//شعر و شاعری اکتوبر ۲۰۲۰
urdu_shairy

شعر و شاعری اکتوبر ۲۰۲۰

تو میری بندگی کا حاصل ہے تو مجھے زندگی سے پیارا ہے

سعدیہ تسنیم سحر

لے تیرے در پہ ا کے بیٹھ گے ،دامن دل کو خوب جھاڑا ہے،

چاہ دنیا کو چاہ میں ڈالا ،فکر دنیا فقط خسارا ہے

تیری چوکھٹ پہ سر رہے گا یونہی بس یہی اخری اشارا ہے

تو میری بندگی کا حاصل ہے تو مجھے زندگی سے پیارا ہے

یہ جو سورج کی قہر ناکی ہے اس میں تیرا جلال ہوتا ہے

اور بارش میں بھیگتی وادی اس میں تیرا جمال ہوتا ہے

ہر نظارے میں ہے جھلک تیری یہ تیرا ہی تو استعارا ہے

تو میری بندگی کا حاصل ہے تو مجھے زندگی سے پیارا ہے

دیکھ تو میرےخانہ دل میں ،خواہش سیم وزر نہیں باقی

تو نے بن مانگے دے دیا سب کچھ  کوئ حسرت نہیں رہی باقی

تجھ کو پایا ہے اپنے پہلو میں  ،دل سے جب بھی  تجھے پکارا ہے

تو میری بندگی کا حاصل ہے تو مجھے زندگی سے پیارا ہے

تیرے بندوں سے پیار کرتی ہوں اور انکا خیال رکھتی ہوں

تیرے بندوں میں تجھ کو پاتی ہوں لذت بے بہا کو چکھتی ہوں

حق دنیا نباہ کے پیارے اپنی ہستی کو یوں سنوارا ہے

تو میری بندگی کا حاصل ہے تو مجھے زندگی سے پیارا ہے

اہ ساری عمر کے یہ کھاتے ،کچھ نہیں ہیں فقط اذیت ہیں

تھے دکھاوے کے سب رکوع وسجود ،کتنے خالی ہیں بے حقیقت ہیں

وقت رخصت تو یاد ایا ہے ،تیری رحمت کا بس سہارا ہے

تو میری بندگی کا حاصل ہے تو مجھے زندگی سے پیارا ہے

ززز

نعتِ رسولِ مقبولؐ

(نُزہت جہاں ناز کراچی)

دردِ دِل اُمّت کا جب تک ہو نہ سینے میں تِرے

خاک آئے گا مزہ پھر ، ناز ، جینے میں تِرے

پیاس بھی کیسے  بُجھے جب تک  نہ آئے ہاتھ  میں

حوضِ کوثر سے میسّر جام پینے میں تِرے

اے شہِ یثربؐ کہ مل جائے مجھے دو گز سہی

بعد از انجام اک گوشہ مدینے میں تِرےؐ

ہو صِراطِ استقامت پر کہ جو محوِ سفر

سُوئے منزل ہوں رواں ہم  اُس سفینے میں تِرےؐ

بس شفاعت چاہیے میدانِ محشر میں ہمیں

روزِ آخر اک زرا حصّہ خزینے میں تِرےؐ

دو جہاں چمکا گئی اِس دینِ روشن کی ضِیا

رہتی دُنیا تک نبوّت کے نگینے میں تِرےؐ

برکتیں بخشیں خُدا نے سنتّوں کے رُوپ میں

جھولیاں بھر لیں وِلادت کے مہینے میں ترےؐ

ززز

عجیب ہوتی ہے یہ محبت

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

عجیب ہوتی ہے یہ محبت
نصیب والوں کے دل میں

جب بھی یہ جاگتی ہے
تو پہلے نیندیں اُجاڑتی ہے
یہ جھومتی ہے، یہ ناچتی ہے
یہ پھیلتی ہے، یہ بولتی ہے
ہر ایک لمحہ ہر ایک وعدے کو تولتی ہے
یہ اپنے پیاروں کو مارتی ہے
صلیب ہوتی ہے یہ محبت
عجیب ہوتی ہے یہ محبت..
یہ پھیلتی ہے تو پیڑ بنتی ہے،
چھاؤں کرتی،یہ روپ دیتی
یہ چھاؤں کر کے بھی دھوپ دیتی
کبھی کبھی تو بس آپ اپنی
رقیب ہوتی ہے یہ محبت
عجیب ہوتی ہے یہ محبت
لہو کی صورت رگوں میں دوڑے
یہ خواب بن کر نظر میں ٹھہرے
سحاب بن کر فلک سے برسے
اسے جو دریا میں ڈال آؤ
تو اک سمندر کا روپ دھارے
کہیں جو صحرا میں گاڑ آؤ
تو پھول بن کر دلوں میں مہکے
اسے جو دیوار میں بھی چُن دو
تو ہر کلی میں ہو عکس اس کا
ہر اک گلی میں ہو رقص اس کا
عجیب ہوتی ہے یہ محبت
حبیب ہوتی ہے یہ محبت
کسی کسی کو کسی کسی کو
نصیب ہوتی ہے یہ محبت

ززز

جودل سے دیکھیں وہ مولا دکھائی دیتا ہے

امة الباری ناصر

جودل سے دیکھیں وہ مولا دکھائی دیتا ہے

صفات وذات  کا   جلوہ     دکھائی     دیتا    ہے

وہ مغفرت  کا ہے عادی میں ہوں گناہ میں غرق

نہ اُس سا کوئی، نہ مجھ سا دکھائی دیتا ہے

قرآنِ پاک کے ہر لفظ میں خدا کی قسم

نبئِ پاکؐ کا چہرہ دکھائی دیتا ہے

یہ فاصلے یہ زمان و مکاں کیا معنی

ہمیں تو دل میں مدینہ دکھائی دیتا ہے

بہت اُداس ہیں شام و سحر  جدائی میں

بہت طویل یہ عرصہ دکھائی دیتا ہے

اگرچہ آج مصائب کی زد میں ہیں ہم لوگ

مگر اُفق پہ اُجالا دکھائی دیتا ہے

ززز

ہوتے ہیں بہت دوست پیارے نہیں ہوتے

فرحت ضیاء راٹھور

قسمت میں سبھی کی یہ ستارے نہیں ہوتے

ہوتے ہیں بہت دوست پیارے نہیں ہوتے

جینے کا ہنر جانتا چاہا تو یہ جانا

منزل کو جو پاتے ہیں کنارے نہیں کھوتے

چمکیں نہ تیری یاد سے پلکوں پہ ستارے

سمجھو کہ وہ لمحے ہی گذارے نہیں ہوتے

سو دیپ جلاتے ہیں میری آنکھ کے آنسو

شب بھر یہ تیرے درد کے مارے نہیں سوتے

وا چشم بصیرت کرو اے اہل گلستاں

ہر لمحہ تو پھر ایسے اشارے نہیں ہوتے

جل جاتے کڑی دھوپ میں اوروں کی طرح ہم

گر ساتھ دعاوں کے سہارے نہیں ہوتے

ہو فکر ضیاء تلخئ انجام کی جن کو

رستے میں کسی کے وہ شرارے نہیں بوتے

ززز

غزل

امتیاز بٹ تاج ہالینڈ

تم کو گر تعزیر لگانی آتی ہے

ہم کو بھی آواز اٹھانی آتی ہے

ممکن ہو انصاف اگر ایوانوں میں

ہم کو بھی زنجیر ہلانی آتی ہے

لفظوں کا محتاج نہیں وہ شخص جسے

نظروں سے ہر بات بتانی آتی ہے

عنبر بار ہوائیں جھوم کے گاتی ہیں

یاد مجھے اک شام سہانی آتی ہے

اُلجھے سے کچھ خواب ہیں میرے جیون میں

کیا تم کو تعبیر بتانی آتی ہے

لفظوں کی گر خوب جگالی کرلو تم

شعروں میں بھر پور روانی آتی ہے

محفل ہو باذوق سماعت والوں کی

تاج کو بھی پھر غزل سنانی آتی ہے

ززز

دل کی اُجڑی محرابیں آس کا دیا خالی

فہمیدہ مسرت احمد- جرمنی

بے بسی کے ساحل پر ناچتی ہوا خالی

دل کا بُجھ گیا دیپک اور طاقچہ خالی

زیست کا مری جس نے زاویہ  بدل ڈالا

وہ اسے سمجھتا ہے ایک حادثہ خالی

کھوکھلا کیا اس کو یوں انا کی دیمک نے

بھیجا ہے ستم گر نے پھر مُراسلہ خالی

میکدے پہ کیا گزری پوچھنا ہے ساقی سے

’’رند ہیں بھرے بیٹھے اور میکدہ  خالی‘‘

موتیوں کا پلکوں پر گو ہے اک چراغاں سا

دل کی اُجڑی محرابیں آس کا دیا خالی

وقت نے بدل ڈالے کتنے خال و خد میرے

مجھ کو تکتا رہتا ہے آج آئینہ خالی

سوچ کے جزیروں پر درد کا بسیرا ہے

اک ذرا مسرت ہے دل کا واسطہ خالی

ززز

دل میں ایک غزل کہنے کی چاہ مچلتی جائے گی

شوکت سلطانہ احمد جرمنی

جوں جوں شام کی لالی سرمئی شب میں ڈھلتی جائے گی

فکر کے ساگر میں ڈوبی اک سوچ سنبھلتی جائے گی

چلتے پھرتے یوں ہی  کوئی مصرع ذہن میں آئے گا

دل میں ایک غزل کہنے کی چاہ مچلتی جائے گی

کچھ حرفوں کی کوکھ سے اک پیارا سا مطلع جنمے گا

ایک ردیف البیلی سی ہر شعر میں چلتی جائے گی

طائر ایک تخیل کا بھی لفظ کی شاخ پہ بیٹھے گا

اور اس کی پرواز اک سندر تال میں ڈھلتی جائے گی

بحر میں کچھ افعال کی غوطے بہت قوافی کھائیں گے

پر ان کو موجِ اوزان سے ہمت ملتی جائے گی

کچھ تمثیلیں اور تشبیہیں بن پروانہ لپکیں گی

آس ملن کی لے کر جوت غزل کی جلتی جائے گی

مقطع میں جڑنے کو شوکت ایک تخلص ڈھونڈے گی

جذبوں کی شیرینی سب اشعار میں گھلتی جائے گی

ززز

غزل

صادقہ قمر

رخصت ہوئی ہے رات اور ستارے چلے گئے

غم خوار جو رہے ہیں ہمارے چلے گئے

ہوتے ہی صبح پتہ ان کا کچھ نہ چل سکا

جانے کدھر وہ ہجر کے مارے چلے گئے

آئینہ ان کو دیکھ کر گو آب آب تھا

وہ بیٹھے اپنی زلف سنوارے چلے گئے

میں نے تو ہونٹ سی لیے اس  دل کا کیا کروں

ہم بے خودی میں ان کو پکارے چلے گئے

اہل ستم کے دل کو نہ گرماسکی مگر

آہوں کے آسماں پر شرارے چلے گئے

جن دوستوں سے ہم کو توقع وفا کی تھی

وہ راہ میں ہم کو چھوڑ کر سارے چلے گئے

بیٹھی ہوئی ہے کس لیے حیران تو یہاں

چل تو بھی اٹھ کہ لوگ تو سارے چلے گئے

اندھیروں سے کس لیے ہو اداس صادقہ

قمر کے ساتھ ساتھ ستارے چلے گئے

ززز

اے ماؤں بہنوں بیٹیو

صفیہ چیمہ۔فرینکفرٹ

اے ماؤں بہنوں بیٹیو

قرآن کو تم سب پڑھو

احکام اللہ کے سنو

آقائے خامس کہہ گئے

صفتیں یہ تم پیدا کرو

بن جاءو تم اک مسلمہ

طاعت کو تم لاءو بجا

ہو جاءو تم اک مومنہ

روشن رہے چہرہ ترا

بن  جاءو تم اک قانتہ

راضی ہو تم سے وہ اللہ

سچی بنو اک صادقہ

ڈر نہ رہے شیطان کا

ہر حال میں ہو صابرہ

ہر دُکھ میں    سُکھ  میں باوفا

اس شان کی ہو خاشعہ

دل میں صرف خوفِ خدا

بن کے رہو متصدقہ

رہے دایاں ہاتھ کھلا کھلا

رکھو روزے بن جاءو صائمہ

شبِ قدر ہو  تم کو عطا

نفس اپنے کی ہو حافظہٰ

پاکیزگی شرم و حیا

حمد و ثنا سے اے ذاکرا

لب و دل ہمیشہ رہے بھرا

بن جاءو تم اک مسُلمہ

اک مومنہ اک قانتہ

اک  صادقہ  اک صابرہ

اک خاشعہ متصدقہ

اک صائمہ اک حافظہ

کیسی بنیں تم ذاکرا؟

لو جانچ اپنے کو ذرا

پُوری ہیں گر ساری صفا

اللہ نے خود وعدہ دیا

انعام بخشش کا دیا

کس شان کی آیت ہوئی

یہ سورة الاحزاب کی

جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۰۹ کے موقع پر جلسہ گاہ مستورات میں خطاب کے بعد لکھی گئی۔یہ خطاب سورة الاحزاب کی آیت ۳۶ کے موضوع پر تھا۔

ززز

سفر محبت

منصورہ فضل منؔ بھارت

سنا ہے سفرِ محبت پہ لوگ جب نکلیں

تو روشنی سی نگاہوں میں چگمگاتی ہے

کہ جگنوؤں کی چمک راستہ دکھاتی ہے

نئ امنگوں سے دنیا سنور سی جاتی ہے

ہر ایک شہء یہاں دل کو بہت لبھاتی ہے

مگر یہ کیا کہ محبت ہے نام مرنے کا

کسی کے واسطے خوشیوں سے پھر بچھڑنے کا

نکل پڑے ہو محبت کے جس سفر پہ تم

نہیں ہیں راہ میں گل ہی

بہت سے خار بھی ہیں

تو ساتھ باندھ لو رخت سفر میں صبر زرا

بڑا کٹھن ہے مری جاں سفر محبت کا

ملیں گی تم کو جو تنہا خموش شامیں بھی

اداسیوں کے پرندے بھی ساتھ ہو لیں گے

یہ آنسوؤں کے سمندر سمبھال کر رکھنا

کہ بیچ راہ میں ڈوبے بہت سفینے بھی

تو ساتھ باندھ لو رخت سفر میں صبر زرا

بڑا کٹھن ہے مری جاں سفر محبت کا

بہار آئے گی لیکن خزاں کا رنگ لیے

ملیں گے لوگ بھی ہاتھوں میں اپنے  سنگ لیے

محبتوں کے مسافر سمبھل سمبھل کے چلو

کہ اس سفر میں تو ملتی نہیں کوئ منزل

ہاں ساتھ باندھ لو رخت سفر میں صبر زرا

بڑا کٹھن ہے مری جاں سفر محبت کا

ززز

پابلو نیرودا کی ایک نظم کا ترجمہ

مترجم  قدسیہ عالم

نظم

قصئہ پارینہ بن جاتا ہے رفتہ رفتہ

وہ جو سفر نہیں کرتا

کتاب نہیں پڑھتا

موسیقی نہیں سنتا

جو آنکھوں سے نہیں کھوجتا

مر جاتا ہے وہ رفتہ رفتہ

قصئہ پارینہ بن جاتا ہے وہ رفتہ رفتہ

جس کے لئے

آسان ہے خود کو مارنا

اور مشکل ہے مدد مانگنا

مر جاتا ہے وہ رفتہ رفتہ

قصئہ پارینہ بن جاتا ہے وہ رفتہ رفتہ

جو بدلاؤ سے گھبراتا ہے

اس لئے

روز ایک ہی رستے پر جاتا ہے

کپڑوں کا رنگ نہیں بدلتا ہے

اور مخاطب ہو اجنبی تو ڈرتا ہے

مر جاتا ہے وہ رفتہ رفتہ

جو کوئی شوق نہیں پالتا

جو بات کو خوبصورت جذبوں میں نہیں ڈھالتا

وہ جذبے

جو آنکھوں میں رنگ بھرتے ہیں

اور دکھوں پہ مرہم دھرتے ہیں

مر جاتا ہے وہ رفتہ رفتہ

جو غم جاں اور غم جاناں کے صدموں سے چور ہے

پر یہ کانٹوں بھری راہ بدلنے سے مجبور ہے

جو خطرات سے نہیں کھیلتا

اورخواب پورے کرنے کے

دکھ نہیں جھیلتا

اور نصیحت سے سدا رہے رخ پھیرتا

ہاں مر جاتا ہے وہ رفتہ رفتہ

تو سنو

اٹھو

حرکت کرو

کہ حرکت میں مالک نے رکھی ہے برکت

خود کو رفتہ رفتہ مرنے نہ دو

خوشی کو خود سے بچھڑنے نہ دو

ززز

کی پردیس دا جیناں
بشریٰ ناہید غزل ؔ

وطناں بیٹھے ساگ وی چنگا
بار پرونٹھے کوڑے
وطناں ننگی منجی چنگی
بار دے صوفے سوڑے

کون جدائی کٹ دا ریہندا
کون کرے گا موجاں
عیداں تے شبراتاں آئیاں
کی پردیس دا جیناں

دیس بدیس دا پینڈا اوکھا
کی پچھدے او یارو
گھر دی سکی مسی کھالو
پردیس کدی نہ جاوو