غزل
فرحت ضیاء جرمنی
حد سے ذیادہ ناز اٹھایا کرے کوئی
اچھا سا نام لے کے بلایا کرے کوئی
روٹھے ہوئے بھی خود سے زمانہ گذر گیا
جی چاہتا ہے اب تو منایا کرے کوئی
مدت کے بعد روئے ہیں خود سے لپٹ کے ہم
اب اس طرح تو یاد نہ آیا کرے کوئی
یہ دھوپ زندگی کے سبھی رنگ لے اڑی
لاتے کہاں سے ایسا جو سایا کرے کوئی
رنجش گلے شکایتیں سب زندگی کے ساتھ
یوں زندگی سے روٹھ نہ جایا کرے کوئی
سب تتلیاں چمن سے کہیں دور جا بسیں
کیا خوشبووں کے دیس سے لایا کرے کوئی
ننھی سی ایک خواہش دل میں مچلتی ہے
پہلو میں لے کے لوری سنایا کرے کوئی
آنچل تھا ماں کا میرے لئے آسماں ضیاء
اب کیسے تارے توڑ کے لایا کرے کوئی

