گوشۂ ادب

الہڑ بلہڑ باوے دا

Spread the love

تحریر مبشرہ ناز

پھیکا بہت پریشان تھا۔ میں اس کے بلانے پر فورا لنگر خانے چلا آیا ایک بوسیدہ حال کھنڈر عمارت جیسی عورت نڈھال فرش پر بیٹھی تھی۔ لنگر خانے میں کام کرنے والی چند عورتیں اُسے دلاسہ دے رہی تھیں۔ سانسیں اُس کی آنکھوں کی پتلیوں میں زندگی کی چمک بھرنے سے قاصر تھیں۔ اسے دیکھ کر لگا شام کے ہنڈولے میں اب صبح کبھی نہیں جھولے گی۔ کرنیں رنجور ہی لوٹ جایا کریں گی۔

“الھڑ بلھڑ باوے دا “

اس کے ہونٹوں میں جنبش ہوئی

“باوا کنک لیاوے گا “

وہ لوری گارہی تھی

“اماں بہہ کہ چھٹے گی پتر بہہ کہ کھاوے گا “

میرا دل ڈوبنے لگا

 کیا کھو گیا تھا اُس کا

“پتر آوے ہٹیوں

گُڑ کڈاں کوری مٹیوں “

وہ سسک رہی تھی

میرا شک یقین میں بدل رہا تھا

لکن میٹی میں اب کوئی کسی کو ڈھونڈ نہیں پائیگا شاید

نہیں نہیں اللہ نہ کرے،

میرے پاؤں کے نیچے سے زمین سرکنے لگی،

کسی انہونی کے خیال نے مجھے تڑپا کر رکھ دیا۔

جیب میں ہاتھ ڈال کر میں نے سامنے پڑے “گلّے “ میں چند نوٹ ڈالے،

گلّے میں نوٹ ڈلتے ہی جیسے میرے دل کو قرار آگیا۔

طبیعت کچھ سنبھلی۔

میں پھیکے کی طرف چلا آیا وہ ایک طرف چُپ چاپ بیٹھا تھا جیسے کبھی بولا ہی نہ ہو۔ پھیکے کے ہونٹوں سے لفظ راگ کی مانند نکلتے وہ جذبات کو بیان کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے تھے اس کے لفظ جذبات کی تال پر ناچنا اور نچانا جانتے تھے وہ دکھی ہوتا تو باغوں میں پھولوں کے رنگ کالے پڑ جاتے ہنستا تو فضائیں بادلوں کے ساتھ عشق لڑانے لگتیں۔ رات کے حاشیئے گوٹے کناری سے چمکنے لگتے۔

آج اس کی آنکھیں بار بار چھلک رہی تھیں عجیب ہوتی ہیں یہ آنکھیں وفا شعار بیوی کی طرح خوب ساتھ نبھاتی ہیں۔ دل دکھی ہوتا ہے تو لگتا ہے دریا پی رکھے ہیں ساری دنیا بہالے جائیں گی خوش ہوتا ہے تو جگنوؤں سی چمکتی تاروں سی دکھتی ہیں۔ اس کے الفاظ کالے جوڑے میں ملبوس ماتم کرتے محسوس ہو رہے تھے ہونٹوں سے تڑپ کر یوں ادا ہوتے جیسے ابھی جاں نکل جائے گی۔

“پھیکے یار حوصلہ کر آرام سے ساری بات بتا “

نہیں ہوتا حوصلہ۔صاحب جی ! کہاں سے لاؤں ؟ وہ پھر سے رونے لگا

اتنا ظلم ! ایسے بھی کوئی کرتا ہے ؟

صاحب جی چند دن پہلے یہ عورت لنگر خانے پر آئی تھی , اپنے بیٹے کو ڈھونڈ رہی تھی۔ آپ سے بھی ذکر کیا تھا میں نے، یاد ہے آپ کو ؟

ہاں ہاں، مجھے یاد ہے۔ اس دن کہہ رہی تھی،

ماسی کے گھر چلا جاتا ہے ادھر ہی ہو گا،

اللہ کرے مل گیا ہو،

میرے دل نے بے اختیار خواہش کی،

ماحول پر چھائی سوگواری نے اس خواہش کو سوکن کی طرح رد کر دیا

 پھیکے ! لگتا ہے کوئی بہت بری خبر ہے ؟

میرے پوچھنے پر،

 پھیکا، پھیکے کے اختیار میں نہیں رہا

بے خبر ماں، ماری ماری پھرتی ڈھونڈتی رہی،

گلی میں کھیل رہا تھا

پل میں غائب ہو گیا

 روٹی ٹھنڈی ہو گئی

لوری گاتی گلی گلی آوازیں دیتی

“الھڑ بلڑ باوے دا باوا کنک لیاوے گا

اماں بہہ کہ چھٹے گی پتر بہہ کہ کھاوے گا

لوری لگڑے ہوں ہوں

تیری ماں صدکڑے ہوں ہوں ہوں “

کئی دن گزر گئے پُتر نہیں ملا

اسکا تار تار کرتہ جھاڑیوں میں سے ملا

اور جسم سے جان نکال دینے والی خبر بھی

باپ نے جووے میں بیٹی ہار دی، یہ تو سن رکھا تھا۔ کہانی پرانی ہے، درد پرانا نہیں ہوتا شکل بدل لیتا ہے صاحب جی !

