وہ دن لوٹا دو
تحریر: ڈاکٹر طاہرہ کاظمی
ماں نے سات سمندر پار بیٹھی بیٹی سے کہا، کچھ کھانے کو جی چاہ رہا ہے۔
کیا آرڈر کروں؟
کچھ بھی۔
بیٹی نے فون پہ انگلی چلائی اور پھر دس پندرہ منٹ کے بعد رائیڈر دروازے پر۔
آہ ہا کیا دن آ گئے، ٹیکنالوجی اللہ دین کا چراغ بن گئی۔ رگڑو، جن کو حاضر کر کے فرمائش کرو اور بس۔ ہو گیا کام۔
اور وہ دن۔ ۔ ۔
چالیس برس پہلے انیس سو چوراسی میں ہم لاہور پہنچے۔ ہوسٹل میں قیام، چلبلی نٹ کھٹ سہیلیوں کا ساتھ، راتوں کو جاگ جاگ کر میڈیکل کی سخت پڑھائی۔ ایسے میں ٹینشن کم کرنے کا کوئی طریقہ تو ہونا چاہیے تھا۔ اور وہ تھا شام کو مٹر گشت کرنے کے ساتھ کچھ چٹ پٹا کھایا جائے۔ کبھی ریگل کے دہی بھلے، کبھی چمن کی آئس کریم۔ بارہ چودہ لڑکیوں کا گروہ ہوسٹل سے نکلتا۔ وارث روڈ کے سٹاپ سے ویگن میں بیٹھتا اور کہیں نہ کہیں جا پہنچتا۔ باہر آنے جانے کی آزادی تھی، لڑکیاں بھی بے خوف تھیں اور لاہور ابھی اس قدر ہجوم زدہ نہیں ہوا تھا۔
ان ہی دنوں پتا چلا کہ مال روڈ پہ ایک زبردست ریسٹورینٹ کھلا ہے جہاں کے برگرز اور سینڈوچ اس کمال کے ہیں کہ اگر نہ کھائے تو سمجھیے کچھ کھایا ہی نہیں۔ یہ تھا اس زمانے کا پہلا سالٹ اینڈ پیپر ریسٹورینٹ۔
ایک شام تیار ہوئے اور چل پڑے۔ ویگن سے ریگل چوک پہ اترے اور ای پلومر تک خوش گپیاں کرتے پہنچ گئے۔ کچھ ہی دکانیں چھوڑ کر ہمارا مطلوبہ مقام تھا۔
بارہ چودہ کھلکھلاتی ہوئی لڑکیاں اندر داخل ہوئیں تو کھلبلی مچ گئی۔ تقریباً ساری ہی سیٹیں بھر گئیں۔ بیرے الرٹ ہو گئے۔ کہاں سنے تھے انہوں نے بات بات پہ ہنسی کے فوارے۔ اور بات نہ ہو بھی ہو تو ہنسنے سے انہیں کون روک سکتا تھا۔ وہ دنیا فتح کرنے نکلی تھیں۔ پنجاب کی پانچ کروڑ آبادی، ڈھائی کروڑ عورتیں اور ان میں چنی گئیں ڈھائی سو خوش قسمتوں میں شامل یہ بارہ چودہ۔
مینیو دیکھا۔ طرح طرح کے سینڈوچ اور برگر۔ کون سا کھائیں؟ یہ کہ وہ؟ نہیں میں یہ۔ تم وہ۔
لیکن ایک اور مسئلہ بھی تو درپیش تھا۔ قیمتیں کچھ زیادہ تھیں۔ برگر کے ساتھ گرما گرم کرسپی فرنچ فرائز بھی چاہیے تھے اور کولا ڈرنک بھی۔ ماہانہ اخراجات کا بجٹ تلپٹ ہوتا نظر آیا۔
اب کیا کریں؟ سب نے ایک دوسرے سے پوچھا۔ ویٹر منتظر تھے۔ آخر میں حل نکلا کہ چودہ لوگوں کے لیے سات برگرز منگوائے جائیں اور آدھا آدھا کر کے کھایا جائے۔ قرعہ فال پڑا۔ سپائسی چکن پاکٹ سینڈوچ۔ ساتھ میں گرما گرم فرنچ فرائز۔
ویٹرز نے سب کے آگے پلیٹیں اور چھری کانٹے چن دیے۔ کھانا آنے تک ہمارے قہقہے اور خوش گپیاں عروج پہ رہیں۔ سینڈوچز کی خوشبو ہماری بھوک کو مہمیز کرتی تھی۔ ہم اونچی آواز میں باتیں کرتے تھے، قصے سناتے تھے اور ویٹر سن کر زیر لب مسکراتے تھے۔
سپائسی چکن سینڈوچ کھا کر لگا کہ شاید من و سلویٰ ایسا ہی ہوتا ہو گا۔ یقین کیجیے زبان پہ آج تک وہ ذائقہ زندہ ہے۔ ریسٹورینٹ والوں نے ترس کھا کر فرنچ فرائز کچھ زیادہ دے دیے تھے سو آدھا سینڈوچ اور فرنچ فرائز کھا کر ہم عالم سرور میں تھے۔
کھانا ختم ہوا، بل آیا۔ سب نے اپنے حصے کی رقم گن کر پلیٹ میں رکھی۔ شاید چار روپے۔ یہ ایک اور دل چسپ منظر تھا۔
اور باہر نکلنے سے پہلے ہمیں شرارت سوجھی تو ہم نے ویٹر سے کہا، پلیز ڈرائیور کو کہیں کہ گاڑی قریب لے آئے۔ ویٹر بے چارہ گاڑی ڈھونڈتا رہا اور ہم سب نکل کر بس سٹاپ پہ جا کھڑے ہوئے۔ ساری بسیں اور ساری ویگنیں ہماری گاڑیاں ہی تو تھیں۔
ان پانچ برسوں میں ہم سالٹ اینڈ پیپر بار بار گئے۔ وہاں سب ہمیں پہچاننے لگے اور شاید غیر ارادی طور پہ ہمارا انتظار بھی کرنے لگے۔ مہینے کے آغاز میں جب گھر سے پیسے آتے تب سالٹ اینڈ پیپر کی زیارت لازم تھی۔ پھر ایک آدھ ہفتہ چھوڑ کے اور پھر۔ پیسے ختم ہونے سے پہلے۔
زیادہ تر ہم آدھا آدھا ہی کھاتے لیکن کبھی کبھار جیب اجازت دیتی تو پورا لے لیتے اور اس دن ہوسٹل واپس جاتے ہوئے پاؤں زمین پر نہ ٹکتے کہ زبان پہ موجود ذائقہ ہمیں اُڑنے پہ مجبور کرتا۔
وہ برس گزر گئے۔ ہم سب بچھڑ گئے۔ زمانہ بدل گیا۔ برسات کی کھمبیوں کی طرح جگہ جگہ ریسٹورینٹس اُگ آئے مگر ہمارا دل تو ایک ہی نام کا اسیر تھا۔ سالٹ اینڈ پیپر۔
بہت برسوں کے بعد ہم لاہور گئے۔ جی چاہا کہ سالٹ اینڈ پیپر کا چکر لگایا جائے۔ ریسٹورینٹ کے اندر داخل ہوئے مگر، یہ وہ ریسٹورینٹ نہیں تھا جہاں ہمارا دل دھڑکتا تھا۔ اجنبی ویٹر، سرد ماحول، غیریت سے تکتی میز کرسیاں، بوسیدہ مینیو کارڈ۔ لیکن چکن سپائسی سینڈوچ موجود تھا۔ منگوایا۔ اور ایک کی جگہ دو منگوائے کہ اب جیب اجازت دیتی تھی۔ مگر زبان اور سینڈوچ نے ایک دوسرے کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ دونوں ایک دوسرے کو لاتعلقی اور بیزاری سے گھورتے تھے۔ آشنائی میں وقت کی گہری خلیج حائل تھی، پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔
اب نہ ہم ہم تھے اور نہ ہی سالٹ اینڈ پیپر وہ تھا جہاں وہ لڑکیاں آتی تھیں جنہوں نے زندگی کو ابھی تک برتا نہیں تھا۔ معصوم، الہڑ، پرجوش۔ وہ ہر چیز کو ایک نوزائیدہ کی نظر سے دیکھتی اور چکھتی تھیں۔ اب نہ وہ زبان تھی جس پہ ذائقے کے پھول کھلتے تھے اور نہ وہ جیب تھی جس میں گن کر پیسے ڈالے جاتے تھے۔ نہ وہ دل تھا جو ماں باپ کے التفات سے یہاں تک آ پہنچا تھا اور نہ وہ آنکھیں تھیں جن میں خوابوں کی تتلیاں اور خواہشوں کے جگنو جگمگاتے تھے۔ جی چاہا گلزار کی نظم گنگنا دیں۔
میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے
پت جھڑ میں کچھ پتوں کے گرنے کی آہٹ
کانوں میں اک بار پہن کے لوٹ آئی تھی
پت جھڑ کی وہ شاخ ابھی تک کانپ رہی ہے
وہ شاخ گرا دو میرا وہ سامان لوٹا دو
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


