ماسی زرقا
. تحریرقرۃ العین فاروق-حیدرآباد
شازیہ نے گھر کے کام کے لئیے نئی ماسی رکھی ماسی زرقا کچھ دن پہلے ہی گاؤں سے شہر آئی تو شازیہ کی ایک جاننے والی نے اپنی ماسی کی جاننے والی ماسی زرقا کو کام پہ شازیہ کے گھر رکھوا دیا ،ماسی زرقا کے گھر کے حالات بہت خراب تھے پانچ بچوں کے ساتھ گزارا بہت مشکل سے ہو رہا تھا شوہر مزدور تھا جس دن کام مل جاتا تو مزدوری کر لیتا ورنہ سارا دن یہاں وہاں مزدوری ڈھونڈتا پھرتا، ماسی زرقا کو شازیہ کے گھر کام کرنے کا پہلا تجربہ تھا بارہ ہزار تنخواہ میں وہ سارے گھر کا کام کرتی وہ صبح ان کے گھر جاتی تو گھر آتے آتے تقریباً رات ہی ہوجاتی.
شازیہ کے گھر کام کرتے اسے کچھ عرصہ ہی ہوا تھا کہ ماسی زرقا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ دوپہر میں جو اور جتنا کھانا پکتا وہ رات میں نہیں کھایا جاتا، ماسی زرقا کے لیے یہ بات نئی تھی کہ دوپہر کا بچا ہوا کھانا رات تک کچن میں یوں کھلا پڑا رہتا یا پھر ڈسٹ بن اور یا شازیہ کے یہاں جو مرغیاں اور پرندے پالے ہوئے تھے ان کے آگے ڈال دیا جاتا، ماسی زرقا سوچتی کہ مرغیاں اور پرندے تو دانہ بھی کھا سکتے ہیں اور اکثر دانہ اور باجرہ ہی کھاتے ہیں اگر یہ کھانا میں گھر لے جاؤں تو اس سے میرے بچوں کی بھوک بھی مٹے گی اور اللہ تعالیٰ باجی کو اس کا اجر بھی دیں گے وہ یہ سوچتی ہوئی شازیہ کے پاس اس کے کمرے میں گئ۔ ’’ باجی وہ آپ سے کچھ بات کرنی ہے‘‘
شازیہ اس وقت کمرے میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی اس نے غصے میں ماسی زرقا کو دیکھ کر کہا
’’کیا کام ہے تمہیں اس وقت اور تم دیکھ نہیں رہی میں ٹی وی پر ڈرامہ دیکھ رہی ہوں اتنا اچھا کلائمکس سین تھا اور تم بیچ میں آ گئیں میں پہلے ہی بتادوں میں تنخواہ نہیں بڑھاؤں گی‘‘
’’ نہیں تنخواہ کی بات نہیں کرنی میں وہ دراصل یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ آپ جو بچا کچا کھانا ڈسٹ بن میں پھینک دیتی ہیں یا پرندوں کے آگے ڈال دیتی ہیں مجھے دے دیا کریں میں گھر لے جاؤں گی ہم لوگ کھا لیا کریں گے، باجی ویسے مرغیاں اور پرندے تو دانہ بھی کھا سکتے ہیں‘‘
’’ کیا…کیا کہا تم نے تمہیں دے دیا کروں آج کھانا کل کچھ اور فرمائشیں لے کر آگئیں تو… تو کیا میں تمہاری ساری فرمائشیں پوری کرتی رہوں گی نا بابا نا اور آئندہ ہمارے گھر اور گھر کی چیزوں پر اتنی نظر رکھنے کی ضرورت نہیں ہے اب تم جاؤ میرا ڈرامہ نکل رہا ہے اور ویسے بھی اپنی بے کار اور فضول باتوں سے پہلے ہی میرا سارا سین تو نکال ہی دیا ہے اب کیا سارا ڈرامہ نکالنا ہے ’’ شازیہ نے غصے میں کہا
ماسی زرقا کمرے سے نکل کر کپڑے استری کرنے چلی گئی اسے شازیہ باجی سے اس طرح کے جواب کی بالکل بھی توقع نہیں تھی وہ سوچوں میں گم کپڑے استری کرنے لگی کہ اچانک بے دھیانی میں اس نے جیسے ہی لان کے سوٹ جس کا دوپٹہ جارجٹ کا تھا اس پر استری رکھی استری گرم اور تیز نمبر پر ہونے کی وجہ سے دوپٹے کا پلو جل گیا وہ اور زیادہ پریشان ہوگئی، وہاں کمرے میں شازیہ کو یہ دھڑکا لگ گیا کہ کہیں ماسی کھانے کی کوئی چیز چوری نہ کرلے تو وہ ٹی وی بند کر کے اس کی خبر لینے کمرے سے باہر آئی اس نے ماسی زرقا کو پریشان استری کے پاس کھڑے اور ساتھ اپنا دوپٹہ اس کے ہاتھ میں پکڑے دیکھا تو وہ اس طرف فوراً گئی۔
’’ تم اس طرح میرے دوپٹے کو ہاتھ میں لئیے کیوں کھڑی ہو اسے استری کرو، باقی کام نمٹاؤ اور جلدی گھر جاؤ‘‘
’’ جی… وہ… وہ باجی استری ہی کر رہی ہوں مگر اچانک….. آپ کے دوپٹے پر گرم استری رکھی تو… توتو دوپٹہ جل گیا‘‘ ماسی نے ڈرتے ڈرتے اور رک رک کر کہا
’’ کیا… کیا کہا تم نے دوپٹہ جل گیا دکھاؤ مجھے کہاں سے جلا ہے ’’ شازیہ نے دوپٹہ ماسی سے چھینتے ہوئے لے کر دیکھا
’’ او یہ کیا کیا تم نے مجھ سے ایسے بدلا لیا میرے اتنے اچھے قیمتی سوٹ کا دوپٹہ جلا دیا، میں نے تمہیں کھانا لے جانے سے منع کیا تو تم نے میرے برانڈڈ سوٹ کے دوپٹے کا پلو جلا ڈالا پتہ بھی ہے کہ کتنے کا سوٹ لیا تھا پورے چھ ہزار کا اور تم نے اس کا یہ حشر کر دیا یہ بلکل نیا سوٹ تھا میں نے پچھلے مہینے ہی خریدا تھا تم نے میرا سارا سوٹ برباد کر دیا ’’
’’ باجی معاف کر دیں آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی میں دھیان سے کام کروں گی ’’ ماسی زرقا نے شازیہ سے معافی مانگتے ہوئے کہا
’’ معاف تو میں تمہیں اس طرح کروں گی جب میں تمہیں اس مہینے کی تنخواہ کاٹ کر دوں گی لو بھلا دیکھو میرا اتنا اچھا اور نیا دوپٹہ جلا دیا ’’
’’ باجی ایسا ظلم تو نہ کریں میرے بچے بھوکے مر جائیں گے پہلے ہی ہم مشکل سے گزارا کر رہے ہیں‘‘
’’ مجھے کیا‘‘ یہ کہہ کر شازیہ پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی
ماسی زرقا کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ اپنا کام سمیٹ کر گھر چلی گئی، گھر پہنچی تو نہ گھر میں بجلی آ رہی تھی اور نہ پانی، بچے بھی الگ بھوکے گھوم رہے تھے اس نے جیسے تیسے کر کے بچوں کو کھانا کھلایا مگر آج اس کے حلق سے ایک نوالہ بھی نہیں اتر رہا تھا اس نے دو چمچ ابلے ہوئے چاول اپنی پلیٹ میں ڈالے پھر دو چار نوالے کھا کر کھانا چھوڑ دیا.
’’ کیا بات ہے آج چپ چپ سی ہوکھانا بھی صحیح نہیں کھا رہی‘‘ ماسی زرقا سے اس کے شوہر نے پوچھا
’’ بس جی نہیں چاہ رہا اور میں پوچھنے لگی تھی کہ آج گھر کیسے جلدی آگئے کیا آج بھی کہیں مزدوری نہیں ملی‘‘
’’ ہاں نہیں ملی‘‘
’’ آج کا دن ہی منحوس ہے‘‘
’’ کیا مطلب اور ایسے نہیں کہتے ’’
پھر ماسی زرقا نے اپنے شوہر کو اس کے ساتھ جو ہوا وہ سنایا
’’ یہ…. یہ کیا کہہ رہی ہو تنخواہ کٹ کر ملے گی ‘‘
’’ ہاں امیروں کے بھی کیا کہنے ہماری مہینے بھر کی کمائی جو ہم اپنی جان مار مار کے سارا دن کام کر کے کماتے ہیں ادھر ادھر دھکے کھاتے ہوئے جاتے ہیں اپنے مالکوں کی جلی کٹی سنتے ہیں جتنے میں ہمارے سارے مہینے کا خرچہ چلتا ہے اس تنخواہ میں ان کے صرف اور صرف دو لان کے سوٹ آتے ہیں پھر بھی گھر آؤ تو نہ بجلی، نہ ہی پانی کھانا بھی کبھی پیاز سے تو کبھی مرچوں سے روٹی کھاؤ، وہاں کوئی کمرے میں بیٹھا ہو یا نہ ہو پنکھے، لائٹ اور ٹی وی چلتے ہیں جتنی ہمارے پورے گھر میں لائٹیں اور پنکھے ہیں اتنے تو ان کے ایک کمرے میں ہوتے ہیں وہاں نلکوں میں فر فر پانی آتا ہے جسے وہ بے دردی سے استعمال کرتے ہیں اور ہم غریب… ہم غریب لوگوں کو بدلے میں کیا ملتا ہے گالیاں، بے عزتی، کاٹ کر تنخواہ وہ لوگ عیش کریں اور ہم…. ہم لوگ ایک ایک چیز کو ترسیں ’’ یہ کہہ کر ماسی زرقا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی.



… بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی..
بہت اچھی تحریر ہے…. کہانی کی صورت میں خوبصورت طریقے سے اپنے ملازمین کے ساتھ حسن سلوک پر توجہ دلائی گئ