شعر و شاعری

وہ اشعار جن کا دوسرا مصرعہ ضرب المثل کی حد تک مشہور ہوا

Spread the love

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام

*بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا*

(مصطفیٰ خان شیفتہ)

گلہ کیسا حسینوں سے بھلا نازک ادائی کا

*خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے*

(سرور عالم راز سرور)

داورِ محشر میرا نامہ اعمال نہ دیکھ

*اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں*

(ایم ڈی تاثیر)

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

*تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے*

(مصطفیٰ زیدی)

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو

*خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو*

(میانداد خان سیاح)

غم و غصہ، رنج و اندوہ و حرماں

*ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے*

(حیدر علی آتش)

مریضِ عشق پہ رحمت خدا کی

*مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی*

(نا معلوم)

آخر گِل اپنی صرفِ میکدہ ہوئی

*پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا*

(مرزا جواں بخت جہاں دار)

بہت جی خوش ہوا حالی سے مل کر

*ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں*

(مولانا الطاف حسین حالی)

نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی

*بہت دیر کی مہرباں آتے آتے*

(داغ دہلوی)

نہ گورِ سکندر نہ ہے قبرِ دارا

*مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے*

(حیدر علی آتش)

غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے

*کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا*

(چراغ حسن حسرت)

جذبِ عشق سلامت ہے تو ان شاء ﷲ

*کچے دھاگے سے چلیں آئیں گے سرکار بندھے*

(انشاللہ خان انشاء)

قریب ہے یارو روزِ محشر، چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر

*جو چپ رہے گی زبانِ خنجر،l لہو پکارے گا آستین کا*

(امیر مینائی)

پھول تو دو دن بہارِ جاں فزاں دکھلا گئے

*حسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے*

(شیخ ابراھیم زوق)

کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ

*ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا*

(مرزا غالب)

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھ ہیں

*صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں*

(داغ دہلوی)

چل ساتھ کہ حسرت دلِ مرحوم سے نکلے

*عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے*

(فدوی لاہوری)

مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا

*اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا*

(میر طاہر علی رضوی)

لائے اس بت کو التجا کر کے

*کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے*

(پنڈت دیال شنکر نسیم لکھنوی)

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

*شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات*

(علامہ اقبال)

جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو

*جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی*

(علامہ اقبال)

اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں

*اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں*

(شعیب بن عزیز)

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں

*بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے*

(پروین شاکر)

برباد گلستاں کرنے کو، بس ایک ہی الو کافی تھا

*ہر شاخ پہ الّو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہو گا*

(شوق بہرائچی)

ادائے خاص سے غالبؔ ہوا نکتہ سرا

*صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیئے*

(مرزا غالب)

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *