کئی چاند تھے سر آسمان (آخری قسط)
از ڈاکٹر شہناز شورو
میرزا خورشید عالم دس برس کے جبکہ شاہ محمدآغا کا پندھرواں برس تھا کہ 9 جولائی 1856کے دن اگلی صبح کے چھ بجتے بجتے کثرت استفراغ سے مرزا فخرومحمد کی
روح عالم بالا کو پرواز کر گئی۔ یہ موت اور ہندوستان کی بادشاہت کاخاتمہ گویا کہ ایک ہی المیے کے دو سانحات تھے۔ مرزا غلام فخرالدین عرف میرزا فخرو کی اچانک موت کے بعد بچی کھچی بادشاہت کی محلانہ سازشوں کے نتیجے میں شوکت محل، وزیرخانم عرف چھوٹی بیگم، المتخلص زہرہ دہلوی والدہٴ نواب مرزا خان داغ دہلوی کا قلعے سے تین کپڑوں میں نکلنا، اک نا گفتہ با حسرتِ ناتمام سے عبارت ہے۔ ذہین، محبوب، بے باک، سحرانگیز، شاعرانہ مزاج کی حامل، جنس و شباب کے بھرپور شعور سے مالامال، دلآرائی و محبوبیت، خودبینی و خود شناسائی اور تانیثیت کی دانائی سے آراستہ و پیراستہ، بے مثال ملکوتی حسن کی مالک شخصیت جسے حاصل کرنے کی تمنا میں نہ جانے کتنے دل غرقاب ہوئے اور جس کو اپنانے کی حسر ت دل میں لئے ولئم فریزر بھی مارا گیا، یوں دلگرفتہ اس کوچے سے نکلی کہ فلک کی بے حسی اور زمانے کی کٹھورتا پر ماتم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں رہ جاتا۔ 822 صفحات پر محیط ناول کا آخری پیراگراف ملاحظہ فرمائیے :
“اگلے دن مغرب کے بعد قلع مبارک کے لاہوری دروازے سے ایک چھوٹا سا قافلہ باہر نکلا۔ ایک پالکی میں وزیر، ایک بہل پر اس کا اثاث البیت، اور پالکی کے دائیں بائیں گھوڑوں پر نواب مرزا خان اور خورشید میرزا۔ دونوں کی پشت سیدھی اور گردن تنی ہوئی تھی۔ محافظ خانے والوں نے روکنے کے لئے ہاتھ پھیلائے تو میرزا خورشید عالم نے ایک ایک مٹھی اٹھنیاں چونیاں دونوں طرف لٹائیں اور یوں ہی سر اٹھائے ہوئے نکل گئے۔ ان کے چہرے ہر طرح کے تاثر سے عاری تھے لیکن پالکی کے بھاری پردوں کے پیچھے چادر میں لپٹی اور سر کو جھکائے بیٹھی ہوئی وزیر خانم کو کچھ نظر نہ آتا تھا۔ تمام شد۔ “
مگر معاملہٴ جہاں بانی یوں کہاں تمام شد ہوتا ہے۔ جس طرح کمال اپنی تابناکی سے اک عالم منور کرتا ہے اسی طرح زوال اپنی تاریکی سے سلسلہٴ روز و شب کو سیہ تر کرتا اپنی دلکی چال چلے جاتا ہے۔ اور پھر ہندوستان نے یہ بھی دیکھا َکہ “1835 کے سکوں پر بادشاہ دہلی کے بجائے انگریز بادشاہ ولیئم چہارم کا نام اور چہرہ دیا گیا۔ اور 1840 کے سکوں پر ملکہ وکٹوریہ نمودار ہوئیں، اب یہی سکے ہر جگہ متداول تھے۔ ” “1856 کا سال شروع ہوتے ہوتے سب سے بڑا سانحہ انتزاع سلطنت اودھ کا تھا۔ 7 فروری 1856 کو انگریز فوجیں لکھنوٴ میں داخل ہو گئیں۔ بادشاہ کو مسلح محافظوں کے گھیرے میں اور بڑی ایزا کے ساتھ پہلے الہٰ آباد اور پھر کلکتہ لے جایا گیا۔ معزول بادشاہ نے اپنی مثنوی” حزن اختر “میں اپنا حال لکھا۔ ” قدر بلگرامی کو غالب نے 23 فروری 1865 میں لکھا، “تباہیٴ ریاست اودھ نے، با آنکہ بیگانہٴ محض ہوں، مجھ کو بھی افسردہ دل کر دیا۔ بلکہ میں کہتا ہوں کہ سخت نا انصاف ہیں وہ اہل ہند جو افسرہ دل نہ ہوئے ہوں گے۔ اللہ ہی اللہ ہے۔ “
تاریخ کے اس المناک باب تک آتے آتے، اس نہایت مضبوط ومربوط ناول میں 1793 سے لے کر 1856 کی تاریخ کے ہزارہا گوشے بے نقاب ہوتے ہیں۔ 1857اور 1947 کے تاریخی سانحات اور ان کے نتائج پر سوچنے کے لئے مصنف آپ کو آزادی دیتا ہے اور پھر اسی معروضی تسلسل کے ساتھ داستان شروع کرتا ہے جو اگر اور کچھ بھی نہیں تو بھی زوال وقت کی ذد میں آئے ہزاروں میں سے ایک بدنصیب خاندان کی دلسوز کہانی کے طور پر یادگار ہے جسے باد سموم ایک جگہ سے دوسری جگہ اڑائے پھری۔ اور زمینی ہجرتوں کے اس قاتل سلسلے کے اسیر اس خاندان کا کچھ بچا بھی تو ایک خون تھوکتی نشانی بچی جسے حالات نے وہاں لا پٹخا کہ جہاں جینے کے سب اسباب معدوم ہوئے جاتے تھے۔ ایسی اُفتادِ زمانہ کے باوصف اپنی جان سے بے زار اس نحیف کردارکو احساس تھا کہ برٹش لائبریری میں موجود وزیرخانم کی تصویر پر صرف اور صرف اسی کا حق ہے۔ تہذیب کے اس شجرسایہ دار کے پات پات اس طرح بکھرے کہ کسی کواپنا حدود و اربعہ یا نقشہ یاد نہ رہا۔ کیا ستم ہے کہ وقت کی بے مہر ڈال سے ٹوٹے، خزاوٴں کے بے مروّت ہاتھوں سے جھڑے پتوں کی طرح بکھرے، دولت و حشمت اور مال و ملکیت کے وارث اجنبی شہروں میں اپنا اتہ پتہ کھوجتے، بھٹکتے پھرے اور انہی کے پاس دردِ دل کی دوا ڈھونڈتے رہے جن سے دردِ دل پایا تھا۔ لرزہ سا طاری ہو جاتا ہے کہ آسمان کیسے کیسے امتحان لیتا ہے۔
آئیے اب دوسری صدی کا احوال کرتے ہیں، جسے ہجرتوں کی صدی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ گو کہ اس حصے کو فاروقی صاحب نے ناول کے سر آغاز میں رکھا ہے اور کتاب زمانہٴ حال سے ماضی کی طرف کھلتی ہے۔ مگر میں نے یہ ریویو لکھتے ہوئے زمانہٴ ماضی سے حال کی طرف سفر کیا ہے۔ فاضل مصنف ناول کے دوسرے باب “سوفیہ” (ڈاکٹر خلیل احمد فاروقی، ماہر امراض چشم کی یادداشتوں سے) کے صفحہ نمبر 20 پر رقم طراز ہیں۔ “وسیم جعفری کئی سال سے شمالی ہندوستان میں اٹھارویں انیسویں صدی کے بعض ایسے خاندانوں اور گھرانوں کے حالات ڈھونڈنے میں مصروف تھے جو اپنے زمانے میں تو بہت نمایاں تھے لیکن اب وقت نے انھیں اوراق کے مزبلے میں داب دیا تھا اور ان کے نام اب اگر کسی کو معلوم تھے تو وہ محض چند اختصاصی مورخین ہی تھے۔ ان میں بعض تو انگریزوں کی سرپرستی میں خوب پھلے پھولے اور آئندہ یا تو اپنے ہی نا اہل اخلاف کی بنا پر تباہ یا گمنام ہوئے، اور بعض ایسے تھے جو 1857کے پہلے یا بعد حاکمان فرنگ کی تیغ جور اورستم عدل نما کی ترازو پر تلے اور کم وزن پائے گئے۔ انہیں امید تھی کہ ان کی داستان وہ کبھی قلمبند بھی کرسکیں گے۔ “
وزیر خانم اور مارسٹن بلیک کے دو بچوں کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ بیٹے کا نام مارٹن بلیک عرف امیر مرزا جبکہ بیٹی کا نام سوفیہ مسیح جان تھا جبکہ عرفیت بادشاہ بیگم اور مس خفی تھی۔ مارسٹن بلیک کی بے وقت موت کے بعد ان کی تربیت کی ذمے داری مارسٹن بلیک کی سخت گیر پھوپھی ذاد بہن ایبی ٹنڈل اور اس کے بھائی ولئم ٹنڈل نے لے لی تھی مگر وزیر خانم کواپنے بچوں سے ملنے کی اجازت نہ تھی۔ اس کی بنیادی وجہ بچوں کو مسیحی تعلیم اور طور طریقے سکھانا تھے۔
سوفیہ کی شادی الیگزینڈر اسکنر المعروف بہ ایلک سے ہوئی۔ سوفیہ اور الیگزینڈر کے دو بچے ہوئے۔ بیٹے کا نام بہادر میرزا اور بیٹی کا نام شارلٹ (احمدی بیگم) رکھا گیا۔ 1946 تک ان کی اولادیں جے پور میں خوشحال زندگی بسر کر رہی تھیں۔ سوفیہ کی دوسری شادی، امیر یا امیراللہ سے ہوئی۔ بیٹے کا نام مصنف کو معلوم نہیں۔ مگر اس بیٹے کے بیٹے کا نام حسیب اللہ قریشی تھا، جو 1890ء کے قریب پیدا ہوا۔ حسیب اللہ قریشی بعد میں سلیم جعفر کے نام سے ادیب اور نقاد ہوئے۔ کراچی میں ان کا اِنتقال ہوا۔ انہوں نے کچھ عرصہ میرپورخاص (سندھ) میں پروفیسر کرار حسین کے ساتھ بھی کام کیا۔
سلیم جعفر کی واحد اولاد ان کے بیٹے اعجازاحمد قریشی تھے۔ جن کا قلمی نام شمیم جعفرتھا۔ ان کی شادی ایک اینگلوانڈین خاتون Hermione Mortimer کی اکلوتی بیٹی Perdita Moftimer سے ہوئی۔ شمیم جعفر، بنگلہ دیش میں چائے کے باغ میں منیجر تھے۔ مزدوروں اور مالکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے ایک جھگڑے کو رفع دفع کروایا تو مزدوروں نے اس عمدگی سے اپنا دفاع کرنے پر محبت سے انہیں کاندھوں پہ اُٹھا لیا۔ انہیں کاندھے پہ اٹھانے والے مزدوروں کا پیر رپٹا تووہ توازن قائم نہ رکھ سکے اور شمیم جعفر جو گرے تو ایک کھائی میں گرتے چلے گئے۔ ان کے سر میں ایسی چوٹ آئی کہ یادداشت کھو بیٹھے۔ تب مجبوراً نوکری چھوڑ باپ کے پاس میرپورخاص آ گئے۔ خود کو لاٹ صاحب اب تک سمجھتے سو سج بن کر گھر سے نکلتے۔ ان کے حلئے اور وضع قطع کی وجہ سے ان کا نام “ٹائم بابو” پڑ گیا۔
شمیم صاحب کی دیکھ بھال ان کے باپ سلیم جعفر اور بیوی نے کی مگر پھر سلیم جعفر ایک کار حادثے میں کولہے کی ہڈی تڑوا بیٹھے اور نہایت دردناک حالت میں 1959ء میں اِنتقال کیا۔ سلیم جعفر نے شمیم جعفر کے لیے وصیت نامے میں بہت کچھ اِنتظام کر دیا تھا اور ضروری کاغذات “محمد لطیف گاندھی” کے حوالے کر دیے تھے۔ شمیم جعفر کے بیٹے کا نام وسیم جعفر تھا مگر بیٹی جو ذہنی اور جسمانی طور پر معذور تھی، کا نام مصنف کو معلوم نہیں ہوسکا۔ پر ڈیٹا اپنے مخبوط الحواس شوہر اور بیٹے اور بیٹی کو لے کر اِنگلستان منتقل ہونا چاہتی تھیں مگر باپ کے بعد شمیم جعفر کا بلاوا آ گیا۔ اس کے بعد پرڈیٹا دونوں بچوں کے ساتھ انگلستان آ گئیں۔ جہاں وسیم جعفرنے لندن اسکول آف اوریئنٹل اینڈ افریقن اسٹڈی (SOAS) سے اُردو اور فارسی سیکھی۔ اور لندن کی “برٹش لائبریری” میں موجود وزیرخانم کی تصویر وزیرخانم کے واحد مرد وارث کی حیثیت سے اپنا حق سمجھ کر “چوری” کی۔ یہ وہی تصویر تھی جو دہلی کے مشہور نقاش اُستاد غلام علی خان کے والد استاد مظہر علی خان نے بنائی تھی۔ اب کون سمجھے اور سمجھائے کہ بنی ٹھنی، من موہنی، کشن گڈھ کی رادھا اور وزیر خانم میں کیا قدر مشترک تھی یا ان کی تصویروں میں کیا مماثلت ڈھونڈی جا سکتی ہے۔ وسیم جعفر نے لندن میں بتاریخ 19 ستمبر کوجان جان آفرین کے سپرد کی۔ مگر سن وفات درج نہیں ہے۔ مگر گمان غالب ہے کہ یہ بیسویں صدی کا آخری عشرہ ہو سکتا ہے۔
اس ناول کے لب و لہجہ کی دلکشی و امارت، تخلیقی وفور کا جمالیاتی بیان، مختلف النوع پیشے، اشیاٴ اور ہنرمند افراد کی مہارت سازی کے احوال کی تعریف کرنے کے لئے لفظوں کا چناوٴ نہایت مشکل امر ہے۔ زبان کی دلآویزی و جاذبیت اور بیان کی سلاست ومعروضیت اپنی جگہ، زندگی کی سیکڑوں شکلوں کو منعکس کرنے اور فنون لطیفہ کے عروج کو بیان کے لئے جو الفاظ ضابطہٴ تحریر میں لائے گئے ہیں اس کی داد کے لئے لفظ کہاں سے لاوٴں۔ پھولوں، پتیوں، ٹہنیوں، بُوٹیوں، رنگوں یا پتھروں کی پراسراریت کا ذکر ہو، علوم کے حصول کے محبت بھرے راستوں اور حکمت کا بیان ہو، رنگ سازی و قالین بافی میں رنگوں اور تشبیہات میں پنہاں رمز کا معاملہ ہو، راگ، موسیقی اور سُروں کا جہاں ہو، قرینہٴ نشست و برخاست ہو، رشتے داری و قرابت داری، عشق و محبت کی بے تابی، وظیفۂ حیات کا ذکر، مشتاق فنکاروں کے موئے قلم کی تابناکی، اہلِ ہندوستان کی جامہ زیبی، آداب محفل و معاشرت، شائستگی، جمالیات، نقشگری، مصوری، شاعری، منطق، حافظہ، رکھ رکھاوٴ، بودوباش، موسیقی، محاسن علم و ادب، تہذیبی رویے، ہنرمندیوں کا عروج، لباس و زیورات، آرائش و زیبائش، سماجی تعلقات، روابط و میلانات، آلات و اوزار، مینا کاری و دست کاریوں کے بے مثال نمونے غرضیکہ ہرایک موضوع نہایت چابکدستی اور مناسب ترین الفاظ کے ملاپ سے قلمبند ہوا ہے۔
اردو شاعری کے بام عروج پر پہنچے شعراء مثلا، آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد ملک الشعراٴ شیخ محمد ابراہیم ذوق اور مرزا اسداللہ خان غالب سمیت کئی کردار نظروں کے سامنے پھرنے لگتے ہیں۔ ولئم فریزر کی نعش پر مرزا فتح اللہ بیگ خان کا بین “ہائے شمس الدین نے تجھے نہ چھوڑا” اور ولئم فریزر کے قاتل کو بددُعا دیتے ہوئے یہ کہنا کہ “کریم خان قاتل ہے فریزر کا”، کے علاوہ شاعروں کی آپس کی چپقلش اور برطانوی راج کی تابعداری کا ایک رخ دکھاتا ہے۔ ناول میں سکھ کا مثبت کرداراُجاگر کیا گیا ہے۔ منشی گھنشیام لال عاصی کو کمزور شاعر ثابت کرنے کے لئے کی گئی عصبیت کو شدومد سے نامنظور کرنے والے واقعے کے بیان کے علاوہ ہندو مسلم مذہبی رواداری اس ایک جملے سے بھی عیاں ہے کہ “شاہ عالم کے فرمان پر اکا دکا گائے کا ذبیحہ ہوتا تھا۔ ” انگریزوں کے ساتھ ہندوستانی عورتوں کی شادیاں اور خانگی زندگی کا احوال، غرض یہ کہ اس زمانے کے ہندوستان کی زندگی کے ہر ہر پہلو کو ناول میں سمویا گیا ہے۔
برطانوی راج کے دنوں میں ہندوستان میں انگریز کی تعداد ایک بحث طلب سوال رہا ہے۔ کچھ محققین کے نزدیک انتہائی ضرورت کے وقت بھی ہندوستان کے تین سو ملین لوگوں کے لئے کبھی 20 ہزار سے زائد انگریز فوج اور دیگر ذمے داران نہیں بلائے گئے۔ عام حالات میں تین سے پانچ ہزار برطانوی فوج انڈیا میں ہوتی تھی۔ بقول شمس الرحمٰن فاروقی صفحہ نمبر 505 “کمپنی کی فوج میں کٹنے مرنے والے سب ہندی تھے۔ ” اس بات کا ثبوت نواب شمس الدین احمد والی فیروزپور کی پھانسی پر ممکنہ ہندومسلم ری ایکشن کے بارے میں کیے گئے اقدام سے لگایا جا سکتا ہے کہ “میرٹھ اور کول سے فوج پہلے ہی طلب کی جا چکی تھی، جن میں سو گورے اور باقی دیسی تھے۔ ” ایک اور پیراگراف ملاحظہ فرمائیے جو اس رات کی بابت ہے جس کی صبح نواب شمس الدین کو پھانسی ہونی تھی۔ “نہ صرف یہ کہ شمس الدین احمد کو اپنے خدام اور محافظین سے محروم کر دیا گیا، انگریزوں نے یہ حکم بھی راتوں رات گشت کرا دیا کہ شمس الدین احمد کا کوئی بھی ملازم یا قرابت دار اگر شہر میں گھومتا ہوا پایا جائے گا، خواہ وہ کسی بھی ضرورت یا مجبوری سے باہر نکلا ہو، تو اسے بے درنگ قید خانے بھیج دیا جائے گا۔ لہٰذا گھڑی بھر میں شہر دہلی ایسا ہو گیا گویا وہاں شمس الدین احمد کا کوئی حامی وناصر کبھی تھا ہی نہیں۔ “
“انگریز نے آ کر طور طریق رسم و رواج، اصول و فروع، تاریخ و افسانہ، سب کی شکل بدل دی تھی۔ انگریز نے اہل ہند کو باور کرانا شروع کر دیا تھا کہ اہل ہند جن باتوں کے دلدادہ ہیں اور جن خیالوں کی روشنی میں اپنا جادہٴ حیات ڈھونڈتے ہیں وہ سب باتیں اگر غلط نہیں تو ازکار رفتہ ہو چکی تھیں۔ ” تہذیبیں راتوں رات سورج کی طرح نہیں اُگتیں۔ وہ صدیوں کی کاوشوں، ریاضتوں اور ہنرمندیوں کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ تہذیبوں کا بننا اور بگڑنا کیسا ہوتا ہے۔ تہذیبیں ملیامیٹ کیونکر ہوتی ہیں۔ بادشاہیاں مٹنا کیسا ہوتا ہے۔ اپنے ہی وطن میں بے وطنی کے دُکھ سہنا کیا معنی رکھتا ہے اورحادثات، مصائب و سانحات کو، بے چارگی کے عالم میں یوں تسلسل سے ہوتے دیکھتے چلے جانا کیسا المیہ ہے۔ شمس الرحمٰن فاروقی صاحب صفحہ نمبر 637 پر لکھتے ہیں، “بعد کے لوگوں نے اسے انگریز کے غلبے کی برکت قرار دیا، یا اسے دلی کا آخری سنبھالا نام دیا، یا اسلامی تہذیب کی ابدی روشنی کا کرشمہ سمجھا، لیکن حقیقت بہرحال یہی تھی کہ بہادر شاہ ثانی کی دلی میں وہ سب کچھ تھا جو دنیا کے بڑے سے بڑے شہر میں اس وقت یکجا ملنا مشکل تھا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شہر آباد، رعایا دلشاد، امیر اپنے حال میں مست، فقیر اپنی کھال میں مست۔ دلی صحیح معنوں میں بیت المعمور تھی۔ “
کہنے کو تو یہ وزیرخانم کی حرماں نصیبی کی ایک داستان ہے، ایسی داستان جس پر کہ فلک خود مائلِ تماشا ہو۔ اوراس بدنصیب ہستی کو اوجِ ثریا تک اُٹھا کر زمین پر بار بار پٹخنا گویا کہ مشغلۂ تقدیر ہو۔ شہر بے مثال دلی کے اجڑنے کی کتھا ہے، یا تہذیب ہندوستان کے زوال کا المیہ یا پھر نواب مرزا خان داغ دہلوی کی زندگی کا احوال، تربیت اور ان کے شاعرانہ عروج کی ادبی و سماجی تاریخ۔ جو کچھ بھی ہے اُداسی کے ایک بے نام رنگ میں ملفوف ہے۔ گویا کہ دو صدیوں کی تاریخ و تہذیب، وقار وتمکنت اورعروج و زوال سے لبریز داستانِ ہوش رُبا کاغذ پر منقش و مرکوز ہو گئی ہے۔ ہو سکتا ہے کل کو جو الفاظ ڈھونڈے سے لغات میں نہ ملیں وہ اس کتاب میں مل جائیں۔ اس ناول کو پڑھ کر احساس فروزاں ہوا کہ جہاں اردو زبان پیدا ہوئی اور پھلی پھولی وہاں کی سرزمین پہ اس کی جڑیں مذید گہری اور مضبوط ہوتی جارہی ہیں۔ مختلف علاقوں اور خطوں کی بولیوں کے لفظ اسے مزید رسیلا بنا رہے ہیں۔
مجھے نہیں معلوم، کئی چاند تھے سرِآسمان کو ناقدین ادب نے کس معیار پر پرکھا ہے اور سر دست اس کا کیا مقام متعین کیا ہے۔ میری رائے میں یہ ناول “آگ کا دریا” کے بعد اردو ادب کا دوسرا معجزنما ناول ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی صدی ایک سے زیادہ جینئس کا بار نہیں اٹھا سکتی۔ شاید اسی طرح کسی بھی زبان کا بڑا ناول یا بڑا ادبی شاہکارجسے Sublime کہنا چاہیے، ایک صدی میں ایک ہی تخلیق ہوتا ہے۔ اگر بیسویں صدی میں اردو کا سب سے بڑا ناول “آگ کا دریا” ہے تو گمان غالب ہے کہ اکیسویں صدی کا عظیم ترین ناول “کئی چاند تھے سرِآسمان” کہلائے گا۔ یہ ناول ادب عالیہ کا اٹوٹ انگ بن کر ہمیشہ زندہ رہے گا اور اردو زبان و ادب ڈاکٹر شمس الرحمٰن فاروقی کا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ دو اشعار از نواب مرزا خان داغ دہلوی:


