//حقیقی و مثالی زندگی
zindagi

حقیقی و مثالی زندگی

بشریٰ بختیار خان

زندگی کا دارومدار صرف ہماری اپنی ذات پر نہیں بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے بے شمار انسانوں پر بھی ہوتا ہے، ہم سانس تب لیتے ہیں جب ہمارے لیے سانس لینے کا ماحول سازگار ہو اور ماحول کا اثر صرف ایک انسان یا ایک ذات پر نہیں بلکہ تمام لوگوں پر پڑتا ہے، ہم اپنے آپ کے لیے جینے کی تمنا میں یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ساتھ کتنے اور لوگوں کی زندگی بھی اسی معاشرے کے ساتھ جڑی ہے جس کا ہم حصہ ہیں اور جس کی بنیاد ہم سب نے مل کر رکھی ہے، ہمارے خیالات کیسے ہیں ہماری سوچ کیسی ہے ہمارے نظریات کیا ہیں ہماری ترجیحات کیا ہیں ہمارے مسائل کیا ہیں اور ان مسائل کا حل کیا ہے اس سب کو نظرانداز کر کے کوئی بھی خوش اور آسان زندگی نہیں گزار سکتا

ہم پتھر کے زمانے سے نکل آئے ہیں ہم اب پتے نہیں اوڑھتے کچا گوشت نہیں کھاتے کھارا پانی نہیں پیتے غاروں میں نہیں رہتے پیدل سفر نہیں کرتے یہ سب ہمارے ارتقا کا ثمر ہے لیکن ان سب تبدیلیوں کے باعثِ نظر ہمارے ذہنوں میں دو مختلف قسم کے نظریات نے وجود دیا ہے، انسان جہاں مہذب زندگی گزارنے کے قابل ہوا ہے اور اپنے آپ کو پہلے سے بہتر بنانے کی سعی میں مگن ہے اس کے ساتھ ساتھ بہت سی غلط فہمیوں نے بھی جنم لیا ہے جو ہمارے ذہن کو ایک خودساختہ فریب کی صورت میں مبہم راستوں پہ لگائے رکھتی ہیں، زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں اسی طرح زندگی صرف عیاش رہن سہن کا نام بھی نہیں، زندگی کے حوالے سے دو نظریے سامنے رکھے جاتے ہیں جو کی محدود حد بندیاں ہیں اور ان سے باہر نکلنے پر ہم نہ ہی اِدھر کے رہتے ہیں نہ ہی اُدھر کے۔

حقیقت کبھی جھوٹ پہ مبنی نہیں ہوتی اور مثال کبھی بھی اٹل حوالوں پر مشتمل نہیں ہوتی، دونوں کے الگ الگ رخ ہیں الگ الگ زاویے ہیں الگ الگ مثبت پہلو ہیں اور الگ الگ منفی نتائج، حقیقت کو مثال نہیں کہا جا سکتا ہے اور مثال اکثر فرضی ہی ہوا کرتی ہے۔ دونوں کو ایک ساتھ رکھ کر جو متوازن شکل نکلتی ہے اگر اس کو سامنے رکھ کر زندگی گزاری جائے تو بہت سی تنگیوں اور مشکلات سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔

حقیقی زندگی کا آغاز ایک کمزور سے نومولود بچے کی صورت میں ہو کر اختتام ایک لاغر بوڑھے بدن کی شکل میں ہوتا ہے، دونوں طرف بے بسی اور انحصاری ہے، ان دونوں کے درمیانی وقفے اور درمیانی حالت میں جو کچھ گزارا جائے وہ شاید زندگی کی انتہا کہلائی جا سکتی ہے، حقیقی زندگی یہ ہے کہ ان تمام حالات کو سامنے رکھا جائے و ہمیں درپیش ہوں نہ کہ صرف توقعات کو سامنا رکھا جائے، جو راستہ ہمارے سامنے ہو لازمی نہیں وہ درست ہو، جو معیار ہم نے مقرر کر رکھا ہو ضروری نہیں کہ وہ سب کے لیے درست ہو، حقیقی زندگی میں کبھی ہمیں اپنے رشتوں سے بھی مایوسی ملتی ہے اور غیروں سے بھی محبت، حقیقی زندگی میں ہماری مشکلات صرف ہماری ہوتی ہیں دوسرے صرف آپ کے اچھے وقت میں آپ کے ساتھ ہوتے ہیں یا پھر اس وقت جب انہیں آپ کی ضرورت ہو، حقیقی زندگی میں پیار وہاں ہوتا ہے جہاں مفاد ہو، خوش اخلاقی وہاں ہوتی ہے جس سے طمع ہو، احترام وہاں ہوتا ہے جہاں خوف ہو، اور سب سے بڑھ کر حقیقی زندگی میں وہ سب کچھ ہوتا ہے جس سے ہم شاید خوفزدہ رہ کر حقیقت کی طرف آنا نہیں چاہتے۔

مثالی زندگی کے تصور کی جب بات کریں تو یہ ذہن میں رکھیں کہ تصور خال خال وجود رکھتے ہیں، مثالیں بہت کم سچ ہوتی ہیں، معیارات بہت کم ہورے ہوتے ہیں، خواب بہت کم تعبیریں پاتے ہیں، مثالی زندگی صرف ایک معاشرے کے لیے مشترک پہلو نہیں رکھتی، مثالی زندگی کا ایک سب سے بڑا نقص یہ بھی ہے کہ ہر انسان کی مثالی زندگی دوسرے انسان کی مثالی زندگی سے مختلف ہوتی ہے، میں جو زندگی گزارنا چاہتی ہوں شاید وہ کسی اور کے لیے مشکل یا بالکل ہی غیر دلچسپ ہو، آپ جو زندگی گزارنے کی تمنا رکھتے ہیں شاید میرے لیے وہ غیر ممکن یا پھر غیر سنجیدہ ہو، میں جس طرح دنیا کو دیکھنا چاہتی ہوں شاید وہ کسی اور کے لیے باعثِ مشکل ہو اور آپ جس طرح دنیا کو دیکھنا چاہتے ہیں وہ شاید میرے لیے مسائل پیدا کرے سو انسانی زندگی کے مثالی ہونے کا تصور کبھی بھی مکمل شکل اختیار نہیں کر پاتا اور مثالیں بدلتی رہتی ہیں۔

زندگی حقیقی ہو خیالاتی یا مثالی کسی بھی صورت میں زندگی کی خوبصورتی یہ ہے کہ اُسے اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی آسانی کا ذریعہ بنائیں تو اس بحث میں ہی نہیں پڑنا پڑے گا کہ کس نطریے کے ساتھ معاشرتی بہتری لائی جا سکتی ہے، زندگی کو گزارنے کی بجائے بسر کریں تو بہت سے کڑے لمحے بھی زیادہ تکلیف دہ نہیں ہوتے، راہیں آسان ہوتی جاتی ہیں، اندھیرے چھٹتے جاتے ہیں، گتھیاں سلجھتی جاتی ہیں، مسائل حل ہوتے جاتے ہیں اور بند دروازے کھلتے جاتے ہیں، زندگی مثالی ہو یا حقیقی، کسی بھی صورت میں زندگی کو بے زاری مایوسی اور رائیگانی کی نذر نہ ہونے دیں بلکہ زندگی کو جئیں بھرپور اور خوش دلی کے ساتھ، بالکل میری طرح۔