شعر و شاعری

غزل

Spread the love

فرحت ضیاء جرمنی

حد سے ذیادہ ناز اٹھایا کرے کوئی

اچھا سا نام لے کے بلایا کرے کوئی

روٹھے ہوئے بھی خود سے زمانہ گذر گیا

جی چاہتا ہے اب تو منایا کرے کوئی

مدت کے بعد روئے ہیں خود سے لپٹ کے ہم

اب اس طرح تو یاد نہ آیا کرے کوئی

یہ دھوپ زندگی کے سبھی رنگ لے اڑی

لاتے کہاں سے ایسا جو سایا کرے کوئی

رنجش گلے شکایتیں سب زندگی کے ساتھ

یوں زندگی سے روٹھ نہ جایا کرے کوئی

سب تتلیاں چمن سے کہیں دور جا بسیں

کیا خوشبووں کے دیس سے لایا کرے کوئی

ننھی سی ایک خواہش دل میں مچلتی ہے

پہلو میں لے کے لوری سنایا کرے کوئی

آنچل تھا ماں کا میرے لئے آسماں ضیاء

اب کیسے تارے توڑ کے لایا کرے کوئی

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *