خلق خدا سے ہمدردی اور حسن سلوک
خلق خدا سے ہمدردی اور حسن سلوک
قال اللہ و قال الرسول
تحریر امتہ اللہ خورشید
1۔ جسماني رشتہ 2۔ ديني رشتہ
ا للہ تعاليٰ کي مخلوق ميں (1) وہ بھي ہيں جن سے انسان کا جسماني رشتہ کا تعلق ہے۔ ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کے متعلق مفصل احکام صلہ رحمي کے تحت گزر چکےہيں۔ اور(2) وہ بھي ہيں جن سے ديني اور روحاني رشتہ ہے۔ اس کے متعلق بھي اللہ تعاليٰ نے قرآن مجيد ميں اور آنحضرتﷺ نے احاديث ميں بے شمار ارشادات فرمائے ہيں۔ اللہ تعاليٰ فرماتا ہے ۔
ھُوَالَّذِيْ اَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ اِخْوَانًا۔
ترجمہ:خدا ہي نے تمہارے دلوں کو ملايا ہے پس تم اس کي نعمت کے صدقہ آپس ميں بھائي بھائي ہو گئے۔
گويا يہاں تاکيد فرمائي کہ مسلمانوں کو بالکل حقيقي بھائيوں کي طرح ہونا چاہئے۔ پھر فرمايا۔
وَ نَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ۔
ترجمہ: ہم ان کے دلوں سے کينہ نکال ديں گے اور وہ آپس ميں بھائي بھائي ہوں گے اور بالمقابل تختوں پر بيٹھے ہوں گے۔
اللہ تعاليٰ نے متقي اور جنتي لوگوں کي يہ تعريف فرمائي کہ ان کے دلوں ميں ايک دوسرے کے متعلق کوئي کينہ نہ ہوگا۔ پھر اس اخوّت اجتماعي کو مضبوط کرنے کيلئے تفصيلي احکام دئے۔ سورة حجرات ميں فرمايا:۔
(1) لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ (2) لَا تَلْمِزُوْا اَنْفُسِکُمْ (3) لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ (4) اِجْتَنِبُوُا کَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ (5) لَا تَجَسَّسُوْا (6) لَا يَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا۔
آنحضرتﷺ فرماتے ہيں:
عن النعمان ابن بشير رضي اللہ عنہما قال قال رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم تري المومنين في تراحمھم و توادّھم وتعاطفھم کمثل الجسد اذااشتکي عضو تداعي لہٗ سائر جسدہٖ بالسھر والحمي (بخاري)
نعمان بن بشير سے روايت ہے کہ حضورﷺ نے فرمايا۔ تو مومنوں کو ايک دوسرے سے رحم ، محبت اور مہرباني ميں ايسا ديکھے گا جيسے بدن۔ اگر ايک عضو بيمار ہوجائے تو سار ے اعضاء بيداري اور بيماري ميں اسکے شريک ہو تے ہيں۔
اس قوت کو مستحکم کرنے کيلئے فرمايا:
عن ابي ہريرة رضي اللہ عنہ انّ رسول اللہ صلعم قال ايّاکم والظنّ فانّ الظنّ اکذب الحديث ولا تجسّسوا ولا تناجشوا ولا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تدابروا و کونواعباد اللہ اخوانا۔ (بخاري)
حضرت ابو ہريرہ رضي اللہ عنہ روايت کرتے ہيں کہ حضور ﷺ نے فرمايا۔ تم بد گماني سے بچوکيونکہ بدگماني بہت جھوٹي بات ہے۔ کسي کے عيوب کي تلاش اور جستجو نہ کرو ۔ نہ آپس ميں حسد اور کينہ رکھو اور نہ ہي رنجش رکھو بلکہ اللہ کے بندے اور آپس ميں بھائي بھائي ہو کر رہو۔
بعينہٖ جن اشياء سے قرآن کريم نے منع فرمايا انہيں رسول کريمﷺ نے بھي منع فرمايا۔ کيونکہ يہي عادات اخوّت کو قطع کرنے والي ہيں۔ پھر فرمايا:۔
عن ابي ايوب الانصاري رضي اللہ عنہ ان رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم قال لا يحل لرجل ان يھجر اخاہ فوق ثلاث ليال يلتقيان فيعرض ھذا و يعرض ھٰذاو خير ھماالذي يبدا بالسّلام۔(بخاري)
حضرت ابو ايوب انصاري رضي اللہ عنہ سے روايت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمايا کسي مسلمان کيلئے يہ مناسب نہيں کہ تين دن سے زيادہ اپنے مسلمان بھائي سے ناراضگي رکھے۔ يعني جب وہ ايک دوسرےسے مليں تو منہ پھير ليں ۔ دونوں ميں سے بہتر وہ ہے جو السلام عليکم کہے۔
3۔ پڑوسي : پھروہ ہيں جن سے پڑوس کا تعلق ہے۔ اللہ تعاليٰ نے قرآن کريم ميں پڑوس کو بھي اقرباء ميں شامل کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کي تاکيد کي ہے۔ :۔
وَالْجَارِ ذِيْ الْقُرْبٰي
آنحضرت ﷺ نے پڑوس کے ساتھ حسن سلوک پر بہت زور ديا ہے حضور سے روايت ہے:۔
عن عائشة رضي اللہ عنہا عن النبي صلي اللہ عليہ وسلم قال لازال جبريل يوصيني بالجار حتّٰي ظننت انّہٗ سيورثہٗ۔(بخاري)
حضرت عائشہ رضي اللہ عنہ روايت کرتي ہيں کہ حضورؐ نے فرمايا۔ کہ جبريل نے مجھے پڑوسي سے حسن سلوک کي اس قدر تاکيد کي کہ مجھے يہ گمان ہونے لگا کہ عنقريب پڑوسي کو وارث بھي بناديگا۔
پڑوسي کو ادنيٰ سے ادنيٰ سلوک سے محروم نہ رکھنے کي تاکيد فرمائي:۔
اکثر المرق و اغرف لجارک (ترمذي)
سالن تحفہ دو۔ تعلقات استوار ہوں گےزندگي خرمن ميں بسر ہوگي۔
لا يمنع جارٌ جارہ ان يغرز خشبہ في دارہ۔ (بخاري)
کوئي پڑوسي اپنے پڑوسي کو اس سے منع نہ کرے کہ وہ اپني لکڑي کو اس کے گھر ميں گاڑے۔
حضرت ابن عمر رضي اللہ عنہ اپنے يہودي پڑوسي کا خاص خيال رکھا کرتے تھے:۔
عن مجاھد ان عبداللہ بن عمر ذبحت لہٗ شاة في اھلہٖ فلما جاء قال اھديتم لجارنا اليھودي اھديتم لجارنا اليھودي فاني سمعت رسول اللہ يقول ما زال جبريل يوصيني حتّٰي ظننت انّہٗ سيورثہٗ۔(ترمذي)
مجاہد روايت کرتے ہيں کہ ايک دفعہ عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنہ کے ہاں بکري ذبح کي گئي ۔ انہوں نے آتے ہي دريافت کيا کہ کياتم نے ہمارے يہودي پڑوسي کے پاس بھي گوشت بھيجا ہے؟ميں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے جبريل نے پڑوسي سے حسن سلوک کي اس قدر تاکيد کي کہ مجھے گمان ہوا کہ کہيں وہ اسے وارث ہي قرار نہ دے دے۔
4۔ عام انسان ، يتاميٰ، بيوگان، مساکين ، فقراء اور خدام: پھر عام انسانوں ميں يتاميٰ، بيوگان، مساکين، فقراء اور خادم ہيں۔ اللہ تسطعاليٰ نے قرآ ن مجيد ميں زکٰوة کے مصارف ميں مساکين اور فقراء کو شامل کيا ہے۔ پھر فرمايا کہ مومن وہ ہيں جو:۔
يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّہٖ مِسْکِيْنًا وَّ يَتِيْمًا وَّ اَسِيْرًا
کہ مومن يتيم، مسکين اور اسير کو کھانا کھلاتے ہيں۔ اسير ميں بيوگان، قيدي، مقروض اور مصيبت زدہ لوگ شامل ہيں۔ پھر فرمايا
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ۔۔۔فَکُّ رَقَبَةٍ اَوْ اِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِيْ مَسْغَبَةٍ يَتِيْمًا ذَا مَقْرَبَةٍ اَوْ مِسْکِيْناً ذَا مَتْرَبَةٍ۔
کسي گردن کو آزاد کرنا، بھوک کے دن کسي قرابت والے يتيم کو يا مٹي والے مسکين کو کھانا کھلانا ہے۔
بہر حال قرآن مجيد ميں جگہ جگہ اللہ تعاليٰ نے اس بے کس مخلوق کے ساتھ حُسنِ سلوک کي تاکيد فرمائي ہے۔ آنحضرتﷺ فرماتے ہيں۔
(1) انا و کافل اليتم في الجنّة ھٰکذا و اشاربالسبابة والوسطي و فرّج بينھما شيئًا۔ (بخاري)
ميں اور يتيم کي پرورش کرنے والا جنت ميں اس طرح داخل ہوں گےاور آپ نے اپني شہادت کي اور درمياني انگليوں کا اشارہ کيا۔ يعني اکھٹے جنت ميں داخل ہوں گے ۔
(2) الساعي علي الارملة والمساکين کالمجاھد في سبيل اللہ والقائم بالليل و الصائم بالنھار۔ (بخآري)
بيوہ اور مسکين کے ساتھ سلوک کرنے والا ايسا ہے جيسا مجاہد في سبيل اللہ يا جيسا تمام رات نوافل پڑھنے والا اور دن کو روزہ رکھنے والا۔
