//مرزا غالب کے لطیفے(قسط دوم)
jokes_ghalib

مرزا غالب کے لطیفے(قسط دوم)

ندامت

 ایک روز دیوان فضل اللہ خان بگھی میں سوار مرزا کے مکان کے پاس سے انہیں ملے بغیر گزر گئے، مرزا کو پتہ چلا تو انہوں نے اس مضمون کا رقعہ دیوان جی کو لکھا بھیجا۔ ’’آج مجھ کو اس قدر ندامت ہوئی ہے کہ شرم کے مارے زمین میں گڑا جاتا ہوں، اس سے زیادہ اور کیا نالائقی ہو سکتی ہے کہ آپ کبھی کبھی تو اس طرف سے گزریں اور میں سلام کو بھی حاضر نہ ہوں۔‘‘ جب رقعہ دیوان فضل اللہ خان کے پاس پہنچا تو وہ نہایت شرمندہ ہوا اور اسی وقت بگھی میں سوا رہو کر مرزا صاحب کو ملنے چلا آیا۔

ولایت کا غرور

 مرزا نے بہادر شاہ ظفر کے شاہی دربار میں اپنی غزل سنائی اور جب مقطع پڑھا۔

 یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالب ایسا

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خواں ہوتا

 تو بہادر شاہ ظفر بولے۔ ’’بھئی مرزا صاحب ! ہم تو جب بھی آپ کو ایسا نہ سمجھتے۔‘‘ مرزا نے کہا ’’حضور تو اب بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں، مگر یہ اس لئے ارشاد ہوا ہے کہ میں اپنی ولایت پر کہیں مغرور نہ ہو جاؤں۔

باغی مسلمان

غدر کے بعد مرزا کی پنشن بند تھی اور ’’سرکار کے باغی‘‘ کے الزام کی وجہ سے دربار میں شرکت کی اجازت نہ تھی، ایک روز پنڈت موتی لال، میر منشی لیفٹیننٹ پنجاب مرزا سے ملنے آئے، پنشن کا زکر چلا تو مرزا نے کہا۔ ’’تمام عمر میں ایک دن شراب نہ پی ہو تو کافر اور ایک دفعہ نماز پڑھی ہو تو گنہگار، پھر میں نہیں جانتا کہ سرکار نےکس طرح مجھے باغی مسلمانوں میں شمار کر لیا۔‘‘

مولانا صہبائی

ایک روز کسی صحبت میں مولانا صہبائی کا ذکر آیا، مرزا نے کہا۔ ’’مولانا نے بھی کیا عجیب و غریب تخلص رکھا ہے، عمر بھر میں ایک چلو بھی نصیب نہیں ہوئی اور صہبائی تخلص رکھا ہے۔سبحان اللہ، قربان جائیے اس تقویٰ کے اور صدقے جائیے اس تخلص کے۔‘‘

شیطان

مرزا کی بیٹھک ایک چھوٹا سا تنگ کمرہ تھا جس کا دروازہ بھی بے حد چھوٹا تھا۔ ایک بار رمضان کے مہینے میں مفتی صدر الدین آزردہ ٹھیک دوپہر کے وقت مرزا سے ملنے آئے، اس وقت مرزا اپنے کسی دوست کے ساتھ چوسر کھیل رہے تھے۔ آزردہ انہیں دیکھ کر کہنے لگے کہ مرزا صاحب ہم نے حدیث میں پڑھاتھا کہ رمضان کے مہینے میں شیطان قید ہوتا ہے مگر آپ کو چوسر کھیلتے ہوئے دیکھ کر حدیث کی صحت میں تردد پیدا ہو گیا ہے۔مرزا نے فوراً کہا، قبلہ حدیث بالکل صحیح ہے، مگر آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہیں پر تو شیطان قید رہتا ہے۔

تیسری شادی

مرزا گھریلو ذمہ داریوں کو سخت مصیبت قرار دیتے تھے، کسی نے ان کے ایک شاگرد امراؤسنگھ کی دوسری بیوی کے مرنے کا حال لکھا اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ اس کے ننھے ننھے بچے ہیں اب اگر تیسری شادی نہ کرے تو کیا کرے اور بچوں کی کس طرح پرورش ہو۔مرزا اس کے جواب میں لکھتے ہیں۔ ’’ا مراؤسنگھ کے حال پر اس کے واسطے رحم اور اپنے واسطے رشک آتا ہے، اللہ اللہ ایک وہ ہیں کہ دو دو بار ان کی بیڑیاں کٹ چکی ہیں اور ایک ہم ہیں کہ ایک اور پچاس برس سے جو پھانسی کا پھندہ گلے میں پڑا ہے تو نہ پھندہ ہی ٹوٹتا ہے نہ دم ہی نکلتا ہے، اس کو سمجھاؤکہ بھائی تیرے بچوں کو میں پال لوں گا، کہ بھائی تیرے بچوں کو میں پال لوں گا، تو کیوں بلا میں پھنستا ہے۔‘‘

قاطع برہان

مرزا نے ایک کتاب ’’قاطع برہان‘‘ لکھی اس کا جواب اکثر مصنفوں نے دیا، ان میں سے بعض کے جواب مرزا نے بھی لکھے اور ان میں زیادہ تر شوخی اور ظرافت سے کام لیا لیکن مولوی امین الدین کی کتاب ’’قاطع قاطع‘‘ کا جواب مرزا نے کچھ نہیں دیا کیونکہ اس میں فحش اور ناشائستہ الفاظ کثرت سے لکھے تھے۔ کسی نے کہا۔ ’’حضرت آپ نے اس کا کچھ جواب نہیں لکھا‘‘ مرزا نے جواب دیا۔ ’’اگر کوئی گدھا تمہارے لات مار دے تو کیا تم بھی اس کے لات مارو گے؟‘‘

نام کی مہر

ایک روز بہادر شاہ ظفر اپنے چند مصاحبوں کے ساتھ باغ میں ٹہل رہے تھے، مرزا بھی ساتھ تھے۔ اس باغ کے آم سوائے بادشاہ یا بیگمات کے اور کسی کو میسر نہ آ سکتے تھے۔ مرزا بار بار آموں کی طرف غور سے دیکھ ر ہے تھے۔بادشاہ نے پوچھا ’’مرزا ا س قدر غور سے کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ عرض کی۔ ’’حضور والا ! یہ جو کسی نے کہا ہے۔

ہر سر ہر دانہ بہ نوشتہ عیاں

کیں فلاں ابن فلاں ابن فلاں

یعنی ہر دانے پر کھانے والا کا نام لکھا ہوتا ہے۔ میں بھی دیکھ رہا ہوں کہ کسی دانے پر میرے نام کی مہر بھی ہے۔‘‘ بادشاہ یہ سن کرمسکرائے اور اسی روز آموں کا ایک ٹوکرا مرزا کے ہاں بھجوا دیا۔

)باقی انشاء اللہ آئندہ شمارہ میں(