//کرارا طما نچہ (اچھی آپا)
slapped

کرارا طما نچہ (اچھی آپا)

تحریر جمیلہ صدیقہ

اسفند کے ساتھ رات کے بارہ بجے کمپیوٹر پہ بیٹھے دیر رات مستی کرتے ہوئے اچانک اسے لگا دل بیٹھ سا گیا تھا یہ تو اس کا اور اسفند کا روز کا معمول تھا جب سے واپڈاجوائن کیا دونوں ہر مستی شرارت سیروتفریح میں ساتھ ساتھ تھے حتیٰ کہ جب نیٹ آیا اور پھر نیٹ نے دیر رات کے پروگرامز میں ایڈوانس ترقی کی تب بھی وہ اس میں مل کر اکٹھے بیٹھ کر ہی حصہ لیتے پہلے انکے گھر دُور تھے تو کوئی تقریب میں ہی اکٹھے ہوتے اور رات رات بھر گپ شپ چلتی تھی دونوں کی بیویاں بھی گہری دوست بن چکی تھیں ایک دوسرے کی شکایتیں ہوتیں گلے شکوے یوں لگتا ایک ہی فیملی سے ہوں — رضا کی دو بیٹیاں تھیں اور اسفند کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا وہ بھی آپس میں اچھے دوست تھے یوں سب ہی مل کر اتنا اپنے رشتہ داروں میں انجوائے نہ کرتے جتنا آپس میں ۔

۔ دیر رات آن لائین چیٹ کا مشغلہ بھی اسفند کی پیشکش تھی سو وہ دونوں بہت دیر تک رات کے کھانے کے بعد کبھی اسفند کبھی رضا کے گھر ایسی سرگرمیوں میں مگن رہتے اور خوب ہسنتے اس کام کے لئے انہوں نے کمپیوٹر کا علیحدہ سے کیبن نما کمرہ بنا لیا تھا کہ بچے نہ دیکھ لیں بیویاں تو اُڑتی چریا کے پر گن لیتی ہیں لیکن بول کر لڑائی کر کر کے دونوں ہی خاموش ہو گئیں کہ دونوں کا جواز تھا کہ وہ کونسا غلط کرتے ہیں بس تھوڑی دیر تک فیس بک ہی دیکھتے ہیں حالانکہ جو وہ دیکھتے اور کرتے تھے شاید اگر انکی بیویاں دیکھ لیتیں تو کبھی بھی معاف نہ کرتیں ،دونوں کو اس لائیو ویڈیو چیٹ کی لت پڑ چکی تھی گوہ کہ گھر کے ماحول کو بنائے رکھنے کے لئے ساتھ ساتھ پوسٹ بھی کرتے جاتے تاکہ اُنکی اس ایکٹیویٹی کی بھنک بھی نہ پڑے ۔کتنی لڑکیاں اپنے چہرے کے اعضا سے لے کر جسم کے نمائیش  تک کا خراج اُن سے وصول کر چکیں تھیں اور وہ بھی ادھر اُدھر کے وصولیاں ایسے ہی اُڑا دیتے تھے آئے دن نئی فرینڈ بنانا اور پھر رات بھر آنکھوں کی تسکین کے لئے نامحرم عورتوں اور بچیوں کو بے لبادہ کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا ؛ یہ ہی نئی تہذیب کی ترقی تھی جس نے پیسے کے لالچ میں مرد و زن کو اسلام کی تعلیم پردے ، محرم نامحرم سے پیار سے بات کرنا ، اپنے جسم کی نمائیش سے منا ہی کے اصول سے دور اور بیگانہ کردیا تھا ایسے مرد اپنی حرام اور رشوت کی کمائی لٹُا رہے تھے اور ان کی دیکھا دیکھی بعض غریب لیبر طبقہ کے بچے اس بے راہروی کاشکار ہو کر چوریوں چکاریوں تک کو جائز سمجھ رہے تھے اور شریف گھروں کی لڑکیاں اپنے والدین سے چوری گئے رات تک اس گھناؤنے اور حرام کام میں ملوث ہو رہی ہیں نیٹ ایک اہم اور مفید ایجاد ہے اگر نئی نسل کی صحیح سمت میں راہ نمائی کی جائے تو اس سے حلال طریقے سے بھی کمائی کے بہت ذریعے ہیں لیکن اگر تھوڑی محنت سے چند گھینٹوں میں لاکھوں مل جائیں تو نا پختہ ذہن پیسے اور نام نہاد ترقی کی دوڑ میں سب ہی حلال سمجھ لیتے ہیں جہاں رضا اور اسفند جیسے بڑی عمر کے مرد جن کی اپنی بیٹیاں جوانی کی حدود میں قدم رکھ رہی تھیں انکے لیئے رات کو دعا کے لیئے ہاتھ اُٹھانے کی بجائے دوسروں کی بیٹیوں کو منع کرنے کی بجائے ان کے اس کام کی تعریف و توضیح میں لگے ہوں تو وہاں اصلاح کی امید اور بہتری کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے –  پر قانون قدرت ہے دھوکہ ہو یا زنا کاری ، فریب کاری ہو کہ قتل وغارت گری سب اپنے مالک کے گھر واپس آکر ہی مرتے ہیں آج وہی رضا اور اسفند کے ساتھ ہونے جا رہا تھا جس کا انکے وہم اور گمان میں بھی نہ تھا رضا کی نظر نوجوان لڑکی کے مُکھڑلےکے اوپر سے نیچے حرکت کرتے ہوئے پہلے ہونٹوں پہ پھر جب آنکھوں پہ پڑی تو دل ایک نہیں دوتین بار بڑے زور سے سینے کی دیواروں سے تقریباچیختے ہوئے ٹکرایا تھا اسے پسینہ آنے لگا دل لگی کی جگہ خوف اور وہم نے لے لی اُس سے بیٹھا نہ گیا وہ اسفند سے بہانہ کرکے اُٹھ کر آگیا  حیرت ہے اسفند وہ سب نہ سمجھ سکا تھا – جو رجا نے دیکھ لیا تھا یا محسوس کر لیا تھا – یا شاید اسفند بس دل لگی میں اتنا مگن تھا کہ اسکے وہم میں یہ بات آئی ہی نہیں ، گھر میں داخل ہوتے ہی وہ تیزی سے اپنی بیٹیوں کے کمرے کی طرف لپکا مگر وہاں لائیٹ آف اور گہری خاموشی تھی اس نے ایک گہری سانس لی اور کچھ اطمینان سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا اپنے دروازے میں داخل ہوتے ہوئے اس نے ایک بار پھر مڑ کے دیکھا  ، مگر بچیوں کے کمرے میں بدستوُر اندھیرا تھا وہ اپنے روم میں آگیا مگر اسے کتنی دیر ہی نیند نہ آئی بیگم نے پُوچھا بھی مگر ایسے ہی بس طعبیت خراب ہے کہ کر وہ کروٹ لے کر لیٹا رہا – یہ مرد بھی کیا چیز ہے دوسروں کی عزت لؤٹتے ہوئے ذرا نہیں ڈرتا بلکہ انجوائے منٹ سمجھتا ہے اور حیا اور دین کے ضوابظ کو تار تار کر کے رکھ دیتا ہے اور اسے اپنے شغل اور مردانگی کا کھیل جان کر اپنی دولت کے نشے میں یہ بھول جاتا ہے کہ اگر آج وہ کسی کی بیوی یا بیٹی کو سمجھانے کی بجائے اس خطرناک اور گری ہوئی راہ پہ آگے بڑھنے میں سہارا اور مدد دے گا تو کوئی اوربھی اسکی عزت کا جنازہ بھی خوشی اور دُھوم سے نکالے گا – رات پتہ نہیں کب آنکھ لگ گئی صبح اُٹھ کر بچیوں کو ناشتے کی میز پہ فریش دیکھا تو سکون ہوا ، بہانے بہانے سے نیٹ کے رات گئے تک بزی رہنے پہ کچھ لیکچر بھی دے ڈالا جسے اسکی بیٹیوں نے ہمیشہ کی طرح بڑے سکون سے سُنا اور ایک اسکول اور دوسری ڈرائیور کے ساتھ گاڑی میں کالج کے لئے چل دی وہ ان کو جاتے دیکھتا رہا اور پھر اٹھ کر آفس کی تیاری میں لگ گیا سارادن آفس میں بھی وقت نہیں گُذر رہا تھا کیا کرے کیسے کرے کہ اسے انی بیٹیوں کی طرف سے سکون اجائے کہ وہ اس ایکٹیویٹی میں شامل نہیں ہیں ، سارادن بس پریشانی میں ہی گُذر گیا پتہ نہیں کتنے کپ چائے کے اُنڈیل چکا تھا  ،  پر نہ سر درد کو آرام ہو رہا تھا نہ ہی دل کو چین   – اس نے اسفند سے بھی آج کے لئے طعبیت کا بہانہ کر کے معذرت کر لی تھی کہ  وہ آج نہ آئے  –  خیر شام کو گھرآ کر اس نے ایک پرو گرام بنایا اور شام کے کھانے کے بعد اپنے ہی کمپیوٹر روم میں آگیا – اور فیس بک آن کر کے ساتھ ہی ویڈیو چیٹ پہ آگیا آج اُس نے خود اپنا چہرہ مکھٹو سے ڈھانپ لیا اور اواز بدلنے کے لئے منہ میں چیونگم رکھ لی ساتھ ہی کمرے میں کچھ اندھری بھی کر لیا – نوجوان لڑکی کے ساتھ اسکی ایک اور دوست بھی تھی جس نے مکھٹو کے ساتھ ساتھ گلاسز بھی لگائے تھے- وہ آن ہو کر دیکھتا رہا – وہ ہر طرح سے لڑکیوں کے چہرے کو غور سے دیکھ کر تسلی کرنا چاہتا تھا  ، لڑکیاں بہت شرمیلی تھیں مگر پھر بھی بے باکی کی کوشش کر رہی تھیں انکے کمرے میں بھی خاصا اندھیرا تھا ہاں بس ایک لائیٹ جو کہ شاید کسی مو بائیل کی تھی چہرے پہ خاص سمت سے پڑ رہی تھی وہ کافی دیر تک خاموشی سے بیٹھا ہر زاویے سے دیکھتا رہا پھر اچانک کچھ خیال کے آتے ہی اُٹھ کر بچیوں کے کمرے کی طرف بڑھ گیا اس نے دروازہ کھولا تو اسکی بیٹیاں لیپ ٹاپ پہ بزی تھیں ایسی بزی کہ ایک دم کسی کو کمرے میں آتا دیکھ گبھرا کر پیچھے کو مڑیں تو باپ نے لائیٹ آن کردی – اب سارے موکھٹے گر چُکے تھے   اندھیرا بہت بھیانک لگ رہا تھا جیسے کوئی ڈراؤنا خواب اچانک کسی گہری کھائی میں گرا کے ٹھہر گیا ہو اور آنکھ نہ کھل رہی ہو  – اسکا تو دل چاہ رہا تھا کہ آنکھ کھلے ہی نہ ایسا سچ وہ نہ دیکھے یہ خواب ہی ہو پر نہیں ایک حقیقت جیتی جاگتی اسکا منہ چڑا رہی تھی –  وہ اسکی اپنی بیٹیاں ہی تھیں کل ایک تھی اور آج دونوں وہ بت بنا کھڑا تھا اسکے سامنے اسکی رات گئے کی انجوائے منٹ اسکی اپنی بیٹیوں کے روپ میں کھڑی تھی اس نے شام کو ہی دروازے کے لاک میں گڑ بڑ کردی تھی بچیاں شاید سمجھ نہیں سکیں تھیں – پر تقدیر اس کے کئے کو بہت اچھی طرح سمجھا دیا تھا ایسا زور دار طمانچہ پڑا تھا کہ اس کے قدم زمین سے چپک کر رہ گئے تھے اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اپنے اُٹھے ہاتھ کا طمانچہ کس کے منہ پر مارے اپنے دوست کے اپنی بیٹیوں کے یا اپنے منہ پر اس نام نہاد اسلامی معاشرے کے منہ پر تو یہ ایک پتھر سے کم نہیں جہاں ایک ذراسی بات پہ کفر کے فتوے تو لگ جاتے ہیں فرقہ پرستی میں دوسروں کی جانیں تو حلال ہو جاتی ہیں لیکن اپنی نسل کی تربیت کے آگے پڑے یہ گہرے گڑھے اور کھائیاں کسی کو نظر نہیں آرہیں کہ یہ نوجوان نسل کس راستے پہ جا رہی ہے اور اسکو اچھے بُرے کی تمیز ماں باپ کے علاوہ ماحول اور معاشرے کی بھی بڑی ذمہ داری ہے ۔