شائستہ
تحریر خنساء رفعت
اماں چھیداں آج صبح سے پھر میرے پاس بیٹھی کرلا رہی تھی۔ اوں کو سمجھاؤ بی بی !!! میں کوں برادری میں بھی منہ ڈکھانا ہے۔ میری برادری تو میرے سر میں سواہ ڈالے گی۔
اماں چھیداں کو میں تب سے جانتی تھی جب مجھے سہاگ کا جوڑا پہنے اس گھر میں آئے صرف چند روز ہوئے تھے۔ ایک دن میں چوہدری صاحب کے ساتھ اپنے میکے سے لوٹ رہی تھی تو دروازے پہ تقریبا 45،50 سالہ عورت ایک دو سالہ بچی کو سینے سے لگائے کھڑی مجھ سے کام پہ رکھ لینے خواہش لئے منت کر رہی تھی۔ چوہدری صاحب بہت خدا ترس تھے جو بےگھر ملتا اپنے پاس ملازم رکھ لیتے۔ چوہدری صاحب کہتے اللہ تعالی نے جو نوازا ہے وہ صرف ہمارے لئے نہیں مخلوق خدا بھی اس میں شریک کرنی چاہیئے اور ان کی عزت نفس قائم رہے اس لئے مدد نہیں ملازمت دیتے۔ گھر میں اتنا کام نہیں تھا جتنے ملازم تھے!!!!
مگر برکت بہت تھی۔ اس کو اس حالت میں دیکھ میرا چڑیا سا دل بے اختیار چوہدری صاحب کے آگے سوال بن گیا۔ چوہدری صاحب نے بہت سی اور جانوں کے ساتھ ان دونوں کو پالنے کا وعدہ بھی کر لیا۔ اس کے سینے سے لگی بچی اس کی نواسی تھی جس کے والدین ایک حادثے میں چل بسے تھے۔ اماں چھیداں کی آدھی جان اس بچی میں بستی تھی جسے ابھی تک مناسب نام بھی نہیں دیا گیا تھا اماں اسے کاکی ہتی تھی۔ چند ہی دنوں میں وہ بچی مجھ سے بہت گھل مل گئی میں نے اسکا نام شائستہ رکھا۔ وقت گزرا تو میرے آنگن میں بچوں کی بہار اتری۔ میں دس برس میں چار بچوں کی اماں کہلائی۔ لیکن شائستہ کےلئے میرا پیار ویسے ہی قائم رہا اور بچے بھی اسے بڑی بہن کی طرح چاہتے تھے۔ وہ میرے بچوں کے ساتھ پلی۔ ان کے ساتھ سکول گئی۔ وقت جیسے پر لگا کے اڑ گیا سترہ کی ہوئی تو اماں چھیداں کو اس کی شادی کی فکر ستانے لگی۔ میں نے بہت سمجھایا کہ بچی کو ابھی پڑھنے دو مگر اماں چھیداں کہتی نہ بی بی دھییاں بوتا پڑھن تا خود سر ہو جاون ۔
میرے دلائل، جھگڑا۔ کچھ بھی کام نہ آیا اور اماں چھیداں نے اپنی برادری کا دور پار کا عزیز جو رکشہ ڈرائیور تھا اس سے شائستہ کی شادی کردی۔ سال چھ مہینے تو ٹھیک گزرے مگر اب کچھ عرصے سے شائستہ کچھ بجھی ہوئی سی رہنے لگی تھی۔ میرے لاکھ پوچھنے پر بھی کچھ نہ بولی۔ اماں چھیداں کو لگتا اولاد ہوگی تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر پچھلے چند روز سے شائستہ اماں کے پاس آگئی تھی اور کہتی کہ اسے طلاق لینی ہے۔ اماں چھیداں کا اس کو سمجھاتی سمجھاتی تھک گئی تو آج میرے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ میں بڈھی دا کی بنسو۔ ایس عمرے میں کوں بےعزت کرسوں۔ عرش کبمدا ہائی طلاق دے ناں توں۔ ۔
میرے استفسار پر اماں چھیداں کوئی اطمینان بخش جواب نہ دے پائی کہ شائستہ طلاق کیوں چاہتی ہے تو میں نے اماں کو کہا کہ کل شائستہ کو میرے پاس بھیجے۔۔اگلے دن شائستہ قبرستان سا سناٹا لئے میرے پاس بیٹھی تھی اور اس کی اس خاموشی کو دیکھتے ہوئے مجھے پہلی بار اس سے بات کے آغاز کےلئے چند لمحے درکار ہوئے۔ کیا بات ہے شائستہ؟؟ ایسا کیا ہے بچے جو اتنا بڑا فیصلہ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔؟ میرا سارا وجود اس کے جواب کا تمنائی تھا۔ ماں (شائستہ مجھے ماں کہتی تھی)۔ مجھے راشد کے ساتھ نہیں رہنا۔ وہ اچھا آدمی نہیں ہے۔ قفل ٹوٹا تو تھا مگر صرف فرمائش لئے ہوئے۔ وجہ نہیں۔ بس وہ اس سے زیادہ کچھ بھی بولنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔ لیکن اس کے لہجے میں موجود حسرت نے میری روح میں برف کی لہر دوڑا دی۔ مجھ میں اسے کریدنے کی ہمت ہی نہیں تھی۔ میں نے وہ بات چھوڑ کر اسے ادھر ادھر کی باتوں میں لگا لیا۔ دو تین بار کی ملاقاتوں نے اس میں اعتماد بحال کیا تو شائستہ نے مجھے راشد کے ساتھ نہ رہنے کی وجہ بتائی جسے سن کے میری روح کانپ اٹھی۔ ایک شدید غم و غصے کی لہر نے میرا وجود جھلسا دیا۔ ایسی بے غیرتی۔ ہرگز نہیں۔ اب میں خود تمہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دوں گی۔
میں نے اسے تسلی دلوائی اور اماں چھیداں سے بات کرنے کا یقین دلایا۔۔اماں چھیداں سے بات کرنے کی نوبت کیا آتی اگلے دن علی الصبح میرے میکے سے فون نے میری دنیا اتھل پتھل کردی۔ میری والدہ کی طبیعت اچانک بہت خراب ہوگئی تھی۔ انھیں ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ چوہدری صاحب نے فورا مجھے لیا اور میرے میکے کی طرف چل دئے۔ روتے ہوئے، دعائیں کرتے ہوئے تمام سفر گزرا۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ مائنر ہارٹ اٹیک ہے لیکن حالت سنبھل گئی ہے۔ شکرانے کے نوافل ادا کرنے کے بعد شائستہ کی پریشانی نے آ لیا۔ اماں چھیداں کو فون کیا اور شائستہ کے بارے میں دریافت کیا۔ اماں چھیداں کا وہی رونا تھا کہ اپنے گھر جائے اور یہ کہ راشد اس کی ہر بات ماننے کو تیار ہے۔ لیکن میں نے اماں چھیداں کو تاکید کی کہ میری واپسی تک شائستہ کو نہیں بھیجنا۔اماں چھیداں جزبز تھی مگر کہنے لگی ٹھیک ہے۔
میری امی چار دن ہسپتال میں رہ کر گھر آگئیں تو چوہدری صاحب مجھے کچھ روز ان کے پاس رہنے کو چھوڑکر خود واپس چلے گئے۔ دو ہفتے کے بعد میں گھر میں آئی تو بہت سے گھر کے کام نبیڑے۔ احساس ہوا کہ واقعی عورت کے بغیر گھر کا حال بدحال ہوجاتا ہے۔ اگلے روز اماں چھیداں ملنے چلی آئی۔ میں نے شائستہ کی خیریت دریافت کی تو کہنے لگی کہ شکر ہے میرے اللہ سائیں ڈا۔ سمجھ گئی ہے۔ اپنے گھار کو گئی ہے ۔ مجھے تکلیف کے ساتھ ساتھ غصہ بھی آیا۔ میں نے استفسار کیا کہ کیا تمہیں راشد کے ساتھ نہ رہنے کی وجہ معلوم ہے۔ اس پہ بولی ہا !! بی بی میں کو معلوم ہے۔ پر راشد اپنے چاچے (رشتے کو چچا) کوں وی ساتھ لیایا اور اس نے یقین دلایا ہے کہ شائستہ کوں کوئی غلط فہمی ہے۔ اس نے ایسا کجھ نہیں کیا۔ میرے دل میں ڈر پڑ گیا لیکن کیا کر سکتی تھی۔ شائستہ کے لئے دعا کی اللہ تعالی اس کےلئے اچھا کرے اور راشد کو واقعی عقل آگئی ہو۔۔دراصل راشد اپنا رکشہ سٹینڈ بنانا چاہتا تھا، اپنے کام کو ترقی دینا چاہتا تھا اور رکشہ سٹینڈ کو ٹھیکے پہ دینے والے نے راشد سے اسکی بیوی کے ساتھ کچھ اچھا وقت گزارنے کی شرط رکھی تھی۔ راشد کے سامنے دو راستے تھے ایک غیرت کا اور دوسرا ترقی کا۔ اس نے ترقی کا راستہ چنا۔۔اس راستے پہ اسے شائستہ کی رضامندی چاہئیے تھی لیکن شائستہ اس راستے پہ چلنے کی بجائے اپنا راستہ الگ کر لینا چاہتی تھی۔ شائستہ کی جگہ کوئی بھی لڑکی ہوتی تو یہی فیصلہ کرتی۔۔میں جانتی تھی کہ شائستہ زبردستی راشد کے ساتھ واپس بھیج دی گئی ہے لیکن میرے پاس سوائے دعا کے اور کوئی اختیار نہیں تھا۔ کچھ ہفتے گزرے۔ زندگی اپنی ڈگر پہ رواں دواں تھی۔ ایک صبح اماں چھیداں پہ قیامت بن کر ٹوٹی۔ اماں چھیداں کی ہمسائی بھاگتی ہوئی مجھے بتانے آئی کہ شائستہ نے زہر کھا لیا ہے۔
میں وہاں پہنچی تو اماں چھیداں غشی میں تھی اور شائستہ صرف ایک لاش۔ وہ جسے میں نے اپنے بچوں کی طرح پالا تھا۔ جس کی زندگی سے بھرپور ہنسی مجھے خوشی دیتی تھی۔ وہ مجھے ماں کہتی تھی لیکن مجھے اس پہ ماں سا کوئی اختیار نہیں تھا دنیا میں اس کے خون کے رشتوں کو اس کے بارے میں فیصلوں کا اختیار تھا۔ وہ میرے سامنے برف سی ٹھنڈی پڑی، زندگی سے دور چلی گئی تھی اور میں اس کےلئے کچھ بھی نہ کر سکی۔ شام کو جب چوہدری صاحب جنازے اور تدفین کرکے گھر لوٹے تو میرے اندر کا غم لاوے کی طرح پھوٹ نکلا۔ میں تڑپ رہی تھی۔ میں چوہدری صاحب کا بازو پکڑے کرلا رہی تھی، سوال کر رہی تھی کہ کیا علیحدگی کی خواہش اتنا بڑا جرم ہے ؟۔ کیوں اس سے جینے کا حق چھین لیا گیا۔ کیوں اس پہ زندگی تنگ کردی گئی؟۔ طلاق کا اختیار تو اللہ نے دیا ہے تو اسے استعمال کرنے والی کسی بھی عورت کو معاشرے میں حقارت کی نظر سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟۔ اماں چھیداں اپنی برادری کے سامنے سرخرو ہونا چاہتی تھی اسے اپنی جان سے پیاری کو برادری میں سر اٹھا کے جینے کا حق دلانا تھا جو ہمارے اخلاقی انحطاط کے شکار معاشرے میں صرف مرد کے ساتھ لگے ہوئے نام کے سے ملتا ہے۔ چاہے وہ مرد راشد جیسا بے غیرت ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے میں عورت موت کو ہی ترجیح دے گی۔ کیوں؟ کسی نے راشد کو ملامت نہیں کی۔ کیوں؟۔
چوہدری صاحب نے بھی اسے بیٹی کی طرح چاہا تھا خود غم سے نڈھال مجھے کیا جواب دیتے۔۔ایک اور بچی اس معاشرے کے رویوں کی بھینٹ چڑھا دی گئی۔ آج میں آپ کے سامنے بھی یہ سوال رکھتی ہوں کہ کیا ہمارا معاشرہ عرب کے جاہل معاشرے سے بھی بدتر ہے۔ اگر میرے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ صرف اس لئے علیحدگی کا مطالبہ کرتی ہیں کہ انھیں اپنا شوہر پسند نہیں اور انھیں میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اپناتے ہیں۔ وہ امہات المومینین میں سے کہلاتی ہیں۔ تو میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم تو یہ تھی۔ ہم کس کی تعلیمات مان رہے ہیں۔ میں طلاق کے حق میں ہرگز نہیں لیکن جینے کا حق تو دیں۔اور بدلنا پہلے عورت کی سوچ کو پڑے گا جب عورت، اپنے عورت ہونے کی عزت کرے گی تو اگلی نسلوں کو دین اور اخلاق کی صحیح تعلیم دے پائے گی۔


