو

