//قدرت کا انتقام
fire

قدرت کا انتقام

تحریر فوزیہ منصور (پاکستان)

’’ مار ڈالو،جہاں نظر آئے سینہ چھلنی کر دو،اپنے مرشد کی توہین کرنے والے کو جہنم واصل کر دو ۔ ثواب ملے گا جنت ملے گی، نادانوں جنت، یہ بھی نیکی ہے،،

عادل روز چوہدری صاحب کی ایسی باتیں سن سن کر ذہنی طور پر پریشان رہنے لگا تھا۔ چوہدری صاحب جن کے بارےمیں بار بار ا یسی باتیں کر رہے تھے۔ ان کا بیٹا عادل کا بہترین دوست تھا۔ اور وہ اس فیملی اور ان کے عقائد کو اچھی طرح جانتا تھا ۔ اسی لئے چوہدری صاحب کا ان کے خلاف زہر اگلنا عادل کو شدید ذہنی دباو کا شکار کر رہا تھا۔ اج بھی ایسی ہی باتیں اور نعرہ بازی سننے کے بعد وہ گاوں سے باہر دور ایک درخت کے نیچے بیٹھا ان کی باتوں پہ تلملا رہا تھا!!جھوٹ سب جھوٹ،میرا دوست سچا ،ایمان دار اور با اخلاق ہے، وہ غلط بیانی نہیں کرتا، پھر کیوں اس فیملی کے پیچھے پڑے ہیں، کیوں؟اب وہ ناخن دانتوں سے کاٹنے لگا،کبھی پاس پڑا پتھر اٹھا کے زور سے ایک طرف پھنک دیتا،اور کبھی نرم نرم گھاس نوچ نوچ کر اپنا غصہ نکالتا، اپنے اندر ہونے والی خیالات کی جنگ جاری تھی کہ دور سے شور کی آواز آنے لگی،وہ سمجھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا۔ کہ اسے اپنے بھائی کی قریب آتی آواز سنائی دی۔ لگا دی لگادی آگ لگادی ،کس نے اور کہاں آگ لگائی ،عادل نےبھائی کو جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا اپ کے دوست کے گھر کو آگ لگا دی۔ کیا! کیا بکواس کر رہے ہو؟ کس نے آگ لگائی۔ عادل نے بھائی کا ہاتھ پکرے تقریبا بھاگتے ہوئے کہا،وہ، وہ چوہدری صاحب کے آدمیوں نے ،بھائی نے ہانپتے ہوئے جواب دیا، لعنت ہے ان سب پہ۔لعنت ہے، عادل غصے میںبولتاہوااور تیزدوڑنے لگااس بات سے بےخبر کہ ایک پاؤں کی چپل اس کا ساتھ چھوڑ چکی ہے،

آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگےعادل پاگلوں کی طرح چاروں طرف بھاگ رہا تھا۔کوئی راستہ اندر جانے کا ملے۔۔ کسی کو بچا سکے۔ دو قدم آگے جاتا تو آگ کے شعلے باہیں کھولے اس کا استقبال کرنے کو تیار ہوتے۔ خالہ، جالب، جالب میرے دوست،

عادل پوری قوت سے پکار رہا تھا۔۔ اس کے اپنے کان ہی اس کی آواز سن رہے تھے۔اب اندر کی چیخ و پکار باہر کے شور اور چوہدری صاحب کے آدمیوں کے قہقہوں میں دب گئی تھی، تماشبین تماشہ دیکھ کر چلے گئے۔ عادل کی آواز خالہ خالو اور جالب کو پکار پکار کے بیٹھ چکی تھی۔وہ بے بسی میں اپنے بال نوچنے لگا،غصے اور نفرت کی آگ میں جلتا ہوا ایک جانب چل پڑا۔خاموشی کی چادر اوڑھے اب روز جائے نماز کو اشکوں سے دھوتا اپنے دوست کے قاتلوں کے انجام کے لئے دعا کرتا اور اس کی یادیں سمٹ کر گھر لوٹ جاتا، کچھ زیادہ عرصہ نہ گزرا ہو گا وہ دوست کے جلے ہوئے مکان کے پاس بیٹھا تصور میں اس گھر میں بیتائے ہوئے لمحات کو یاد کر رہا تھا۔ شام کے سائے بڑھنے لگے تھے آسمان پہ ہر طرف کالے بادلوں کا راج تھا۔ بجلی کے چمکنے سے بے خبر عادل نم آنکھوں سے مٹی پہ جالب کا نام مختلف انداز میں لکھ رہا تھا۔ اتنے میں زور کی بجلی چمکی اور بادل گرجےکہ کان بند سے ہو گئے،وہ سرکو بازؤں اور گھٹنوں کے حصار میں دبائے کچھ دیر ساکت رہا، ۔ذرا حواس بحال ہوئے ۔تومڑ کے دیکھا،چوہدری صاحب کا گھر جل رہا تھا۔۔۔۔