عورتگوشۂ ادبمتفرق

عجب بہار دکھائی لہو کے چھینٹوں نے

Spread the love

تحرہر: حمیرا نگہت

سردی کی شدت بڑھ رہی ہے صفیہ اندر آجاؤ

ماں دیکھو ! چاند کتنا خوبصورت ہے اور یوں لگ رہا ہے جیسے ستاروں کی شال اوڑھ کر ابھی رات سے گلے ملنے لگے گا ۔آج کتنے دنوں بعد آسمان صاف ہوا ہے اور چاند دکھائی دیا ہے ۔ ہے ناں ماں !

تم کو تو پتا ہے کہ سرد رات میں پورا چاند مجھے کس قدر حسین لگتا ہے آؤ جلدی سے باہر آؤ!

بیٹی! تمھاری رخصتی کو چند دن رہ گئے ہیں کچھ تو خیال کرو  بیمار پڑ گئی تو میں تمھارے خاوند کو کیا جواب دوں گی؟

ماں کچھ نہیں ہوتا باہر  آؤ ناں!

صفیہ میں سوپ بنا لوں بس تمھارے بابا اور بھائی کام سے آتے ہی ہونگے۔

ماں ! وہ  دیکھو دُور کیسی  روشنی نظر آرہی ہے لگتا ہے کوئی جشن منا رہا ہے۔

کیا میری شادی پر بھی تم ایسا ہی جشن مناؤ گی ؟

ارے بیٹی !اولاد کی خوشی کے لیے والدین کیا کیا جتن  نہیں کرتے ہیں  ۔دیکھنا تمھارے بابا تم کو شہزادیوں کی طرح رخصت کریں گے!

یکایک فضا میں ہر طرف آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی روشنی پھیلی اورگہرا اندھیرا چھا گیا۔۔۔۔۔

یہ کیسی صبح ہے۔ اور یہ جلنے کی بُو ۔۔۔۔۔

صفیہ نے  بہت مشکل سے  اپنی آنکھیں کھولیں  یہ میں کہاں ہوں ؟  اسے اپنا چہرہ گرد سے اٹا ہو ا محسوس ہوا وہ ایک ملبے کے ڈھیر میں دبی ہوئی تھی ۔ اس نے اپنے اوپر پڑی گرد اور ملبہ  ہٹا کر دیکھا اوہ  میرے اللہ ! یہ سب کیا ہوگیا؟   اسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آرہا تھا ۔ تمام منظر ہی بدل چکا تھا ۔

اس نے اپنے حواس کو مجتمع کیا ۔اس نے ذہن پر زور دیا تو اسے یاد آیا کہ اس نے ایک زور دار گرج کی آواز  سنی تھی اور پھر یک لخت  اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا اور اسے کوئی ہوش نہ رہی تھی ۔

ماں ، بابا ،احمد کہاں ہیں ؟ اور وہ پاگلوں کی طرح چیخنے لگی۔۔

ماں ۔۔۔۔ بابا۔۔۔ احمد ۔۔۔۔ اس نے اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی آس پاس کے جلتے ہوئے سب گھر ملبے اور راکھ کا ڈھیر بن چکے تھے فضا میں بلند ہوتی ہوئی چیخیں  ،آہ بکا اور مدد مدد کا شور  ، قیامت کا منظر شاید یہی تھا  جس کو  اس کی  آنکھیں دیکھ رہی تھیں  ۔فضا میں ہر طرف گہرا سیاہ  دھواں پھیلا ہوا تھا

کہیں آس پاس ہی اسے ماں کے کراہنے کی آواز سنائی دی ۔ ماں ۔۔ماں  وہ پکارتی رہی ۔  اپنی تمام تر توانائیوں اور طاقت  کو جمع کر کے وہ ملبے سے اپنے نچلے دھڑ کو  باہر نکالنے میں کامیاب  ہوگئی۔ اسے ماں کا ڈوپٹہ ایک شہتیرکے نیچے سے نکلا ہوا نظر آیا وہ اس طرف لپکی ۔ لکڑیاں بالے اور مٹی ہٹاتی رہی ماں کو کھینچ کر باہر نکالا ماں  کا چہرہ خون میں لت پت تھا سر پر کافی چوٹ آئی  تھی  اور وہ درد سےکراہ  رہی تھی شکر ہے ماں تم زندہ ہو ۔ ۔۔اور پھر وہ  چیخی ۔۔ بابا ۔۔ بابا ۔۔ بھائی  ۔۔۔۔ اس کی نظریں بے چین ہوکر بھائی اور والد کو تلاش کرنے لگیں ۔

زندہ بچ جانے والے لوگ  گھروں کے ملبے کی راکھ کے نیچے سے اپنے دبے ہوئےپیاروں کو  تلاشتے رہے۔

  چیخ و پکار اسکی سماعتوں سے ٹکراتی رہی گویا  حشر بپا ہے  اطراف میں موجود لوگ اپنے پھول جیسے بچوں کے مردہ جسم اٹھائے  التجائیہ نظروں سے آسمان کی جانب دیکھتے رہے ۔

یہ تو اس شہرِ بے مراد کا صرف  ایک درد  ناک منظر ہے   یکے بعد دیگرے دھماکے اس  لاچار و بے مددگاروطن کا معمول بن  گئے ۔ طاقت اور اسلحہ کی نمائش کی اس یک طرفہ  جنگ کو کئی دن گزر چکے ۔   اس شہر تباہ شد کا نہ کوئی داد رساں نہ کوئی پرسانِ حال ۔   آسمان سے میزائل بارش کی طرح برس کر قہر ڈھاتے رہے اور رہے سہے لوگ ان  پے در پے حملوں کی نظر ہوئے چلے گئے نہ کوئی مدد آئی اور نہ  ہی کسی کو رحم۔

آج صفیہ کی رخصتی ہے ۔  یہیں اس ملبے کے ڈھیر کے نیچے  آنکھوں میں مستبقل کے حسین خواب سجائے ہوئےاچھے وقتوں کی امید کے تانے بانے بُنتے ہوئے باسیوں کا ایک  ہنستابستا گھر تھا  اورآج اسی اجڑے ہوئے گھر  پر صفیہ کی ماں اپنی بیٹی کو لئے  تنہا دلہا کے استقبال کے لیے کھڑی ہے اب بیٹی کو شہزادیوں کی طرح رخصت کرنے والا والد ہے نہ بھائی ۔

صفیہ کا منگیتر اپنے سبھی گھر والوں کو گنوا کر حسب وعدہ اپنی دلہن کو  لینے آگیا ہے۔

ماں نے  اپنے قریب  الٹا پڑا ہوا پانی کا ایک تباہ شدہ مٹکا جس پر  پڑے ہوئے خون کے  چھنیٹے اب خشک ہوکر سیاہی مائل ہوچکے تھے اٹھا لیا اور اسے بجانے لگی  اور  گیت گا نے لگی  پاس کھڑے چند مضطر وبےحال لوگ یہ منظر دیکھ کر قریب آگئے اور ہاتھ لہراکراس کے ساتھ گانے لگے ۔

گیت گانے ہوئے ماں نے صفیہ کی آنکھوں کے کناروں پر رُکے  ہوئے آنسو پونچھ ڈالے  اور اُس کا ہاتھ اس کے شوہر کے ہاتھ میں دے دیا۔

 

’’اے دل غم نہ کر کہ اس  ملبے اور راکھ کے ڈھیر کے نیچے کچھ بیج  اپنا سر مٹی میں دبائے  موسم کے  بدلنے کےمنتظر ہیں سورج کی تمازت جونہی برف  کی دبیز تہہ کو پگھلائے گی  اس شہر ِ ویران میں زندگی پنپنے لگے گی  اور یہ کھنڈر پھر سے گلستان بن جائے گا ۔موسم بدلنے  والا ہے ۔۔۔  اے میری جان !غم نہ کر کہ بہار آنے  ہی والی ہے۔‘‘

 

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

One thought on “عجب بہار دکھائی لہو کے چھینٹوں نے

  • رفعت امان اللہ

    دلسوز

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *