آس
دو حروف پر مبنی یہ لفظ اپنے اندر بہت سی امنگوں، خواہشوں، مرادوں کا بوجھ اٹھائے ہوتا ہے۔
آس کی دڈوری ایک طرف تو سانس کے ساتھ بندھی ہوتی ہے اور اس کادوسرا سِرا خدا کی ذات کی طرف ہوتا ہے۔
کبھی کبھی اس کاتیسرا سراخواہشوں کاپتلاکمزورانسانوں سے خواہ مخواہ کی امید باندھ لیتاہے۔۔
بے بنیاد محل تعمیر کر لیتا ہے جو ریت کے گھروندوں کی طرح ڈھ جاتے ہیں۔
مشہور معقولہ …جب تک سانس تب تک آس
آس اورامید کا چولی دامن کا ساتھ ہے انسان سے کھوکھلی امید رکھنا اکثراوقات مثبت نتائج نہیں لاتا مگر۔۔
خدا سے سچی لگن اور بھروسہ سے رکھی گئی آس ھمیشہ پوری ہوتی ہے۔
بے شک خدا بہت غیرت والا ہے۔
لیکن …بعض اوقات دعا کرتے سالوں بیت جاتے ہیں اور آس امید پوری نہیں ہوئی۔۔
تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ پر توکل بھروسہ رکھتے ہوئےامید بر نہیں آتی۔
بلکہ
اگر بچہ ماں سے کھیلنے کے لئے آگ کا شعلہ مانگے تو کیا ماں اسے آگ دے دیگی…
ہر گز نہیں۔۔ بعینہ ماں سے ستر گنا زیادہ پیار کرنے والا خالق مالک کیونکر ایسی آس پوری کریگا جو اس کے بندے کے لئے منفعت بخش نہ ہوگی۔۔
پس بعض اوقات دعا کے لئے پھیلے ہاتھ۔۔ ۔رب سے لگائی امید۔۔
اگر بر نہ آئے تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ نعوذ باللہ خدا سے آس نہ لگائی جائے۔۔
پیوست رہ شجر سے امیدَ بہار رکھ
خدا وہ آس کسی اور رنگ میں پوری کر دیتا ہے۔۔
آس۔۔ اور۔۔ ۔یاس
میں بس دو نقطوں کا فرق ہے لیکن بظاہر یہ صرف دو نقطے۔۔
معنی میں زمین آسمان کا فرق ڈال دیتے ہیں۔۔
مگر یہ دونوں نقاط انسانی زندگی کے اردگرد گھومتے ہیں۔۔
آس اور یاس کے گرد گھومتے گھومتے۔۔
چکر کھاتے انسان اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔۔ اپنی چند روزہ زندگی کے مزے لینے کی بجائے آس کے پورے نہ ہونےکی صورت میں یاس کی کیفیت لئے دنیا سے سدھار جاتا ہے۔
توکل کا دیا جلتا رہے
جھولی بھری رہے۔۔
دامن تر رہے
عاقبت سدھر جائے۔
من کی پیاس بجھ جائے… اور
پھر خدا مل جائے۔…سو
دیے آس کے جلائے تم رکھنا
یاس سے خود کو بچائے تم رکھنا


