گوشۂ ادب

ناقابل بیان

Spread the love

از بشریٰ اسلم جرمنی

اللہ تعالی کے اتنے فضل اور احسان ہیں کہ ان کا شمار مشکل ہے۔اور یہی وجہ ہےکہ میں نے کسی کو بھی کبھی ناں نہ کی۔جو کام یاد مدد میرے اختیار میں ہو میں کرتی ہوں اور یہ بھی خدا تعالی کا فضل اور احسان ہےوہ مجھے خدمت کے لئے چنتا ہے۔کہیں سے سرسری سا بھی پتہ چل جائے تو اس کے علم میں لائے بغیر، میں خدمت کے لئے حاضر ہوجاتی ہوں۔ اول خویش بعد درویش کی روشنی میں بہن بھائیوں کو بھی کبھی ناں نہیں کی۔بلکہ بعض دفعہ باتوں میں بات ہو رہی ہوتی ہےاور میں اپنے اوپر فرض کر لیتی ہوں کہ میں نے یہ کرنا ہے اور اللہ تعالی توفیق بھی دیتا ہے۔

یہ فروری 2016 کی بات ہے۔مارچ میں میری بھانجی کی شادی ہونی تھی۔ گاڑی زیادہ تر میرے پاس ہوتی تھی۔ مٹھائی، پردے، سٹیج کی تیاری، سسرال اور میکہ میں شادی کے کارڈز کی تقسیم، آپس میں بات چیت ہورہی تھی میں نے کہا اتوار کے روز چلتے ہیں صبح جلدی نکلیں گے۔ یہاں یہ بات بتاتی چلوں کہ گاڑی کی بریکیں بدلنے والی تھیں اور ورکشاپ نے کچھ دن بعد کا وقت دیا تھا اور نئی بریکیں گاڑی میں ہی تھیں۔

خیر اللہ کا نام لے کر سفر شروع کیا بہن اور بھانجی ساتھ تھیں۔ اس دن ساڑھے چار سو کلو میٹر سے زیادہ گاڑی چلائی اور سپیڈ 140 تک بھی تھی۔

مٹھائی کا آرڈر دیا، پردے لئے، دیورانی کو کارڈ دیا پھر اسے ساتھ لے کر سٹیج بنانے والوں کے پاس گئے واپسی پر دیورانی کو گھر چھوڑا اور آگے کا سفر شروع۔ گیزن شہر جانا تھا شام ھو چلی تھی اور رش کا ٹائم تھا مجھے لگا کہ کچھ گڑبڑ ھے مگر آہستہ آہستہ آہستہ چلتی رہی خیر کزن کی طرف پہنچے کھانا وغیرہ کھا کر وھاں سے نکلے تو رات ہو چکی تھی۔اب ڈر بھی لگ رہا تھا مگر اظہار نہ کیا کہ بہن کمزور دل کی ہے۔مگر واپسی پر میں نے رفتار آہستہ رکھی کہ اسوقت رَش بھی نہیں تھا، بہرحال خدا خدا کر کے گھر پہنچے بہن بھانجی کو گھر اتارکر گھر آئی اور پھر رات 2بجے میاں صاحب نے جاب پر جانا تھا تو گاڑی انھوں نے چلائی جاتی دفعہ میاں نے پوچھا یہ آج کتنی گاڑی چلائی ہے اور سپیڈ ؟؟؟ ان کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اتنا ہی کہہ سکی کہ شکر ہےاللہ تعالی کا کہ خیریت سے واپس آگئے ہیں۔

دوتین دن کے بعد ورکشاپ گاڑی لے کر گئی مکینک نے گاڑی اوپر کی اور کام شروع کیااور کچھ دیر بعد سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ خاتون یہ گاڑی کس نے چلائی ہےاور یہاں تک کیسے لے کر آئی ہو۔میں نے معصومیت کی انتہا کردی، کیوں کیا ہوا؟

اس نے پرانی بریک ٹکڑیوں کی صورت میں نکالیں اور نئ بریکیں دکھائیں کہ گھس بھی جائیں تو اس طرح نہیں ٹوٹتیں۔ ناقابل یقین، ناقابل یقین،

اور میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہم سب کو محفوظ رکھا کہ ہماری گاڑی تو خدمت خلق کے تحت چلتی ہےاور اسی دم مجھے اپنے کاندھوں پہ دباؤ محسوس ہواکہ خدا میرے بہت قریب ہے۔

مگر مکینک کا وہ انداز مجھے کبھی نہیں بھولے گا۔

اور اسکے بعد جو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوئیں ان کا تو شمار ہی مشکل ہے۔

اتنی مہمانداری کہ تین ہفتے تک میرا گھر بھرا رہا20۔25 لوگ صبح سے رات گئے تک اور مجھے نہیں پتہ چلا کہ انتظام کیسے ہوجاتا تھا، کسی چیز کی کمی نہ ہوئی۔

شکر ہےاللہ تعالی کی پاک ذات کا جس نے ہمیشہ مدد کی اور محفوظ رکھا۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *