تاریختعلیمثقافتگوشۂ ادبمتفرقمذہبمعاشرہ

بات کرنی مجھے مشکل ایسی تو نہ تھی

Spread the love

تحریر: نگیہ رحمان

چند روز پہلے کچلاک بلوچستان مین ایک واقعہ پیش آیا۔ حماد کاکڑ قتل کا واقعہ۔

ایک ایسا قتل جس کی تہہ میں محض دشمنی یا لمحاتی اشتعال نہیں بلکہ ایک خاموش منصوبہ بندی تھی۔ حیرت اس بات پر نہیں کہ جرم ہوا؛ حیرت اس سوچ پر ہے کہ ایک انسان خود کو اس مقام تک کیسے لے آتا ہے کہ اعتماد، خوف یا بے بسی اسے گفتگو سے زیادہ جرم آسان لگے۔

اس ایک واقعے نے ایک بار پھر ہمارے معاشرتی خد و خال پر وہی سوال رکھ دیا ہے،
ہم نے آپس میں بات کرنا کب چھوڑ دیا؟

ہماری نئی نسل کے فیصلوں کے پیچھے اکثر وہ دیواریں کھڑی ہوتی ہیں جو ہم نے برسوں کی روایتوں، توقعات اور ناگفتہ دباؤ سے تعمیر کی ہوتی ہیں۔ گھروں میں سوال پوچھنا معیوب، اپنی رائے دینا گستاخی، اور زندگی کے بڑے فیصلوں پر بات کرنا ایک جرم سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گفتگو کے دروازے بند ہوتے جاتے ہیں اور راستے ایسے کھلتے ہیں جن کا انجام اکثر المیوں میں بدل جاتے ہیں۔

اس واقعے میں، اور اس جیسے بے شمار واقعات میں، ایک قدر مشترک ہے،
خاموشی۔
وہ خاموشی جو کسی کے دل میں برسوں سے بیٹھی ہوتی ہے۔
وہ خاموشی جو اعتماد کو کھا جاتی ہے۔
وہ خاموشی جو سچ بولنے اور مدد مانگنے کے درمیان دیوار بن جاتی ہے۔

ہم نے ایک ایسا سماج تشکیل دے دیا ہے جہاں اپنی زندگی کے بارے میں بات کرنا مشکل اور غلط راستہ چن لینا آسان ہو گیا ہے۔ یہاں رشتوں میں اعتماد سے زیادہ خوف موجود ہے۔ بڑے سننے سے زیادہ فیصلہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، اور چھوٹے بتانے سے زیادہ چھپانے میں محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

یہ مضمون صرف ایک اشارہ ہے کہ شاید ہمیں رک کر یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔

ہمیں اپنے گھروں اور اداروں میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہو گا جہاں بات چیت ممکن ہو۔ جہاں نوجوانوں کو فیصلوں پر نہیں احساسات پر سنا جائے۔ جہاں سوال کرنے کو بدتمیزی نہ سمجھا جائے۔ جہاں بڑے اور چھوٹے ایک دوسرے کی نظر سے نہیں، ایک دوسرے کے دل سے بھی واقف ہوں۔

ہمارے معاشرے کے بہت سے سانحے اس وقت ٹل سکتے ہیں جب کسی ایک شخص کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کی بات سنی جائے گی، اس کا خوف سمجھا جائے گا، اور اس کا راستہ بات چیت سے بدل سکتا ہے۔

یہ وقت الزام تراشی یا جذباتی ردعمل کا نہیں یہ وقت سوچنے کا ہے۔

سوچنے کہ ہم اپنے گھروں میں کیسی فضا بنا رہے ہیں، اپنے بچوں کے لئے کیسا مستقبل تیار کر رہے ہیں، اور کتنی جگہ چھوڑ رہے ہیں کہ وہ اپنی زندگیوں کے بارے میں کھل کر بات کر سکیں۔

بعض اوقات معاشرے کی سمت ایک بڑے سانحے سے نہیں بدلتی،
صرف اس لمحے سے بدلتی ہے جب ہم ایک دوسرے کو سننے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *