//آنحضرت ﷺ کے صنفِ نازک پر احسانات
muhammad_saw

آنحضرت ﷺ کے صنفِ نازک پر احسانات

امتہ الکريم از بھارت
(پہلي قسط)

قارئين کرام!گزشتہ شمارہ ميں امہات المومنين حضرت رسول کريمﷺ کي چار صاحبزاديوں کي سيرت و سوانح پر اہل بيت ﷺ کے عنوان سے مضامين کا ايک سلسلہ شرو ع کيا گيا ہے۔ اس کا پہلا مضمون ازواج مطہرات کے عنوان سے شمارہ دسمبر ميں آپ ملاحظہ کر چکے ہيں۔
اہل بيت سے مراد:- حضرت باني جماعت احمديہ ؑ سے سوال ہوا کہ

اِنَّمَا يُرِيْدُ اللہُ لِيُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَھِّرَکُمْ تَطْھِيْرًا۔(سورة الاحزاب آيت 34)

کس کي شان ميں ہے؟ آپ ؑ نے ارشاد فرمايااگر قرآن شريف کو ديکھا جاوے تو جہاں يہ آيت ہے وہاں آنحضرتﷺ کي بيويوں ہي کا ذکر ہے۔ سارے مفسر اس پر متفق ہيں کہ اللہ تعاليٰ امہات المومنين کي صفت اس جگہ بيان فرماتا ہے۔ دوسري جگہ فرمايا ہے

الطيبت لطيبين( سورة النور ايت 27)

يہ آيت چاہتي ہے کہ آنحضرت ﷺ کے گھر والے طيبات ہوں ۔ ہاں اس ميں صرف بيوياں ہي شامل نہيں بلکہ آپ کے گھر کي رہنے والي ساري عورتيں شامل ہيں۔ اور اس لئے اس ميں بنت بھي داخل ہو سکتي ہے۔ بلکہ ہے۔ اور جب فاطمہ رضي اللہ عنہا داخل ہوئيں تو حسنين رضي اللہ عنہما بھي داخل ہوئے۔ پس اس سے زيادہ يہ آيت وسيع نہيں ہو سکتي۔ يہ وسيع ہو سکتي تھي ہم نے کر دي۔ کيونکہ قرآن شريف ازواج کو مخاطب کرتاہے اور بعض احاديث نے حضرت فاطمہ اور حسنين رضي اللہ عنہم اجمعين کو مطہرين ميں داخل کيا ہے۔ پس ہم نے دونوں کو يکجا جمع کر ليا۔
شيعہ نے ازواج مطہرات کو سبّ و شتم سے ياد کيا ہے اور چونکہ خداتعاليٰ کو معلوم تھا کہ يہ لوگ ايسا کريں گے اس لئے قبل از وقت انکي براء ت کردي۔

(ملفوظات جلد 3 ص224)

اس طر ح فرمايا:‘‘اہل بيت جو ايک پاک گروہ اور بڑا عظيم الشان گھرانہ تھا۔ اس کے پاک کرنے کے واسطے بھي اللہ تعاليٰ نے خود فرمايا۔ کہ

اِنَّمَا يُرِيْدُ اللہُ لِيُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَھِّرَکُمْ تَطْھِيْرًا۔(سورة الاحزاب آيت 34)’’ (ملفوظات جلد 3 ص250)

فضائل:

حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا کو عورتوں ميں سب سے پہلے آنحضورﷺ پر ايمان لانے کي سعادت عطا ہوئي۔آپﷺ نے فرمايا۔ خديجہ مجھ پر اس وقت ايمان لائيں جب باقي لوگوں نے انکار کيا۔ اور جب سب دنيا نے تکذيب کي اس وقت انہوں نے ميري تصديق کي تھي۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا کو جنت کي عورتوں ميں سے افضل قرار ديا۔
ايک دفعہ حضرت جبرائيلؑ کي آمد پر رسول اللہ ﷺ نے انکا سلام حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکو پہنچا کر فرمايا کہ تمہارے لئے جنت ميں ايک ايسے گھر کي بشارت دي ہے جس ميں کوئي شور و شغب يا تھکان نہ ہوگي ۔
حضورﷺ نے فرمايا خديجہ رضي اللہ عنہا کي محبت تو مجھے پلا دي گئي اور ميرے دل ميں بٹھا دي گئي۔
خانداني تعارف:- حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا قريش کے ايک مالدار اور معزز گھرانے بنو اسد سے تعلق رکھتي تھيں۔ آپ کے والد خويلد بن اسد بن عبد العزّٰي تھے۔ اور والدہ فاطمہ بنت زائدہ بني لؤيّ کي خاتون تھيں۔
حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا کي پہلي شادي بنو مخزوم کے گھرانے کے ايک معزز شخص عتيق بن عائذ سے ہوئي۔ جن سے ايک لڑکي ہند نامي پيدا ہوئي۔ ان کي وفات کے بعد حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکي دوسري شادي مالک بن نباش سے ہوئي جن سے دو بچے ہوئے۔ ايک کا نام ہند اور دوسرے کا ہالہ تھا۔ جسکي نسبت سے اسکے والد مالک کي کنيت ہالہ معروف تھي۔ ہند نے رسول اللہ ﷺ کي آغوش ميں تربيت پائي۔ حالت اسلام ميں انکي وفات ہوئي۔ وہ کہا کرتے تھے ميرے والدين اور بھائي بہن سب لوگوں سے زيادہ معزز ہيں۔ کيونکہ ميرے باپ رسول اللہ ﷺ ،والدہ حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا، بھائي قاسم بن محمدؐ اور بہن فاطمہ بنت محمدؐ ہيں۔
مذہب:- اسلام سے قبل حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکے مذہب کے بارہ ميں کوئي صراحت نہيں ملتي۔ تاہم انکا طور طريق نيک سيرت اور پاکيزگي ظاہر کرتي ہے۔ کہ نہ تو بتوں کي طرف انکا کوئي ميلان تھا اور نہ ہي وہ اپنے چچا زاد ورقہ بن نوفل کي طرح کسي اور مذہب عيسائيت وغيرہ کي طرف رجحان رکھتي تھيں۔ بلکہ مکہ کے گنتي کے چند نيک اور مؤحد لوگوں کي طرح دين ابراہيمي سے نسبت رکھتي تھيں۔ ورقہ بن نوفل بھي بت پرستي کو نا پسند کرتے تھے۔ انہوں نے تحقيق حق کي خاطر مکہ کے ايک اور مؤحد زيد بن عمرو بن نفيل کے ساتھ شا م کا سفر بھي کيا۔ يہود و نصٰرٰي کے بارہ ميں معلومات حاصل کرنے کے بعد زيد تو دين ابراہيمي پر قائم رہے جبکہ ورقہ نے عيسائيت قبول کرلي ۔

رسول اللہ ﷺ کی شادي:

حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکے والد جنگ فجار ميں مارے گئے تھے۔ وہ اپني خانداني جائيداد کي تنہا مالک تھيں ۔ ايک کے بعد اپنے دوسرے شوہر کي وفات کے بعد گھريلو انتظام خود سنبھال کر وہ ہر لحاظ سے با اختيار بھي تھيں۔ قريش ميں نہايت معزز اور مالدار خاتون ہونے کے ساتھ وہ نہايت عفيف، پاکدامن اور پارسا مشہور تھيں۔ اسي وجہ سے زمانہ جاہليت ميں انکا لقب طاہرہ پڑگيا تھا۔ وہ قريش کے شام جانے والے قافلے ميں اپنا مال بغرضِ تجارت بھجوايا کرتي تھيں ۔اس کيلئے انہيں کسي ديانت دار شخص کي ضرورت تھي ۔ حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کي صداقت و امانت کا شہرہ بھي سن رکھا تھا۔ انہوں نے ابوطالب کي تحريک پر آنحضرتﷺ کو پيغام بھجوايا کہ اگر آپ ؐ ميرا مالِ تجارت شام لے کر جائيں تو دوسرے لوگوں کي نسبت آپؐکا معاوضہ دوگنا ہوگا۔ يعني دو اونٹ کي بجائے چار اونٹ ۔ابو طالب نے بھي اس موقع پر آنحضرتﷺ کو اس کام کيلئے آمادہ کرنے کي تحريک کي۔ اور کہاکہ اللہ تعاليٰ نے آپؐ کيلئے اس رزق کا خود بندوبست فرمايا ہے۔ چنانچہ آنحضرتﷺ حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکا مالِ تجارت شام لے جانے کيلئے تيار ہو گئے۔ حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا نے اپنے ايک غلام ميسرہ کو بھي آپؐ کے ہمراہ بھجوايا۔
رسول کريم ﷺ کي صداقت و ديانت کي بدولت ملک شام ميں تجارت ميں اتني برکت پڑي کہ اس سفر ميں چار گنا منافع حاصل ہوا۔ مزيد برآں حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکو جب اپنے غلام سے آپؐ کي امانت و ديانت اور راستبازي کے علاوہ عيسائي راہب نسطور سے ملاقات اور اسکي خوش آئند باتوں کا پتہ چلا تو ان کے دل ميں حضرت محمد ﷺ کي قدر و منزلت بہت بڑھ گئي جو بالآخر شادي پر منتج ہوئي۔
تاريخ ميں حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکے قريبي خاندان کے صرف دو افراد کا ذکر ملتا ہے۔ ايک آپکے چچا عمر وبن اسد جن کي کوئي اولاد نہ تھي اور کافي ضعيف العمر تھے۔ دوسرے چچا زاد بھائي ورقہ بن نوفل ۔
خانداني شرافت کے لحاظ سے عمومي کمزور حالت کے بر عکس حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاصاحبِ حيثيت ہونے کي وجہ سے ايک خاص مقام رکھتي تھيں۔ اور وہ اپنے معاملات ميں بااختيار تھيں۔
بے شک روايتي لحاظ سے انکي شادي حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکے چچا اور رسول اللہ ﷺ کے چچا ابو طالب کے ذريعہ پايہ تکميل کو پہنچي۔ اس کے قبل حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکي ايک رازدان سہيلي نفيسہ نے آنحضرتﷺ سے ملاقات کر کے شادي کرنے کے بارہ ميں آنحضرتﷺ کا عنديہ معلوم کيا۔ اور پھر حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکي تجويز کا ذکرکر کے ان کے ہاں رشتہ بھجوانے کي تحريک کي ۔
آپؐ نے حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا کي پاکدامني اور نيک شہرت کي وجہ سے يہ بات پسند فرمائي مگر نفيسہ سے برملا يہ اظہار کيا کہ حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا کا تعلق چونکہ ايک مالدار اورمعزز گھرانے سے ہے اس لئے شائد ان کے چچا عمر و کي رائے اس رشتے کے حق ميں نہ ہو۔ نفيسہ نے يہ ذمہ داري اپنے سر لي اور حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا کے ساتھ مشورہ کر کے رشتہ طے کروانے کا اہتمام کيا۔ انہوں نے حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکے گھر ميں ايک دعوت کا انتظام کرکے قريش کے رؤسا کو بلايا جن کي موجود گي ميں حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکے چچا نے آنحضرتﷺ کے ساتھ انکے نکاح کي اجازت لي۔ آنحضرت ﷺ کي عمر اس وقت پچيس سال اور حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا کي چاليس برس يا اس سے کچھ کم تھي۔ مگر ايک اچھے کھاتے پيتے گھرانے سے ہونے کي وجہ سے ان کي صحت بہت اچھي تھي ا س لئے عمروں کے غير معمولي تفاوت کے باوجود يہ رشتہ بہت کامياب رہا۔
نکاح کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے چچا ابو طالب نے گفتگو فرماتے ہوئے اپنے اولادِ ابراہيم اور متولي بيت اللہ ہونے کي فضيلت کا ذکر کيا۔ اور اپنے يتيم بھتيجے کي مالي کمزوري کا اظہار کرتے ہوئے ان کي ديگر خوبياں بھي بيان کيں۔ اس موقع پر حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکے چچا زاد ورقہ بن نوفل ابو طالب کي باتوں کي تائيد کرتے ہوئے حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکي طرف سے يہ نکاح چار سو دينا ر پر قبول کيا۔
ابوطالب نے کہاکہ مناسب ہوگا کہ حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکے چچا بھي اس کي تائيد کريں۔ اس پر انکےچچا عمرو بن اسد نے اعلان کيا کہ اے سردارانِ قريش! ميں نے محمدؐ کا نکاح خديجہ سے کر ديا ہے۔ بعض روايات ميں ذکر ہے کہ آنحضرتﷺ کا حقِ مہر بيس اونٹ اور بارہ اوقيہ تھا۔ اس کي يہ توجيح کي جاسکتي ہے کہ اس موقع پر ابوطالب نے بھي آنحضرتﷺ کي طرف سے جو حق مہر اداد کرنا قبول کيا تھا آنحضرتﷺ نے اسے بڑھا کر پورا فرمايا۔
يہ شادي آنحضرتﷺ کيلئے ہي موجبِ تسلي و راحت نہ ہوئي بلکہ آنحضرتﷺ کے چچا ابو طالب کيلئے اور زيادہ باعثِ تسکين بني ۔ جسکا اظہار انہوں نے اس موقع پر ان الفاظ ميں کيا۔ «تمام تعريفيں اس ذات کيلئے ہيں جس نے ہم سے کرب اور پريشانياں دور کرديں۔
حضرت خديجہ رضي اللہ عنہااور ان کي والدہ فاطمہ اپني جگہ بہت خوش تھے ۔ انہوں نے اس روز اپنے گھر کي لونڈيوں کو حکم ديا کہ دف وغيرہ بجاکر رونق کا کچھ سامان کريں۔ اور رسول اللہ ﷺ کو مشورہ دياکہ خوشي کے اس موقع پر آپؐ کچھ اونٹ ذبح کرواکر لوگوں کو کھانا کھلائيں۔ اور دوپہر يہيں آرام فرمائيں۔ آنحضرتﷺ نے يہ تجويز پسند کرتے ہوئے لوگوں کو کھانا کھلايا اور حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکے گھر قيلولہ فرمايا۔
يہ تھي حضور ﷺ کي پہلي دعوتِ وليمہ۔ظاہري فرق اور عمروں کے تفاوت کے باوجود يہ شادي بہت کامياب ثابت ہوئي۔ کيونکہ شادي کا مطلب محض جسماني ضروريات کو پورا کرنا ہي نہيں ہوتا اور نہ ہي يہ کوئي عام شادي تھي۔ بلکہ جيسا کہ بعد کے حالات نے ظاہر کيا کہ اس رشتہ ميں الٰہي تقدير کارفرما تھي ۔ اس شادي کا قابلِ ذکر پہلو يہ تھا کہ جو عظيم ذمہ داري آنحضرت پر عائد ہوئي اس ميں حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا جيسي با اثر اور پختہ عمر والي خاتون نے آپؐ کا قدم قدم پر معاون و مددگار اور ڈھارس و سِپر بننا تھا۔
شائد کسي نوجوان لڑکي کے لئے يہ ذمہ داري اٹھاني مشکل ہوتي ۔ حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا شادي کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چوبيس سال پانچ ماہ اور آٹھ دن رہيں۔ابن اسحٰق بيان کرتے ہيں کہ رسول اللہ ﷺ اپني ترديد و تکذيب کے بارہ ميں کوئي بھي بات سن کر جب پريشان ہوتے تو حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاتسلي اور تشفي دلا کر اُسے دور کرتيں۔ آپؐ کے غم کا بوجھ ہلکا کرتيں اور آپؐ کي تصديق کرکے آپؐ کي مشکلات آسان کرتيں۔ الغرض يہ شادي خالصتاً اعليٰ مقاصد اور اخلاقِ فاضلہ کي بناء پر قرار پائي۔ اور يہي اِسکي کاميابي کا اصل راز تھا۔
حضرت خديجہ رضي اللہ عنہانے آنحضرتﷺ کو پيغام ِ شادي کے وقت ہي کہہ ديا تھا کہ مجھے آپؐ کے حُسنِ خُلق اور سچائي کي وجہ سے آپؐ سے رغبت ہوئي ۔ محبت و اعتماد کا يہ تعلق شادي کے بعد مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گيا۔
حضرت خديجہ رضي اللہ عنہانے آپؐ کو ہر قسم کي مالي فکروں سے آزاد کر ديا۔ اور آپؐ کے اشارے پر جان قربان کرنے والي تھيں۔آنحضرتﷺ نے حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا کے غلام زيد بن حارثہ کي خدمات کو پسنديدگي کي نظر سے ديکھ کر ان کو سراہا تو حضرت خديجہ رضي اللہ عنہانے آنحضرتﷺ کي يہ رغبت ديکھ کر انہيں آپؐ کي ملکيت ميں ہي دے ديا۔ اور حضورﷺ نے ان کو آزاد کر ديا۔
محبتِ الٰہي اور عبادات ميں آنحضرتﷺ کي رغبت و شغف ديکھ کر حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاہميشہ آپؐ کي ممد و معاون ہوئيں۔ آنحضرتﷺ تخليہ و عبادت کي خاطر غارِ حرا ميں جا کر اعتکاف فرماتے۔ حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا آپؐ کے لئے زادِ راہ کا اہتمام فرماتيں ۔ بسا اوقات وہ بے چين ہو کر آپؐ کي خير خبر دريافت کرنے نکل کھڑي ہوتيں۔
ايک دفعہ وہ آپؐ کا کھانا وغيرہ لے کر آپؐ کي بالائي مکہ کي طرف گئيں۔ راستہ ميں ايک اجنبي نے اُن سے آنحضرتﷺ کے بارہ ميں دريافت کيا۔ تو حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکو اس شخص کے يوں پوچھنے پر آپؐ کے بارہ ميں انديشہ ہوا۔ اور انہوں نے حضورﷺ سے ملنے پر بطورِ خاص اس واقعہ کا ذکر کيا۔ وہ جبرائيل ؑ تھے۔ انہوں نے تمہيں سلام پہنچانےکيلئے کہا ہے۔ اور تمہارے لئے جنت ميں ايک ايسے گھر کي بشارت دي ہے۔ جس ميں کوئي شور و شغب يا تھکان نہ ہوگي۔ دوسري روايت کے الفاظ ہيں کہ جبرائيلؑ نے کہا ہے حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکو ان کے رب کي طرف سے سلام ہو۔
حضرت خديجہ رضي اللہ عنہانے جو خوبصور ت جواب ديا وہ اُن کي عقل و ذہانت کا شاہکار ہے ۔ انہوں نے کہا ! اللہ تو خود سلام ہے(يعني سلامتي کا سرچشمہ ہے اور سلامتي اُس سے جاري ہوتي ہے)۔اور جبرائيلؑ کو بھي سلام ہو۔
حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاکيلئے جنت ميں موتيوں کے گھر کي جو پيش خبري دي گئي تھي اُس ميں يہ پيغام تھا کہ وہ خديجہ جو ہر حال ميں آنحضرتﷺ کي ڈھارس بني ۔ايک ايسي امير کبير خاتون جن کي اپني خدمت پر کئي خادمائيں مقرر ہوتي تھيں وہ خود اپنے اس عظيم شوہر کي خدمت پر کمر بستہ ہو گئيں۔ وہ آپؐ کے آرام اور کھانے پينے کا خيال رکھتيں۔ اس خديجہ کيلئے اللہ تعاليٰ نے جنت ميں اُنکے شفاف اور پُر خلوص دل کي طرح موتيوں سے بنا ہواايک شيش محل تيار کروا رکھا ہے۔
حضرت خديجہ رضي اللہ عنہا نے اس دنيا ميں حضورﷺ کے گھر کو پُرسکون اور جنت نذير بنا ديا تھا۔ اس کي جزاء کے طور پر اللہ تعاليٰ نے اُ نکو يہ پيغام اور خوشخبري پہنچائي کہ اللہ تعاليٰ جنت ميں اس طرح کے پُرسکون گھر کي اُن کو خوشخبري ديتا ہے کہ جس طرح اُنہوں نے حضورﷺ کے آرام وغيرہ کا خيال رکھا ہے آپ کو بھي اس ابدي گھر ميں کوئي تھکاوٹ نہ پہنچے گي۔ الغرض حضرت خديجہ رضي اللہ عنہاآغاز سے ہي آنحضرتﷺ کي ساتھي اور مشکلات و مصائب ميں آپﷺ کي ساجھي بن گئيں اور آپﷺ کي تنہائي کي عبادات اور اعتکاف ميں اُن کي خدمات اور تعاون جاري رہا۔

