//مومن یا مسلم
momin muslim

مومن یا مسلم

. بعض اوقات مسلم اور مسلمان کو ہم معنی لیا جاتا ہے,تو بعض اوقات مسلمان اور مومن کو ہم معنی لیا جاتا ہے۔

ہر مومن مسلم (کلمہ گو) تو ہوتا ہے، پر ہر مسلم مومن نہیں ہوتا۔جبکہ (دوزخ سے) نجات تو صرف مومن کے لئے ہے،چاہے وہ اوسط درجے کا ہی کیوں نہ ہو!

دراصل ہم پاکستانیوں کو یہ مغالطہ ہے کہ چونکہ ہم اپنے آپ کو مسلم کہتے ہیں لہذا ہم تو اللہ کے عذاب سے بچے رہیں گے۔

دوسری طرف کفار، پاکستانی اور دوسرے نام نہاد اسلامی ملکوں کی طرف اشارہ کرکے اسلام کو نیچا کر نے کی کوشش کرتے ہیں!

رہی بات ’’اسلامی مملکت‘‘ کی تو اسی اصول (لیبل کی بجائے اصل پر جانا) کو آگے لیکر ہم یہ نتیجہ عکس کرتے ہیں کہ:

بیشتر مسلم ممالک اپنے آپ کو اسلامی مملکت کہلانے کے حقدار نہیں!

(البتہ اس کا قطعاً مطلب نہیں کہ ہمیں اسلامی مملکت بنانے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے) ۔

نیز دل ہی دل میں سوچنا کہ “اسلام تو آج کے زمانے میں نہیں چل سکتا”حد درجہ کی منفی سوچ ہے!

دراصل ہر خطہ یا قوم تاریخ کے الگ وقتوں میں حقیقی اسلام یا اس سے قریب تر ہونے کا مزاہ چکھ چکی ہے۔کبھی کوئی قوم تو کبھی کوئی۔

میرے نزدیک کسی قوم کا اسلام سے نزدیک تر ہونے کی علامت یہ ہے:

وہ قوم نہ کسی اور کو غلام بناتی ہے اور نہ وہ کسی کی غلام ہوتی ہے۔نہ کوئی بت پرستی کرے اور نہ کوئی اپنے آپ کو معبود ظاہر کرے! جو کے عین اسلام ہے!

یقیناً دنیا میں حقیقی مسلمان (مومن)کم ملیں گے، تو اسلامی مملکتیں بھی کم ملیں گی۔

یہ بات تو وہی سمجھے گا جس نے اسلام کو سمجھا ہے۔

سورة عصر (جو قرآن کی بہت اہم سورة ہے) کے مطابق:

’’عصر کی قسم،بے شک انسان خسارے میں ہے سوائے ان کے جو ایمان لائے،نیک عمل کئے، صبر (استقامت)اور حق بات کی تلقین کرتے رہے۔‘‘

اس وقت بھی نظر دوڑائیں تو اکا دکا اسلامی مملکت نظر آتی ہیں اور یہ ہی ہمیں حوصلہ دیتی ہیں!