//بریسٹ کینسر اور ادھوری عورت
breast-cancer

بریسٹ کینسر اور ادھوری عورت

. بہت سال پہلے کی بات ہے۔جیو پہ ایک ڈرامہ آیا۔ادھوری عورت کے نام سے۔عائزہ خان فیصل قریشی کی بیوی ہوتی ہے۔اور اسے بریسٹ کینسر ہو جاتا ہے۔جس کے نتیجے میں اس کی بریسٹ ریموو کر دی جاتی ہے۔ جس دن اس کو سرجری کے بعد ہوش آتا ہے۔ ہاسپٹل میں ہی فیصل قریشی کا رویہ بدل جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے رویے میں سرد مہری رہتی ہے۔ ایک دن عائزہ اسے نوکرانی کے ساتھ دیکھ لیتی ہے۔ اور جب اپنے شوہر سے سوال کرتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ تمہارے پاس مجھے دینے کے لیے ہے ہی کیا۔ تم اب ایک ادھوری عورت ہو۔ آخر ان کی طلاق ہو جاتی ہے۔ اس ڈرامے نے مجھ پہ اتنا گہرا اثر چھوڑا کہ مجھے وہم سا لگ گیا۔

حتی کہ ایک بار میں نے بھی اپنے شوہر سے یہ سوال کر دیا کہ اگر میرے ساتھ ایسا کچھ ہوا۔ تو کیا وہ بھی مجھے ادھوری عورت سمجھیں گے۔ ان کا جواب یہی تھا ڈرامے دیکھنے چھوڑ دو۔ فضول باتیں سوچتی ہو۔ پر دماغ کا کوئی کیا کرے۔ بس جو سوچے گا تو سوچتا رہے گا۔ کمپیوٹر کے استعمال سے آگاہی تو تھی۔ سو میں نے سیلف ایگزیمن رکھنا شروع کیا۔

پھر کام بچوں اور پڑھائی میں ذہن سے بات نکل گئی۔ چھ ساڑھے چھ سال پہلے مجھے کچھ تبدیلی محسوس ہوئی۔ تو میں نے کچھ عرصے بعد میمو گراف کروایا۔ اس میں لمپ تو آیا مگر انہوں نے آگے ریفر کر دیا۔ میں نے لاپرواہی کی۔ جو کہ غلط بات تھی۔ اور کاموں میں لگی رہی۔ بیچ میں ایک دو بار ڈاکٹر پاس گئی۔ آگے سے آگے ریفر کرنے سے میں پھر سست ہو جاتی۔ پچھلے سال میں نے چیک اپ وغیرہ کروائے۔ اور سرجری کا فیصلہ لیا۔ لیکن سرجری سے دو دن پہلے میں گر گئی۔

فریکچر سے بستر پہ پڑ گئی۔ فریکچر سے ریکور ہونے کے بعد کاروباری نقصان و دوسرے معاملات سے سرجری کو پھر پس پشت رکھا۔ ایک وجہ لاپرواہی کی یہ بھی تھی کہ مجھے درد نہیں تھا۔ لیکن آٹھ مارچ کو عورت مارچ سے واپسی پہ رستے میں ہی مجھے درد شروع ہوا۔ گھر پہنچتے پہنچتے میں نڈھال ہو گئی۔ اگلے دن کلینک پہ گئی تو ڈاکٹر نے کہا کہ جتنی جلدی ممکن ہے سرجری کروائیں۔ ٹینشن وہاں سے مزید بڑھی جب مجھے پتہ چلا کہ خالہ کی ڈیتھ یوٹرس کینسر سے ہوئی تھی۔

سو کینسر ہسٹری ساتھ لگنے پہ میری پریشانی بے حد بڑھ گئی۔ آٹھ مارچ سے اٹھارہ مارچ تک جس دن سرجری ہوئی۔ میں نے یہ دس دن بے حد اذیت میں گزارے۔ میں ایک وقت تھا جب زندگی ختم کرنے پہ پھرتی تھی۔ اب جب زندگی سے محبت ہو گئی۔ تو یہ بیماری لگ گئی۔ ذہن کو جتنا بھی مصروف کرتی۔ دماغ میں یہی گھومتا رہے کہ اگر کینسر ہوا تو۔ اگر بریسٹ ریموو کر دی تو میں بھی ادھوری عورت بن جاوں گی۔

یہ تصور میرے لیے سوہان روح تھا۔ کیونکہ میں ڈرامہ برداشت نہیں کر سکی تھی۔ یہ تو پھر میری خود کی زندگی کا معاملہ تھا۔ ڈاکٹرز پہ چیک اپ کے لیے جاتے۔ ٹیسٹ کرواتے۔ دوستوں سے بات کرتے۔ میری آنکھوں سے بس آنسو بہتے رہے۔ میں اپنے آپ کو ادھورا تصور کرتی۔ اور پھر یہ سوچتی کہ گھر اور گھر سے باہر میرے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔ گھر سے باہر لوگ مجھ پہ ترس کھایا کریں گے۔ کیا میرے دوست میرے ساتھ رہیں گے۔ شوہر کے ساتھ معاملات چاہے جیسے ہوں۔ لیکن ان کی جانب سے مجھے یہ فکر نہیں تھی کہ وہ مجھے اس وجہ سے چھوڑ دے کہ میں اب مکمل نہیں رہی۔ سب سے زیادہ خوف کینسر کا تھا۔

مجھ میں شاید کچھ قدرتاً ہی چیزوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے۔ تو ڈاکٹرز سے سارا کیس خود ڈسکس کرتی تھی۔ حتی کہ ہاسپٹل ایڈمیشن کے وقت بھی خود سب کچھ کیا۔ حالانکہ کہ شوہر ساتھ تھے۔ سرجری کا فیصلہ لے چکی تھی تو نارمل رہی۔ لیکن جب پری آپریشن روم میں پہنچی تو وہاں ایک عورت رو رہی تھی۔ اسے تسلی دینے کے لیے پوچھا کہ کس چیز کی سرجری ہے۔ اسے کینسر تھا اور اس کی بریسٹ ریموو ہونی تھی۔

اس وقت اس عورت کے چہرے پہ جو دکھ، تکلیف اذیت تھی۔ وہ ناقابل بیان ہے۔ میرے لفظ مر گئے کہ میں تو خود ڈر رہی تھی کہ دوران سرجری میرے ساتھ ایسا نہ ہو جائے۔ میں نے اس کی کمر پہ ہاتھ پھیرا اور اسے حوصلہ دیا کہ فکر نہ کرے۔ اس کی زندگی اہم ہے۔ یہ تو بس ایک جسم کا حصہ ہے۔ جو خراب ہے تو الگ کر دیں گے۔ مگر صاف ظاہر تھا کہ اس پہ کچھ اثر نہ ہوا۔

آپریشن کے لیے میری باری سب سے آخر پہ ائی۔ اس دوران ڈاکٹر آیا تو میں نے اسے پوچھ لیا کہ کتنی دیر کی سرجری ہے۔ اس نے کہا گھنٹہ سوا گھنٹہ سے زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ ایک بجے آپریشن تھیٹر لے کر گئے۔ پونے دو مجھے بے ہوش کیا گیا۔ اور پونے پانچ مجھے آپریشن تھیٹر سے نکالا گیا۔ ڈھائی پونے تین گھنٹے سرجری چلی۔ تو یہ شعر یاد آیا،

مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم

تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

ڈاکٹرز کے بقول میں نے بروقت اور ٹھیک فیصلہ لیا۔ مختصرا یہ کہ بائیوپسی میں کینسر کے آثار نہیں ملے۔ جتنا انفیکٹڈ ایریا تھا۔ نکل گیا۔ سرجری کے بعد ریکوری ہوتی رہے گی۔ کرونا کے دنوں میں کرونا کے ساتھ ساتھ سرجری کے زخم کی بھی حفاظت کرنی ہے۔فالو اپ چلتے رہیں گے۔ ریکور ہو جاوں گی۔

ان سب دنوں میں ڈپریشن اور سٹریس میں کئی باتیں میرے دماغ میں آتی رہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہم نے عورت کی خوبصورتی کا معیار اس کی شکل و صورت و اس کے جسمانی خدوخال کو ہی سمجھ رکھا ہے۔ ظاہری خوبصورتی اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن کیا اس کو اس حد تک اہمیت دینی چاہیے۔ کہ معاشرے میں اگر کسی عورت کو خدانخواستہ بریسٹ پرابلم ہو جائے۔ تو وہ شرم اور ڈر سے کسی کو نہیں بتاتی۔ لیٹ ہونے کی وجہ سے عام طور پہ مسائل بڑھ جاتے ہیں۔

ڈر کس چیز کا ہے اسے۔ ڈر دراصل معاشرے میں خود کو منوانے کا ہے۔ کہ لڑکی کی شکل و صورت خوبصورت و جسمانی خدوخال مکمل ہوں۔ اگر لڑکی شادی شدہ نہیں ہے۔ تو ایسے کسی بھی مسلے کی صورت میں اس کا رشتہ طے ہونے میں مسئلہ ہو گا۔ شادی شدہ عورت کو مرد کے چھوڑ جانے کا ڈر ہے۔ مجھے ڈر کسی کے چھوڑنے کا نہیں تھا بلکہ اس بات کا تھا۔ کہ اگر مجھے کینسر ہوا تو کیا ہو گا۔ کیونکہ میں نے کینسر کے مریضوں کو اپنی آنکھوں سے تڑپتے دیکھا ہے۔

ہم بریسٹ کینسر کو بھی اور بیماریوں کی طرح بیماری سمجھیں۔ اپنی عورتوں کو یہ اعتماد دیں اگر خدانخواستہ ان کے ساتھ ایسا کوئی بھی مسئلہ ہوتا ہے تو ہم ان کے ساتھ ہیں۔ عورتیں خود میں ہونے والی تبدیلی پہ نظر رکھیں۔ اور کسی بھی تبدیلی کی صورت فورا ڈاکٹر پہ جائیں۔ بروقت فیصلے لیں۔ صحت مند عورت ہی صحت مند نسل دے سکتی ہے۔ گھر اور دوستوں کا اعتماد بیماری سے لڑنے میں مددگار ہوتا ہے۔ گھر میں میرا شوہر نے ساتھ دیا۔ باہر سب دوستوں نے۔ انہوں نے مجھے پل پل ہمت دی۔ اور مجھے بیماری سے لڑنے کے لیے طاقت ملی۔ میں نئے سرے سے زندگی سے لڑنے کے لیے تیار ہوں۔ اس بیماری نے زندگی کے اور کئی سبق سکھائے ہیں مجھے۔ جو ہمیشہ میرے کام آئیں گے۔