//وقت کی پابندی
وقت

وقت کی پابندی

. مختلف کاموں کو مقررہ وقت پر سر انجام دینا پابندی وقت کہلاتا ہے۔ ایک سیکنڈ، ایک منٹ، ایک دن، ایک ماہ اور ایک سال سب وقت کے حصے ہیں۔ وقت دولت سے بھی قیمتی سمجھنا چاہیے کیونکہ دولت ضائع ہونے پر پھر حاصل ہو سکتی ہے لیکن جو وقت گزر گیا وہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ جس طرح منہ سے نکلی ہوئی بات، کمان سے نکلا ہوا تیر، دریا کا بہتا ہوا پانی پھر دریا میں واپس نہیں آسکتا، کوئی نوجوان اپنی جوانی کو لڑکپن میں تبدیل نہیں کرسکتا اور کوئی بوڑھا اپنی جوانی کو پھر سے حاصل نہیں کرسکتا۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں

قدرت بھی ہمیں وقت کی پابندی کا سبق سکھاتی ہے۔ مثلاً سورج وقت مقررہ پر ہی ہمیشہ طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ موسم اپنے اپنے وقت پر آتے ہیں۔ درخت اور پودے مقررہ اوقات پر پھل لاتے ہیں نیز فصلیں مقررہ وقت پر پک کر تیار ہوتی ہیں اور اگر قدرت وقت کی پابندی چھوڑ دے تو اس کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہوجایے۔

ہر فرد بشر کو اپنی زندگی خوش اسلوبی سے بسر کرنے کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق اپنے وقت کو اس طرح تقسیم کرے کہ جس سے وہ تمام ضروری کام بوجہ احسن سر انجام دے سکے۔ وقت کا پابند انسان وعدہ کو ایفا کرسکتا ہے۔ سچائی اس کا شیوہ بن جاتی ہے اور باقاعدگی اس کی عادت میں شامل ہو جاتی ہے اور اس کے تمام کام بغیر کسی قسم کی تکلیف کے بخوبی سر انجام پاتے ہیں۔

نیلسن کا قول ہے کہ

میری زندگی کی تمام کامیابیاں صرف ایک بات میں مضمر ہیں کہ میں ہر کام کے لئے وقت مقررہ سے پندرہ منٹ پہلے تیار رہا کرتا تھا۔

جو شخص وقت کی قدر نہیں کرتا اور اسے بیہودہ اور بے فائدہ کاموں میں جن سے نہ دین کا فائدہ نہ دنیا کا نفع ہو برباد کردیتا ہے وہ ہمیشہ پریشان رہتا ہے۔ اگر کہیں جانا ہو تا ہے تو یا تو وقت مقررہ سے بہت پہلے پہنچ جاتا ہے یا وقت گزر جانے پر پہنچتا ہے۔ ایسا شخص آرام طلب ہو جاتا ہے اور اپنی ساری زندگی تباہ و برباد کرلیتا ہے۔ انجام کار وہ اپنے گزشتہ وقت پر تاسف کرتا ہے مگر کچھ بن نہیں پڑتا۔

جو وقت گزر چکا ہے اس کا ہاتھ آنا ناممکن ہے اور جو آئے گا وہ خدا جانے کیسا ہو۔ اس لئے جو موجودہ وقت ہے اس کا صحیح استعمال ہونا چاہیے لیکن جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے ان کا کوئی کام بھی باقاعدہ نہیں ہوتا اور انہیں تقسیم اوقات کرتے وقت ڈر سا لگتا ہے کیونکہ ان سے ان کی وحشیانہ آزادی کی عادت چھوٹتی ہے اور ان کا دماغ آرام طلبی کی عادت ترک کرنا نہیں چاہتا۔ انہیں تو نہانے کھانا کھانے اور وقت مقررہ پر سونے کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اگر پڑھنے لگے ہیں تو کتاب کے کیڑے بن گئے اور اگر لکھنے بیٹھے ہیں تو اسی دھن میں غرق ہوگئے۔ اگر سونے لگے ہیں تو مُردوں سے شرط لگا کر۔ غرضیکہ ان کا کوئی وقت بھی کسی کام کے لئے مقرر نہیں ہے۔ تو یہ سب نتیجہ ان لوگوں کی غفلت کا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے مختلف کاموں کے لئے مختلف اوقات ریزرو کر لیں۔ اپنے بنائے ہوئے ٹائم ٹیبل پر باقاعدگی سے عمل کریں۔ پھر دیکھیں کیا نتیجہ نکلتا ہے میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ

اگر میری اس تدبیر پر عمل کیا جائے تو ہر شخص اپنے کام میں دلی مسرت اور راحت پائے گا اور بالآخر سر خرو ہو کر اطمینان قلب حاصل کرے گا۔

المختصر یہ کہ ہر کام میں وقت کی پابندی لازمی ہے اور کوئی کام اس وقت تک پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کسی کام کو وقت کی قید میں مقید نہ کیا جائے۔