اب کہ باپ نے جووے میں پُتر ہار دیا

سب کہتے ہیں مر کھپ گیا

پر مامتا نہیں ہاری، ڈھونڈتی رہی،

 بھوکی پیاسی غم سے نڈھال، آج لنگر خانے کے پاس بے ہوش پڑی تھی عورتیں اٹھا کر اندر لے آئیں

 شوہر نشہ کرتا تھا۔ مارتا پیٹتا تھا، ٹھیک ہے صاحب جی ! پر اُس نے تو پتر ہی ہار دیا،

 صاحب جی !

اس نے ماں کی لوریاں بیچ دیں۔

اُس نے دھڑکن کی لے بیچ دی

اب کیسے دھڑکے گا اُس کا دل ؟

باوا کنک کیا لاتا صاحب جی

اس نے اپنی آڑھت پر مامتا کا سودا کر ڈالا

کیسے چکائیگا یہ قرض ؟ ایسے قرض نسلوں کو چکانے پڑتے ہیں، کئی نسلیں سود چکاتی رہیں تب بھی یہ قرض نہیں اترتے۔

گھر کی مُنڈیر پر فاقوں کی رکھوالی ُدکھ بِٹھا دیئے۔ اب کاگا کہاں جائے گا، کدھر بیٹھ کر بولے گا۔ منڈیر کے دُکھ اس کے سندیسے نگل جائیں گے، کاگا گو نگا ہو جائے گا صاحب جی۔

ہوائیں سسک رہی تھیں اُن کے ہونٹوں پر لوری کے بول تھے اور

گالوں پر نمی۔

“باوی بہہ کہ چھٹے گی پتر بہہ کہ کھاوے گا

الہڑ بلہڑ باوے دا “

میری چشمِ تر نے تصور میں اپنے بیٹے کا بوسہ لیا

پل میں نگاہوں نے ہواؤں پر اللہ کے نام چٹھی لکھی

 گناہوں کا اقرار اولاد کی سلامتی معافی نامے

ہواؤں کے کبوتر اب بھی بے چین چٹھیاں جھٹ میں پہنچا دیا کرتے ہیں۔

اتنے میں لنگر خانے کا ڈاکٹر آ گیا اُس عورت کی حالت ٹھیک نہیں تھی وہ ُاسے ہسپتال لے گیا۔۔ڈاکٹر اپنا دیکھا بھالا بچہ تھا، مجھے تسلی تھی۔

میں پھیکے کو لے کر گھر آ گیا

آج کی رات بہت بھاری تھی

میں نے ُاسے رات اپنے پاس ہی ٹھہرا لیا

رات کے پچھلے پہر میری آنکھ کھل گئی،

آنکھ لگی ہی کہاں تھی

مامتا کی تڑپ لوری کے بول

گلے میں پیسے ڈالنے کے بعد کاقرار کچھ اور ہی کہہ رہے تھے

پھیکا بھی کروٹیں بدل رہا تھا۔

 پھیکے اٹھ یار چل چلیں

چلیں صاحب جی ! اس نے دوسری بات نہیں کی اس کی فرمانبرداری میرے جیسے کم عقل کو شرمندہ کر دیا کرتی۔ ہم اس عورت کے گھر پہنچے اس کا شوہر گھر ہی مل گیا تھوڑا بہت ڈرانے دھمکانے کہ بعد اس نے اپنے دوستوں کا پتہ بتا دیا۔

آگے کی کہانی بس اس لمحے جتنی ہے

جب دلِ بے چین نے بے اختیار گلے میں چند نوٹ ڈالے تھے

بچہ مل گیا اس کی حالت خراب تھی مگر شکر ہے زندہ تھا

بھوک کی خورے کتنی قسمیں ہیں صاحب جی ؟

میں نے تو بس بھوک سے لوستی آندروں کاسنا تھا بچے کا سر گود میں رکھتے ہوئے پھیکے نے سسک کر پوچھا۔ میرا سر شرمندگی سے جھک گیا

ٹھیک کہا تھاپھیکے نے،

کہانی پرانی ہے

درد مگر نہیں جاتا

 کہانی پھوڑے کی طرح معاشرے کی ہتھیلی پر ُدکھتی ہے

جانے کب تک دُکھتی رہے گی ؟ جانے کب یہ پھوڑا پھسے گا ؟

جانے کب باوا سمجھے گا ؟

کنک کو دیمک لگنے سے پہلے ؟

دھرتی کے تھر تھر کاپنے سے پہلے ؟

پہاڑوں کے روئی کی طرح اُڑنے سے پہلے ؟

میرے گالوں پر آنسو تھے

ان میں فقط چند خوشی کے تھے اور زیادہ غم کے،

نہیں شاید بہت زیادہ غم کے۔

پھیکے کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی تھی

وہ خود سے سرگوشیاں کر رہا تھا

شاماں دے اوہلے

دکھاں دیاں پینگاں

مائی لوے ہلارے

ہنجواں دا بالن بال کہ

فاقے سیکدی

لوسدیاں آندراں نوں

لوریاں سناوے

ترلے پاوے

الہڑ بلھڑ دیا باویا

کدوں ہوش چے آویں گا

کدوں کنک لیاویں گا

اماں بہہ کہ چھٹے گی

کد پتر بہہ کہ کھاوے گا

وے کدوں ہوش چے آویں گا

الہڑ بلہڑ دیا باویا

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *