//لجنہ کا دفتر
lajna_office_rabwah

لجنہ کا دفتر

تحریر امۃ الباری ناصر

لجنہ کے دفتر میں پہلے کھانا نہیں ہوتا تھا ۔کبھی  کام  زیادہ ہوتا تو زیادہ ٹھہرنا پڑتاپھر بعض خواتین کو دو دو بسیں بدل کر گھر جا نا ہوتا  جو بہت مشکل تھا ۔ طے یہ پایا کہ دفتر میں  دوپہر کو سادہ سا کھانا پیش کیا جائے گیلری میں نمازوں کی دری پر لمبا سا دسترخوان لگ جاتا اور ہم بڑے خوشگوار موڈ میں سادہ سا کھانا مزے لے لے کر کھاتے اس پر یہ نظم ہوگئی ۔اس نظم  کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی ابتدائی شکل پیارے  آقا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کو بھجوائی تھی ۔آپ نےبہت پسند فرامائی اور بہت کچھ  تبدیل کیا  اب یہ  مرمت شدہ نظم حاضر ہے ۔ اصل لطف تو ان کو آئے گا جو لجنہ کے دفتر میں یہ ماحول دیکھ چکے ہیں ۔

میک اَپ ہی کیا ڈھب سے نہ زُلفوں کو سنوارا

روژ آئی نہ کام اور نہ مسکارا بچارا

دُھن سر میں سمائی تھی چلیں لجنہ کے دفتر

ہم جائیں تو کچھ آگے بڑھے کام ہمارا

توفیق عمل کی بھی ملے باتوں سے بڑھ کر

ہر پیر کو کھلتا ہے یہاں لجنہ کا دفتر

موجود ہے ہر نوع کی خاتون یہاں پر

گھر کی بھی نگہدار ہے لجنہ کی بھی افسر

طے ہوتے ہیں سب جھگڑے یہاں ارض و سما کے

اُڑتی ہے فضا پر کوئی چلتی ہے زمیں پر

خاموش کوئی ہے کوئی باتوں کی دَھنی ہے

ہر ذہن میں رہتے ہیں مگر رشتوں کے چکر

مسجد کا تقدس ہے تکلف نہیں کرتیں

ہر شعبے کا دفتر ہے نمازوں کی دری پر

ہر پیر کو کھلتا ہے یہاں لجنہ کا دفتر

ہر ایک کو جلدی میں بس اپنی ہی پڑی ہے

پوچھی ہے اگر مال کی مصباح کی جڑی ہے

اک بات میں مصروف ہے اک سر پہ چڑھی ہے

کچھ وہ بھی کہے جاتی ہے جو پیچھے کھڑی ہے

ہر ایک کو فارغ کرو ہر دوجی سے پہلے

ہر ایک کو جانا ہے کہیں گاڑی پہ چڑھ کر

ہر پیر کو کھلتا ہے یہاں لجنہ کا دفتر

دوپہر کے کھانے کی تفاصیل نہ پوچھو

کیا کم ہے یہ احسان کہ مل جاتی ہے روٹی

بینگن کا مزا لیتے ہیں کدو کی بلائیں

لاکھ اپنی بلا سے نہ ملے مچھلی کی بوٹی

دیکھو تو سہی دال کی ہے کتنی بڑی دیگ

باتیں بڑے لوگوں کی نہیں ہوتی ہیں چھوٹی

دریا دلی لجنہ کی ہے اور دال سمندر

ہر پیر کو کھلتا ہے یہاں لجنہ کا دفتر

ہوتے ہیں بہت بور ہر اک پیر بے چارے

بیوی نہ رہے گھر پہ تو پھر کیا کرے شوھر

بچوں کی نگہداری کا بھی بوجھ ہے سر پر

کچھ ان کو کھلانا بھی ہے اسکول سے لا کر

مجبور ی میں بازار سے لے آتے ہیں برگر

کھولیں جو فرج کھانے کو پڑتا ہے تہی دست

بے لاش کی اک گور سی ہے ڈیپ فریزر

ہر پیر کو کھلتا ہے یہاں لجنہ کا دفتر

اب باپ کی بیٹے کو یہ ہوتی ہے نصیحت

پھر سوچ لو بیٹا کہیں پھوٹے نہ مقدر

لڑکی تو بہت اچھی ہے قابل ہے حسیں  ہے

پر سننے میں آیا ہے کہ ہے لجنہ کی ورکر

دورے پہ چلی جائے گی اجلاس سے آ کر

کیا لطف ہے جینے کا جو بیگم نہ ہو گھر پر

ہر پیر کو کھلتا ہے یہاں لجنہ کا دفتر

یہ باتیں تو بس یونہی ہنسانے کو کہی ہیں

سچ پوچھو تو مولا کی ہے یہ خاص عنایت

ہر ایک سے وہ دین کی خدمت نہیں لیتا

ہر ایک کو ملتی ہے بھلا کب یہ سعادت

کچھ خدمتِ دیں کر لیں تو اپنا ہی بھلا ہے

اس راہ میں تکلیفیں بھی آئیں تو غنیمت

ہے دنیا میں کیا خدمتِ اسلام سے بہتر

ہر پیر کو کھلتا ہے یہاں لجنہ کا دفتر

ہر گام پہ شامل رہیں مولا کی رضائیں

تا عرش مرے آقا کی جا پہنچیں دعائیں

یہ کام تو اللہ کے ہیں آگے بڑھیں گے

خوش بختی ہماری ہے کسی کام جو آئیں

شامل ہو شہیدوں میں لہو اپنا لگا کر

ہر پیر کو کھلتا ہے یہاں لجنہ کا دفتر

٭٭٭