عن سعيد بن ابي وقاص رضي اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺھل تنصرون و ترزقون الّا بضعفاءکم۔(بخاري)
رسول کريم ﷺ نے فرمايا کہ تمہيں تمہارے کمزور لوگوں کي وجہ سے رزق ديا جاتا ہے۔ اس ميں حضور ؐ نے کمزور لوگوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کي تحريک فرمائي۔
عن حذيفة رضي اللہ عنہ قال قال النبي ﷺ تلقت الملئکة روح رجل ممن کان قبلکم قالوا اعملت من الخير شيئًا قال کنت آمر فتياتي ان ينظر والمعسر و يتجاوز اعن المعسر فتجاوز اللہ عنہ۔ (بخاري)
حضرت حذيفہ رضي اللہ عنہ سے روايت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمايا تم سے پہلے لوگوں ميں سے ايک آدمي کي روح فرشتوں سے ملي تو انہوں نے پوچھا کہ کيا تم نے کوئي اچھا کام کيا ہے؟ اُ س نے کہا کہ ميں اپنے بيٹوں کو تنگدست کو مہلت دينے اور اُس سے درگزر کرنے کا حکم ديا کرتا تھا۔ پس اللہ تعاليٰ نے اُ س سےدرگزر کر ديا۔
اس شخص کي مغفرت تنگدستوں پر رحم کرنے کي وجہ سے ہوگئي۔ پھر حضورؐ نے عام رحم کي تحريک فرمائي۔
من لم يرحم صغيرنا و يعرف حقّ کبيرنا فليس منّا۔ (ترمذي)
جو چھوٹوں پر رحم نہيں کرتا اور بڑوں کا حق نہيں پہچانتا وہ ہم ميں سے نہيں ہے ۔
اتّق دعوة المظلوم فانہٗ ليس بينہٗ و بين اللہ حجاب (بخاري)
مظلوم کي بد دعا سے بچو کيونکہ اس کے اور خدا کے درميان کوئي پردہ نہيں۔
پھرفرمايا: انصرا خاک ظالماً او مظلوماً قال يا رسول اللہ ھذا ننصرہ مظلوماًفکيف ننصرہ ظالمًا قال تاخذ فوق يديہ۔ (بخاري)
اپنے بھائي کي ظالم اور مظلوم ہونے کي صورت ميں مدد کرو۔ حضرت انس رضي اللہ عنہ نے عرض کي يا رسول اللہ ﷺ مظلوم کي مدد تو بھلا ہوئي ظالم کي مدد کس طرح ہو؟ حضورؐ نے فرمايا وہ اس طرح کہ اس کو ظلم سے روکو۔پھر فرمايا:
الظلم ظلمات يوم القيمة۔(بخاري)
قيامت کے دن ظالم پر ظلم کے باعث تاريکياں مسلّط ہوں گي۔پھر فرمايا:
من کان في حاجة اخيہ کان اللہ في حاجتہ و من فرج عن مسلم کربة فرج اللہ عنہ کربة من کرب يوم القيمة ومن ستر مسلماً سترہ اللہ يو القيمة۔(بخاري)
جو شخص اپنے بھائي کي ضروريا ت ميں کام آئے گا۔ اس کي مشکلات دُور کرے گا اور اسکي پردہ پوشي کرے گا تو قيامت کے دن خداتعاليٰ اس کي مشکلات آسان کرے گا اور پردہ پوشي کرے گا۔
5۔ خدام سے حُسن سلوک
اس کے بعد خدام سے حُسن سلوک ہے۔ حديث شريف ميں آتا ہے۔
(1) عن انس بن مالک قال خدمت النبي ﷺعشر سنين فما قال لي اُنّ ولا لم صنعت ولا ھلّا صنعت۔ (بخاري)
حضرت انس رضي اللہ عنہ فرماتے ہيں کہ ميں نے حضور کي دس سال خدمت کي ۔ حضورﷺ نے مجھے اُف بھي نہيں کہا۔ حضور خدام سے مِل جُل کر ان کي دلجوئي کرتے۔
(2) عن انس رضي اللہ عنہ قال ان کان رسول اللہ صلعم يخالطنا حتّيٰ کان يقول لاخ لي صغير يا ابا عمير ما فعل النغير۔
کہ حضورؐ ہم ميں مل جل جاتے اور ميرے چھوٹے بھائي کو فرماتے اے ابو عمير تمہاري نغير کيا ہوئي؟ پھر فرمايا:۔
اعطوا الاجير اجرہٗ قبل ان يجفّ عرقہٗ۔ (بخاري)
مزدور کو اُجرت اس کے پسينہ خشک ہونے سے پہلے دو۔
پھر فرمايا: خادم کو اپنے کھانے ميں سے کھانا کھلاؤ۔
اذ ااتيٰ احدکم خادمہ بطعامہٖ فان لم يجلسہ معہ فلينا ولہٗ لقمة او لقمتين او اکلة او اکلتين فانہ ولي علاجہ۔ (ترمذي)
جب تم ميں سے کسي شخص کے پاس اس کا خادم کھانا لاوے تو اگر آقا اس خادم کو اپنے ساتھ نہ بٹھا سکے تو چاہئے کہ اُسے ايک دو لقمہ دے کيونکہ اس ميں اس نے محنت کي ہے۔