(باقي آئندہ قسط ميں)
(حوالہ اہل بيتِ رسول ﷺ از حافظ مظفر احمد)

آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل زمانہ جاہليت ميں جو حالت عورت کي تھي وہ کسي سے پوشيدہ نہيں۔ دُنيا ميں عورت پر وہ مظالم و مصائب ڈھائے جاتے تھے کہ الامان والحفيظ۔
زمانہ جاہليت ميں عورت کي کوئي قدر نہ تھي ۔ دُنيا کے وحشي باشندے اپني بيويوں ، ماؤں اور بيٹيوں کے ساتھ جس قسم کا بُرا سلوک کرتے تھے وہ بيان سے باہر ہے۔ عورت کو نہايت ذليل وجود خيال کيا جاتا تھا۔ اور طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے تھے ۔ لڑکيوں کوزندہ درگور کردينا ايک ہي وقت ميں کئي شادياں کرنا ، طلاق دينے کے بعد ان پر حاوي رہنا، نان و نفقہ اور ورثہ سے محروم رکھنا ، زدوکوب کرنااور بے جا مظالم ڈھانا يہ ان کا بائيں ہاتھ کا کھيل تھا۔عورت کي مظلوميت کو ديکھ کر اللہ تعاليٰ کو عرش پر رحم آيا۔ اور اس نے سر زمين ِ عرب ميں اپنے پيارے نبي ؐکو مبعوث فرمايا جس نے آکر عورت کي بد ترين حالت کو درست کيا۔
آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل سر زمين ِ عرب ميں رسول کريم ؐ مبعوث ہوئے۔ آپؐ نے آکر عورت کو پستي اور ذلت کے تاريک گڑھے سے نکال کر آسمان کي بلنديوں پر پہنچا ديا۔
عورت کي تين حيثيتيں ہيں۔ ماں، بيٹي اور بيوي۔آپؐ نے ان تينوں پر جو احسانات کئے ہيں عورت اس کو کبھي فراموش نہيں کر سکتي۔ سب سے پہلے ماں کي حيثيت کو ليجئے۔ ماں کا آنحضرتﷺ نے بہت بڑ ارتبہ بيان فرمايا ہے۔ آپؐ نے فرمايا۔الجنة تحت اقدام الامھات۔ يعني جنت ماں کے قدموں کے نيچے ہے۔
اب بيٹي کي حيثيت کو ليجئے۔ زمانہ جاہليت ميں جب کسي کے ہاں بيٹي پيدا ہوتي تو اس کي کيفيت قرآن مجيد کے مطابق ظلّ وجھہ مسودًا وھو کظيمکي ہو جاتي ۔ يعني لڑکي کي پيدائش کي وجہ سے اسکا چہرہ سياہ پڑجاتا۔ اس زمانہ ميں لڑکيوں کو زندہ گاڑ دينے کا عام رواج تھا۔ حضرت نواب مبارکہ بيگم صاحبہ نے مندرجہ ذيل اشعار ميں اس زمانہ کي صحيح عکاسي ہے ۔ آپ فرماتي ہيں۔
مندرجہ بالا اشعاراُ س زمانے کا صحيح نقشہ پيش کر رہے ہيں۔
ايک مرتبہ کا ذکر ہے کہ صحابہ رضوان اللہ عليہم اجمعين کي ايک مجلس ميں عورت کے متعلق ذکر ہو رہا تھا۔ ايک صحابي نے اسلام لانے سے پہلے کا ايک واقعہ بيان کيا کہ يا رسول اللہؐ ايک مرتبہ کا ذکر ہے کہ مجھے کچھ عرصہ کيلئے پرديس جانا پڑا۔ اس وقت ميرے گھر ميں اميد واري تھي ۔ميرے بعد ميرے گھر ايک لڑکي پيدا ہوئي۔ کئي سال بعد جب ميں واپس لوٹا۔ ميري آمد کي خبر سن کر ميري بيوي نے لڑکي کو اپنے کسي عزيز کے گھر بھيج ديا۔ ميں نے يہ خيال کيا کہ لڑکي ہوئي ہوگي اور بدنامي کے خوف سے مار دي گئي ہو گي۔ ليکن چند روز کے بعد ايک گيارہ بارہ سال کي لڑکي کو اپنے آنگن ميں کھيلتے ہوئے ديکھ کر ميں نے بيوي سے دريافت کيا کہ يہ کون ہے؟ ليکن اس نے ٹالنے کي کوشش کي ۔ ميرےاصرار پر اس نے بتايا کہ ميري غير حاضري ميں اس کے ہاں لڑکي ہوئي اور وہ مامتا کي ماري اس کو زندہ درگور نہ کر سکي۔
يارسول اللہؐ! وہ لڑکي بڑي پياري بچي تھي ليکن نہ معلوم کيوں اس کو گھر ميں ديکھ کر ميرا خون کھولنے لگتا اور ميں ذلت محسوس کرتا۔ ايک روز جبکہ ميري بيوي ميکے گئي ہوئي تھي ميں نے اس بچي کو يہ کہہ کر ہمراہ ليا کہ چلو تمہيں تمہارے ننھيال لے چلوں۔ننھيال جانے کا سُن کر وہ بہت خوش ہوئي اور خوشي خوشي ميرے ساتھ ہولي۔ وہ ننھيال جانے کي خوشي ميں آگے آگے بھاگ رہي تھي ليکن ميں دراصل اُس کو موت کي طرف لے جا رہا تھا۔ يارسول اللہؐ! جنگل ميں پہنچ کر ميں نے ايک گڑھا کھودا۔ وہ بچي ميري اس حرکت کا غور سے مطالعہ کر رہي تھي اور بار بار دريافت کرتي تھي۔ ابّا يہ آپ کيا کر رہے ہيں ليکن ميں خاموش اپنے کام ميں مصروف تھا۔ جب ميں حسب اندازہ گڑھا کھود چکاتو اس کو زبردستي گڑھے ميں دھکيل کر اُوپر سے مٹي ڈالني شروع کردي ۔ يارسول اللہؐ! وہ بچي بہت چيخي چلاّئي ليکن ميں برابر اپنا کام کئے گيا۔ يارسول اللہؐ!آج بھي اُس بچي کي دردناک چيخيں ميرے کانوں ميں گونج رہي ہيں۔ اور ميرا دل پاش پاش ہو رہا ہے ۔ آنحضرتﷺ يہ واقعہ سُن رہے تھے اور آپؐ کي آنکھيں اشکبار تھيں ۔ يہ تھي زمانہ جاہليت ميں لڑکي کي قيمت ، کيسا دردناک واقعہ ہے۔
اس سے ہميں معلوم ہوتا ہے کہ لڑکيوں کو بے دردي سے زندہ درگور کيا جاتا تھا ۔ رسول کريم ﷺ نے آکر لڑکي کو اِس بد ترين حالت سے نجات دلائي۔ زندہ درگور کرنا سخت گناہ قرار ديا۔ حتّٰي کہ اس کو ماں باپ کے اور ديگر عزيز و اقارب کے ورثہ ميں حقدار قرار ديا۔
آنحضرت ﷺ نے جب اپني اُمت کو بشارت دي کہ لڑکيوں کي اچھي پرورش کرنے والے جنت ميں جائيں گے تو صحابہ رضوان اللہ عليہم اجمعين کس طرح بيتاب ہو ہوکر پوچھتے تھے کہ يارسول اللہؐ ميري ايک ہي بچي ہے اور يارسول اللہؐ!ميري دو بچياں ہيں کيا ميرے لئے بھي جنت کي بشارت ہے۔ غرضيکہ يہ انقلاب عظيم تھا جو آنحضرتﷺ نے بچي کے متعلق اپني اُمّت کے دل ميں پيدا کر ديا تھا۔
جس طرح سے لڑکي کا وجود باعثِ ذلت خيال کيا جاتا تھا اور اس پر مظالم ڈھائے جاتے تھے۔اسي طرح بيوي کو بھي نہايت ادنيٰ درجہ ديا جاتا تھا۔ ايک وقت ميں کئي کئي عورتوں سے شادي کر لي جاتي تھي۔ بعض ظالم اور خودغرض مرد طلاق کے بعد بھي ان پر اپنا حق سمجھتے ہوئے ان کو اپني قيد ميں رکھتے تھے۔ سوسائٹي ميں اس کي کوئي قدر نہ تھي۔ لونڈيوں سے برتر ان کے ساتھ سلوک کيا جاتا تھا۔ خاوند کے مر جانے کے بعد بطور ترکہ آپس ميں بانٹ لي جاتي تھيں۔ حضرت نواب مبارکہ بيگم صاحبہ نے کيا خوب فرمايا ہے؎
گويا کنکر پتھر تھي، احساس نہ تھے جذبات نہ تھے
توہين وہ اپني ياد تو کر، ترکہ ميں بانٹي جاتي تھي
خاوند کي متروکہ جائداد پر اُنہيں کوئي حق نہ ملتا تھا۔ آپؐ نے آکر جہاں انہيں ورثہ کا حقدار بنايا ہے وہاں ان پر بے جا ظلم و ستم کو بھي يک قلم دُور فرماديا۔ حضرت مسيح موعودؑ نے رسول کريمﷺ اور آپؐ کے صحابہ کي شان ميں جو قصائد لکھے ہيں ان ميں عربوں کاعورتوں سے بُرے سلوک کے متعلق بھي ذکر کيا ہے ۔ ميں يہاں آپؐ کے چند اشعار پيش کرتي ہوں۔

کان الحجاز مغازل الغزلان
فجعلتھم فانين في الرحمانِ
شيئان کان القوم عمياً فيھما
حسوالعقار و کثرة النسوانِ
امّا النّساء فحُرِّمت انکاحھا
زوجًالہ التحريم في القرآنِ
قد کان مرتَعُھم اغاني دائماً
طوراً بغيدٍ و تارةًبدِنانِ
ماکان فکرٌ غير فکرِ غواني
او شُرب راحٍ او خيال جَفانِ
اُرسِلْتَ ميں ربّ کريم محسنٍ
في الفتنة الصمّاء والطغيانِ

ترجمہ: يعني اہل حجاز عورتوں سے عشق بازي ميں مشہور تھے۔ ليکن آپ کے وجود کي برکت سے وہ فنا في الرحمن ہوگئے۔ ساري عرب قوم دو چيزوں يعني کثرتِ شراب اور عورتوں سے عياشي ميں ملوّث تھي ليکن آپؐ کي آمد سے ان کو يہ بتا ديا گيا کہ عورتوں کا نکاح فلاں مردوں سے جائز ہے اور فلاں سے نہيں۔ يعني نکاح کے حدود بيان کر دئے گئے۔ عربوں کي تفريح طبع ہميشہ راگ و رنگ اور شراب نوشي کي مجالس ميں تھي اور گانے بجانے والي عورتوں اور شراب نوشي کے علاوہ انہيں کسي چيز کا اہتمام ہي نہيں تھا۔ اس سخت فتنہ کے وقت رب کريم و محسن کي طرف سے ان لوگوں کي اصلاح کيلئے آنحضرتﷺ بھيجے گئے۔
پس رسول کريم ؐ نے طبقہ نسواں پر جو احسانات کئے ہيں اور اسلام ميں جو درجہ عورت کا رکھا ہے اس کے پيشِ نظر ہر مرد کو چاہئے کہ وہ عورتوں کي کمزوريوں سے درگذر کرتے ہوئے اس کے ساتھ نرمي اور ملاطفت کا سلوک کرے کيونکہ آنحضرتﷺ نے عورت کي غلطيوں کو درگذر اور لغزشوں کو نظر انداز کرنے کي ہدايت کي ہے۔ چنانچہ فرمايا خیرکم خیرکم لاھلہ يعني تم سے بہترين وہي شخص ہے جو اپني بيوي سے بہترين سلوک کرتا ہے ۔
پھر عورتوں کے حقوق کے متعلق قرآن کريم کا ارشاد ہے ولھن مثل الذي عليھن بالمعروفيعني ان عورتوں کا بھي تم پر ويسا ہي حق ہے جيسا تمہارا ان پر۔ گويا انساني ، اخلاقي اور مذہبي حقوق ميں اسے مرد کے مساوي قرار ديا۔
بہرحال يہ آنحضرت ﷺ کا صنفِ نازک پر احسانِ عظيم ہے کہ وہ چيز جس کو نہايت ذليل خيال کيا جاتا تھا۔ آنحضرتﷺ نے اس کو سوسائٹي کا ايک نہايت معزز رکن قرار ديا ہے ۔ يہي وجہ ہے کہ آج عورت مردوں سے کسي بھي طرح کم حيثيت نہيں رکھتي۔ حضرت نواب مبارکہ بيگم صاحبہ اس مضمون کو اس طرح بيان فرماتي ہيں۔

وہ رحمت عالم آتا ہے تيرا حامي ہو جاتا ہے
تو بھي انساں کہلاتي ہے سب حق تيرے دلواتا ہے
ان ظلموں سے چھڑواتا ہے

بھيج درود اس محسن پر تُو دن ميں سو سو بار
پاک محمد مصطفےٰﷺ نبيوں کا سردار

ايک حديث ميں آتا ہے کہ رسول کريمﷺ نے فرمايا جو شخص اپني بيوي کي بد خلقي پر صبر کرے گا اللہ تعاليٰ اس کو اتنا ثواب عطا کرے گا جتنا حضرت ايوبؑ کو اُن کے صبر کي وجہ سے ديا گيا۔ آپؐ کا پھر يہ بھي حکم ہے کہ عورت کو ايسے طعنے نہ دو جو اُن کي دلآزاري کا موجب ہوں۔ ان کو مارو نہيں۔ کھانے پينے اور پہننے ميں ان کے اور اپنے درميان امتياز روا مت رکھو۔ ان کي ہمت اور استطاعت سے بڑھ کر انہيں تکليف ميں مت ڈالو اور حتيّٰ کہ اگر عورت نافرمان بھي ہو تو بھي تمہاري طرف سے حسن سلوک ميں کمي نہيں آني چاہئے۔

بلکہ وعظ و نصيحت اور دعاؤں کے ذريعہ اصلاح کرنے کي کوشش کرني چاہئے۔ ان سب باتوں کے علاوہ عورت کي ہر قسم کي ضروريات کو پورا کرنا اور ہر طرح سے اس کي تکليف کو دور کرنے کا انتظام کرنا اور ہر لحاظ سےاس کي حفاظت کرنا اسلام نے مرد کے فرائض ميں داخل کيا ہے۔
پس ہميں رسول کريم ﷺ پر بے شمار درود بھيجنا چاہئے جنہوں نے عورت کو پستي کے گڑھے سے نکال کر ايک بالا مقام پر لا بٹھايا ہے۔

اللّھمّ صلّ علیٰ محمّدٍ و بارک وسلّم انّک حمید مجید