اسلامی تعلیماتتاریخ

رسول اکرم ﷺ سے صحابیات کا اخلاص

Spread the love

مردوں اور عورتوں کا حلقہ عمل

          آنحضرت ﷺ کے روحاني اثر نے جو ايمان و اخلاص صحابہ ميں پيدا کر ديا تھااس کے درخشندہ کارنامے تاريخ ميں مزکور ہيں اور ہر شخص جو تھوڑا بہت اسلامي تاريخ کا مطالعہ رکھتا ہے ان سے واقف ہے۔ مگر وہ جوش و اخلاص جو آپ کي تربيت ميں صحابيات کے دلوں ميں پيدا ہوا وہ بھي کوئي کم نہيں تھا۔ قدرت کي طرف سے مرد و عورت کے کاموں کا دائرہ الگ الگ مقرر ہے ۔اور عام حالات ميں يہ غلطي ہوگي اگرہم مردوں کے دائرہ عمل ميں عورتوں کے اخلاص کي مثاليں تلاش کريں۔ ليکن صحابيات کا اخلاص آنحضرتﷺ کي صحبت ميں اس قدر ترقي کر گيا تھا اور ان کے دلوں ميں خدمتِ اسلام اور حفاظتِ دين کي اتني تڑپ پيدا ہو گئي تھي کہ وہ بعض اوقات اپنے جوشِ ايمان کي بے ساختگي ميں اپنے عام دائرہ عمل سے باہر قدم مار کر بھي اپني محبت اور اخلاص کا ثبوت ديتي تھيں۔ چنانچہ ميں اِس موقع پر اِس قسم کي چند ايک مثاليں اپني بہنوں کے فائدہ کيلئے پيش کرنا چاہتي ہوں ۔ اور اختصار کےخيال سے ميں صرف جنگ اُحد کے حالات تک اپنے آپ کو محدود رکھوں گي۔

جہاد بالسّيف اور صحابيات

          يہ ايک ظاہر بات ہے کہ عام حالات ميں جہاد بالسيف کرنا عورتوں کا کام نہيں ہے ۔چنانچہ خود آنحضرتﷺ نے فرمايا ہے عورت کا جہاد يہ ہے کہ وہ اپنے گھر ميں رہ کر اُن فرائض کو سر انجام دے جو قدرت نے بحيثيت ايک بيوي اور ايک ماں کے اس کے سپرد کئے ہيں۔ مگر باوجود اس کے ہميں صحابيات کي زندگيوں ميں کئي ايسي مثاليں ملتي ہيں  جبکہ وہ بعض حالات کے ماتحت اپنے گھر کي چار ديواري کو چھوڑ کر ميدانِ جنگ ميں پہنچي ہيں اور مَردوں کي طرح جہاد بالسّيف ميں حصّہ ليکر اپنے ايمان و اخلاص کا ثبوت ديا ہے۔

جنگ اُحَد اور مُسْلِم خواتين

          چنانچہ لکھا ہے جب آنحضرت ﷺ جنگ اُحد کے موقع پر مدينہ سے نکلے تو کئي صحابيات بھي آپ کے ساتھ تھيں۔ ان ميں حضرت عائشہ رضي اللہ عنہا اور ام سليم رضي اللہ عنہا اور ام سليط رضي اللہ عنہا کا نام خاص طور پر حديث ميں مذکور ہوا ہے ۔ يہ خواتين جنگ ميں زخميوں کو پاني پلاتيں، ان کي مرہم پٹي کرتيں اور اسي قسم کي دوسري خدمت سرانجام ديتي تھيں۔ چنانچہ بخاري ميں آتا ہے کہ جب لڑائي کي شدّت ہوئي اور کئي صحابي زخمي ہو کر گرے تو حضرت عائشہ رضي اللہ عنہا اور دوسري صحابيات نے ميدانِ جنگ ميں نہايت سرگرمي سے اِدھر اُدھر بھاگ کر زخميوں کي خبر گيري کي اور اُن کو پا ني پلايا۔ اور اسلام اور آنحضرتﷺ کي محبت ميں اپني جان تک کي بھي پرواہ نہ کي ۔ جب جنگ نے زيادہ خطرناک صورت اختيار کي اور دشمن کے اچانک حملہ سے مسلمانوں کي صفوں ميں کچھ ابتري سي پيدا ہو گئي اور ايک وقت تو ايسا آيا کہ آنحضرت ﷺ دشمن کے نرغے ميں گھر گئے تو اس وقت بعض صحابيات نے اپنے جوشِ اخلاص و ايمان ميں بے تاب ہو کر تلوار ہاتھ ميں لے لي۔ اور آنحضرتﷺ کي حفاظت کيلئے دشمن کي صفوں ميں گُھس گئيں۔

اُمِّ عمّارہ

          ان صحابيات ميں اُم عمارہ رضي اللہ عنہا کا نام خاص طور پر مذکور ہوا ہے۔ اُم عمارہ نے جب يہ ديکھا کہ مسلمانوں کي صفوں ميں ابتري کے آثار نماياں ہيں اور دشمن کے سپاہي جو آنحضرت ﷺ کے خون کے پياسے ہو رہے ہيں آنحضرتﷺ کے قريب پہنچ گئے ہيں  تو وہ بے تحاشہ مَردوں کے اندر گُھس گئيں اور بڑي جدوجہد کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچ کر حملہ آوروں پر تلوار چلاني شروع کردي۔ جب قريش کا ايک مشہو ر سپاہي ابن قميہ آنحضرتﷺ کي عداوت ميں مجنون ہو کر اپني تلوار سے چاروں طرف موت بکھيرتا ہوا آنحضرت ﷺ کے قريب پہنچا تو سب سے پہلے ام عمارہ نے اس کا مقابلہ کيا۔ اور گو وہ اس مقابلہ ميں سخت زخمي ہوگئيں مگر انہوں نے ابن قميہ کو آنحضرتﷺ کے قريب نہ پہنچنے ديا۔

ايک انصاري خاتون

          جب اُحد کي ہزيمت کي خبر مدينہ پہنچي تو بہت سي صحابيات بے تاب ہو کر مدينہ سے نکل آئيں اور اُحد کے ميدان ميں پہنچ کر خدمتِ اسلام کے بہت سے کارنامے دکھائے۔ ايک انصاري خاتون جب مدينہ سے نکليں تو راستے ميں جو شخص بھي اُسے ملتا تھا اس سے وہ آنحضرتﷺ کا حال پوچھتي تھي اور جب کوئي تسلّي بخش خبر نہ ملتي تو بے چين ہو کر آگے بھاگنا شروع کر ديتي تھي۔ آخر ايک مسلمان سپاہي اُسے ملا جو ميدانِ جنگ سے واپس آرہا تھا اور آنحضرتﷺ کو ديکھ کر آيا تھا۔ اس مسلم خاتون نے اس سے دريافت کيا آنحضرت ﷺ کيسے ہيں۔؟ وہ  چونکہ آنحضرتﷺ کو ديکھ کر آرہا تھا اور اس معاملہ ميں اُسے تسلي تھي اس نے اُس کےسوال کي طرف توجہ نہ کر کے جواب ديا کہ افسوس! بہن تمہارا باپ جنگ اُحد ميں شہيد ہو گيا۔ صحابيہ نے جو آنحضرت ﷺ کي خيريت کي خبر سننے کيلئے بے تاب ہو رہي تھي کہا۔ مجھے يہ بتاؤ کہ رسول اللہ ﷺ کيسے ہيں؟ صحابي نے پھر اُسي طرز ميں جواب ديا کہ افسوس! تمہارا بيٹا بھي مارا گيا۔ صحابيہ نے پھر پوچھا۔ ميں کہتي ہوں مجھے يہ بتاؤ کہ رسول اللہ ﷺ کا کيا حال ہے؟ صحابي چونکہ آنحضرت ﷺ کے متعلق مطمئن تھااور اس خاتون کي مصيبت  اس کي آنکھوں کے سامنے تھي اس نے پھر اس کے سوال کو نظر انداز کر کے جواب ديا کہ بہن کيا بتاؤں تمہارا شوہر بھي شہيد ہو گيا۔ ان جوابات سے مخلص خاتون کا فکر آنحضرتﷺ کے متعلق بہت زيادہ ہو گيا اور اس نےيہ خيال کر کے کہ شايد يہ صحابي مجھ سے آنحضرتﷺ کے متعلق کوئي بد خبر چھپاتا ہے نہايت ہي بے تابي کے عالم ميں کہا۔ خدا کيلئے مجھے يہ بتاؤ رسول اللہ ؐ کيسے ہيں۔ صحابي نے جواب ديا رسول اللہ ﷺ تو خدا کے فضل سے زندہ سلامت ہيں اور ابھي تشريف لا رہے ہيں۔ يہ جواب سُن کر اُس مخلص عورت کے منہ سے بے اختيار نکلا۔ الحمدللہ ! اگر رسول اللہ ؐ زندہ ہيں تو پھر اور سب مصيبتيں ہيچ ہيں۔

مسلم خواتين سے سوال

          يہ وہ ايمان و اخلاص تھا جو صحابيات نے دکھلايا۔ مگر اب يہ سوال پيدا ہوتا ہے کہ ہم جو اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کي مدعي ہيں کيا نمونہ پيش کر رہي ہيں؟ اس سوال کا جواب دينا ميرا کام نہيں۔ ہر بہن اپنے دل ميں خود غور کرے ۔ اے اللہ! تو ہميں توفيق دے کہ ہم تيري اور تيرے رسولﷺ اور تيرے مسيح عليہ السلام اور تيرے دين کي صحبت ميں وہ مرتبہ حاصل کريں جو تيري رضا اور ہماري فلاح کا موجب ہو۔

اٰمين اللّٰھمّ اٰمين

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *