//اَنا کی دیوار
ego

اَنا کی دیوار

تحریر: سعدیہ تسنیم سحر

“ابا جی موت واقعی سب گلے شکوے بھلا دیتی ہے ” میری آواز پر ابا جی نے تائیدی انداز میں سر ہلایا اور بستر پر بیٹھ کر اپنے جوتے اتارنے لگے “مردے سے کیا گلے شکوے وه تو زندوں سے ہوتے ہیں “ان کی آواز میں ایک نمناک سا تاثر تھا الله جانے وه جانے والے کے غم میں اترا تھا کہ اپنی آخری آرام گاه کا سوچ کر لہجے آ سمایا تھا “ابا جی چھوٹے ابا جی کی اور آپ کی ناراضگی کس کی قبر اپنے اندر لے جائے گی”اچانک جانے والی بجلی نے مجھے اتنا حوصلہ دیا کہ میں بول پڑا ۔

کل میں ایک عرصے کی جلاوطنی کاٹ کر وطن لوٹا تھاپردیس میں اپنوں کی قدر و قیمت کا اندازا ہوتا ہے یہ سنا تو کئی بار تھا مگر جب خود پر بیتی تو پتہ لگا کہ محاورے ایسے ہی نہیں بن جاتے یہ کسی کی ہڈ بیتی ہوتے ہیں برسوں پہلے جب میں ابھی نوجوان تھا اور گلیوں میں آواره پھرا کرتا تھا کبھی کسی دوست کے ساتھ سیگریٹ پی لی۔۔۔ کبھی پیسے اکٹھے کر کے فلم دیکھ لی ۔۔۔تازه تازه کالجئیٹ ہونے کا فخر ان سب کے سوا تھا ایک ہی بڑا سا گھر تھا جس میں چھوٹے ابا جی کی اور ہماری فیملی بستی تھی اور اس طرح بستی تھی کہ اردگرد والے مثالیں دیتے تھے کہ بڑے بھائی کو چھوٹا بھائی اس طرح عزت دیتا ہے جیسے وه کوئ دیوتا ہو بڑا جو مرضی کہے چھوٹے کی مجال نہیں کہ کچھ کہے۔۔۔ بڑی آپا کی شادی چھوٹے ابا جی کے بیٹے سےکچھ ماه پہلے ہو چکی تھی بھائی جی مِل میں ملازم تھے اماں اور چچی کی زیاده دوستی نہ سہی تو دشمنی بھی نہیں تھی ہاں دبی دبی زبان میں دونوں ہی کبھی کبھی بڑبڑاتیں اور پھر اپنے اپنے میاوں کی گھُوریوں  سے گھبرا کر پھر سے ٹوتھپیسٹ کا اشتہار بن جاتیں چھوٹے ابا جی کی مانو کی اور میری بات بھی اسی طرح پکی تھی جیسے کہ آپا اور بھائی جی  کی شادی ۔۔۔لیکن ہوا کچھ اور ۔۔۔نوعمری میں ہر کوئی خود کو وقت کا ہیرو سمجھتا ہےاور پھر میں تو ویسے بھی بڑھاپے کی اولاد تھا لیکن ہوتا یہ ہے کہ جب بڑے اپنی جھٹپٹے کی عمر کو پہنچتے ہیں تو خود کو سادھو سمجھ لیتے ہیں جیسے انہوں نے کبھی یہ جوانی نہیں گذاری انکا حال ایسا ہوتا ہے کہ جیسے ایک سوار چلا جا رہا ہو اور اسے آواز آئے کہ آگے مت آنا آگے گڑھا ہے تو وه لازمی آگے جاتا ہے صرف یہ دیکھنے کے تجسس میں کہ آواز کہاں سے آ رہی ہے اور جب خود اس میں گر جاتا ہے تو پیچھے والوں کے لیے چلانا شروع کر دیتا ہے کہ آگے مت آنا آگے گڑھا ہے اور بعد والے بھی ضرور آگے آتے ہیں صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ آواز کہاں سے آ رہی ہے کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ کیا آواز آ رہی ۔۔۔جوانی کی ندی شوکتی زیاده ہے لیکن گہرائی نہیں رکھتی اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ ندی دریا سے اور دریا سمندر سے جا ملتا ہے تب ندی کو اپنی نادانی اور سمندر کی وسعت اور گہرائی کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔۔۔

لیکن یہ ذرا پھر سے کہنے اور سننے کے لیے وقت انتظار تھوڑا کرتا ہے وه تو چلا جاتا ہے سرپٹ اب سوار گرے سنبھلے اس کی بلا سے ۔۔۔ندی کو اپنی تیزی پر غرور ہوتا ہے اور سمندر کو اپنی گہرائی پر ۔۔۔ اسی طرح مجھے بھی جب چھوٹے ابا جی نے میری نوجوانی کی کسی حرکت پر برا بھلا کہا تو میں بھڑک اٹھا کہ ان کو کیا پتہ اب زمانہ بدل چکا ہے اور دوستوں کے سامنے بچوں کو بُرا بھلا نہیں کہتے۔۔۔ چھوٹے اباجی نے اپنی شرمندگی چھپانے کو کہا یہ کی ہے تمھاری تربیت ۔۔۔ توپیچھے کھڑے ابا جی کی نو گز آنا پھنکار کر اٹھی اور آنا فانا گھر میں دیوار اٹھا دی دیوار کے اس پار آپا کی سسکیاں گونجتی چارپائیاں اندر باہر کرتے نجانے کتنی راتیں انہوں نے بے دھیانے ابا جی کو آواز دی کہ ابا جی حقہ ادھر اندر رکھ دیا ہے اور اباجی جواب نہ دیتے لیکن برآمدے میں حقے کی مخصوص جگہ پر جا کر دیکھتے ضرور ۔۔۔۔مجھے ابا جی نے باہر بجھوا دیا تو چھوٹے ابا جی کی اَنا  نے سر اٹھایا اور انہوں نے سولہ سال سات ماه کی مانو کو اپنے خالہ زاد کے گھر بیاه دیا ابا جی اٹھتے بیٹھتے تن فن کرنے لگے اور تب باقی سب کے ساتھ مانو کو بھی دفنا دیا۔۔۔ اس خالہ زاد کے ساتھ بھی جینا مرنا ختم کردیا اور کل جب میں برسوں بعد گھر لوٹا تو دیوار پر لگے کلر نے بتایا کہ یہ تو دیوار گریہ بن چکی تھی ادھر چھوٹے ابا جی کے آپا کے آنسو اور ادھر اماں اور ابا جی کے ۔۔۔ لیکن آنا ہار نہیں مانتی تھی ۔۔۔آج اسی خالہ زاد کی وفات کا سن کر ابا جی نے سوٹی پکڑی اور ان کے گھر کی طرف چل دئیے بھرجائی کے سر پر ہاتھ بھی رکھا اور اس کا بیٹا جو غاصب لگتا تھا اسے بھی مل لئے اور مانو کے ساتھ بھی لگ کر بلک بلک کر روئے دونوں کے نجانے کس کس دکھ کے کتنے بین تھے کتنے سالوں کے روکے ہوے آنسو چھلکے اور کسی کا نام لے کر اپنے اپنے دکھوں پر دونوں چچا بھتیجی خوب روئ۔۔۔ بجلی آ چکی تھی میں اپنے ماضی کے سفر سے باہر آیا تو دیکھا ابا جی اپنی سوٹی پکڑ رہے ہیں پاؤں  دوباره نیچے اتارے اور “موت واقعی بڑی طاقتور ہے بیٹا غرور ،غصہ اور انا ہر چیز کو مٹی کے ساتھ مٹی کر دیتی ہےاُٹھ شام تو ہو چکی کہیں رات نہ ہو جائے۔۔۔انہوں نے صافے سے آنسو پونچھے اور دیوار گریہ بنی روکاوٹ کوڈھانے چل پڑے۔