مجھے اپنا ستارا ڈھونڈنا ہے
نفیسہ محمود بانو
ابھی خود کو بھی ہم نے جانچنا ہے
تری نظروں کو بھی پہچاننا ہے
ہمارے دل تلک تو آن پہنچے
تمہارے دل میں کیا ہے سوچنا ہے
ستاروں سے بھری اس کہکشاں میں
’’مجھے اپنا ستارا ڈھونڈنا ہے‘‘
میں اس کا عکس اور وہ عکس میرا
میں اس کا اور وہ میرا آئینہ ہے
کبھی پونچھا تھا جو آنچل سے آنسو
وہیں پر اک گرہ کو باندھنا ہے
انا کو مات دینی ہے تمہاری
تمہاری ضد کو بھی تو توڑنا ہے
نہیں اب دیکھ پائیں گے ہم ان کو
یہ دکھ بھی اب ہمیں کو جھیلنا ہے
کبھی سوچا نہیں تھا ہم نے یہ تو
کہ جیون اس طرح بھی کاٹنا ہے
بہت ٹوٹی ہوں بکھری ہوں میں بانو
نہ جانے کیسے خود کو جوڑنا ہے

